ریاست الور کے مہاراجہ جے سنگھ! عیاشیوں میں انگریزوں کے بھی استاد۔

بیان کردہ واقعات دیوان جرمنی داس کی کتاب  مہاراجہ  سے اخذ شدہ ہیں۔ جو ہندوستان  کے حکمرانوں سے متعلق ایک ننگا سچ ہے یوں تو اس کتاب میں بہت سے راجاؤں  کے دلچسپ و عجیب قصے درج ہیں لیکن آج ہم ذکر کریں گے ایک ایسے مہاراجہ کا جن کی عیاشیوں اور بدانتظامیوں کے سبب انگریز بھی اپنا سر پیٹ کر رہ گئے۔  جبکہ یہ فارمولا انگریزوں کا ہی وضع کردہ تھا کہ ہندوستان کے راجا مہاراجاؤں کو عورتوں، شراب اور دولت میں اس قدر ڈبو دیا جائے کہ کسی کے دل و دماغ  بغاوت کا خیال بھی  نہ پیدا ہو۔  لیکن یہ مہاراج  ان تمام چیزوں میں اس قدر آگے بڑھے کہ انگریزوں کو بھی مجبوراً ان سے جان چھڑوانی پڑی۔

یہ تھے بھارتی ریاست الور کے مہاراجہ  جے سنگھ پر بھاکر۔  ان کی ذہنی پسماندگی کا اندازہ اس واقعہ سے کیجیے کہ ایک مرتبہ  مہاراجہ جے سنگھ  راجھستان کے علاقے میں چند انگریز افسران اور امراء کے ساتھ پولو کھیل رہے تھے، جس میں انہیں شکست کا سامنا ہوا۔  مہاراجہ نے اس شکست کے بدلے اپنے گھوڑے کو بھرے مجمعے میں نہایت بے دردی سے پیٹا بعد میں کئی دن تک اس معصوم گھوڑے کو کھانا تک نہ دیا گیا۔

مہاراجہ  جے سنگھ کے غرور کا یہ عالم تھا کہ ایک بار  مہاراجہ نے بمبئی میں مقیم دنیا کے مشہور نجومی الیسٹر  کو الور آنے کی دعوت دی۔ مہاراجہ اس نجومی سے آنے والے الیکشن کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن السٹر نے یہاں آنے کے لیے ایک بھاری رقم کا مطالبہ کیا ، اس کے ساتھ ساتھ کئی اور کڑی شرائط مہاراجہ کے سامنے رکھ دیں۔   بہرحال مہاراجہ نے تمام شرائط قبول کرلیں اور الیسٹر بذریعہ ریلوے الور نامی ریاست پہنچ گیا۔ السٹر جب یہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسے اسٹیشن لینے کوئی نہیں آیا تھا۔ بے چارے نے آدھا راستہ  پیدل طے کیا اور آدھا تانگے پر، جب دنیا کا یہ مشہور نجومی مہاراجہ جے سنگھ کے محل کے قریب پہنچا تو کسی محافظ نے اسے اندر ہی نہ جانے دیا۔اسی طرح کئی دن بیت گئے پیسہ پائی ملنا تو دور یہ نجومی  مہاراجہ سے ملنے تک کو ترس گیا۔ بالآخر اس نے  واپس بمبئی جانے کا فیصلہ کیا اور ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ اس کی بدقسمتی کے اسے وہاں دو پولیس اہلکار مل گئے اور لے جاکر تھانے میں بند کردیا۔کئی ماہ جیل میں گزارنے کے بعد اچانک مہاراجہ نے اسے طلب کیا۔ نجومی نے سکھ کا سانس لیا ،نئے کپڑے پہنے  اور مہاراجہ  کے مستقبل  کا حال بتانے اس کے پاس پہنچ گیا۔   مہاراجہ انتہائی بے رخی سے اس نجومی سے مخاطب ہوئے اور کہا :

"جو آدمی اپنا مستقبل نہیں جانتا کہ اسے الور جاکر کن مشکلات کا سامنا ہوگا وہ میرا مستقبل کیا بتائے گا۔ ”

اس کے بعد مہاراجہ نے دنیا کے اس مشہور ترین نجومی کی واپسی کا ٹکٹ کٹوایا اور  بغیر کوئی پیسہ پائی دیے الور سے روانہ کیا۔

مہاراجہ جے سنگھ کا ماننا تھا کہ وہ  ہندوؤں کے بھگوان شری رام کی اولاد میں سے ہے  جو دنیا کی اعلیٰ ترین نسل ہے، جبکہ وہ یہ بھی مانتا تھا کہ وہ خود بھی ایک بھگوان کا اوتار ہے۔اسے لگتا تھا کہ عام لوگوں کو چھونا اس کی پوترتا کو کم کرسکتا ہے اس لیے وہ لوگوں سے ہاتھ نہ ملایا کرتا یہاں تک کہ ملکہ انگلستان  اور وائسرائے سے بھی  دستانے پہنے بغیر ہاتھ نہ ملاتا۔

ریاست الور کا  حکمران ہونے کے باوجود اسے یہاں کے غریب لوگوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی وہ ریاست کی تمام آمدنی اپنے محلوں، ذاتی استعمال کی سڑکوں اور اپنی عیاشیوں پر صرف کرتا۔ انڈیا کا مشہور سریسکا پیلس بھی اسی مہاراجہ یعنی جے سنگھ کا تعمیر کردہ ہے۔ مہاراجہ جے سنگھ کی کئی مہارانیاں  اور کنیزیں تھیں لیکن حیرت کی بات یہ تھی  مہاراجہ جے سنگھ کو عورتوں میں کوئی خاص دلچسپی ہی نہ تھی ، اس کے برعکس وہ مردوں کے ساتھ وقت گزارنا زیادہ پسند کیا کرتے۔ چنانچہ وہ ان  مردوں کا انتخاب اپنے وزیروں،سیکرٹریز اور دیگر عہدیداروں میں سے کرتے، یا ریاست میں سے جو شخص ان کو بھاجائے اسے اپنا محبوب بنالیتے۔  عورتوں میں دلچسپی نہ ہونے کے باوجود کئی مہارانیاں اور کنیزیں محل میں رکھنے کی وجہ یہ تھی  کہ مہاراجہ اکثر راتوں میں ایسی   فحش دعوتیں منعقدکیا کرتے جن میں  انگریز افسران، ریاستی عہدیدار اور امراء شریک ہوتے۔ یہ دعوتیں ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہوا کرتیں جو وزیر یا عہدیدار جس مہارانی سے چاہتا تعلق بنالیتا،  نہ تو مہاراجہ کو اس پر کوئی اعتراض ہوتا اور نہ مہارانی کو زبان کھولنے کی جرأت۔

شاہی کنیزیں

رفتہ رفتہ اس عمل سے شاہی خاندان کی عورتوں کی بدنامی ہونے لگی سومہاراجہ جے سنگھ نے یہ حکم جاری کیا کہ  شاہی محل میں منعقد ہونے والی فحش محفلوں میں شرکت کرنے والے وزراء، امراء اور دیگر عہدیدار بھی اپنی اپنی خواتین کو ساتھ لایا کریں۔ ان لوگوں نے بہت سر پیٹا مگر لاحاصل اور وہ سب مہاراجہ کا حکم ماننے پر مجبور ہوئے۔  چند دن بعد مہاراجہ نے غضنفر علی خان نامی ایک شخص کو ریاست کا وزیر خزانہ منتخب کیا۔ یہ کافی خوبصورت  اور مضبوط جسم کے مالک  تھے۔ اس لیے جلد ہی مہاراجہ جے سنگھ کے انتہائی قریب ہوگئے اور ان کا شاہی دعوتوں میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ چند ہی دنوں میں  غضنفر علی خان مہاراجہ اور مہارانیوں  سب کی پسندیدہ شخصیت بن گئے۔

ان کی یہ پسندیدگی وزیراعظم گردھاری لال اور دیگر وزرا کو بہت زیادہ کھٹکنے لگی، ایک مرتبہ  مہاراجہ کو اچھے موڈ میں دیکھتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ آپ کا وزیر غضنفر علی  محل میں ہماری عورتوں کے بیچ خوب رلیاں مناتا ہےجبکہ اپنی عورتوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم سے چھپا کر رکھتا ہے، آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔ مہاراجہ ان درباریوں کی باتوں میں آگیا اور اگلی مرتبہ جب غضنفر علی خان محل میں حاضر ہوا تو اسے حکم دیا کہ اس دیوالی پر وہ بھی اپنی بیگم کو لے کر شاہی محفل میں شرکت کرے۔ یہ سن کر  غضنفر علی خان خوب سٹپٹایا، بادشاہ نے اسے 10 ہزارروپے عنایت کیے اور کہا کہ فوراً اپنی بیگم کو لاہور سے لے آؤ۔

مہاراجہ کی حکم عدولی اسے قید خانے تک پہنچاسکتی تھی لہٰذا چپ چاپ لاہور روانہ ہوا،  جب دہلی پہنچے تو یہاں ایک دوست سے ملاقات ہوئی، اس نے یہ مسئلہ سنا تو پوچھا کہ مہاراجہ نے تمہاری بیوی کو دیکھا ہے؟ جس پر غضفر علی نے انکار کیا۔ اب اس دوست نے  قہقہہ  لگاتے ہوئے اس مسئلے کا ایسا حل تجویز کیا کہ غضنفر علی خان کی ساری پریشانی  ہوا ہوگئی۔ چند لمحوں بعد یہ دونوں اشخاص دہلی کے بدنام زمانہ فحاشی کے اڈوں پر ایک خوبصورت لڑکی تلاش کررہے تھے،بالآخر انہیں مطلوبہ لڑکی مل گئی چند دن اسےتربیت دینے کے بعد غضنفر علی خان واپس الور روانہ ہوئے۔

یہ دونوں جب شاہی محفل میں حاضر ہوئے تو سب کی نگاہوں کا مرکز تھے، محفل کی شروعات ہوئی ، وہ لڑکی جو ایک پیشہ ور طوائف تھی اس نے اپنے ہنر میں محل کی تمام مہارانیوں اور کنیزوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔مہاراجہ  غضنفر خان کی بیگم کی کارکردگی سے اس قدر خوش ہوئے کہ اسے 5 لاکھ روپے بطور انعام پیش کیے گئے۔ چند دن الور میں رہنے کے بعد بیگم خان یہاں سے رخصت ہوئیں اور چند ہی دن بعد مہاراجہ کو خبر ملی کہ ڈلیوری کے دوران بیگم خان کا انتقال ہوگیا ہے۔ مہاراجہ اور دیگر درباریوں نے ان کے غم میں  ایک روزہ سوگ منایا۔ جبکہ غضنفر علی خان دل ہی دل میں اپنے اس دہلی والے دوست کو دعائیں دیتے رہے۔

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد  مہاراجہ آف الور یعنی جے سنگھ کو وائسرائے لاج کی جانب سے دعوت ملی کہ وہ کچھ دن یہاں ہمارے ساتھ شملہ میں گزاریں،اس بات پر خوش ہونے کے بجائے مہاراجہ نے ایک طویل فہرست وائسرائے لاج روانہ کی، جس میں لکھا تھا کہ مہاراجہ کو چمڑے کی بنی ہر چیز سے الرجی ہے سو اسے  رہائشی جگہ سے ہٹادیا جائے جبکہ مہاراجہ کو کتوں کا پاس رہنا پسند نہیں ،اس لیے  شملہ کے تمام کتوں کو قید کرلیا جائے۔ وائسرائے لارڈ ولنگ ڈن کو یہ باتیں سخت بری لگیں لیکن   انہیں درگزر کرتے ہوئے اس نے مہاراجہ کی ہدایات پر عمل کروایا ۔

چند دن بعد مہاراجہ شملہ آگئے ، ان کے اعزاز میں شاہی کھانے کا اہتمام کیا گیا محفل اپنے عروج پر تھی انگریز اافسران اور ملک کے نامور امراء موجود تھے۔ کہ  اچانک وائسرائے کی بیوی کا کتا اپنے کمرے سے نکل کر ٹیبل کے نیچے آن بیٹھا اور اتفاق سے مہاراجہ کی ٹانگ اس کتے سے مس ہوگئی  ۔ مہاراجہ نے نا وائسرائے کا خیال کیا نہ اس کی بیگم کا، غصے میں بڑبڑاتے اور پاؤں پٹختے فوراً محفل سے روانہ ہوئے۔

بالآخر مہاراجہ کی  اوٹ پٹانگ حرکتوں سے  انگریز تنگ آگئے ، اور مہاراجہ جے سنگھ کا داخلہ ان کی اپنی  ہی ریاست الور میں ممنوع قرار دیا، بےچارے مہاراجہ سیٹھ گووند رام سے  قرضہ لے کر یورپ روانہ ہوئے، ان کا آخری دور انتہائی تکلیف دہ تھا، جب  تخت پر واپس آنے کی کوئی امید باقی نہ رہی تو  شراب اتنی کثرت سے پینے لگے کہ ایک دن نشے میں چور مہاراجہ سیڑھیوں سے گر کر اپنی ریڑھ کی ہڈی تڑوا بیٹے اور چند دن بعد سخت اذیت میں ان کی موت واقع ہوئی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے