اشراف کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والا! اموی عہد کا ایک واقعہ

اموی خلیفہ

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (مدتِ خلافت 715ء تا717ء) کے زمانے میں خزیمہ بن بشرنامی ایک شخص بنی اسد کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ بامروت اور دولتمند تھا، اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرتا اور بھلائی سے پیش آتا۔ گردشِ زمانہ سے وہ غریب ہوگیا اور ان بھائیوں سے مدد کا طالب ہوا جن پر اس نے امیری کے زمانے میں احسان اور مہربانیاں کی تھیں۔
کچھ دنوں تک تو لوگوں نے اس کی مدد کی لیکن آخراُکتاگئے۔ اس نے انہیں بدلا ہوا دیکھا تو اپنی بیوی کے پاس گیا جو اس کے چچا کی بیٹی تھی اور بولا ’’میرے بھائیوں نے آنکھیں پھیر لی ہیں، اس لیے میں نے دل میں ٹھان لی ہے کہ مرتے دم تک گھر سے نہ نکلوں گا‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے گھر کا دروازہ بند کر لیا اور جو کچھ اس کے پاس تھاا سی پر گزارا کرنے لگا۔
لیکن جب جمع پونجی ختم ہوگئی اور فاقوں تک نوبت پہنچی تو سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔
اس کی عکرمہ فیاض سے جان پہچان تھی جو بنی ربیعہ کے قبیلے کا سردار اور جزیرے کا حاکم تھا۔ ا یک دن عکرمہ کی محفل میں خزیمہ بن بشرکا ذکر آگیا۔ اس نے پوچھا کہ ’’خزیمہ کا کیا حال ہے؟‘‘…… لوگوں نے کہا کہ وہ ’’ناقابلِ بیان مصیبت میں گرفتار ہے اس نے اپنا دروازہ بند کر رکھا ہے اور گھر سے باہر نہیں نکلتا‘‘۔
عکرمہ فیاض نے کہا ’’اس پر یہ مصیبت اس کی غیرمحتاط سخاوت کے باعث آئی ہے، مگر اس بات کا کیا سبب ہے کہ کوئی بھی اس کا ہمدرد اور مددگار نہیں؟‘‘…….
لوگوں نے کہا ’’اﷲ جانے بہرحال اب اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا‘‘۔
رات ہوئی تو عکرمہ نے چار ہزار دینار لے کر ایک تھیلی میں رکھے اور ا پنے گھوڑے پر سوار ہوکر گھر سے پوشیدہ طور پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کاغلام تھیلی لیے ساتھ تھا۔ چلتے چلتے وہ خزیمہ کے دروازے سے پرپہنچا۔ غلام کے ہاتھ سے تھیلی لے کر اُسے دور ہٹادیا اور خود جاکر دستک دی۔ خزیمہ نکلا تو اس نے اسے تھیلی تھمادی اور کہا’’اس سے اپنی حالت درست کرو‘‘۔
خزیمہ نے تھیلی ہاتھ میں لی تو محسوس کیا کہ وہ خاصی بھاری ہے۔ اس نے تھیلی زمین پر رکھی اور عکرمہ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر پوچھا ’’قربان جاؤں بتا تو سہی توُکون ہے؟‘‘…..
عکرمہ نے کہا ’’اگر مجھے اپنا تعارف کروانا منظور ہوتا، تو ایسے وقت نہ آتا‘‘۔
خزیمہ کہنے لگا۔ ’’جب تک تو یہ نہ بتائے گا کہ کون ہے، میں تجھے نہیں چھوڑوں گا‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’میں اشراف کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والا ہوں‘‘۔
خزیمہ بولا’’ذرا وضاحت سے بتاؤ‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’یہی کافی ہے‘‘…… اور چل دیا۔
خزیمہ تھیلی لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا ’’خوش ہو جاؤ، خدا نے ہمیں مال دے کر ہماری مصیبت دور کردی۔ اگر یہ واقعی درہم ہیں، تو بہت زیادہ ہیں، اٹھو اور چراغ جلاؤ‘‘۔
بیوی نے کہا ’’ چراغ !…….چراغ جلانے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں‘‘۔
خزیمہ خاموش ہوگیا اور رات بھر اندھیرے میں تھیلی کو ٹٹولتا رہا۔ اسے اس میں دیناروں کی سی سختی معلوم ہوئی تھی، مگر یقین نہیں آتا تھا کہ دینار ہوں گے۔
اُدھرعکرمہ گھر پہنچا تو دیکھا اس کی بیوی اسے ڈھونڈرہی ہے اور لوگوں سے اس کا اتا پتا پوچھ رہی ہے۔ انہوں نے اسے بتادیا کہ عکرمہ سوار ہوکر کہیں گیا ہے۔ عکرمہ پر نظر پڑی تو وہ غصے سے لال پیلی ہوگئی۔ اسے شک ہوا کہ اس کا شوہر کسی اچھی جگہ نہیں گیا تھا۔ اس نے عکرمہ سے پوچھا ’’جزیرے کا والی اتنی رات گئے کسی غلام کو ساتھ لیے بغیر اور اپنے گھروالوں سے پوشیدہ، کسی خاتون یا کنیز کے پاس ہی گیا ہوگا‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’خدا گواہ ہے، ان میں سے کسی کے پاس نہیں گیا‘‘۔
بیوی نے سوال کیا تو اس نے کہا ’’اس طرح اور اس وقت جانے کا میرا مقصد یہی تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو‘‘۔
بیوی نے کہا ’’تمہیں بتانا پڑے گا‘‘۔
عکرمہ نے جواب دیا ’’اگر تجھ سے صحیح بات کہہ دوں تو کیا تو اسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھے گی؟‘‘……
بیوی نے اس سے وعدہ کیا تو عکرمہ نے ساری کہانی سنادی اور کہا ’’کیا تو چاہتی ہے کہ میں حلف بھی اٹھاؤں؟‘‘
بیوی نے کہا ’’نہیں مجھے اطمینان ہوگیا ہے۔ تمہاری بات کا میں یقین کرتی ہوں‘‘۔
خزیمہ نے ادھر صبح ہوتے ہی قرض داروں کا قرضہ چکا دیا اور اپنی حالت درست کرکے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس گیا جو اس وقت فلسطین آیا ہوا تھا۔ جب خزیمہ اس کے دروازے پر پہنچا اور دربانوں سے اندر جانے کی اجازت مانگی، تو ایک حاجب نے اندر جاکر کہا ’’خزیمہ آیا ہے اور ملاقات کا خواہشمند ہے‘‘۔
خزیمہ کی سخاوت زمانے بھر میں مشہور تھی۔ سلیمان اسے جانتا تھا لہٰذا اس نے حاضر ہونے کی اجازت دے دی۔
وہ اندر آیا تو بہت ادب سے خلیفہ کو سلام کیا۔ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا ’’اے خزیمہ، تو اتنے دنوں سے کہاں تھا؟‘‘……
اس نے جواب دیا ’’امیرالمومنین، میں مصیبت میں گرفتار تھا‘‘۔
’’ کس چیز نے تجھے میرے پاس آنے سے روکا؟‘‘ سلیمان نے سوال کیا۔
اس نے جواب دیا ’’امیر المومنین میری کمزوری نے‘‘۔
خلیفہ نے کہا ’’پھر اب کیسے آیا ہے؟‘‘…….
وہ بولا ’’امیرالمومنین ایک روز رات گئے جب میں اپنے گھر میں تھا، ایک شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا‘‘….. اور پھر اس نے سارا قصہ شروع سے لے کر آخر تک سنادیا۔
سلیمان نے کہا ’’تو اسے پہچانتا ہے؟‘‘…….
خزیمہ نے کہا’’امیرا لمومنین میں اسے پہچان نہیں سکا۔ وہ بھیس بدلے ہوئے تھا اور میں نے سوائے اس کے اس سے کچھ نہ سنا کہ میں اشراف کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والا ہوں‘‘۔
یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک بے چین ہوگیا اور اسے اس شخص سے ملنے کی خواہش کرنے لگا۔ کہنے لگا ’’اگر اس کا پتا لگ جائے تو میں اس کی مروّت کا اسے بہترین بدلہ دوں‘‘۔
اس کے بعد اس نے خزیمہ بن بشر کو ایک جھنڈا عطا کیا اور اُسے عکرمہ فیاض کی جگہ جزیرے کا والی مقرر کردیا۔
خزیمہ خوش خوش جزیرے کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے قریب پہنچا تو عکرمہ اور جزیرے کے افراد اس کے خیر مقدم کے لیے آئے اور خلیفہ کے فرمان کے مطابق اسے جزیرے کا حاکم تسلیم کرلیا۔
خزیمہ شہر میں پہنچ کر سرکاری محل میں اترا اور حکم دیا کہ عکرمہ سے حساب مانگا جائے۔ اسے دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے ذمے بہت سی رقم نکلتی ہے۔ خزیمہ نے کہا ’’سرکاری خزانے کی جو رقم تمہارے ذمے نکلتی ہے ادا کرو‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’میرے پاس تو کچھ بھی رقم نہیں‘‘۔
خزیمہ نے کہا ’’تجھے یہ دینی ہوگی‘‘۔
عکرمہ بولا ’’جناب میرے پاس ہو، تو دوں ‘‘۔
یہ سن کر خزیمہ نے اسے قید کردیا۔
کچھ عرصہ بعد خزیمہ نے پھر اس سے رقم کا مطالبہ کیا۔ عکرمہ نے کہلا بھیجا ’’میں ان لوگوں میں سے نہیں جو اپنی عزت دے کر اپنے مال کو بچاتے ہیں‘‘۔
خزیمہ نے حکم دیا کہ قید میں اسے لوہے کی بیڑیاں بھی پہنادی جائیں۔
قید وبند کی تکلیف سے عکرمہ بہت کمزور ہوگیا۔ اس کی بیوی کچھ عرصہ تو صبر کرتی رہی۔ آخر اس سے رہا نہ گیا۔ اپنی خادمہ کو بلایا جو بڑی سمجھدار تھی اور اس سے کہا ’’تو فوراً خزیمہ بن بشر کے دروازے پر جاکر کہہ کہ میں اس سے کچھ کہنا چاہتی ہوں، اگر کوئی دوسرا تجھ سے پوچھے کہ کیا بات ہے تو کہناکہ میں یہ بات سوائے امیر کے اور کسی سے نہیں کہہ سکتی۔ اندر امیر کی خدمت میں پہنچ جاؤ توکہنا کہ تنہائی ہونی چاہیے اور جب وہ اکیلا ہو تو کہیو….. یہ تونے کیا کیا؟ کیا اشراف کی اصلاح کرنے والے کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے کہ اسے قید کرکے بھاری بھر کم بیڑیاں پہنا دی جائیں؟‘‘…..
خادمہ نے ایسا ہی کیا۔ اس کی بات سن کر خزیمہ نے ایک چیخ ماری اور کہا:

’’ہائے افسوس کیا یہ وہی تھا؟‘‘…..
خزیمہ نے فوراً حکم دیا کہ گھوڑا تیار کیا جائے۔ اس کے بعد اس نے شہر کے بڑے لوگوں کو بلوایا، انہیں لے کر قید خانے کے دروازے پر پہنچا اور اسے کھلوا کر اندر داخل ہوا، دیکھا کہ عکرمہ کی حالت خراب ہے۔ مار اور تکلیف کی وجہ سے اس کا براحال تھا۔
عکرمہ خزیمہ کو دیکھ کر شرمندہ ہوا اور اپنا سر جھکا لیا۔ خزیمہ نے بڑھ کر اس کے سر کو بوسہ دیا۔
عکرمہ نے پوچھا ’’تو ایساکیوں کررہا ہے؟‘‘…….
خزیمہ نے کہا ’’تیری شرافت اور اپنی ذلالت کی وجہ سے‘‘۔
عکرمہ بولا’’خدا مجھ کو اور تجھے معاف کرے‘‘۔
اس کے بعد خزیمہ نے داروغہ کو حکم دیا۔ ’’عکرمہ کی بیڑیاں کھول کر میرے پاؤں میں ڈال دو‘‘۔
عکرمہ نے پوچھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘……
خزیمہ نے جواب دیا ’’میں چاہتا ہوں کہ میری بھی وہ درگت بنے جو تیری بنی ہے‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ ایسا نہ کر‘‘……
خزیمہ پھر عکرمہ کو قید خانے سے نکال کر اپنے گھر لے گیا اور اس کی خوب خاطر مدارت کی۔ عکرمہ نے گھر جانے کی اجازت مانگی تو خزیمہ نے کہا ’’میں چاہتا ہوں تم اس وقت گھر جاؤ جب تمہاری حالت سدھر جائے۔ میں تم سے زیادہ تمہاری بیوی سے شرمندہ ہوں‘‘۔
خزیمہ نے خود عکرمہ کی خدمت کی۔ اسے ایک قیمتی خلعت دی اورر اسے گھوڑے پر سوار کر کے بہت سامال دے کر رخصت کیا۔ چلے وقت درخواست کی ’’میری طرف سے اپنی بیوی سے معذرت کرنا‘‘۔
کچھ عرصہ بعد خزیمہ نے عکرمہ کو پیغام بھیجا، ’’میرے ساتھ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس چلو ’’سلیمان اس وقت رملہ میں تھا۔ عکرمہ نے منظور کرلیا تو دونوں سلیمان بن عبدالملک کے پاس پہنچے۔
حاجب نے اندر جاکر خزیمہ بن بشر کے آنے کی خبردی تو خلیفہ یہ سن کر پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ جزیرے کا والی بن بلائے آیا ہے۔ ضرور کوئی نہ کوئی خطرناک بات پیش آئی ہوگی۔ فوراً سے اندر بلالیا۔
خزیمہ اندر آیا تو خلیفہ نے سلام سے پہلے ہی کہا ’’اے خزیمہ کیا خبر ہے؟‘‘…….
اس نے کہا ’’امیر المومنین خیریت ہے‘‘۔
خلیفہ نے پوچھا ’’تیرے آنے کی کیا وجہ ہے؟‘‘…..
اس نے جواب دیا ’’شریفوں کی لغزشوں کو سدھارنے والا مل گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی ا سے ملاقات کا شرف بخشیں‘‘۔
خلیفہ نے کہا ’’وہ کون ہے؟‘‘……
خزیمہ نے کہا ’’اسے اندر بلاؤ‘‘……
عکرمہ نے اندر آکر خلیفہ کو ا سلام کیا۔ خلیفہ نے بڑھ کر اسے مرحبا کہا اور اپنے پاس بٹھا کر بولا ’’اے عکرمہ تونے بھلائی کی تھی مگر بدلے میں تجھ پر بہت سی مصیبتیں نازل ہوئیں۔ اچھا اب اپنی تمام ضرورتیں اور حاجتیں ایک پرچے پر لکھ دے‘‘۔
وہ لکھ چکا تو خلیفہ نے حکم دیا کر انہیں فوراً پورا کر دیا جائے۔ علاوہ ان ضرورتوں کے جو اس نے لکھی تھیں خلیفہ نے یہ بھی حکم دیا کہ دس ہزار دینار اور دیے جائیں۔ خلیفہ نے اسے کپڑوں کے بیس صندوق بھی عطا فرمائے۔ اس کے بعد ایک نیزہ منگوا کر عکرمہ کے لیے جھنڈا بندھوایا۔ جزیرہ ارمنستان کی گورنری کی سند عطا کی اور اس سے کہا ’’خزیمہ کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے خواہ تو اسے برخاست کرے یا بحال رکھے‘‘۔
عکرمہ نے کہا ’’میں اسے اس کی جگہ بحال رکھنا چاہتا ہوں‘‘……

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے