انخسنامون (Ankhesenamun)! مصر کی بدنصیب ترین ملکہ کی داستان۔

Ankhesenamun

مصر فرعونوں کی سرزمین۔ ایک ایسی سر زمین جس کے سینے میں کئی پراسرار اور شرمناک کہانیاں دفن ہیں۔  ہزاروں سال پرانی اس ترقی  یافتہ قوم کے کارنامے جہاں آج تک  موجودہ سائنس کے لیے  ایک معمہ بنے ہوئے ہیں وہیں جنسی تعلقات میں مصر کے حکمرانوں کی آزاد طبیعت اور بے راہ روی دورِ حاضر میں تصوراتی طور پر بھی نہایت بھیانک ہے۔

یوں تو مصر کے فرعونوں کے لیے اپنی بہنوں سے شادیاں رچانا اور اپنی بیٹیوں سے جنسی تعلقات قائم کرلینا کوئی بڑی اور خلافِ معمول بات نہ تھی لیکن آج ہم مصر کی ایک ایسی رانی کا احوال بیان کریں گے، جسے مصر کی تاریخ میں ٹریجڈی کوئین یعنی غموں کی ماری ملکہ کا خطاب حاصل ہے۔ کیونکہ  یہ ملکہ جسے تاریخ انخسنامون کے نام سے یاد کرتی ہے پہلے اپنے باپ کی ہوس کا نشانہ بنی ، اس کے بعد اپنے بھائی اور پھر اس کے بعد اپنے نانا کی۔ ایسا واقعہ نہ تو پہلے کبھی تاریخ میں رونما ہوا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی کسی قوم میں ایسا ہوا۔

تو چلیے کچھ روشنی ڈالتے ہیں اس ملکہ کی زندگی پر۔

توت عنخ آمن نامی فرعون کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ جس کا عالیشان مقبرہ گزشتہ صدی میں دریافت ہوچکا ہے لیکن اس کی بہن انخسنامون کے بارے میں بہت ہی کم افراد جانتے ہیں ۔ فرعونوں کے مقبروں میں بنی تصاویر اس کی زندگی کی کہانی بیان کرتی ہیں۔ وہ مصر کے اٹھاروہوں حکمران خاندان کی شہزادی تھی جو 1350 قبل مسیح کے دوران پیدا ہوئی ۔

اس کا باپ یعنی فرعون  آخن آتن مذہبی تبدیلیاں کرنے کے حوالے سے خاصا مشہور ہے۔ آخن آتن سے پہلے مصر میں بہت سے دیوتاؤں کو مانا جاتا، جن میں راع، آمن ، ہورس، اوزائرس اور آئسس شامل تھے۔ آخن آتن نے ان تمام دیوتاؤں کی عبادت پر پابندی عائد کرتے ہوئے صرف سورج کی عبادت کا حکم جاری کیا، جس کا نام آتن دیوتا تھا اور اس نے خود اپنا نام آخن آتن یعنی  آتن کا بندہ رکھا۔ جبکہ آخن آتن کا ایک کارنامہ دارلحکومت کو تھبیس نامی شہر سے امرنا میں منتقل کرنا بھی ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کے سبب مصری عوام میں وہ خاصا غیر مقبول تھا جبکہ اس کی غیر مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی آزادانہ جنسی  سوچ اور تعلقات بھی تھے۔

Ankhesenamun

انخسنامون اسی فرعون  یعنی آخن آتن  اور ملکہ نفرتیتی  کی تیسری نمبر کی بیٹی تھی۔ اس کی دو بڑی بہنوں کے نام میری تیتن اور میکی تیتن تھے۔  انخسنامون سمیت یہ تینوں شہزادیاں اپنے باپ کی جنسی ہوس کا نشانہ بنیں۔ ان تینوں میں  ایک بہن یعنی میکی تیتین اپنے ہی باپ یعنی آخن آتن  کے بچے کی پیدائش کے دوران جاں بحق ہوئی۔  فرعون آخن آتن کی موت کے کچھ عرصے بعد جب توت عنخ آمن نیا فرعون بنا تو شہزادی انخسنامون کی شادی اس سے کردی گئی۔

اس شادی کے وقت توت عنخ  آمن کی عمر نو سال تھی جبکہ انخسنا مون عمر میں اس سے کچھ بڑی تھی۔ یاد رہے کہ توت عنخ آمن بھی آخن آتن کا بیٹا یعنی انخسنامون کا بھائی ہی تھا۔  آپ کو یہ باتیں کافی عجیب لگ رہی ہوں گی لیکن ہم جس معاشرے کی بات کررہے ہیں وہ آج سے تین ہزار سال پہلے گزر چکا ہے جس میں بادشاہ کے خاندان کو سورج کا اوتار کہاجاتا۔ بادشاہی خون کو خالص رکھنے کی خاطر شہزادوں اور شہزادیوں کی شادیاں آپس میں ہی طے کی جاتیں۔ بعد ازاں یہ شادیاں  فرعونوں کی ہونے والی اولادوں میں  ذہنی و جسمانی معذوری کا سبب بھی بنتیں۔ توت عنخ آمن کی دریافت شدہ ممی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ توت عنخ آمن  نامی فرعون جس کی پیدائش بھی بہن اور بھائی کی شادی کے نتیجے میں ہوئی  ، پیدائشی طور پر نہایت کمزور اور  زنانہ جسم کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹانگ سے معذور بھی تھا۔

Ankhesenamun

اگلے دس سالوں تک  اس جوڑے یعنی توت عنخ آمن اور ملکہ انخسنامون نے نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کی ان دونوں نے اپنے باپ کے وہ فیصلے جو عوام میں غم و غصے کا سبب بنے تھے سب کے سب واپس لے لیے۔ شاہی مذہب تبدیل کرکے پرانے دیوتاؤں کی عبادت کو بحال کردیا گیا۔  توت عنخ آمن  اور انخسنامون کی اس شادی کے نتیجے میں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں لیکن یہ دونوں بھی جسمانی کمزوری کے سبب زیادہ عرصے  نہ جی سکیں۔ ان دونوں بیٹیوں کی ممیاں فرعون توت عنخ آمن کے مقبرے سے برآمد ہوچکی ہیں۔ انخسنامون اور  توت عنخ آمن کے حالات زندگی معمول کے مطابق چل رہے تھے کہ اچانک اٹھارہ سال کی عمر میں توت عنخ  آمن کی موت واقع ہوگئی۔  اب انخسنامون اکیلے ہی تخت کی وارث تھی  لیکن ملکہ نفرتیتی کا باپ  اور انخسنامون کا نانا جس کا نام ایّا تھا توت عنخ آمن کے دور میں   ایک قابل مشیر اور سلطنت کے سب سے بڑے وزیر کا عہدہ رکھتا تھا اب ایّا یعنی  انخسنامون کے نانا نے  اس پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ ایّا سے شادی کرلے تاکہ ایّا بغیر کسی مزاحمت کے نیا فرعون تسلیم کرلیا جائے۔

اُس دور میں  بھیجا گیا ایک خط ماہرین آثار قدیمہ کے ہاتھ لگا ہے کہ جو مصر کی ایک ملکہ نے  حطیوں کے حکمران  سیپلیو لیوما کو لکھا۔ جس میں درخواست کی گئی تھی کہ حطیوں کا حکمران اپنے ایک بیٹے کی شادی  مصر کی ملکہ یعنی انخسنامون سے کردے۔ جس کے سبب انخسنامون ایّا کے ہاتھوں سے محفوظ ہوجاتی۔ حطیوں کی  سلطنت  اُس دور کی طاقتور ترین سلطنت تھی۔ اس خط کے جواب میں  حطیوں  کے بادشاہ نے  زنانزہ نامی اپنا ایک بیٹا انخسنامون سے شادی کے لیے روانہ کیا۔ جو دورانِ سفر ہی مارا گیا۔ ممکن ہے کہ اس کی موت میں ایّا کا ہاتھ ہو بہرحال  ایّا نے زبردستی انخسنامون یعنی اپنی نواسی سے شادی کرلی اور خود مصر کا حاکم بن بیٹھا۔

انخسنامون

مصر کے تاریخی کتبوں پر ملنے والی تحریروں کے ساتھ ساتھ  ایک انگوٹھی پر ایّا اور انخسنامون کا نام بحیثیت شوہر اور بیوی تو ملتا ہے لیکن اس شادی کے بعد انخسنامون کا کیا بنا ۔ اس کی موت کیسے واقع ہوئی ؟ تاریخ اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ  اس شادی کے کچھ ہی عرصے بعد نہایت کم عمری میں انخسنامون کی موت واقع ہوگئی۔

انخسنامون کا مقبرہ  ابھی تک ماہرین آثار قدیمہ دریافت نہیں کرپائے ہیں لیکن اُن قدیم مقبروں میں سے ایک ہے کہ جن کی تلاش سائنسدانوں کو  ایک مدت سے ہے۔ مصر میں ویلی آف کنگ نامی زمین سے  کچھ ایسی نامعلوم ممیز دریافت ہوئی ہیں جن کے بارے میں  خیال کیا جاتا ہے کہ یہ  انخسنامون کی ممیز ہوسکتی ہیں لیکن حتمی طور پر ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انخسنامون کی ممی کی دریافت  جہاں اُس دور کی مصری تہذیب کے بہت سے راز فاش کردے گی ۔ وہیں اس کی موت کی وجہ بھی اس کی ممی کے ملنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی کہ کیا وہ طبعی موت مری تھی یا پھر تخت و تاج  کے بے رحم کھیل کا نشانہ بنی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے