وہ ایجادیں اور دریافتیں جو اتفاق سے انجام پاگئیں۔

کشش ثقل کی دریافت

نیوٹن

یہ واقعہ تو تقریباً سب نے سُنا ہوگا  عظیم سائنسداں آئزک نیوٹن  نے ایک درخت سے سیب کو گرتے دیکھا اور دنیائے سائنس اور کائنات کے بنیادی اور انتہائی اہم عالمگیر اصول کششِ ثقل کی جانب توجہ دلائی اور پھر دنیا بدل گئی۔

یہ واقعہ 1666ء  کا ہے ، ایک روز نیوٹن باغ میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک سر پر پکا ہوا سیب گرا۔ ذرا دیر کو نیوٹن کا دماغ ہل گیا اور اس نے سیب ہاتھ میں لے کر سوچنا شروع کیا کہ ہر شے اوپر سے نیچے ہی کیوں آتی ہے ؟ یوں کششِ ثقل کا اصول اتفاقاً انسان کے علم میں آیا۔  طبعیاتی سائنس کا رُخ موڑنے والا یہ سیب  اگر نیوٹن کے سر پر نہ گراہوتا  یا  اگر اس دن نیوٹن سوچنے کے بجائے وہ سیب کھا جاتا تو کششِ ثقل جانے کب دریافت ہوتی؟ اور  آج سائنس کی شکل کچھ اور ہوتی۔  درحقیقت اس دنیا کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھنے کے لیے سیب گرا اور اس نے  دنیا کو دیکھنے کے نظریہ کو ایک نئی سمت پر پہنچا دیا۔

انفیکشن  کی دوا پنسلین

پنسلین

الیگزینڈر فلیمنگ  Alexander Fleming کے نام سے سائنس کے اکثر طالب علم واقف ہوں گے ، یہ مشہور طبی سائنسدان تھا۔ ایک دن وہ شیشے کی پلیٹ پر رکھے بیکٹریا کا مشاہدہ کر رہا تھا کہ اس کی ناک سے زکام کے باعث کچھ قطرے اسی پلیٹ پر گرگئے۔ اس نے خوردبین سے مشاہدہ کیا تو پتا چلا کہ جہاں یہ قطرے گرے وہاں جراثیم ہلاک ہوگئے۔ اس نے مزید تحقیق کی تو پتا چلا کہ دماغ میں موجود ’’لائی سوزائم‘‘ مادے سے مضرِ صحت جراثیم ہلاک کئے جاسکتے ہیں۔

سنہ 1928 میں ایک مرتبہ وہ     انفلوئنزا کے موذی وائرس کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر کام کررہا تھا۔   وہ مائکرواسکوپ کی ایک پلیٹ میں ایسے بیکٹریا   پر  تحقیق کرہا تھا جو ان  امراض کا سبب بنتے ہیں۔اتفاق سے اس نے اس پلیٹ کو دھوئے بغیر لیب  میں چھوڑ دیا اور  پھر وہ دو ہفتے کی چھٹیوں پر چلا گیا۔

واپسی پر اس نے دیکھا کہ سبزو نیلے رنگ کی پھپھوندی (فنگس) جو گھروں میں پودوں اور کھانے کی چیزوں میں لگ جاتی ہے، اس پلیٹ میں گری ہوئی ہے اور اس کے پاس کے بیکٹریا کا صفایا ہوگیا ہے۔ یہ دیکھ کر  فلیمنگ نے پھپوند کی ماہیت پر توجہ مرکوز کردی۔  اس نے اس پھپھوندی جسے پنسیلیئم کہا جاتا تھا، کے اندر موجود مفید کیمیائی مادہ حاصل کیا جو انسانی جسم میں موجود ان جراثیم  کی روک تھام کرسکتا ہے۔  اس مادہ کو اس نے پنسلین Penicillin کا نام دیا۔ آج بھی یہ دوا انفیکشن میں مبتلا  لاکھوں انسانوں کو شفا دینے کا کام کرتی ہے۔

اس دریافت سے اینٹی بائیوٹک انڈسٹری کا دروازہ کھل گیا۔  اس دریافت پر الیگزینڈر فلیمنگ کو 1945ء میں طب کا نوبل پرائز دیا گیا۔

ڈائنامائیٹ  کی دریافت

ڈائنامائٹ

انیسویں صدی تک فوجی و سویلین مقاصد کے لیے نائٹرو گلیسرین عام استعمال ہوتی تھی، لیکن اسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا تھا۔

سنہ 1833 کے ایک دن الفریڈ نوبل Alfred Nobel نائٹرو گلیسرین کو حادثاتی طور پر پھٹنے سے روکنے کے ممکنہ طریقوں پر غور کر رہا تھا کہ اچانک نائٹرو گلیسرین کا کنستر لیک ہوگیا اور وہ بغیر جلے لکڑی کے برادے میں جذب ہونے لگی۔ جب برادہ خشک ہوگیا تو الفریڈ نوبیل نے  اس مادہ کو آگ دکھا کر دھماکہ کرنے کا تجربہ کیا  اور یوں اتفاق سے بے لگام نائٹرو گلیسرین کی جگہ  بلاسٹنگ جیلاٹین Blasting Gelatin وجود میں آ گیا۔ اسے ہم کنٹرولڈ ڈائنا مائیٹ  کے نام سے جانتے ہیں ۔

آج بھی دنیا بھر میں مختلف دھاتوں اور معدنیات سمیت  پہاڑوں اور کانوں سے کئی چیزوں کی دریافت کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مائیکروویو اوون

مائیکرو ویو

سنہ 1945 میں انجینیئر پرسی سپنسر Percy Spencer  رے تھیون Raytheon کمپنی کے لیے ایسا آلہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو تابکار شعاعوں کو بہتر طور پر منعکس کر سکے۔ وہ ایک ریڈار سیٹ  کو بجلی مہیا کرنے والی نئی ویکیوم ٹیوب پر کام کر رہے تھے جسے میگنیٹرون magnetron  کہتے ہیں۔ اس آلے پر کام کے دوران پرسی نے محسوس کیا کہ ان کی جیب میں موجود چاکلیٹ پگھل گئی ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ ایسا مائیکرو ویوز کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس  نے اس پر مزید تجربات کیے۔ پہلے مکئی کے دانے پر تجربہ کیا۔ جب مکئی کے دانے بھن گئے تو مزید غذاؤں پر تجربات شروع کیے۔ ان نتائج کو سامنے رکھ کر مائیکرو ویوز کو ایک محفوظ برتن میں بند کرنے کا سوچا گیا ۔ یوں اتفاقیہ طور پر وہ دریافت ہاتھ لگ گئی جسے آج  دنیا بھر میں  مائیکرو ویو  اوون کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹائر   کی ایجاد

ٹائر

زمانہ قدیم میں قدرتی ربر کا استعمال عام تھا لیکن یہ سردیوں میں جم کر ٹوٹ جاتا تھا اور گرمیوں میں پگھل کر بدبودار اور چپچپا ہو جاتا تھا۔ ایک کیمسٹ  چارلیس گڈ ائیر Charles Goodyearنے ربر کے  مسائل پر قابو  پانے لیے کئی سال کھپا دیے،  لیکن اسے کامیابی ملی تو ایک غلطی کی وجہ سے۔

1839ء کا واقعہ ہے  ایک روز چارلیس  اپنی لیبارٹری میں  ربڑ، سلفر اور سیسے کے  آمیزے سے بھری ٹیسٹ ٹیوبز پر  کام کر رہا تھا   کہ  چارلس  کے ہاتھ سے اتفاقاً پھسل کر وہ ٹیوبس جلتے ہوئے فائر اسٹوو پرالٹ گئیں۔    مگر آمیزہ پگھلنے کے بجائے ٹھوس شے بن گیا۔ اس کا رنگ کالا ہو چکا  تھا لیکن اس کی بیرونی سطح سخت اور اندرونی سطح نرم رہی۔

یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ولکنائزڈ ربر  vulcanized rubber  دریافت ہوا جس سے گاڑیوں کے ٹائر بنائے جاتے ہیں اور اس کے بعد آٹوموبیل کی صنعت میں انقلاب آگیا۔

زیرو کیلوریز شوگر

شوگر

سن 1870 میں روسی کیمیا داں کونسٹنٹن فالبرگ constantin fahlberg جونز ہوپکنز یونی ورسٹی کی آئرا ریمسین لیبارٹری میں کولتار سے حاصل کی جانے والی مختلف چیزوں پر تحقیق کر رہے تھے۔

ایک رات وہ کام ختم کر کے گھر واپس آکر کھانا کھانے لگے تو انہیں محسوس ہوا کہ جو رولز وہ کھا رہے ہیں، ان کا ذائقہ عجیب  انداز  میں میٹھا ہو چکا ہے۔  انہوں نے اپنی بیوی سے اس کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ رولز تو معمول کے مطابق بنائے گئے تھے۔ اس جواب پرفالبرگ  کا سائنسی ذہن سوچنے لگا اور آخر انہوں نے جان لیا ۔  دراصل دن میں کام کے دوران فالبرگ کے ہاتھوں پر ایک کیمیکل  لگ گیا تھا جس کی وجہ سے رولز میٹھے ہو گئے تھے۔  وہ کھانا چھوڑ کر فوراً لیبارٹری کی طرف دوڑے۔ انہوں نے اپنی میز پر موجود ہر چیز کو چیک  کیا۔ آخر انہوں نے جان لیا کہ کس مادے کی وجہ سے ان کے رولز میٹھے ہو گئے تھے۔

اس دریافت کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر فالبرگ نے صفائی کے جدید اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہاتھ دھولیے ہوتے  تو شاید سکرین کبھی دریافت نہیں ہوتی اور دنیا زیرو کیلوری والے میٹھے سے محروم رہتی۔

میگنیٹ کی دریافت

مقناطیس

یہ بھی اتفاق ہی تھا جب ایک چرواہے نے مقناطیس دریافت کیا۔  یونان کے جزیرہ کریٹ کے کوہ ایڈا میں ایک  چرواہا رہتا تھا ۔وہ قریبی میدانی علاقوں میں اپنی بھیڑیں چراتا تھا۔ ایک روز اس نے پہاڑی کا رُخ کیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لوہے کا آنکڑا تھا۔  جس سے وہ بھیڑ بکریوں کے لئے درختوں سے پتے توڑا کرتا تھا۔ اس دن سورج کی حدّت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے وہ پہاڑ کے ایک غار میں داخل ہوگیا اور اپنا سامان غار میں ایک طرف رکھ دیا۔ اچانک تیز آواز کے ساتھ اس کا آنکڑا غار کی چھت سے چپک گیا۔ پہلے تو وہ بھوت پریت سمجھ کر خوفزدہ ہوگیا پھر ہمت کرکے اس نے آنکڑے کو چھت سے علٰیحدہ کردیا اور نیچے رکھ دیا۔ لیکن دوبارہ وہ آنکڑا چھت سے چپک گیا۔ کافی دیر تک وہ ایسا کرتا رہا، جب تھک گیا تو اُس نے واپس جاکر اس طاقت کے بارے میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو بتایا۔اور یوں مقناطیس دریافت ہوگیا۔ جس سے آ ج بہت سے مفید کام لئے جاتے ہیں۔

ماچس

ماچس

انسان ہزاروں برس سے زیادہ عرصے سے آگ سے کھیلتا آ رہا ہے لیکن کوئی بھی ایسی چیز نہیں بنا سکا تھا جس کے ذریعے آسانی سے آگ جلائی جا سکے۔ آخر ایک برطانوی ادویات ساز نے اتفاق سے ماچس دریافت کر لی۔

یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔ جان واکر John Walker چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو اس مادہ میں ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً انسانوں کو ماچس مل گئی۔

ملیریا  کی دوا

ملیریا

پندرہویں صدی عیسوی میں امریکہ کی دریافت کے بعد بہت سے گمنام پودوں کو یہاں سے یورپ بھیجا جاتا تھا تاکہ اس کو دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ انہی میں ایک درخت کی چھال  بھی تھی جس کا نام ‘‘کینا کینا’’ Quina-Quina کینا کینا تھا۔  بخار کی دوا مانی جاتی تھی۔ یہ دوا بہت فائدہ مند تھی جس کی وجہ سے اس کی مانگ بہت زیادہ ہوگئی۔

بعض تاجروں نے اپنے منافع میں اضافے کے لئے کینا کینا سے ملتے جلتے ایک درخت سنکونا CinChona کی تجارت  شروع کردی۔ لیکن یہ تجارت  بنی نوع انسان کے لئے بیش بہا نعمت ثابت ہوئی کیونکہ سنکونا  کی چھال ملیریا سے بچاؤ کے لئے بہترین دوا ثابت ہوئی۔

طبیبوں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ سنکونا کے پودے میں Quinine (کونین) بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ملیریا کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

نظامِ شمسی کا سیارہ

یورینس

نظام شمسی کا ساتواں سیارہ یورینس Uranus یوں تو کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن صدیوں سے اسے ایک ستارہ سمجھا جاتا تھا۔

سترہویں صدی کے مشہور ماہر فلکیات ولیم ہرشل William Herschel نے اپنی بہن کیرولین کی مدد سے ایک دوربین تیار کی۔ 13 مارچ 1781ء کو ایک روز ولیم باغ میں لیٹا ستاروں کا  مشاہدہ کر رہا تھا کہ اتفاق سے اس کی نظر ایک ستارے پر گئی جو  کچھ دیر بعد اپنی مقررہ جگہ سے کچھ فاصلے پر دکھائی دے رہا تھا۔ پہلے تو ولیم اسے دم دار ستارہ سمجھا پھر آزمائشی طور پر دوربین چیک کرنے کے لیے اس نے مزید غور کیا تو پتا چلا کہ وہ ایک سیارہ ہے جو اس نے اتفاقی طور پر دریافت کرلیا تھا۔

اس سیارے کا نام یورے نس رکھا گیا۔ اگر ولیم اس وقت ستاروں پر غور  نہ کرتا تو ممکن ہے کہ اس سیارے کی دریافت میں مزید کئی صدیاں لگ جاتیں۔

قدیم مصر کی تاریخ

اہرام

اہرام مصر  کس نے اور کب بنائے اور سرزمین  مصر  میں کتنے اور کون کون سے فراعین  گزرے ہیں شاید دنیا  مصر کی اصل تاریخ کو کبھی نہیں جان پاتی اگر ایک سپاہی کے ہاتھوں انجانے میں ایک  پتھر  نہ آتا۔

1799ء میں نپولین کی فوجوں کا گزر جب مصر سے ہورہا تھا تو  نپولینی افواج نے روسیٹا کے مقام پر ڈیرا ڈالا اور وہاں پر قلعہ تعمیر کرنے کی ٹھانی۔ چند فوجی جوان زمین کھود کر بڑے بڑے پتھر جمع کرنے لگے اور چٹانوں کو توڑا جانے لگا۔

ایک سپاہی نے زمین کھود کر پتھر کی سل حاصل کی اور اسے قلعے میں لگانے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ کمانڈر کی نظر اس سل پر پڑ گئی جس پر مختلف الفاظ کنندہ تھے۔  کمانڈر نے غور سے اس پتھر کا جائزہ لینے کےبعد اسے نپولین کے قائم کردہ تحقیقی ادارے  کو  بھجوا دیا ۔ وہاں  اس عجیب و غریب پتھر پر تحقیق ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اس پتھر پر قدیم مصری زبان یعنی ہیروغلافی Hieroglyphic  میں تحریریں درج تھیں اور ان کا قبطی  اور یونانی  زبان میں ترجمہ بھی لکھا  ہوا تھا۔

ہزاروں سال گزرجانے کی وجہ سے ہیروغلافی زبان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا  لیکن اس پتھر پر یونانی میں ترجمہ لکھا ہونے کی وجہ سے  ماہر لسانیات جین فرانسیس کیمپولائن نے اس پتھر پر برسوں عرق ریزی کے بعد بالآخر قدیم مصری رسم الخط  کا راز جان لیا۔

یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی جس کے بعد ماہرین اس قابل ہوگئے کہ مصری آثار قدیمہ سے برآمد ہونے والی قدیم زبان کو پڑھ اور سمجھ سکیں۔

اس پتھر کو روزیٹا اسٹون Rosetta Stoneکا نام دیا گیا۔

شاہی مہر

شاہی مہر

یہ سن 1784ء کا واقعہ ہے ۔  جاپان کے ایک جزیرے شیکونوشیما Shikanoshima میں ایک کسان اپنے کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ پنیری لگانے کے لیے زمین کھودتے ہوئے اس کی نظر کسی چمکدار چیز پر پڑی،  اس نے وہ نکال لی اور اسے دھو کر دیکھا تو وہ سونے کی ایک مہر تھی۔

وہ کسان اسے گاؤں کے ایک پڑھے لکھے شخص کے پاس لے گیا۔ اس نے غور سے اس مہر کو دیکھا پھر اسے حکومت کے کارندے کے حوالے کردیا۔

اس مہر پر تحقیق ہوئی اور یہ بات سانے آئی کہ یہ مہر 57ء میں چین کے شہنشاہ گوانگو Guangwu کی جانب سے اپنے جاپانی ہم منصب کو پیش کی گئی تھی۔ سفارتی سطح پر چین اور جاپان کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات تھی۔

اس مہر پر موجود لکھاوٹ کے ذریعے جاپانی پہلی بار چینی رسم الخط سے واقف ہوئے تھے۔ بعد میں اسی کی مدد سے جاپان میں کانجی رسم الخط، متعارف کروایا گیا جسے جاپان میں آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک قوم کو زبان مل گئی…..

چیروکی

امریکا  دریافت ہونے کے بعد سولہویں اور سترہویں  صدی عیسوی میں  بڑی تعداد میں اسپینی ، پرتگالی اور انگلستانی بحری بیڑوں نے   امریکا  میں زمینوں پر قبضہ کیے اور یہاں کے مقامی ریڈ انڈین باشندوں کو غلام بنایا۔ انہی ریڈ انڈین اقوام میں امریکی ریاست جارجیا کی  ایک قوم چیروکی   Cherokee بھی تھی۔ چیروکی لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے ۔ ان کی زبان صرف بولی پر مشتمل تھی۔

چیروکی قبیلے  کے ایک لڑکے  سیقویاہ Sequoyah کو   ایک گوری چمڑی والا اپنے ساتھ غلام بنا کر شہر لے آیا۔   سیقویاہ  چونکہ سنار کا کام جانتا تھا اس لیے  سرکاری افسروں کے پاس اس کا آنا جانا رہا۔   سیقویاہ ان پڑھ تھا، لیکن وہ سرکاری کارندوں  کے پھینکے ہوئے بے کار کاغذوں کو جمع کرکے ان   پر لکھی آڑھی ٹیڑھی لکیروں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ پھر اس نے ہر حروف کو خود سے اپنی بولی کی ایک آواز کا نام دینا شروع کیا ۔  بالآخر 1809ء میں اس نے اپنا رسم الخط بنالیا۔ جب سیقویاہ واپس اپنے قبیلے چیروکی پہنچا تو اس نے وہاں کے کئی بچوں  بڑوں کو یہ  حروف تہجی سکھائی اور یوں چیروکی قبیلے کو ایک زبان مل گئی۔

چیروکی قبیلہ نے 1820ءمیں اپنی زبان کو لکھنے کی ابتداءکی انہوں نے اپنے بچوں کو  پڑھا یا اور اپنا ایک اخبار بھی چھاپنا شروع کیا۔ چیروکی دوسرے ریڈانڈین قبائل کے برعکس مہذب  ہوتے گئے۔  چیروکی زبان    آج بھی محدود پیمانے پر لکھی اور پڑھی جاتی ہے ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مشہور سرچ انجن گوگل میں بھی چیروکی زبان استعمال کی جاسکتی  ہے۔

اٹلی کا قدیم شہر

قدیم شہر

انٹرنیٹ استعمال کرنے والے قارئین یقیناً جانتے ہوں گے کہ گوگل ارتھ پر آپ کس طرح گھر بیٹھے سیٹلائٹ کی مدد سے دنیا بھر کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ستمبر 2005ء کے ایک روز اٹلی کا باشندہ کمپیوٹر پروگرامر لوکا موری Luca Mori  اپنی بوریت دور کرنے کے لیے گوگل کے نقشوں میں اپنے شہر  Parma کے میدانوں کو دیکھ رہا تھا۔ جب اسے ایک مقام پر بیضوی شکل کا میدان سا بنا نظر آیا جس کی لمبائی پانچ سو میٹر کے قریب تھی۔ اس کے آس پاس ہی کچھ عجیب سے سائے بھی نظر آرہے تھے۔

اس نے غور سے ان سایوں کا جائزہ لیا تو اسے یوں لگا جیسے یہ زمین میں دھنسی ہوئی عمارتوں کے سائے ہوں۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے ماہرین آثار قدیمہ کو اس بارے میں بتایا۔

اس کے بتائے ہوئے نقشے پر عمل کرتے ہوئے ماہرین نے اس مقام پر کھدائی شروع کردی اور کچھ ہی عرصہ بعد وہاں سے قدیم رومن عہد کی ایک پرشکوہ اور طویل و عریض حویلی کے آثار برآمد ہوگئے اور رومی  تاریخ کا ایک نیا باب کھل گیا۔

غاروں کے عہد کا آدمی

آسٹریا

یہ سن 1990ء کی بات ہے۔ آسٹریا کے مشہور برفیلے پہاڑی سلسلے اوٹزل Otztalمیں ایڈونچر کی غرض سے دو کوہ پیماؤں نے تنگ گھاٹیوں سے گزر کر پہاڑوں پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔ا س مقصد کے لیے انہوں نے اندرونی راستوں پر سفر کرنا شروع کردیا۔ وہ برف میں راستہ بناتے آگے بڑھ رہے تھے جب انجانے میں ان کے پیروں سے برف میں منہ کے بل پڑی ہوئی لاش ٹکرائی۔  لاش دیکھ کر وہ دونوں گھبرا گئے۔  سردی کی وجہ سے لاش  کی کھال کسی چمڑے کی طرح سخت ہو کر اس کی ہڈیوں پر منڈھی ہوئی تھی اور گوشت پر عجیب طرح سے سلوٹیں پڑی تھیں۔

انہوں نے جلدی جلدی اس کی چند تصویریں اتاریں اور پولیس کو اطلاع کردی ۔  پولیس آگئی مگر لاش کی حالت دیکھ کر چونک گئی کیونکہ یہ کہیں سے بھی قتل کی تازہ واردات نہیں لگ رہی تھی اور لاش پوری طرح سے برف میں پھنسی ہوئی تھی۔

ماہرین کو اس مقام پر طلب کیا گیا اور چار دنوں کی کوششوں کےبعد یہ لاش پوری احتیاط کے ساتھ برف سے نکال لی گئی۔

اس لاش پر تحقیق ہوئی تو ایک حیرت انگیز دریافت سامنے آئی کہ برف میں قدرتی طور پر محفوظ رہ جانے والی اس ممی کا تعلق 3300 قبل مسیح سے ہے اور یہ شخص کوئی شکاری تھا، یعنی غاروں میں رہنے والا انتہائی قدیم باشندہ!

اس کا شمار قدرتی طور پر محفوظ رہ جانے والی دنیا کی قدیم ترین ممیوں میں ہوتا ہے اور اس کے ذریعے ماہرین کو دور قدیم کے انسانوں کے رہن سہن اور طرز معاشرت کے بارے میں جاننے میں کافی مددملی۔

توت عنخ آمن کا مقبرہ

توت عنخ آمن

اگر ہم آپ کو یہ بتائیں کہ بیسویں صدی کی سب سے اہم تاریخی دریافت دراصل ایک مشکی لڑکے کی بدولت ہوئی تھی تو آپ حیرت زدہ ہوکر اس اتفاق کی تفصیلات ضرور جاننا چاہیں گے۔

ہوا کچھ یوں کہ مشہور ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر بہت عرصے سے تاریخی لحاظ سے مشہور مصری بادشاہ توت عنخ امن  کا مقبرہ تلاش کرنے کی  کوششیں کر رہا تھا لیکن کسی طرح اس کا سراغ نہیں مل پارہا تھا۔

مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے کارٹر  بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ اس کے ساتھ ایک مشکی لڑکا بھی رہتا تھا جس کی ذمہ داری پانی لانے کی تھی۔ ایک روز وہ لڑکا بوریت بھگانے کے لیے صحرا کی مٹی میں کھیل رہا تھا جب اچانک اس کا پیر کسی پتھریلی چیز سے ٹکرایا اور وہ گر پڑا۔ اس نے غور سے دیکھا تو مٹی کےاندر اسے ایک پتھر کی بنی ہوئی سیڑھی نظر آئی۔ وہ لڑکا  دوڑتا ہوا کارٹر کے پاس پہنچا اور اسے سیڑھی کی بابت بتایا۔ کارٹر اس کے ہمراہ فوراً اس مقام پر پہنچا اور کھدای شروع کردی۔ اس کھدائی میں بائیس دن لگے اور بالآخر کارٹر اور اس کے ساتھی ان سیڑھیوں کے ذریعے کھدائی کرتے ہوئے مقبرے کے دروازے تک پہنچ گئے ۔

جب وہ مقبرے کے اندر پہنچے تو وہ سونے، چاندی اور جواہرات سے اٹا اٹ بھرا ہوا تھا۔

اس سے پہلے اتنی تعداد میں سونے سے بھرا مقبرہ کہیں دریافت نہ ہوا تھا اور اس کی دریافت کا سہرا ایک معمولی مشکی لڑکے کے سر بندھتا ہے جس نے اپنی بوریت دور کرنے کی تگ و دو میں ایک اہم دریافت کر ڈالی۔

ٹیراکوٹا فوج

ٹیرا کوٹا

ٹیرا کوٹا کی فوج کے بارے  میں آپ جانتے ہی ہوں گے ۔  قد آدم مجسموں پر مشتمل یہ شاندار فوج جو آٹھ ہزار سپاہیوں،   130 بگھیوں اور 520 گھوڑوں پر مشتمل ہے۔ دراصل یہ چینی شہنشاہ کوئن شی کے زمانے میں   210 قبل مسیح کے آس پاس  بنائی گئی تھی۔یہ وہی  شہنشاہ کوئن شی ہے جس نے دیوار چین بنائی تھی۔ شہنشاہ  کوئن شی کے انتقال پر مجسموں کا یہ لشکر اس کی لاش سمیت ہی دفنا دیاگیاتھا۔

اس مقبرے کی دریافت کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1974ء میں ایک چینی کسان اپنے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے کنواں کھود رہا تھا جب اس کی کدال ایک گول منہ کے مرتبان جیسی چیز سے ٹکرائی۔ اس نے مرتبان کو باہر نکالنے کے لیے کھدائی جاری رکھی اور تھوڑی دیر بعد ہی اسے ایک مجسمے کی جھلک نظر آئی۔ اس نے کسی طرح کوشش کرکے وہ قد آدم مجسمہ باہر نکال لیا اور اسے میوزیم میں دکھانے چل پڑا۔

میوزیم کی انتظامیہ نے جونہی یہ مجسمہ دیکھا تو وہ فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گئی ۔  اس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر کھدائی کا کام شروع ہوا اور رفتہ رفتہ ماہرین نے وہاں سے ٹیراکوٹا کی پوری فوج برآمد کرلی۔ ٹیراکوٹا کی یہ عظیم الشان فوج آج میوزیم میں دیکھی جاسکتی ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اس لشکر کے آٹھ ہزار سپاہیوں کے مجسموں میں ہر ایک کی شکل اور لباس مختلف تھا ۔یہ یقیناً اس زمانے کے مجسمہ سازوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ترکی کا زیر زمین شہر

زیر زمین شہر

1963ء میں ترکی کے ایک شہری نے اپنے چھوٹے سے گھر کی مرمت کرنے کی اٹھائی۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے گھر کی ایک کمزور پڑتی دیوار گرا دی تاکہ وہاں پر دوسری دیوار تعمیر کرسکے۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیوار کی دوسری جانب ایک غار نما کمرا بنا دیکھا۔ اس شخص نے کھدائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور کچھ عرصہ لگاتار کھدائی کے بعد  رفتہ رفتہ اس نے اپنے سامنے سرنگوں کا ایک جال سا بنتا دیکھا جو  280 میٹر تک نیچے گھوم کر کسی قدیم شہر کی باقیات سے جا ملتا تھا۔

یہ صورتحال دیکھ کر اس نے مقامی انتظامیہ کو اس کی اطلاع کردی جنہوں نے آکر اس جگہ کو سیل کرکے اپنی نگرانی میں کھدائی شروع کروائی۔  آخر کار یہاں سے ‘‘ڈیرنکیو’’ Derinkuyu  نامی ایک قدیم شہر برآمد ہوا جو بارہ یا پندرہ صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

اس زیر زمین شہر کو  انا طولیہ کے حتی قوم کے باشندے فوجوں کی یلغار سے بچنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور ایک وقت میں یہاں بیس ہزار افراد پناہ لے سکتے تھے۔  آج سیاح اس شہر کی سیر کرسکتے ہیں ۔

بحر مردار کے قلمی نسخے

بحیرۂ مردار

سن 1947ء میں چند بدو چرواہے اپنی بکری ڈھونڈ رہے تھے جب ان کا گزر ایک متروک غار سے ہوا۔ اس غار میں ان کی نظر اجنبی زبان میں لکھے ہوئے نسخوں پر پڑی جو مرتبانوں کے اندر بند تھے۔ انہیں بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ بےخبری میں انہوں نے عہدنامہ قدیم (توریت )کے نایاب نسخے دریافت کر لیے تھے جو ایک انتہائی اہم تاریخی دریافت تھی۔

انہوں نے یہ مرتبان اٹھائے اور شہر آکر ایک تاجر کے ہاتھوں ساٹھ ڈالر میں فروخت کردیے۔

رفتہ رفتہ چمڑے پر لکھے گئے یہ نسخے دنیا بھر میں پھیل گئےاور لوگوں میں ان کا چرچہ ہونے لگا۔ کچھ نسخے امریکا میں بھی فروخت ہوئے، جن کی قیمت ڈھائی لاکھ ڈالرز تک لگائی گئی۔

ان بدو چرواہوں کو جب اندازہ ہوا کہ عہد نامہ قدیم پر مشتمل یہ نسخے اس قدر اہمیت کے حامل ہیں تو انہوں نے اپنا پیشہ تبدیل کردیا اور ماہرین کے ہمراہ اس علاقے میں گھوم پھر کر ان جیسے مزید  نسخوں کی دریافت میں ان کی مدد کرنے لگے۔ ان بدوؤں کی مدد سے ماہرین نے اب تک   981 قدیم نسخے برآمد کرلیے ہیں۔

ان دریافتوں سے یہودی اور عیسائیوں کی بہت سے ایسی نایاب مذہبی کتب اور اناجیل بھی ملیں جو امتاد زمانہ کے ہاتھوں ضایع ہوچکی تھیں۔

کارن فلیکس

کارن فلیکس

1894ء کی بات ہے۔ ڈاکٹر جان ہاروے کیلوگ امریکہ کی ریاست مشی گن میں بیٹل کریک سینیٹیریم کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ وہ اور ان کے بھائی وِل کرتھ کیلوگ سیونتھ ڈے ایڈوینٹسٹ تھے۔ مسیحیوں کے اس فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ سبزی کے سوا کوئی چیز نہیں کھاتے۔

دونوں بھائی مریضوں کے لیے کسی ایسی غذا کی تیاری کی کوشش کر رہے تھے جس کا کھانا ان کے لیے مفید بھی ہو اور وہ ان کے فرقے کے سخت تعلیمات کے مطابق صرف سبزی پر مشتمل ہو۔ ایک دن وِل اتفاقاً ابلی ہوئی گندم کو ایسے ہی چھوڑ گئے۔ وہ اگلے دن واپس آئے تو گندم باسی ہو چکی تھی۔ انہوں نے اسے پھینکنے کی بجائے بیلنے کے ذریعے چپٹا کرنے کی کوشش کی لیکن گندم چپٹی ہونے کی بجائے دانوں میں بدل گئی۔ انہوں نے وہی دانے دلیہ کے طر پر مریضوں کو کھانے کے لیے پیش کر دیے۔ مریضوں کو ان کا ذائقہ بہت پسند آیا۔

ابلی ہوئی باسی گندم سے بنائے گئے دانوں کی مقبولیت دیکھ کرڈاکٹر جان کیلوگ اور ان کے بھائی ول کیلوگ نے  دوسری اجناس پر تجربات شروع کیے۔ ان اجناس میں مکئی بھی شامل تھی۔

مکئی کے دانے زیادہ مقبول ہوئے تو دونوں بھائیوں نے دلیہ بنانے اور فروخت کرنے کے لیے کیلوگز کے نام سے کمپنی قائم کر لی۔

یہ دلیہ آج کارن فلیکس  کے نام سے مقبول ہے ۔

فرنچ فرائز

چپس

جی ہاں ! آلو کے مذیدار چپس  یعنی فرنچ فرائز بھی ایک اتفاق کا نتیجہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جارج کَرَم نامی ایک باورچی نے 1853ء میں اتفاقاً آلو کے چپس دریافت  کیے تھے۔

ہوا یہ کہ جارج امریکہ کی ریاست نیو یارک کے شہرساراٹوگا سپرنگز میں مونز لیک ہاؤس نامی ایک ریستوراں میں کام کرتا تھا۔  ان کا ایک گاہک تلے ہوئے آلو منگواتا تھا مگر ہمیشہ یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا تھا کہ وہ زیادہ کرارے نہیں ہیں۔ ایک دن تنگ آ کر جارج نے آلوؤں کے جتنے پتلے قتلے بنانا ممکن تھا، اتنے پتلے قتلے بنا لیے۔اس کے بعد انہوں نے آلوؤں کے ان قتلوں کو تیل میں تل لیا۔ آلوؤں کے تلے ہوئے قتلوں پر جارج نے نمک چھڑک دیا۔

آلوؤں کے یہ قتلے نہ صرف اس  گاہک کو بہت پسند آئے بلکہ اس ریستوراں میں آنے والے تمام گاہکوں نے بھی انہیں پسند کیا۔ رفتہ رفتہ پورے شہر  میں ساراٹوگا چپس مقبول ہو گئے۔  بعد میں اسی طریقوں پر لوگ آلو کے چپس گھروں میں بھی بنانے لگے۔

ویاگرا

ویاگرا

90 کے عشرے میں دوا ساز کمپنی فائزر نے انجائنا کے مریضوں کی شریانیں مستحکم رکھنے کے لیے سلیٹرنلی نامی کیمیکل کا ٹرائل شروع کیا۔ مگر یہ کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا، بلکہ جن لوگوں پر تجربہ کیا گیا ان پر الٹا اثر ہوا۔ یعنی عدم ایستادگی کے شکار مریضوں کے دورانِ خون کی رفتار میں اضافے سے ان کی قوتِ ایستادگی بحال ہونے لگی۔ چنانچہ تحقیق کا رخ بھی مڑ گیا اور چار ہزار رضاکاروں کے کلینکیل ٹرائل کے بعد ویاگرا Viagra کی نیلی ٹیبلٹ کا ظہور ہوا۔

کوکاکولا

کوکا کولا

دنیا کا مقبول ترین مشروب ‘‘کوکا کولا’’ بھی حادثاتی طور پر سامنے آیا۔

جان پیمبرٹن نامی شخص اصل میں اعصاب کے لیے طاقت بخش دوا بنانا چاہتے تھے اور یہ بنا بیٹھے۔ ایک عرصے تک اسے طبی فوائد کا حامل مشروب تک کہہ کر بیچا گیا۔

دنیائے سائنس کی بیشتر عظیم دریافتیں ،مثلاً  مقناطیس، ربڑ، نائلون، سپر گلو، پنسلین،  مائکروویو اون، پیس میکر، اسکاچ گارڈ، حفاظتی گلاس، اسٹین لیس اسٹیل اور بہت کچھ اتفاقی طور پر دریافت کیا گیا ہے۔ کشش ثقل سے لے کر  بگ بینگ  تک کئی نظریات بھی اتفاقاً پائے گئے ہیں۔

سائنسی دریافتوں کے بارے میں عام تصور یہی ہے کہ بہت ہی ذہین لوگ اپنے غیر معمولی تخیل اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں، جو لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو آسان بناتے ہیں۔  لیکن حقیقت یہ ہے کہ  آدھی سے زیادہ سائنسی دریافتوں میں قدرت کا عمل دخل ہے اور ان  دریافتوں  نے محض حادثات اور اتفاق سے جنم کیا ہے۔

انوینٹولوجی Inventology نامی ایک کتاب میں امریکا میں رجسٹر ہونے والے تمام پیٹنٹس کا جائزہ لیتے ہوئے پایا گیا ہے کہ 50 فیصد پیٹنٹ اتفاقی عمل کا نتیجہ تھے۔ تحقیق کے مطابق لوگ نئی مصنوعات اس وقت بھی بناگئے جب ان کا ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ کوئی کوشش۔  یعنی کئی دریافتیں ارادتاً نہیں بلکہ اتفاقاً معرض وجود میں آ ئی  ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے