عورتوں کا ریپ کرنے کے بعد زندہ جلادینے والا بادشاہ۔ آئیون دی ٹیریبل

آئیون دی ٹیریبل

آج ہم ایک ایسے شخص کا قصہ بیان کرنے جارہے ہیں کہ جسے درندہ کہنا بھی دراصل درندوں کی توہین ہے۔ ہمارا موضوع گفتگو ہے روس کا پہلا زار آئیون دی ٹیریبل۔ یہ اتنا بے رحم اور سفاک انسان گزرا ہے کہ تاریخ بھی اس کے نام کے ساتھ ٹیریبل یعنی خوفناک کا لفظ استعمال کرتی ہے۔

آئیون 1530 عیسوی میں پیدا ہوا۔ جب یہ تین سال کا تھا تو اس کا باپ یعنی روس کا حکمران ویزلی تھری انتقال کرگیا۔ آئیون کے چچا نے اسے تخت پر بٹھانے کی کوشش کی مگر روس کے امراء جنہیں بویرز کہا جاتا تھا کی جانب سے اسے گرفتار کرلیا گیااور قید خانے میں بھوکا مرنے چھوڑدیا گیا۔ آئیون کی ماں نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے بھی زہر دے کر ماردیاگیا۔ اب جو بھی شخص آئیون کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا، سخت ترین سزاؤں سے نوازا جاتا۔ آئیون اور اس کا چھوٹا بھائی یوری  جو کہ گونگا اور بہرہ تھا، دونوں ہی اپنے محل میں بھکاریوں جیسی زندگی گزاررہے تھے۔ نہ انہیں کھانا میسر تھا اور نہ کپڑے۔ مارا پیٹا الگ جاتا۔

اُس وقت شیوزکی نامی امیر زادے کو رشیا کی تمام تر طاقت حاصل  تھی، وہ دندناتے ہوئے  محل میں گھستا، آئیون کے وفاداروں کو پکڑ پکڑ کر آئیون کے سامنے جلاتا، زندہ لوگوں کی کھال اُتار کر شہر کے بیچوں بیچ لٹکادیتا اور آئیون  کو بھی زد و کوب کرتا۔ یہی وہ شخص تھا کہ جس نے آئیون کو ایک درندہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آئیون اپنا غصہ معصوم جانوروں پر نکالتا، پرندوں کے پر نوچ دیا کرتا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیا کرتا۔ 1543 عیسوی جب آئیون تیرہ سال کا ہوا تو تمام عوام اس کے ساتھ ہوگئی اور اس کے حکم پر شیوزکی کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اُسے ایک گڑھے میں کچھ بھوکے کتوں کے ساتھ پھینک دیا گیا۔ شیوزکی تو اپنے انجام کو پہنچ گیا لیکن اپنے پیچھے خود سے زیادہ بھیانک درندہ خون آشامی کے لیے چھوڑ گیا۔

آئیون کے پاگل پن کا اندازہ  اس بات سے لگائیے کہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر کتے اور بلیوں کو نیچے پھینکتا اور انہیں تڑپ تڑپ کر مرتا دیکھ کر خوش ہوتا۔ آئیون اور اس کا گروہ شراب پی کی ماسکو کی گلیوں میں پھرتے بوڑھے اور کمزور لوگوں کو مارتے پیٹتے ، کوئی عورت نظر آتی تو سرعام اس کا ریپ کیا جاتا۔ وہ اکثر ریپ کرنے کے بعد عورتوں کو برہنہ حالت میں پھانسی دے دیا کرتا، کبھی زندہ دفن کروادیتا اور کبھی ریچھ کے آگے ڈال دیا کرتا۔ وہ ایک بہترین گھڑ سوار تھا جسے شکار کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ مگر اس کا یہ شوق صرف جانوروں پر پورا نہ ہوتا بلکہ وہ عام لوگوں اور کسانوں کو مار کر بھی بہت خوش ہوتا۔

1547 عیسوی میں اسے پورے رشیا کا پہلا زار منتخب کیا گیا۔ اس تاجپوشی کے ساتھ ہی آئیون کی شادی رشیاں کی سب سے خوبصورت لڑکی Anastasia Romanova سے ہوئی، یہ اس کی پہلی اور آخری محبت تھی ، اناستاسیا  سے آئیون کو چھ بچے ہوئے جس میں سے صرف دو  ہی زندہ بچ سکے۔ اپنی تاجپوشی اور شادی کے بعد آئیون نے کئی حکومتی اصطلاحات نافذ کیں، کرپشن کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ امراء کے اثر و رسوخ کو کم کیا۔ اس نے چرچ پر بھی قواعد لاگو کیے، فوج کو مزید طاقتور بنایا۔ اس کے علاوہ قازان کی ریاست اور استراخان نامی شہر کی فتوحات بھی آئیون کا شاندار کارنامہ ہیں۔ لیکن آئیون کے بیٹے ڈمٹری کی حادثاتی موت اور پھر 1560 عیسوی میں اس کی بیوی اناستاسیا کی طبعی موت نے اس کے اندر کا جانور ایک مرتبہ پھر زندہ کردیا۔ اب وہ بہت زیادہ پریشان اور غصے میں رہنے لگا، بھرے دربار میں کبھی دیواروں اور کبھی فرنیچر پر ٹکریں رسید کیا کرتا۔

آئیون نے اپنے اکثر امراء اپنی بیوی کو زہر دینے کے الزام میں تشدد کرکرکے قتل کروادیے، یہاں تک کہ اس کے اپنے مخلص درباری اور دوست بھی اس کے غصے سے نہ بچ سکے۔ اب اس نے کرپشن اور اقرباء پروری کے خاتمے کے نام پر اوپری چنکی نامی ایک خفیہ پولیس ترتیب دی، جس میں ملک بھر کے بدمعاش اور ڈاکو بھرتی کیے گئے۔ یہ پولیس کالے لباس میں ملبوس اور کالے گھوڑےپر سوار خوف کی ایک علامت بن گئی۔ اچھے اور برے کی تمیز کے بغیر کسی بھی انسان کو قتل کردینا ان کے فرائض میں شامل تھا۔ یہاں تک کے بھرے چرچ میں پادریوں تک کو جلا ڈالتے۔ ریاست کی کوئی عورت ان کے ہاتھوں سے محفوظ نہ تھی۔ کبھی کبھی آئیون لوہے کی ایک چھڑی ہاتھ میں لیے خود ان کی قیادت کرتا اور اپنی چھڑی کے ذریعے لوگوں کی خوب پٹائی کرتا، کسان عورتوں کو برہنہ کرکے انہیں اس چھڑی سے زدو کوب کرنا اس کا معمول تھا۔  ریاست بھر سے بھکاریوں کو جمع کرکے دریا میں پھینکوادیتا، امراء کو بارود کے ڈھیر پر بٹھاکر جلادیتا۔

جیروم ہارسی لکھتے ہیں کہ آئیون نے روس کے ایک امیر پرنس بورس تیلوپا کو زندہ امپیل کروادیا تھا، جس کے بعد وہ پندرہ گھنٹے مزید زندہ رہا۔ آئیون نے اس کی ماں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی موت کا مکمل نظارہ کرے۔ بعد میں اس کی ماں کو بھی بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیا گیا۔ آئیون نے ایک مرتبہ اپنی خزانچی یعنی فائننس منسٹر نیکیتا فنیکوکو کسی چھوٹی سی غلطی پر ایک دیگ میں ڈال کر اُبال دیا تھا۔ اپنے ایک کاؤنسلر کا بھی اس نے یہی حشر کیا۔ 1570 عیسوی میں غداری کے غیر ثابت شدہ الزام پر  آئیون نے ناؤ گورڈ نامی شہر کو امپیلنگ اور روسٹنگ کے ذریعے قتل کر ڈالا۔

ایک جرمن مورخ لکھتا ہے کہ آئیون اپنے گھوڑے پر چڑھ کر نیزہ ہاتھ میں لہراتا اور پھر نہتے عوام پر صرف اس لیے حملہ آور ہوتا کیونکہ اس کا بیٹا اس منظر کو دیکھ کر تالیا بجاتا تھا۔ ناؤ گورڈ کے بشپ کو پہلے ریچھ کی کھال میں سیا گیا، بعد میں اسے بھوکتے کتوں کے آگےڈال دیا گیا۔ لاتعداد لوگ بھاگنے کی غرض سے دریائے واکوو میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے، لاشوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دریا ایک سیلاب کا سا منظر پیش کرتا تھا۔ اس تباہی کے بعد ناؤ گورڈ دوبارہ کبھی آباد نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ پاسکو سٹی کا بھی آئیون کے ہاتھوں یہی حشر ہوا۔ اس قتل و غارت گری کے دو سال بعد روس میں ایک شدید قسم کی وباء پھوٹی، جبکہ اگلے سال کریمیا کے خان نے سلطنت عثمانیہ کی مدد سے ماسکو پر چڑھائی کردی اور آئیون کو یہاں سے فرار ہونا پڑا۔

اب کچھ بات کرتے ہیں اس کی ذاتی زندگی کی۔ آئیون نے 1516ء میں ماریہ نامی ایک لڑکی سے دوسری شادی کی، جس سے وہ جلد ہی بور ہوگیا اور دو سال بعد ہی وہ مرگئی، تیسری شادی مارتھا نامی خاتون سے کی، لیکن وہ بے چاری صرف دو ہی ہفتے زندہ رہ سکی، چوتھی شادی اینا نامی لڑکی سے کی گئی جسے جلد ہی ایک خانقاہ میں راہبانہ زندگی گزارنے بھیج دیا گیا۔ جلد ہی پانچویں اور پھر چھٹی شادی ویسلیسا نامی خاتون سی کرڈالی، بدقسمتی سے ویسلیساکا ایک عاشق بھی تھا، جسے آئیون نے ویسلیسا کی کھڑکی کے باہر ایمپیل کروادیا اور اسے بھی راہبانہ زندگی گزارنے ایک خانقاہ میں بھیج دیا گیا۔ اب آئیون نے ساتویں شادی ماریہ نامی خاتون سے کی، شادی کے بعد آئیون کو پتہ چلا کہ ماریہ کنواری نہیں ہے سو اگلے ہی دن اُسے دریا میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد آئیون کی آخری شادی 1581 عیسوی میں ہوئی۔

آئیون کا بڑا بیٹا جس سے یہ بہت محبت کرتا تھا آئیون ہی کے ہاتھوں قتل ہوا، ایک مرتبہ آئیون کی بہو حاملہ تھی اور اسے اپنی بہو کا پہنا ہوا لباس پسند نہیں آیا سو اس نے اپنی چھڑی سے اسے پیٹنا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں اس کا مس کیرج ہوگیا۔ یہ بات آئیون اور اس کے بیٹے میں اختلاف کا باعث بنی، یہاں تک کہ آئیون نے خود ہی اپنے بیٹے کو مار ڈالا۔  اپنی زندگی  کے آخری دنوں میں آئیون کی حالت بہت عبرت ناک ہوگئی تھی، اس کا سارا جسم سکڑ چکا تھا، سر گنجا اور داڑھی سفید ہوچکی تھی، وہ اپنی عمر سے کہیں بڑا نظر آتا۔ ہزاروں عورتوں کی عصمت دری اور معصوم بچوں کے قتل عام کے بعد 18 مارچ 1584 کی ایک شام جب وہ اپنے ایک رفیق کے ساتھ شطرنج کھیلنے میں مصروف تھا ، کہ اس کے سینے میں اچانک درد اُٹھا اور یہ چند ہی لمحوں میں ڈھیر ہوگیا۔ اس کے دورِ حکومت میں روس کا کوئی عزت دار خاندان ایسا نہ تھا کہ جو اس کے عتاب سے محفوظ رہا ہو، بلکہ آئیون نے روس کے کچھ خاندان تو صفحہ ہستی سے ہی مٹادیے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا ذہنی معذور بیٹا فیوڈر تخت نشین ہوا۔

اس کے سیاہ کارنامے بھی آپ جلد ہی اُردو ڈائری ڈاٹ کام پر پڑھ سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے