آئینے کا راز! ایک پراسرار داستان۔

آئینہ

میں اس پراسرار داستان کی کوئی توجیہہ نہیں کرسکتا۔ یہ سب کیسے ہوا….؟ کس لیے ہوا….؟ میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ داستان ایک حقیقت ہے جس کا تعلق خاص میری ذات سے ہے۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں اس وقت اس چھوٹی سی بات کی طرف توجہ کرلیتا جو کئی سال بعد میرے ذہن میں  آئی، تو یہ سب کچھ کتنا مختلف ہوتا۔ یقیناً تین زندگیوں کے انجام قطعی مختلف ہوتے۔ واقعی یہ سب کچھ کتنا عجیب ہے!
اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے مجھے پیچھے 1914ء کے موسم گرما کی طرف پلٹنا ہوگا۔ یہ جنگ عظیم اول شروع ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے جب میں اپنے دوست نیل کارسلیک Neil Carslakeکے ساتھ اس کے آبائی گھر گیا تھا….
نیل میرے بہترین دوستوں میں سے تھا۔ میں اس کے بھائی ایلنAlan سے واقف تھا، لیکن زیادہ نہیں، البتہ ان کی بہن سلویا Sylviaسے میں پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔ وہ عمر میں ایلن سے دو سال اور نیل سے تین سال چھوٹی تھی۔
جب نیل اور میں اسکول میں اکٹھے پڑھتے تھے، تو اس زمانے میں دو مرتبہ ان کے گھر چھٹیاں گزارنے کا پروگرام بنا تھا، لیکن دونوں مرتبہ بات ارادے سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ کوئی نہ کوئی رکاوٹ پیش آئی اور میں نہ جاسکا۔ میں تئیس برس کا تھا جب پہلی مرتبہ نیل اور ایلن کا گھر دیکھا۔ نیل کی بہن سلویا کی منگنی حال ہی میں چارلس کرالے Charles Crawleyنامی شخص سے ہوئی تھی۔ نیل نے مجھے بتایا تھا کہ اگرچہ چارلس عمر میں سلویا سے کافی بڑا ہے، لیکن وہ ایک بااخلاق اور خوشحال آدمی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ہم شام کے تقریباً سات بجے وہاں پہنچے، تو گھر کے تمام افراد رات کے کھانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ نیل  مجھے اس کمرے میں لے گیا جو اس نے میرے لیے مخصوص کیا تھا۔ اس عمارت کا نام ‘‘بیج ورتھی’’Badgeworthy تھا اور یہ ایک خاصا بڑا اور بےترتیب سا مکان تھا۔ پچھلی تین صدیوں سے اس میں بہت سے اضافے ہوتے رہے تھے۔ اس کے مکین مرمت کی طرف سے بھی غافل نہ رہے تھے، لیکن اس کے باوجود بہت سا حصہ کھنڈر بن چکا تھا۔
یہ مکان کچھ عجیب ہی قسم کا تھا۔ جگہ جگہ اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ کئی راہداریاں تھیں اور بےشمار کمرے۔صاف اندازہ ہوتا تھا اگر کوئی نیا مہمان اپنے کمرے کا راستہ بھول جائے، تو رہنمائی کے بغیر اسے نہ پاسکےگا۔
مجھے یاد ہے نیل نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ مجھے کھانے کے کمرے میں لے جانے کے لیے کچھ دیر بعد آئے گا اور میں نے ہنستے ہوئے اس سے کہا تھا اس گھر میں تو مجھے کچھ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ کسی راہداری میں چلتے ہوئے بھوتوں سے آمنا سامنا ہوجائے گا۔
میری یہ بات سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا تھا، پھر رازداری کے انداز میں بولا تھا ‘‘اس گھر کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں، لیکن خود میں نے یا گھر کے کسی اور فرد نے کبھی کوئی غیرمعمولی بات نہیں دیکھی۔’’
نیل چلا گیا، تو میں نے اپنا سامان کھول کر کھانے کا لبا س پہنا اور دیوار پر لگے ہوئے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر اپنی ٹائی گرہ درست کرنے لگا، اس آئینے میں کمرے کی پچھلی دیوار کا عکس نظر آرہا تھا۔ یہ ایک عام سی دیوار تھی۔ اگر کوئی خاص بات تھی تو صرف یہ کہ اس کے درمیان میں ایک دروازہ تھا۔
ٹائی کی گرہ درست کرتے ہوئے مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کہ وہ دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ میں نے اسی وقت پیچھے مڑ کر کیوں نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال آئینے میں صاف نظر آرہا تھا کہ دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہے یہاں تک کہ وہ پورا کھل گیا اور اس میں سے ایک اور کمرہ دکھائی دینے لگا جو قدیم طرز کا بیڈ روم تھا۔ اس میں دو پلنگ بچھے ہوئے تھے اور بستر بھی۔ غیر ارادی طور پر میں  اس بیڈ روم کو غور سے دیکھنے لگا اور پھر فوراً ہی مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ ایک خوفناک منظر میرے سامنے تھا۔
پلنگوں کے پاس فرش پر ایک نوجوان لڑکی پڑی تھی اور ایک آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ رہا تھا۔ یہ منظر ایسا صاف تھا کہ میں اسے اپنا واہمہ قرار نہ دے سکتا تھا۔ جس کا گلا گھونٹا جا رہا تھا، وہ سنہرے بالوں والی ایک خوبصورت لڑکی تھی جو اپنی جان بچانے کے لیے بری طرح ہاتھ پاؤں مار رہی تھی، لیکن مرد اس قدر طاقتور تھا کہ وہ بےبس ہو کر رہ گئی تھی۔
آدمی کی پشت آئینے کی جانب تھی اور آئینے میں صرف اس کی کمر، سر کا پچھلا حصہ اور ہاتھ نظر آرہے تھے۔ اس کا چہرہ آئینے میں نظر نہیں آرہا تھا، لیکن اتنا ضرور دکھائی دے رہا تھا کہ اس کے بائیں کان سے لے کر گردن کے نیچے تک زخم کا گہرا نشان ہے۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ  یہ سب کچھ بیان کرنے میں کچھ وقت لگا ہے لیکن اس وقت یہ سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے میں چند ثانیے ہی صرف ہوئے ہوں گے۔ میں فوراً پیچھے کی طرف مڑا تاکہ لڑکی کو مرد کے ظلم سے نجات دلاؤں، لیکن اس دیوار میں جس کا عکس آئینے میں نظر آرہا تھا، کوئی دروازہ نہ تھا، البتہ وکٹورین دور کی ایک بڑی چوبی الماری ضرور تھی۔
میں حیرت میں ڈوبا ہوا دوبارہ آئینے کی طرف مڑا اور میری حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا جب میں نے دیکھا کہ اب آئینے میں بھی صرف اس الماری کا عکس نظر آرہا ہے۔ کسی دروازے سے یا دوسرے کمرے کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہ آتی تھی۔
میں نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملیں کہ کہیں میں سو تو نہیں رہا، لیکن صاف عالم بیداری تھا اور جو کچھ میں نے دیکھا، وہ حقیقت تھی۔
اب میں دوبارہ الماری کی طرف گیا اور اسے باہر کی طرف کھینچنے لگا کہ شاید اس کے پیچھے کوئی دروازہ ہو۔ ٹھیک اس وقت نیل کمرے میں داخل ہوا اور مجھے اس مصروفیت میں دیکھ کر پوچھنے لگا…
‘‘یہ تم کیا کر رہے ہو….؟’’
میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ‘‘جس جگہ یہ الماری رکھی ہے ، کیا یہاں دیوار میں کبھی کوئی دروازہ تھا….؟’’
‘‘ہاں تھاتو۔’’ اس نے کہا۔‘‘یہاں کبھی دروازہ تھا جو ساتھ والے کمرے میں کھلتا تھا۔’’
‘‘اس کمرے میں کون رہتا تھا….؟’’ میں نے.پوچھا۔
‘‘اولڈ ہام خاندان۔ میجر اولڈ ہام اور اس کی.بیوی۔’’
‘‘کیا مسز اولڈ ہام کے بال سنہرے تھے….؟’’ میں نے پوچھا۔
نیل نے جواب دیا ‘‘نہیں، اس کے بال سرخ.تھے۔’’
‘‘میں بھی کتنا بےوقف ہوں!’’ نیل کے اس جواب پر میں نے دل میں سوچا اور پھر اپنے خیالات پر قابو پایا اور نیل کےساتھ کھانے کے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے دل میں یہ طے کرلیا تھا کہ روزضرور فریب نظر Illusion  کا شکار ہوا ہوں۔
‘‘یہ میری بہن سلویا ہے۔’’ نیل نے اپنی بہن سے میرا تعارف کرایا اور ایک مرتبہ میں پھر حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گیا۔ سلویا ہوبہو اس لڑکی جیسی تھی جسے میں نے آئینے میں قتل ہوتے دیکھا تھا۔
ذرا دیر بعد اس کے منگیتر سے میرا تعارف کرایا گیا۔ وہ ایک لمبا تڑنگا آدمی تھا۔ جس کے بائیں کان سے لے کر گردن کے نیچے تک ایک زخم کا نشان تھا، اور یہ بھی وہی آدمی تھا جسے میں نے آئینے میں لڑکی کا قتل کرتے دیکھا تھا۔
سوچیے اگر آپ میری جگہ ہوتے، تو کیا کرتے۔ یہ وہی لڑکی تھی جو ہلاک کی جارہی تھی اور یہ وہی آدمی تھا جو اس کا گلا گھونٹ رہا تھا۔ مزید یہ کہ ایک ماہ بعد ان کی شادی ہونے والی تھی۔
میں نے خیال کیا شاید مستقبل کا کوئی منظر دیکھا تھا۔ ہوسکتا ہے سلویا اور اس کا شوہر ابھی اس گھر میں رہنے کے لیے آئیں، انہیں وہی کمرہ دیا جائے اور پھر اس کمرے میں وہی سین دہرایا جائے جس کا مشاہدہ میں کرچکا ہوں۔
دل چاہا نیل سے کہوں اس شخص کے ساتھ اپنی بہن کی شادی ہرگز نہ کرنا، لیکن ایسا کرنا احمقانہ فعل ہوتا، چنانچہ خاموش رہنے میں مصلحت سمجھی۔ میں جتنے دن نیل کا مہمان رہا، اسی مسئلے پر غور کرتا رہا اور پھر حالات میں کچھ اور پیچیدگی پیدا ہوگئی۔
مجھے معلوم نہیں کیوں، لیکن میں سلویا سے شدید محبت کرنے لگا۔ وہ مجھے اس دنیا میں موجود کسی بھی چیز سے زیادہ پیاری لگتی اور میرے لیے اس کے خیال سے چھٹکارا پانا ممکن نہ تھا۔
بار بار سوچتا کہ اگر میں نے سلویا کو یہ سب کچھ نہ بتایا، تو وہ چارلس کرالے سے شادی کرلے گی اور چارلس اسے قتل کردے گا۔
جب میں وہاں سے روانہ ہوا، اس سے ایک روز پہلے میں نے اپنی تمام ہمت جمع کرتے ہوئے سلویا کو وہ سب کچھ بتا دیا جس کا مشاہدہ آئینے میں کیا تھا۔
میں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے پاگل سمجھے یا کچھ اور لیکن میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ سب کچھ اسی طرح دیکھا تھا جس طرح میں نے بیان کیا ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ چارلس کرالے کے ساتھ شادی کرنے کا پکا ارادہ رکھتی ہے، تو اسے میرے اس حیرت ناک مشاہدے کا خیال رکھنا چاہیے۔ دل چاہتا تھا اپنی محبت کا راز بھی اس پر ظاہر کردوں، لیکن زبان نہ کھلی۔
میری توقع کے خلاف اس نے یہ سب کچھ بڑی خاموشی کے ساتھ سنا۔ وہ قطعاً ناراض یا غصے میں نہ تھی، تاہم اس کی آنکھوں میں کچھ ایسے تاثرات ضرور تھے جن کو میں سمجھ نہ سکا۔
جب میں اپنا بیان ختم کرچکا، تو اس نے میرا شکریہ ادا کیا کہ یہ سب کچھ بتا دیا اور میں بےوقوفوں کی طرح کہتا چلا گیا کہ میں نے جو کچھ دیکھا ہے، وہ میرا واہمہ نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔
اس نے کہا ‘‘میں یقین کرتی ہوں کہ آپ نے یہ سب کچھ ضرور دیکھا ہوگا۔’’
اگلے روز میں وہاں سے روانہ ہوگیا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ سلویا کو یہ سب کچھ بتا کر میں نے صحیح قدم اٹھایا تھا یا نہیں، لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد مجھے پتا چلا کہ میرے وہاں سے واپس آنے کے فوراً بعد سلویا نے چارلس کرالے سے اپنی منگنی توڑ دی۔
اس واقعے کے فوراً بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی اور جنگ کی وجہ سے ہمیں کوئی اور بات سوچنے کی فرصت نہ رہی۔ میں محاذ پر چلا گیا۔ ایک دو مرتبہ چھٹی پر آیا، تو سلویا سے ملاقات ہوئی، لیکن جہاں تک ممکن ہو سکا۔ میں اسے نظر انداز کرتا رہا۔ اس بات کے باوجود کہ میں اسے بری طرح چاہتا تھا، اس اغماض کا سبب میرا یہ احساس تھا کہ شادی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ ویسے میں سمجھتا تھا کہ چارلس سے منگنی توڑ کر اس نے مجھ پر احسان کیا ہے۔

٭٭٭

 1916ء میں نیل جنگ میں مارا گیا اور مجھے اظہار افسوس اور دلجوئی کے لیے سلویا سے ملنا پڑا جو صدمے سے نڈھال تھی۔
سلویا نیل کی بہن تھی اور نیل میرا بہترین دوست۔ میں اس کے دکھ میں برابر کا شریک تھا۔ سلویا کو دکھی پا کر میں خود بھی زندگی سے بیزار ہوگیا۔ اب میری ایک ہی خواہش تھی کہ ایک گولی میری زندگی کا بھی خاتمہ کردے اور اس طرح یہ تمام قصہ ختم ہوجائے، لیکن شاید  وہ گولی ابھی کسی کارخانے میں تیار نہ ہوئی تھی جو میری موت کا سبب بنتی۔ ایک مرتبہ ایک گولی میرے دائیں کان کے نیچے لگی اور گردن کا کچھ حصہ چھیلتی ہوئی گزر گئی۔ دوسری مرتبہ میری جیب پر لگی، مگر جیب کے اندر رکھے ہوئے سگریٹ کیس پر لگ کر اچٹ گئی اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچا۔
چارلس کرالے بھی 1918ء کے شروع میں ایک معرکے میں مارا گیا۔ میرے دن بڑی بیزاری سے گزر رہے تھے۔ آخر 1918ء کے موسم خزاں میں مجھ سے رہا نہ گیا اور میں سیدھا سلویا کے پاس پہنچ گیا اور اسے صاف صاف بتا دیا کہ مجھے اس سے کتنی محبت ہے۔
توقع کے برعکس اس کا رد عمل نہایت خوشگوار تھا۔ اس نے کہا ‘‘تم نے یہ سب کچھ پہلے ہی کیوں نہ بتا.دیا….؟’’
میں نے ہکلاتے ہوئے چارلس کرالے کا ذکر کیا، تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ میں نے چارلس کے ساتھ منگنی کیوں توڑی تھی۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے بتایا کہ اسے بھی بالکل میری طرح، پہلے ہی دن مجھ سے محبت ہوگئی تھی۔
اس وقت میری حالت دیدنی تھی۔ میں نے کہا میرے خیال میں تو تم نے منگنی میرے بیان  کردہ واقعے کی وجہ سے توڑی تھی۔ اس پر وہ ہنسنے لگی اور کہا کہ اگر کوئی شخص واقعی کسی سے محبت کرتا ہو، تو ان معمولی باتوں کا یقین کرکے منگنی نہیں توڑا کرتا۔
اس دن ہم نے اس عجیب واقعے پر پھر سے غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ سب کچھ پراسرار ضرور تھا، لیکن حقائق کی دنیا سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔

٭٭٭

 کچھ عرصے بعد ہم نے شادی کرلی اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ اگرچہ ہماری ازدواجی زندگی خوشگوار تھی، لیکن چند دن بعد ہی میں محسوس کرنے لگا کہ شاید میں ایک اچھا شوہر ثابت نہ ہوسکوں گا۔ میں فطری طور پر سخت شکی مزاج اور حاسد تھا۔ سلویا کسی شخص کی طرف دیکھ کر ہنستی، تو میرا خون کھولنے لگتا۔ شروع شروع میں اپنے اوپر جبر کرتا رہا۔ سلویا کو کچھ اندازہ نہ ہوسکا کہ میں اس کے بارے میں کیا کیا سوچتا رہتا ہوں۔ مجھے یہ احساس تھا کہ اس معاملے میں حق پر نہیں ہوں اور میرا یہ حسد ہماری زندگی کو تلخ بنا دے گا، لیکن انتہائی کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو بدل نہ سکا۔
کبھی سلویا کو ایسا خط ملتا جو وہ مجھے نہ دکھاتی، تو میرے دل میں یہ جاننے کی شدید خواہش پیدا ہوتی کہ یہ خط کس نے لکھا ہے۔
اگر سلویا کسی شخص کے ساتھ ہنس کربات کرلیتی، تو میں اس سے روٹھ جاتا۔ سلویا میری ان باتوں پر ہنس دیتی اور اس رویے کو ایک مذاق سمجھتی، لیکن آہستہ آہستہ اسے یہ احساس ہونے لگا کہ یہ مذاق کچھ اچھا نہیں اور بالآخر اسے پتا چل گیا کہ میں اس معاملے میں بالکل سنجیدہ ہوں، چنانچہ وہ مجھ سے کھنچی کھنچی سی رہنے لگی اور آہستہ آہستہ ہمارے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔
مجھے اب یہ احساس ستانے لگا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی، اس کی محبت واقعی مر چکی تھی، لیکن اس کا قاتل میں خود تھا۔
پھر ہماری زندگی میں ڈیرک وین سائٹ داخل ہوا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جو میرے پاس نہ تھا۔ وہ ایک سلجھا ہوا انسان تھا اوراکثر بڑی پُرلطف باتیں کرتا تھا۔ دیکھنے میں بھی وہ خاصا اسمارٹ آدمی.تھا۔
میں سوچتا کہ اگر میری جگہ یہ سلویا کا شوہر ہوتا، تو ایک بہترین شوہر ثابت ہوتا۔
سلویا ڈیرک سے جلد ہی گھل مل گئی۔ وہ اس کی باتیں نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتی۔ اس کے اس رویے نے مجھے اس کے کردار کی طرف سے مشکوک کردیا اور آخر ایک دن میں پھٹ پڑا اور غصے میں نہ جانے کیا کچھ کہہ گیا۔ مجھے اس وقت بھی احساس تھا کہ میں یہ سب کچھ کہہ کر سلویا پر زیادتی کر رہا ہوں، لیکن شاید میں پاگل ہوچکا تھا جو اپنے آپ پر قابو نہ.پاسکا۔
سلویا کے چہرے کے تاثرات مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ وہ میری تمام باتیں خاموشی سے سنتی رہی، پھر بہت تحمل سے بولی ‘‘بس یہ سب کچھ اب ختم ہوجانا چاہیے!’’ یہ کہہ کر وہ اٹھ گئی اور میں بھی باہر نکل.گیا۔
رات کے وقت میں لوٹا، تو گھر خالی پڑا تھا۔ مجھے اپنی زندگی کے منحوس ترین سانحے کا اندازہ ہوگیا اور ذرا دیر بعد ہی سلویا کے خط سے اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ اس نے لکھا تھا ‘‘یہ ممکن نہیں کہ اب تمہارے ساتھ زندگی گزاروں۔ میں ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔ کچھ دن ‘‘بیچ ورتھی’’ رہوں گی اور پھر اس شخص کے پاس چلی جاؤں گی جو مجھ سے محبت کرتا ہے اور جسے میری ضرورت ہے۔’’
یہ خط پڑھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ میرے شبہات محض میرے ذہن کی پیداوار نہ تھے، غصے سے پاگل ہو کر میں نے کار نکالی اور انتہائی تیز رفتاری سے ‘‘بیچ ورتھی’’ روانہ ہوگیا۔

٭٭٭

 جب میں ‘‘بیچ ورتھی’’ پہنچا، تو سلویا ڈنر کا لباس پہن کر اپنے کمرے میں سے نکلی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا، تو خوفزدہ ہوئی۔ میں سیدھا اس کے پاس چلا گیا اور دھمکانے کے انداز میں کہا ‘‘تم میرے سوا کسی اور کی نہیں ہوسکتیں!’’ اس نے جواب میں کچھ کہا، لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ ایک قدم اور آگے بڑھ کر میں نے اسے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا دبانے لگا۔
تب اچانک میری نظر آئینے میں اپنے عکس پر پڑی۔ اُف! یہ تو وہی منظر تھا، بالکل وہی ، میرے دائیں کان سے لے کر نیچے گردن تک زخم کا نشان بھی تھا جہاں جنگ کے دوران میں گولی لگی تھی۔
میرا سر چکرانے لگا اور میرے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میں سلویا کو نہیں ماروں گا۔ ہاں، میں سلویا کو قتل نہیں کروں گا۔ میں نے اس کا گلا چھوڑ دیا اور وہ فرش پر گر پڑی۔
میرے اپنے اعصاب جواب دے گئے اور میں بھی فرش پر گر گیا۔ ذرا دیر بعد سلویا اٹھی اور اس نے مجھے سنبھالا دیا اور پھر ہم دونوں کے جذبات قابو میں نہ رہے۔ سلویا نے مجھے بتایا کہ خط میں جس شخص کا ذکر تھا، اس شخص سے مراد اس کا اپنا بھائی ایلن تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے بھائی کے پاس گزارے گی۔
اس دن ہم نے ایک دوسرے کے دلوں میں جھانک کر دیکھا۔ اب مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہم کبھی بھی ایک دوسرےسے جدا نہ تھے۔ دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے گہری محبت تھی۔ حسد کی وہ آگ جس میں میں ایک عرصے سے جل رہا تھا، ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔

٭٭٭

 یہ سب کچھ ہوا، لیکن یہ بات مجھے اب بھی بہت حیران کرتی ہے کہ میں نے آئینے میں جس شخص کا عکس دیکھا تھا، وہ چارلس کرالے نہیں، بلکہ میں خود.تھا۔
میں ایک سیدھا سادا آدمی ہوں۔ میری سمجھ میں یہ تمام باتیں نہیں آئیں، لیکن میں نے جو کچھ دیکھا تھا، اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ اس سلسلے میں جس بات سے اطمینان ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ سلویا اور میں اکٹھے ہیں اور اب صرف موت ہی ہمیں جدا کرسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے