آسٹریلیا! جرائم پیشہ افراد کی جیل سے خوشحال ترین قوم کیسے بنا؟

آسٹریلیا

آج ہم کسی ملکہ یا بادشاہ کی کہانی نہیں سنانے والے بلکہ آج ہم بات کریں گے دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ترین ملک آسٹریلیا کی۔  آپ میں سے بہت سے لوگ ہوں گے جو آسٹریلیا جاکر وہاں رہنا چاہتےہیں، اس کی وجہ وہاں کا اعلیٰ طرز زندگی ، روزگار کے مواقع  اور نظام انصاف ہے۔ لیکن دوستو آپ میں سے بہت ہی کم لوگ ایسے ہوں گے جو دنیا کے اس خوشحال ترین ملک کے پیچھے چھپی حقیقت جانتے ہوں۔    دنیا پر جنت کہلانے والا یہ ملک آسٹریلیا دراصل ایک جیل تھا۔ ایک ایسی جیل  جس کے کئی قیدی صحراؤں میں جھلس کر مارےگئے تو کئی  قیدیوں نے  اس جیل سے چھٹکارے کے لیے خود کشی کا سہارا لیا۔

تو چلیے جانتے ہیں کہ آسٹریلیا دنیا کی سب سے خطرناک جیل سے دنیا کا خوشحال ترین ملک کیسے بنا؟یہ سترہوی صدی عیسوی کا زمانہ تھا۔ برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب کے باعث لوگوں کی زندگی مشکل ترین ہوچکی تھی۔ 100 آدمیوں کا کام ایک مشین انجام دینے لگی، اور وہ سو کے سو آدمی بےروزگار ہوگئے۔ رفتہ رفتہ بےروزگاری اتنی بڑھی  کہ ملک برطانیہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بن کر رہ گیا۔ لوگ 1 وقت کی روٹی کے لیے بھی چوریاں کرنے لگے،  اس کے ردعمل میں حکومت برطانیہ نے  عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے ان کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر کردیں۔ کسی درخت کو کاٹنا یا کسی کا مویشی چرالینا بھی برطانوی شہریوں کے لیے بامشقت سزا کا باعث بننے لگا۔

کچھ ہی دن میں برطانیہ کے تمام جیل خانے ان معصوم قیدیوں سے  بھرگئے۔   اس کا حل حکومت برطانیہ نے یہ نکالا کہ  پرانے اور خستہ ہوجانے والے  جنگی یا تجارتی بحری جہازوں میں قیدیوں کو بھرنا شروع کردیا۔ قیدیوں سے بھرے یہ جہاز ہلک کہلاتے اور بندرگاہوں پر ہی کھڑے کھڑے تیرتے رہتے۔  ان ہلکس میں قیدیوں کا طرز زندگی انتہائی خوفناک ہوا کرتا۔ ایک ایک پرانے جہاز میں تین تین سو قیدی بند ہوتے، اس اذیت ناک زندگی کے علاوہ  یہ ہلکس  مہلک ترین بیماریوں کا گڑھ بن جاتے۔ اس صورتحال کے سبب چند ہی سالوں میں ہزاروں قیدی ان ہلکس میں موت کا شکار بنے ، دوسرا  یہ قیدیوں کی اتنی بڑی تعداد برطانیہ کی معیشت پر  بھاری بوجھ ثابت ہورہی تھی۔  چنانچہ  برطانیہ نے جرائم پیشہ افراد کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک ایسا طریقہ کھوج نکالا، جس سے انہیں کئی فوائد حاصل ہوتے اور وہ طریقہ تھا کہ برطانوی قیدیوں کو  نئی دریافت شدہ جزیروں پر لے جاکر چھوڑ دیا جائے۔  برطانیہ نے اس مقصد کے لیے پہلے امریکہ کی زمین کا استعمال کیا گیا اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں جرائم پیشہ افراد لے جاکر چھوڑے گئے۔  لیکن  1783 عیسوی امریکہ کی جنگ آزادی کے بعد امریکہ نے کسی بھی برطانوی مجرم کو اپنی زمین پر قبول کرنا بند کردیا۔

انہی دنوں جیمز کک نامی ایک انگریز براعظم  آسٹریلیا کے جنوبی حصے کو نیوساؤتھ ویلزنام دے کر حکومت برطانیہ سے منسوب کرچکا تھا۔  حالانکہ آسٹریلیا کی دریافت کا سہرا ہالینڈ کے ایک جہاز راں ولیم   جینس زون کے سر جاتا ہے، 17ویں صدی عیسوی میں ہی ہالینڈ کے باشندوں نے اس زمین کو نیوہالینڈ کا نام دیا، لیکن انتہائی دور راز واقع ہونے کے سبب اس پر کبھی آبادی بسانے کی کوشش بھی نہ کی۔   یا شاید آسٹریلیا کی قسمت میں برطانیہ کی ایک قیدی  کالونی بننا لکھا تھا۔ 1788 عیسوی برطانیہ سے گیارہ جہازوں پر مشتمل پہلا سمندر ی قافلہ سینکڑوں قیدیوں کو لے کر یہاں پہنچا اور پہلی جیل  نما کالونی سڈنی کے مقام پر بنائی گئی جی ہاں دوستو وہی سڈنی جس کا شمار دنیا کے عظیم ترین  شہروں میں ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس وقت کوئی شہر نہیں بلکہ دنیا کے آخری سرے پر واقع ایک لق دق صحرا تھا۔  یہاں دور دور تک زندگی کے نشانات نہ تھے۔ لیکن یہ  تمام قیدی صرف چھوٹے موٹے چور نہ تھے بلکہ ان میں کچھ ایسے مقامی لیڈر بھی شامل تھے  جنہوں نے حکومت برطانیہ کے خلاف آواز اُٹھانے کی جسارت کی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے باقی تمام قیدیوں میں اُمید جگائی اور  اس  آگ برساتے صحرا میں زندگی کا چراغ روشن کیا۔ سن 1788 سے لے کر 1868 تک یعنی 80 سالوں کے دوران تقریباًایک لاکھ پینسٹھ ہزار جرائم پیشہ افراد آسٹریلیا کی سرزمین پر آبسے۔ آسٹریلیا کی ابتدائی تعمیر کا سہرا انہی جرائم پیشہ افراد کے سر جاتا ہے۔ جن میں چھوٹے موٹے چور ، دو وقت کی روٹی کے لیے اپنا جسم بیچنے والی پروسٹیٹیوٹس اوردیگر افراد شامل تھے۔ آج بھی آسٹریلیا نامی ملک کے شہریوں کی بڑی تعداد انہی جرائم پیشہ افراد کی نسل سے تعلق رکھتی  ہے۔ کچھ سالوں بعد جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ یورپ کے اُن غریب لوگوں نے بھی آسٹریلیا کا رخ کیا جو اپنے ملک میں نہایت مفلسی کا شکار تھے۔ یہ سب لوگ ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں آسٹریلیا پہنچ تو گئے لیکن یہاں کے موسم ، خشک  اور زمین بنجر تھی، براعظم امریکہ کی طرح یہاں بڑے بڑے دریا موجود نہ تھے۔ یہاں زراعت کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔  کئی لوگ نئی زمینوں کی تلاش میں اس بے رحم صحرا کی نذر ہوئے۔ یہاں بہت سے لوگ اپنی اُمیدوں کے بکھرجانے کے سبب پاگل ہوئےاور متعدد افراد نے  ان سختیوں سے گھبرا کر خودکشیاں کرلیں۔

ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب آسٹریلیا میں بسنے والے یورپی لوگوں  کا تمام گزر بسر  برطانیہ کے بحری جہازوں میں لائی گئی غذا پر تھا۔  رفتہ رفتہ یہاں بسنے والے لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ زمین  مویشی خصوصاً بھیڑیں پالنے کے لیے نہایت موافق ہے۔ اب یہاں کے لوگ  مویشی پالتے اور ان سے اون اور گوشت حاصل کیا کرتے یہاں تک کے 19 ویں صدی کے درمیان میں  مویشی پالنا آسٹریلیائی معیشت کا ایک اہم ستون بن گیا  ۔آج بھی آسٹریلیا کے مویشی دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ آسٹریلیا کو ایک جرائم پیشہ افراد کی کالونی سے بڑھ کر ایک معاشرے کی حیثیت دینے میں نیوساؤتھ ویلز کے پہلے گورنر لیچ لین میکیورے   کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ یہی وہ پہلا شخص تھا  جس نے جرائم پیشہ افراد اور  یہاں ہجرت کرنے والے عام لوگوں کے بیچ ایک پل کا کام کیا، اس نے جرائم پیشہ افراد کو ان کی قابلیت کے مطابق عہدے دیے ، اس عمل نے آسٹریلیوی معاشرے کی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔  1851 اکیاون عیسوی  جب نیوساؤتھ ویلز  میں سونے کی دریافت ہوئی تب ہی سے یہاں جرائم پیشہ افراد کی منتقلی  بند کردی گئی۔

اس واقعے نے آسٹریلیا کی قسمت ہی بدل دی تھی کیونکہ  اب آسٹریلیا جرائم پیشہ افراد کی جیل نہیں بلکہ سونا اُگلنے والی زمین بن چکا تھا، ہر انسان کی یہی خواہش تھی کہ وہ سونا حاصل کرے اور امیر ترین بن جائے۔ میلبورن جو 1850 عیسوی تک ایک چھوٹا سا گاؤں ہوا کرتا تھا۔  سونے کی دریافت کے بعد اگلے 20 سالوں میں اس کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہونے لگا۔ اسی سونے کی لالچ  نے  آسٹریلیا کو برطانیہ کو نظروں میں نہایت اہم بنادیا،  اور اس کے رشوت خور سپاہی  کان میں کام کرنے والے مزدروں کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں کرنے لگے۔  بعد ازاں انہی زیادتیوں کے سبب چھوٹی موٹی بغاوتوں نے جنم لیا  یہاں تک کہ 1931 عیسوی میں ویسٹ منسٹر    قانون کے تحت آسٹریلیا نے برطانیہ سے اپنے  زیادہ تر تعلقات ختم کردیے، جبکہ  جنگ عظیم دوم کے بعد جب برطانوی سلطنت کمزوری  اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تب آسٹریلیا نے بھی برطانوی غلامی کا طوق اُتار پھینکا،  اور جنگ عظیم دوم میں ہی جاپان کے خلاف  امریکہ سے اتحاد قائم کیا ۔

دور حاضر میں بھی  آسٹریلیا ، امریکہ کا انتہائی قریب ترین حلیف ہے اور آج دنیا کا پرامن، خوشحال ترین اور ترقی ملک کہلاتا ہے۔   جرائم پیشہ افراد کی ایک کالونی سے لے کر دنیا کا ایک عظیم ملک بننے کے پیچھے ہزاروں افراد کی قربانیاں، ان کے عزائم  اور ان کے آنسو پوشیدہ ہیں جو ہمیں  یہ درس دیتے ہیں کہ   چوروں اور ٹھگوں پر مشتمل گروہ ایک  صحرا کو دنیا   کے عظیم ملک میں تبدیل کرسکتا ہے تو آخر ہمارے ملک میں کون سی کمی اور  ہمارے ارادوں میں وہ کون سی کمزوری ہے جو ہمیں یہ  کام نہیں کرنے دیتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے