ایک آسیبی جہاز جو بغیر مسافروں کے سفر کرتا ہے۔

آسیبی جہاز

6 جولائی 1931ء کی ایک یخ بستہ رات کو ‘‘چام’’ نے اپنا سمندری سفر شروع کیا۔ یہ مال بردار سمندری جہاز ڈیڑھ ہزار ٹن وزنی تھا اور لاکھوں روپے کی مالیت کی کھالیں اور دوسری قیمتی سامان اس پر لدا ہوا تھا۔

‘‘ہڈسن بے’’ کمپنی کینیڈا اور الاسکا کی ایک بہت بڑی مال بردار جہازراں کمپنی تھی۔ اس کا یہ جہاز ‘‘چام’’ بےشمار تجارتی سفر کر چکا تھا اور اب یہ ایک طویل تجارتی سفر پر کینیڈا جانے کے لیے قطب شمالی کے سمندر میں رواں دواں تھا۔الاسکا سے قطب شمالی کے سمندر تک کے سفر میں اس کو کافی دن لگ گئے تھے۔

جہاز کا کیپٹن جان  کارن وال اور سیکنڈ آفیسر کائن عرشے پر کھڑے سمندر کے دور تک پھیلے ہوئے نیلگوں پانی کا نظارہ کر رہے تھے۔ جہاز کا عملہ سامان کو الٹ پلٹ کرنے اور پھر سے ترتیب دینے میںمصروف تھا۔

‘‘ہیلو کائن…. کیا سوچ رہے ہو….؟’’

وال نے سیکنڈ آفیسر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کائن ایک لمحے کو چونکا اور پھرمسکراکربولا۔

‘‘کچھ نہیں مسٹر وال، بس ذرا یہی سوچ رہا تھا کہ ہمارے سفر کس قدر طویل ہوتے ہیں، ہم کتنا تھوڑا عرصہ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور کس قدر وقت سفر میں گزر جاتا ہے، ہم اپنی زندگی کا کتنا حصہ اس سمندری سفر میں گزار چکے ہیں اور ابھی مزید کتنی زندگی ہم ان سمندری لہروں کے گننے میں صرفکردیں گے۔’’

‘‘اوہو…. کائن آج تم بہت سنجیدہ اور اداس ہو…. آخر کیوں….؟’’

‘‘نہیں تو۔’’ کائن نے جواب دیا۔

‘‘آج سے پہلے تو تم نے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں، یقیناً آج تم اداس اور غم زدہ ہو۔’’ اور کائن صرف مسکرا دیا۔

‘‘معلوم ہوتا ہے کہ آج تمہیں لاسی شدت سے یاد آرہی ہے۔ کیوں….؟’’ کائن اب بھی خاموش تھا۔ ‘‘تمہیں چاہیے تھا کائن کہ اس مرتبہ بھی تم اس کو اپنا ہم سفر بنا لیتے تو اس قدر اداس نہ ہوتے…. آخر پہلے بھی تم اس کو اپنے سفر میں شریک کرتے رہے ہو۔’’ وال نےا سے قائل کرنا چاہا۔

‘‘ہاں۔’’ اس نے ایک سرد سانس لے کر کہا۔ ‘وہ تو یہی چاہتی تھی کہ جس طرح اکثر وہ میرے ساتھ ہوتی تھی اس مرتبہ بھی میرے ساتھ ہوتی لیکن اس کی ماں نے اسے روک لیا انہیں اپنے جزیرےکی چند رسموں میں اپنی بیٹی کے ساتھ شرکت کرنا تھی۔ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے، لیکن وہ اب بھی پرانے اصولوں اور روایات کی پابند ہیں۔ ان کے جزائر کی کچھ رسمیں ہیں، جن کو وہ اب بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں، میں ان کو ان کی مرضی سے باز رکھنے والا کون ہوتا ہوں۔ لاسی بھی بہتغمگین تھی۔

سورج تو نظر ہی نہ آتا تھا، شاید سہہ پہر کا وقت تھا، برف کے تودے دوربین سے صاف دیکھے جاسکتے تھے۔ ہوائیں بھی کچھ تیز چل رہی تھیں…. جہاز بحرقطب شمالی کے وسط سے گزر چکا تھا۔ ہوا کے ساتھ روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اڑتے ہوئے صاف نظر آرہے تھے۔

‘‘کوئی خاص بات….؟’’ کائن نے وال سے پوچھا جو دوربین آنکھوں سے لگائے فضا میں کچھتلاش کر رہا تھا۔

‘‘کچھ نہیں…. آؤ اندر چلیں۔’’ وال نے برفانی چٹانوں سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر کیں اور اطمینان سے کائن کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوگیا۔  کائن اب بشاش دکھائی دے رہا تھا اور وال کے ساتھ مصروف گفتگو تھا، رات گزرتی جارہی تھی، شاید نصف شب گزر چکی تھی۔   یہ 31اکتوبر کی خوفناک ترین رات تھی۔ بحری جہاز قطب شمالی کے مغربی حصے کو عبور کر رہا تھا کہ اچانک طوفان کی لپیٹ میں آگیا…. طوفان شدید ہوتا چلاگیا،  ہر طرف برف اڑ رہی تھی اور پھر کچھ دیر بعد وہ برفانی چٹانوں سے ٹکراتا ہوا برف میں پھنس گیا۔ یہی غنیمت تھا کہ وہ تباہ نہیں ہوا۔ عملے میں چند ایک کے سوا سب پریشان تھے۔ ‘‘چام’’ برف کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ سردی بڑھتی جارہی تھی، درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ساٹھ درجے کم ہوگیا تھا۔ وال اور کائن نے مشورہ کیا کہ اب جان بچانے کے لیے جہاز کو چھوڑ دینا چاہیے، چنانچہ کیپٹن وال نے عملے کے افراد سے کہا کہ وہ جہاز کو چھوڑ دیں اور کہیں پناہ لیں۔

چند گھنٹوں کی سخت جدوجہد کے بعد وہ برف کی سخت چٹان پر پہنچ گئے، وہ جہاز سے ضروری سامان بھی لے گئے تھے….جس سے انہوں نے خیموں کی ایک عارضی پناہ گاہ تعمیر کرلی، جہاز کی تباہی یقینی تھی، پھر بھی وال پر امید تھا کہ شاید جہاز کے قیمتی سامان کو بچایا جاسکے، اس نے وائر لیس کے ذریعے امداد طلب کی اور ‘‘ہڈ سن بے’’ کمپنی نے الاسکا کے مغربی حصے سے دو امدادی طیارے روانہ کردیے۔  الاسکا کا یہ مغربی حصہ اس برفانی قافلے کی پناہ گاہ سے سات سو میل کے فاصلے پر تھا۔ کیپٹن وال اور کائن نے یہ طے کیا کہ چودہ آدمیوں کی ایک ٹیم یہاں رہے اور باقی بائیس آدمی واپس چلے جائیں، چنانچہ امدادی طیارے ان آدمیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔

کیپٹن وال کا مشن یہ تھا کہ جہاز پر نظر رکھی جائے، برف پگھلنے کا انتظار کیا جائے اور قیمتی سامان کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ چام اس پناہ گاہ سے صاف نظر آتا تھا۔ دن گزر رہے تھے کہ ایک رات پھر برف کا طوفان آگیا، وال، کائن اور دوسرے افراد اپنے اپنے خیموں میں اکڑے اور دبکے ہوئے تھے، سردی سے بچاؤ کا معقول انتظام ہونے کے باوجود وہ ان برفانی طوفانوں سے ہراساں تھے، ان طوفانوں سے پہلے بھی ان کا سابقہ پڑا تھا…. لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ انہیں جہاز سے محروم ہو کر برفانی چٹانوں، پر پناہ لینی پڑی ہو….

آخر یہ سرد ترین، خوفناک طوفانی رات بھیگزرگئی۔

صبح ہوئی جب وال اور کائن خیموں سے باہر نکلے اور انہوں نے سامنے نظر دوڑائی تو بہت حیران ہوئے جہاز اب وہاں نہیں تھا، دور دور تک نظر نہین آرہا تھا۔ سب لوگ سخت متعجب اور حیران تھے، کائن اب اکتا چکا تھا اور جلد از جلد الاسکا واپس جانا چاہتا تھا۔ لیکن کیپٹن وال نے اسے سمجھایا کہ وہ سوچ سمجھ  کر قدم اٹھائے، کیونکہ اس مشن کی کامیابی سے نہ صرف ان دونوں کو بلکہ سب کو فائدہ پہنچے گا اور کائن نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

‘‘چام’’ کے غائب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ گزشتہ شب کے طوفان کے بعد درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی واقع ہوئی تھی اور وہ نقطہ انجماد سے چند درجے زیادہ ہوگیا تھا جس کے باعث برف قدرے پگھل گئی اور وہ اس کی گرفت سے آزاد ہو کر سمندر میں آگے بڑھ گیا، ایک خیال یہ بھی تھا کہ وہ سمندر میں غرق ہوگیا ہے۔

پریشانی کے چند روز اور گزر گئے، تیسرے دن صبح جب کائن اور وال باتوں میں مشغول تھے تو باہر ملاحوں کے چیخنے کی آوازوں نے انہیں چونکا دیا۔ وہ چام، چام کے نعرے بلند کر رہے تھے اور جب یہ دونوں پناہ گاہ سے باہر نکلے تو ان کی حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی۔ چام قریب ہی کھڑا تھا۔  یہ کہاں غائب ہوگیا تھا۔ کب اور کیسے واپس آگیا۔ کسی کو بھی کچھ معلوم نہ تھا اور نہ معلوم ہوسکتا تھا…. سوچنے سمجھنے کا وقت نہ تھا۔

وال اور کائن اپنے عملے سمیت جہاز میں سوار ہوگئے اور جہاز سے قیمتی سامان اور کھالیں اتارنے کا کام شروع کردیا گیا، مقامی اسکیمو آبادی کی برف گاڑیوں کی مدد سے سامان کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا جارہا تھا، کیونکہ جہاز سفر کے قابل نہ تھا اور وہ چاروں طرف سے برف کے سمندر میں گھرے ہوئے تھے۔ جب جہاز کا عملہ سامان پناہ گاہوں میں چھوڑ کردوبارہ اس کی جانب آیا تو چام پراسرار طور پر پھر غائب ہوچکا تھا۔ اس بار سب کو اس بات کا پختہ یقین ہوگیا کہ چام ڈوب چکا ہے اور اب یہاں کا قیام بےسود ہے، چنانچہ کیپٹن وال اور کائن نے رخت سفر باندھا۔ چند روز میں وہ اس انوکھی دنیا سے نکلنے کے قابل ہوگئے جس میں انہوں نے انتہائی حیرت ناک اور کٹھن وقت گزارا تھا۔  کائن بہت خوش تھا۔ وہ جلد از جلد اپنے گھر الاسکا پہنچ جانا چاہتا تھا، برف پگھلنا شروع ہوگئی تھی، ایک مال بردار امدادی جہاز کا بھی انتظام ہوچکا تھا۔

بچا کھچا سامان اس پر لاد دیا گیا اور پھر تمام افراد ایک بار پھر اس کالے اور نیلے بےگراں سمندر میں رواں دواں تھے….

کائن  اپنی جیون ساتھی لاسی کے بارے میں باتیں کر رہا تھا ۔ وال یہ سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا۔  اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا کائن تمہیں لاسی سے جدا ہوئے صرف چھ ماہ ہوئے ہیں اور مجھے اپنے بیوی بچوں سے دور ہوئے دس مہینے ہوچکے ہیں اور ابھی ملنے کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔

ان کے اس سفر کو بھی چند روز گزر چکے تھے۔ کیپٹن وال دوربین سے سمندر کی وسعتوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ کائن، کائن اس نے بےتابی سے کہا…. ‘‘دیکھو یہ کہیں چام تو نہیں ہے’’ اور کائن نے برا سا منہ بناتے ہوئے دوربین اس کے ہاتھوں سے لے لی۔

‘‘تمہیں تو اب خواب میں بھی چام نظر آئے گا۔  ڈیئر ….!یہ اتفاق تھا کہ وہ تباہ نہیں ہوا تھا اور دوبارہ نظر آگیا لیکن پھر تہہ نشین ہوگیا تھا۔’’ کائن نے چند لمحے دوربین سے دیکھا اور اسے وال کو واپس کرتے ہوئے کہا۔ ‘‘کوئی سمندری چٹان ہے چام وام کچھنہیںہے۔’’

‘‘نہیں کائن…. میں نے ایک جہاز کو تیرتے ہوئےدیکھا ہے، بالکل اسی سے ملتا جلتا تھا۔’’

‘‘ہوگا…. ہوسکتا ہے کوئی دوسرا جہاز ہو اور وہ چٹان کی اوٹ میں ہوگیا ہو’’ اس نے بیزاری کا اظہار کیا…. وال کی متلاشی نگاہوں سے دوربین لگی رہی۔

‘‘دیکھو دیکھو کائن….! جلدی دیکھو۔’’ اور کائن نے جلدی سے اس سے دوربین چھین کر اپنی آنکھوں سے لگالی۔ کچھ نظر آیا اس نے پرجوش لہجےمیںپوچھا۔

‘‘ہاں ہے تو کوئی جہاز…. لیکن اس پر نہ تو کوئی جھنڈا نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی اور زندگیکےآثار۔’’

‘‘بس تو پھر یہ چام ہی ہے۔ ہمیں فوراً اس تکپہنچنا چاہیے….’’

‘‘میں تمہارے اس فیصلے کی تائید نہیں کروں گا۔’’ کائن نے ناخوشگوار لہجے میں کہا۔ لیکن اس وقت تک وال اس جہاز کے کپتان کے کمرے تک پہنچ چکا تھا، اس نے اس پر صورتحال کو واضح کیا اور تھوڑی دیر بعد جہاز کا راستہ تبدیل کیا جارہا تھا…. وہ جلدازجلد چام تک پہنچ جانا چاہتے تھے۔

چند گھنٹے بعد انہیں وہ سمندری چٹان صاف نظر آرہی تھی جس کی نشان دہی کیپٹن وال نے کی تھی، کائن کا موڈ اب بھی خراب تھا۔ گویا اب اسے ان لوگوں کی سرگرمیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وال چٹان کے قرب و جوار میں اور دور تک سمندری لہروں کا تعاقب کرتا رہا۔ لیکن افسوس چام کا کہیں پتا نہ تھا، کائن سے اس کی بےبسی دیکھی نہیں گئی اور اس نے مصالحانہ انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا، وہ قدرے بشاش نظر آرہا تھا۔ لیکن نہ جانے کیوں وال کے چہرے پر تردد کی لکیروں نے اپنا ہالہ قائم کر رکھا تھا۔  شاید  اس کی وجہ اس وقت کی ناکامی تھی۔

جب اس نے کائن کو خوشگوار موڈ میں پایا تو اسسے کہا۔

‘‘کیوں نہ ہم جہاز کو یہاں لنگر انداز کردیں۔’’

‘‘ہاں، وال تم ایسا کرسکتے ہو، لیکن اس کے بعد تمہیں الاسکا سے رابطہ قائم کرنا چاہیے اور ضروری ہدایات مانگنی چاہئیں۔’’

‘‘بہت اچھے، کائن، میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔’’ جہاز کو لنگر انداز کر دیا گیا، دونوں کیبن میں بیٹھے اس پراسرار جہاز کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ انہیں الاسکا کے مرکز سے ایک ہفتے کی مہلت ملی تھی کہ وہ صرف ایک ہفتے انتظار کرکے اپنا سفر دوبارہ شروع کردیں۔   عملے کے دوسرے افراد کا چام کے متعلق ملاجلا ردعمل تھا، چند کا خیال تھا کہ یہ مہم بےسود اور بیکار ہے۔  کچھ ان سرگرمیوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔  البتہ دو تین بوڈھے ملّاح ان واقعات کو پراسرار تعبیر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔ حقیقت کا علم کسی کو نہ تھا۔ ایک ہفتہ بھی گزر گیا۔ وال کا سفر دوبارہ شروع ہونے والا تھا کہ انہیں قریب ہی کوئی مسافر جہاز آتا نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہ جہاز فرانس سے آرہا ہے اس کے کپتان اور عملے نے جو باتیں بتائیں وہ بعید از قیاس تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جہاز جس کی تباہی اور حادثے کی اطلاع انہیں مل چکی تھی۔ تن تنہا سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا اور اس کا رخ مٹیری کی اسکیمو آبادی کی جانب تھا۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس جہاز سے رابطہ قائم کرنے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن وہ اس میں ناصرف ناکام رہے، بلکہ وہ جہاز بھی جلد ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

چام

ان اطلاعات سے پورے عملے میں سنسنی پھیل گئی، وال اور کائن بھی حیران تھے، کیونکہ وہ جگہ جہاں جہاز نظر آیا اس مقام سے جہاں حادثہ پیش آیا تھا، ہزاروں میل دور تھی اور یہی بات حیران کن تھی۔ سوال صرف یہ تھا کہ ایسا جہاز جس پر ایک آدمی بھی سوار نہیں برفانی تودوں اور سمندری چٹانوں کے نرغے سے کس طرح بچ نکلتا ہے۔ قطب شمالی کے سمندر میں جہاں سینکڑوں برفانی اور پتھریلی چٹانیں پھیلی ہوئی ہیں کوئی جہاز بغیر کسی تجربے کار امیر البحر کے کسی طرح بھی اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔ لیکن ‘‘چام’’ ان تمام باتوں سے آزاد ہوکر آزادانہ طور پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھا۔ نہ جانے وہ کون سی غیرمعمولی نادیدہ طاقت تھی جو اس کی رہبری کر رہی تھی اور وہ کس طرح اپنی مرضی کے مطابق تنہا سفر کر رہا تھا۔ ایسی ہی کئی اور باتوں کی بنیاد پر چام کی پراسراریت بڑھتی چلی گئی اور اس کے متعلق باتیں کہانیوں کا ساانداز اختیار کرتی گئیں۔ ایک بار پھر الاسکا کے کنٹرول بورڈ سے رابطہ قائم کیا گیا اور پھر ایک تحقیقاتی مشن حرکت میں آگیا۔  چام کے حادثے، تباہی اور دوبارہ نظر آنے کی خبریں دوسرے ممالک میں پھیل گئی تھیں۔

الاسکا سے ایک تحقیقاتی ٹیم روانہ ہوگئی، اس مشن کے طیارے بحر قطب شمالی، الاسکا کے جنوب اور مشرقی، حتیٰ کہ بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کرتے رہے گویا پورے بحر منجمد شمالی کو چھان لیا گیا…. لیکن چام کا کوئی نام و نشان نہ تھا وہ کہیں بھی نظرنہیںآیا۔

وال اور کائن کے سفر کو پورے چھ ماہ گزر چکے تھے۔ جنوری 1932ء کے اوائل میں اس ٹیم کے کچھ اور ساتھی جدا ہوگئے، وال اپنی ضد کا پکا تھا اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ ‘‘جس کا دل چاہے وہ اس مہم سے علیحدہ ہوجائے لیکن مہم جاری رہے گی’’۔  چند دوسرے مہم جو حضرات نے اس کا ساتھ دیا۔ کائن اب بھی اس سے جدا نہ ہوسکا بلکہ اب تو وہ بھی وال کا ہم خیال نظر آتا تھا اور اس نے اس کے مشن میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔

ایک مرتبہ پھر انہیں اطلاع ملی کہ ‘‘چام’’ لاؤ کے علاقے میں سرگرم سفر ہے۔ کئی دوسرے جہازوں سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اسے بڑے قریب سے گزرتے دیکھا ہے۔ یہ جگہ بھی الاسکا سے کئی ہزار میل دور تھی اور بحر منجمد شمالی کا ایک حصہ تھی، گویا اب انہیں واپس قطب شمالی کے اس حصے کی جانب جانا تھا، جہاں سے وہ آئے تھے۔ یہ بات عقل کو چکرا دینے کے لیے کافی تھی اور سوائے وال کے کوئی بھی شخص اس سفر کے لیے تیار نہیں ہوسکتا تھا۔

الاسکا سے دوبارہ رابطہ قائم کیا گیا تو وال کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اسے مطلع کیا گیا کہ واقعی چام لاؤ کے علاقے میں دیکھا گیا تھا، لیکن اب وہ سمندری چٹانوں سے ٹکرا کر پاس پاش ہوچکا ہے۔ تحقیقاتی مشن کی یہی رپورٹ تھی، سب لوگ بد دل ہوچکے تھے…. کائن تو بیزار تھا ہی، اب وال کو بھی وحشت سی ہونے لگی تھی۔ آٹھ ماہ، اٹھارہ دن کے فضول سفر کا اسے انتہائی افسوس تھا اور اس بات کا زیادہ کہ وہ دوبارہ چام کو نہ دیکھ سکا، اب منزل مقصود الاسکا تھی۔

راستے میں انہوں نے ایک اور چھوٹے سے جہاز کو حادثے کا شکار ہوتے دیکھا۔ اس کے زندہ مسافروں کو بچا لیا گیا، کچھ لاشیں تیرتی ہوئی کنارے کی طرف چلی گئیں۔ تب ایک بوڑھے ملاحنےکہاتھا۔

‘‘یہ اس سمندر کا اصول ہے، اس میں کوئی مردہ تہہ نشین نہیں ہو سکتا، وہ کسی کو پناہ نہیں دیتا۔’’

کیوں کہ بحر منجمد  شمالی عام سمندروں کے مقابلے میں زیادہ  گہرا نہیں تھا۔

پندرہ دن بعد ان کا جہاز الاسکا کی بندرگاہ کے ساحل پر لگ چکا تھا۔ سب لوگ بہت خوش تھے، کائن تازہ دم ہونے کے بعد شہر نکل گیا، لاسی کے لیے کچھ تحفے خریدنا تھے، وہ کہیں سے بھی کچھ نہ خرید سکا تھا، اس لیے اس نے لاسی کے لیے چند چیزیں منتخب کیں اور اس کے گھر کی جانب چل پڑا، اس کا دل آج کچھ زیادہ ہی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ لاسی کی امیدوں کا مرکز تھا، سارے راستے لاسی کی معصوم صورت اس کی نظروں میں سمائی رہی، وہ  دروازے پر کھڑا تھا، چند لمحے دستک دینے پر دروازہ کھلا اور ایک چنچل لڑکی وہاں نظر آئی۔ ‘‘یہاں کے لوگکہاںگئے….؟’’

‘‘کون لوگ….؟’’ اس لڑکی نے پوچھا۔‘‘ نام تو بتاؤ۔’’ وہ قدرے تیزی سے بولی۔

‘‘یہاں لاسی اور لانی نام کی دو بہنیں رہتی تھیں اور ان کی ماں بھی تھیں وہ لوگ کہاں گئے….؟’’

تھوڑی دیر بعد اسے سب کچھ معلوم ہوچکا تھا، لاسی کی ماں اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔ لانی شادی کرکے نیویارک چلی گئی اور لاسی…. اس کے متعلق معلوم نہ ہوسکا کہ آیا وہ اپنی بہن کے ساتھ تھی یا…. یا وہ بھی کہیں چلی گئی۔

کائن بہت رنجیدہ ہوا آج اس کے غم میں بےپناہ اضافہ ہوگیا تھا، اسے لاسی سے ایسی امید نہیں تھی، اس نے اس سے جدائی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔  دن یوں ہی گزرتے رہے، کائن اور وال کی ملاقات اب بھی ہوتی تھی، کچھ ہی دنوں بعد ان دونوں نے چھوٹے چھوٹے سفر شروع کردیے اسی طرح دو برس بیت گئے، دوسری دلچسپ بات یہ تھی کہ چام جس کی تباہی کی قطعی تصدیق ہوچکی تھی اور جس کی پراسراریت کی داستانیں آدھی دنیا میں پھیل چکی تھیں، وہ اب پھر سمندر میں تیرتا ہوا نظر آرہا تھا۔ وال اور کائن نے کوئی توجہ نہیں دی۔ لیکن جب وہ ایک سفر کے بعد واپس آئے تو یہاں کے سرکاری ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی کہ چام واقعی تباہ نہیں ہوا بلکہ وہ اب بھی اس وسیع و عریض سمندر میںرواں دواں ہے۔

ایک بار پھر تحقیقاتی جماعتیں اس مشن میں مصروف ہوگئیں۔  کچھ ہی دنوں بعد یہ پتا چلا کہ اس مشن میں وال اور کائن بھی شامل ہوں گے۔ کائن کی خوش قسمتی کہ انہیں دنوں، اس کی ملاقات لانی سے ہوگئی، جو نیویارک سے واپس آگئی تھی اور اس ملاقات کے بعد کائن پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ ناقابل یقین ناقابل فہم، لیکن ایک حقیقت، ایسی حقیقت جس کو دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے….

اس کے پیروں تلے کی زمین نکل گئی، جب لانی نے یہ پوچھا کہ لاسی کہاں ہے اور جب اس نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو لانی نے کہا۔

‘‘کائن وہ تو تمہارے ساتھ گئی تھی….’’

‘‘میرے ساتھ گئی تھی!’’ اس کا سر گھومنے لگا۔

‘‘ہاں ہاں تمہارے ساتھ۔ اس نے کہا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ جارہی ہے۔’’ لانی نے تقریباً چیختےہوئے کہا۔

‘‘نہیں۔’’ وہ تقریباً چیخ پڑا۔ ‘‘وہ میرے ساتھ نہیں گئی، مجھے کچھ علم نہیں، میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے کچھ نہیں معلوم۔’’وہ چیختا ہوا بھاگتا چلا گیا، وال اپنے گھر پر موجود نہیں تھا، وہ عالم اضطراب میں تھا۔ اس کا اضطراب بڑھتا رہا تھا، اس کے کانوں میں کسی بوڑھے ملاّح کے یہ الفاظ گونج رہے تھے۔

‘‘سمندر مردے کو اپنی تہہ میں پناہ نہیں دیتا۔’’

‘‘تو کیا لاسی چام میں دفن ہوگئی۔ سمندر چام کو اگل رہا ہے، کیا چام اسی وجہ سے تہہ نشین نہیں ہوتا۔’’ وہ پاگلوں کی طرح سوچے جارہا تھا۔ وال نے کائن کی بات کو سمجھنے کی بہت کوشش کی  لیکن وہ کیا کوئی بھی شخص اس کی بات کو ماننے سے انکار کرسکتا تھا کہ لاسی جہاز میں چھپ گئی تھی اور وہ وہاں مرگئی۔

بہرحال یہ واقعہ تھا کہ چام دوبارہ نظر آرہا تھا۔ کھوجی طیاروں کی اطلاع تھی کہ چام اسی جگہ دیکھا گیا جہاں اسے پہلی مرتبہ حادثہ پیش آیا تھا، پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے بھی غائب ہوگیا، چند روز بعد یہ دونوں بھی اس مشن پر روانہ ہوگئے ان کا سفر بحری تھا، کائن کی حالت پاگلوں جیسی ہورہی تھی، وہ جلد سے جلد چام کو دیکھ لینا چاہتا تھا…. وہ اس کی تلاش میں تھا، چام جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا تھا، وہ چام جس نے اس کی زندگی میں انگارے بھر دیے تھے اور وہ اس کی تپش سے جلا جارہا تھا۔

‘‘اُف میرے خدا’’ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ وال اس کی قلبی کیفیت سے واقف تھا۔ رات بہت خوفناک تھی، اس رات ان کو اطلاع ملی کہ چام ‘‘بیو فورٹ’’ کے سمندر میں ہے،  یہ مقام بحر منجمد شمالی کا ایک حصہ ہے اور یہ الاسکا کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

بیو فورٹ وال کے جہاز سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا۔ سفر جاری رہا اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک تاریخی سفر تھا۔ رات کا آخری پہر تھا…. فضا طوفانی ہوتی جارہی تھی اور…. اور….ان سے صرف ایک میل کے فاصلے پر چام اپنی خوفناک ہئیت کے ساتھ موجود تھا…. جب وال اس سے رابطہ قائم نہ کرسکا تو کائن کو یقین ہوگیا کہ یہی ‘‘چام’’ ہے کوئی بھی اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتا تھا۔ چند منٹ بعد کائن ہیلی کاپٹر میں بیٹھا، اس کی طرف جارہا تھا، ستاروں کی روشنی میں اس کا ہیولا نظر آرہا تھا، لیکن اسی لمحے انہیں برفانی طوفان نے آگھیرا، وال بہت پریشان تھا…. ہیلی کاپٹر جہاز  پر چکر لگا رہا تھا۔ لیکن وہ ان طوفانی ہواؤں کو برداشت نہ کرسکتا تھا، ادھر وال اپنے جہاز کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہیلی کاپٹر سمندر میں جاپڑا، اس کے گرنے سے پہلے ہی کائن چام پر کود پڑا تھا، وہ تیزی سے ادھر ادھر کچھ ڈھونڈتا رہا دہشت ناک آوازیں اس کے چاروں طرف ہالہ بنائے ہوئےتھیں۔

طوفان شدید ہوتا جارہا تھا، چام ایک طرف سے سمندر میں ڈوب رہا تھا۔ وال کا جہاز بھی کسی چٹان سے ٹکرا چکا تھا، کائن اس وقت ایک غیر مرئی طاقت کے زیر اثر اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

‘‘تم آگئے کائن۔’’ سینکڑوں آوازوں نے ایک ساتھ اس سے کہا۔ ‘‘ یہاں سے جلدی نکلو اور مجھے بھی نکالو، ورنہ میری طرح تم بھی ساری زندگی سفر کرتے رہو گے۔ یہ جہاز کبھی نہیں ڈوب سکتا۔ اس طرح کے سینکڑوں طوفان بھی اس کو تباہ نہیں کرسکتے، جانتے ہو کیوں….؟  میرے علاوہ بھی یہاں بہت سے لوگ ہیں۔’’ جو چام پر آگیا، واپس نہیں گیا اور جو واپس آگیا وہ طوفان اور سمندری لہروں کی بھینٹ چڑھ گیا، اس وقت بھی برف کا طوفان چاروںطرف ہے۔

غلط یا صحیح، لیکن بحر منجمد شمالی  میں سفر کرنے والے ماہی گیروں۔ اسکیمو اور مال بردار جہازوں کو چام کا ہیولا اب بھی نظر آتا ہے اور وہ آج بھی تنہا سفرکررہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے