انگ کور…..! ایک شہر جسے جنگل نگل گیا.

انگ کور

ذرا دس لاکھ سے بھی زیادہ آبادی کے ایک شہر کا تصور کیجیے۔ سان فرانسسکو سے بھی بڑا شہر،  کوئٹہ، کویت، الہ  آباد، بصرہ، دمام اور برزبین جتنی آبادی والا شہر،  رقبہ کے  حساب سے دیکھا جائے تو پشاور اور لاہور کے رقبہ کے برابر ، اسلام آباد  اور واشنگٹن کی طرح مرکزی شہر۔ لیکن اسلام آباد اور واشنگٹن سے بھی زیادہ رقبہ گھیرے ہوئے    ایک  سلطنت کا دارلحکومت،  جس کی یادگاریں اور سرکاری عمارت ڈسٹرکٹ آف کولمبیا عمارات سے کہیں زیادہ بڑی ہیں۔

اب اس وسیع شہر کو متروک تصور کیجیے…. تصور کیجیے کہ اتنے بڑے شہر کو لوگ اچانک چھوڑ جائیں تو کیا ہوگا…. کام کرنے والوں نے اپنے اوزار رکھ دیے، ماؤں  نے اپنے بچے اٹھائے اور فرار ہوگئے۔ شہر ویران چھوڑ دیا گیا ہے۔  چار سو سال  تک یہ شہر ایک دم بےآباد رہا  …. اس کے ارد گرد موجود جنوب مشرقی ایشیا کا انتہائی گھنا اور الجھا الجھا جنگل  اتنا بڑھا کی شہر نگاہوں سے غائب ہوگیا ۔ چار سو سال اس کی صرف داستانیں باقی رہیں۔ لیکن سبزے کا گھنا پردہ اسے آنکھوں سے چھپائے ہوئے تھا۔

ماہرین آج بھی اس معمہ کو حل نہیں کر پائے ہیں کہ وہ کیا وجہ تھی کہ دس لاکھ انسان اپنے گھربار اور کاروبارکھلا  چھوڑ کر   شہر سے فرار ہوگئے اور صدیوں پلٹ کر اس کی خبر نہ لی اور وقت  کے ساتھ ساتھ اسے فراموش کردیا   گیا۔

یہ انیسویں صدی عیسویں کی بات ہے کہ فرانس کا مشہور سیاح ہنری موہاٹHenri Mouhot   جنوب مشرقی ایشیا میں کسی انوکھی چیز کی کھوج میں سرگرداں تھا۔ اس کا اصل شوق تتلیاں تھیں، اب تک وہ  بیس ہزار کے لگ بھگ تتلیاں جمع کر چکا تھا۔ اسی دُھن میں  وہ سلطنت کمپوچیا کے جنگلوں میں پیدل چلتے ہوئےاپنی راہ میں آنے والی جھاڑیاں، شاخیں اور بیلوں کو کاٹتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک گھنے جنگل میں درختوں کے درمیان  ایک کھلی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔

انگ کور

حیران کن بات یہ تھی کہ وہ علاقہ جنگل کے درمیان ہوتے ہوئے بھی جنگل بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ اس میں جنگلوں والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ وہاں پتھروں سے بنی خاموش اور ساکت عمارات تھیں جن پر کائی جمی ہوئی تھی۔ کوئی ذی روح وہاں نہیں تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کے سوا کوئی آواز نہ تھی۔  چھوٹی چھوٹی  کئی عمارتوں سے آگے اسے پانچ مینار بھی دکھائی دیے۔ ان میناروں پر اتنی نفاست سے میناکاری کی گئی تھی کہ وہ دنگ رہ گیا۔ وہ مینار یقیناً بےحد قدیم تھے، اس لیے کہ ان پر موٹی کائی جمی ہوئی تھی اور بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ اس وجہ سے سب کچھ سبز ہوگیا تھا۔ وہ حیرت سے آگے بڑھتا جارہا تھا۔ آگے پتھروں کا راستہ تھا جو بتدریج بلند ہوتا جارہا تھا۔ پھر اسے ایک معبد دکھائی دیا۔ جس کے دروازے قوی ہیکل تھے ان دروازوں کو بناوٹ کے لحاظ سے پُرہیبت اور شاندار کہا جاسکتا تھا۔ اس عمارت کی روشیں بہترین تھیں۔

وہ کچھ آگے گیا تو اسے ایک سڑک نظر آئی جو بہت چوڑی اور اتنی لمبی تھی کہ اس کا دوسرا سرا  نگاہوں کی گرفت میں نہیں آرہا تھا۔ سڑک پر سبزہ اُگا ہوا تھا اور کئی جگہوں پر روشنی بھی نہیں پڑرہی تھی تاہم سب کچھ محفوظ تھا۔ تعمیرات کی ہیئت اتنی نہیں بگڑی تھی کہ وہ پہچانی نہ جاتیں۔ وہ کھنڈر نہیں تھے بلکہ گزشتہ کل کا  ایک ثابت و سالم شہر تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ پریوں کا دیس تھا جسے وقت نے فراموش کردیا ہو۔

ہنری موہاٹ کوئی ماہر ارضیات نہیں تھا، لیکن اس نے سیاحت کرتے ہوئے ایک عجوبۂ روزگار شہر دریافت کرلیا تھا۔  وہ کوئی چھوٹا موٹا شہر نہیں تھا کہ اسے نظر انداز کر دیا جاتا۔  قیاساً اس کی آبادی دس لاکھ رہی ہوگی۔ گویا وہ سان فرانسسکو، کوئٹہ، کویت، الہ  آباد، بصرہ، دمام اور برزبین جتنی آبادی والا شہر،  رقبہ کے  حساب سے دیکھا جائے تو پشاوراور لاہور کے رقبہ کے برابر ، اسلام آباد  اور واشنگٹن  سے بھی زیادہ رقبہ گھیرے ہوئے ہے ،  اس کے معبد کی وسعت کا  اندازہ یوں کیجیے کہ وہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سے زیادہ بڑی ہیں۔

یہ ایشیا کی ایک نابود نسل خمیر کا دارالحکومت تھا جو اس  دریافت سے چار سو برس قبل تک لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہا تھا۔ موہاٹ اس کے بارے میں بالکل نابلد تھا اور اسے خمیروں کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کن لوگوں نے تعمیر کیا تھا اور پھر رہائش متروک کیوں کردی….؟

اس نے قریبی گاؤں کا رخ کیا پھر جو پہلا شخص نظر آیا اس نے  اسے اپنے سوالات کی زد میں لے لیا۔

‘‘کیا تمہیں پتا ہے، وہ اُدھر کیا مردہ شہر ہے….؟ وہاں کون رہتا تھا….؟  اسے چھوڑ کیوں دیا گیا….؟  اسے کن لوگوں نے تعمیر کیا تھا….؟’’

لیکن کوئی بھی واقف نہیں تھا کہ وہ عجوبۂروزگار شہر کیسے اور کب وجود میں آیا اور کب  اور کیوں ویرانہوگیا….؟

ہنری نے ان بستیوں کے بڑے بوڑھوں سے رابطہ کیا کسی نے ‘‘اسے جنات نے تعمیر کیا تھا….؟’’ کوئی بولا ‘‘یہ فرشتوں کے بادشاہ کا کام ہے۔’’ کسی نے کہا۔ ‘‘یہ  شہر ہمیشہ سے یہاں تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ تم قدرت کے کاموں میں دخل نہ دو۔ اپنی راہ پکڑو اور چلتے بنو۔’’

موہاٹ مایوس ہو کر وہاں سے چل دیا۔ اس نے تہیہ کرلیا کہ اب وہ کسی تعلیم یافتہ شخص کو اس کے بارے میں بتائے گا جو تاریخ، جغرافیہ اور تمدن سے آگاہی رکھتا ہوگا۔

موہاٹ واپس فرانس آیا اور اس نے بہت سے آثار قدیمہ کے ماہرین کو اس بارے میں بتا یا۔   ان رابطوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دنیا اس طرف متوجہ ہوگئی جن میں اکثریت  فرانسیسی ماہرینِ اثریات کی تھی۔ ان ماہرین نے اس جنگل کو صاف کیا اور اس  اسرار سے پردہ اٹھا یا کہ یہ دراصل  ‘‘انگکور’’ Angkor نامی شہر  تھا ، جسے انگ کور اور اینکور بھی کہتے ہیں۔ انگ کور کا سادہ مطلب ہے ‘‘عظیم شہر’’ ہے ۔ یہ  سینکڑوں برس تک کمبوڈیا کی خمیر سلطنت Khmer Empire کا دارالحکومت رہا۔

خمیر چھ صدیوں تک جنوب مشرقی ایشیا کی غالب ترین قوم تھی۔ وہ پورے دبدبے سے اپنے علاقے میں حکومت کررہے تھے۔ ان کے پہلے بادشاہ جایا وار مان Jayavarmanنے 802ء میں  کمبوڈیا (کمپوچیا) کے مخالف قبائل کو اپنی کمان میں متحد کیا۔ اس وقت ان کا  دارالحکومت انگ کور سے کچھ فاصلے پر تھا۔889ء میں شاہ یا سو وارمان اول Yasovarmanنے اپنا محل انگ کور کی موجودہ جگہ پر تعمیر کیا تھا۔ پھر صدیوں تک یکے بعد دیگرے خمیر بادشاہوں نے اُس شہر کو وسعت دی تھی۔

1113ء تا 1150ء کے درمیان شاہ سوریاوارمان  Suryavarman II نے شہر کی واحد اور عظیم ترین عمارت ‘‘انگ کور واٹ’’ یعنی معبد تعمیر کروائی تھی۔ ایک نسل بعد چام کہلانے والے حملہ آوروں نے اس شہر پر چڑھائی کردی اور دارالحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادی، شہر کو تہس نہس کردیا۔ لیکن 1181ء سے 1220ء تک شاہ جایا وارمان ہفتمJayavarman VII نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرایا اور وہ شکل دی جو  آج موجود ہے۔   1432ء میں انگ کور متروک ہوگیا تھا۔ اور چار سو سال تک کسی نے اس کا رخ نہیں کیا ….ایسا کیوں  ہوا اس کے متعلق کوئی وجہ نہ ملی سکی۔

تاریخ اس حوالے سے خاموش ہے…. خمیریوں نے خود اپنے متعلق جو کچھ بھی   کھالوں، ناریل کے پتوں اور کاغذ پر لکھا  تختیوں اور پتوں پرلکھا تھا وہ سب بھی بےرحم وقت کے ہاتھوں ضائع ہوگیا ، دو  تحریریں بچیں ان کی مدد سے ناتمام سی تاریخ مرتب کی جاسکی ہے۔ جو تاریخ پتھر کی سلوں پر کندہ کاری کرکے مرتب کی گئی تھی وہ بڑی حد تک محفوظ رہی۔    ان کی مدد سے  ماہرین کو خمیریوں کے تہذیب و تمدن  اور  روزمرہ کی زندگی کا اندازہ لگا  نے میں کافی مدد ملی۔

خمیری  بنیادی طور پر کھتی باڑی کرنے والے لوگ تھے۔ چاول ان کی سب سے بڑی فصل ہوتی تھی۔ ان کا نظام آپ پاشی قابل تعریف تھا۔  آس پاس کے دیہات خمیروں کی نہروں اور تالابوں سے پٹے پڑے ہیں۔ ان میں سے ایک نہر کوئی چالیس میل لمبی ہے۔

انگ کور

خمیری قوم جنگجو بھی تھی۔ ان کے پاس دشمنوں پر تیر اور نیزے پھینکنے کی مشینیں تھیں۔ وہ دوران جنگ سجے سجائے ہاتھیوں کی پیٹھ پر بیٹھا کرتے تھے۔  صدیوں پہلے کا ایک چینی تاریخ داں ہماری معلومات میں یوں اضافہ کرتا ہے کہ خمیروں کے پاس جنگ میں استعمال ہونے والے ہاتھیوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب تھی جو پوری طرح سے تربیت یافتہ تھے۔

خمیری تجارت بھی کیا کرتے تھے۔ ان کے تجارتی و فد چین اور دوسرے ایشیائی ممالک تک جاتے تھے۔ وہ دوسرے ملکوں کو گرم مسالے، ہاتھی کے دانت اور خوشنما چڑیاں فروخت کیا کرتے تھے۔ اس کے بدلے انہیں چینی مٹی کے برتن، خواتین کے لیے چھتریاں اور کپڑا مل جاتا تھا۔

انہوں نے تقریباً دو ہزار برس پہلے چینیوں اور ہندوستانی تاجروں کے زیر اثر اپنے تمدن کو پروان چڑھانا شروع کیا تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں ایک چینی مؤرخ نے لکھا تھا۔ خمیری مرد کالے ہوتے ہیں۔ ان کے بال گھنگریالے ہوتے ہیں اور وہ برہنہ رہنا پسند کرتے ہیں  اور صرف لنگوٹ باندھتے…. جبکہ عورتیں جسم کو کپڑوں سے ڈھانپتی ہیں۔ البتہ کھاتے پیتے لوگ عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ ان کا ایک علاقہ چینیوں سے ملحق ہے جو فونان کہلاتا ہے۔ فونان کے لوگ سونے کی بالیاں، کڑے پہنتے ہیں۔ وہ چاندی کی ظروف سازی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ چھٹی صدی عیسوی کے لگ بھگ فونان کا دوسری ریاست کے ساتھ انضمام ہوگیا، جو چنالہ کہلاتی تھی۔ اس طرح سے وہ ایک بڑی قوم بن گئی جسے ‘‘قمبوچ دیس ’’کہا جاتا تھا۔ اس کی جدید شکل کمپوچیا   (کمبوڈیا)ہے۔

جایاوارمان Jayavarman کی حکمرانی میں خمیری ایک وسیع علاقے پر قابض ہوکر ایک عظیم سلطنت.بن.گئے۔وہ جاواپر  بھی حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن جاوا کی شِلندر سلطنت  Sailendraکے حکمران کو بھنک پڑ گئی اور اس نے پہلے ہی خمیر پر حملہ  کردیا۔ گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں  شہنشاہ خمیر گرفتار ہو کر مار دیا گیا۔ اس کے بعد جایاوارمان دوم Jayavarman II خمیر  کا بادشاہ بنا۔ اس نے اپنی فہم و فراست سے کمپوچیا کو ایک طاقتور سلطنت بنا دیا۔

اس نے اپنے گرد و پیش اور پڑوسی حکمرانوں کے ارادوں سے محتاط اپنا دارالحکومت پانچ  مرتبہ تبدیل کیا   پھر دو نسلوں کے بعد یا سووارمان Yasovarmanنے ایک اور شہر کی داغ بیل ڈالی یہ ہمارے اس زیر موضوع شہر ‘‘انگ کور’’ کی ابتدائی.شکل.تھی۔  یاسو نے اس  شہر کو یسودھراپور Yasodharapura کا نام دیا۔ اس نے مضبوط اور کشادہ تعمیرات کیں جو چھ مربع میل پر محیط تھیں۔ ایک نہر، خندق اور آب پاشی کے لیے ایک بڑا تالاب بنوایا جو ایک میل چوڑا اور چار میل لمبا تھا۔ یاسو وارمان کا شاہی محل ایک پہاڑی پر واقع تھا جس کا نام بیکھنگ Bakheng تھا۔ اسے شہر کی مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس مقام سے یاسودارمان کے بارے میں بہت سے کتبے ملے ہیں۔ جن سے اس کی شخصیت اور کارناموں پر روشنی پڑتی ہے۔  یاسودارمان کے جانشینوں نے بھی اس شہر کو خوب وسعت دی۔ انہوں نے تالابوں، خندقوں اور معبدخانوں میں اضافے کیے۔ اس طرح سے شہر شمال کی طرف وسعت کرتا  گیا۔ اس توسیع کے باعث  بیکھنگ محل  بہت دور رہ گیا اور اس کی جگہ ایک نئے شہر نے جنم لے لیا۔

بارھویں صدی کی ابتدا میں انگ کور واٹ کا عظیم معبد تعمیر کیا گیا۔ یہ دیوقامت عمارت سوریاوارمان دوم Suryavarman IIنے تعمیر کی تھی جو خمیرو فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ اس کے ارد گرد دو سو فٹ گہری ایک خندق تھی۔ اس معبد کی بیرونی دیواریں ہر طرف سے تقریباً ایک میل لمبی تھیں۔ اس میں تین میناروں والے دروازے تھے جو اندرونی صحن میں کھلتے تھے۔ پتھر سے تراشی ہوئی ایک روش تھی جو سیدھی معبد کی طرف جاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روش پر رتھ چلا کرتے تھے، اس لیے کہ روش پر پہیوں کے نشانات پڑے ہوئے ہیں۔ وقت کی دھول انہیں مٹانے میں کامیاب نہیں.ہوسکی.ہے۔

انگ کور واٹ Angkor Watسب سے بڑا معبد ہے۔  جس میں داخل ہونے کے لیے تین راستے ہیں۔ راستوں پر پانچ مینار ہیں۔ جن میں سے سب سے اونچا مینار ڈھائی سو فٹ بلند ہے۔ ہر سمت میں نصف میل تک گیلریاں سی بنی ہیں۔  مقدس معبد  مرکزی مینار کے تلے ہے، جہاں سریا وارمان نے ہندوؤں کے دیوتا وشنو کی مورتی نصب کرائی تھی۔ وہ اس کی پوجا کیا کرتا تھا۔ بعد میں  سوریاوارمان کو بھی اسی معبد میں دفن کیا گیا تھا۔

انگ کور کو دوبارہ تعمیر کرنے والا جایاوارمان ہفتم Jayavarman VII ایک مطلق العنان فرماں روا تھا اور اس نے استحکامی سے حکومت کی۔ اس کا دورانیہ حکومت نوّے برس تھا۔  وہ بدھ مت کا پیروکار تھا۔ اس نے انگ کور اور اس سے منسلکہ علاقوں میں بدھ سے منسوب معبد تعمیر کرائے تھے۔  اس نے پہلے شہر کے ان حصوں کی حالت درست کرائی جو چام chamکے حملہ آوروں کے ہاتھوں برباد ہوئے تھے۔ پھر اس نے نئی عمارات  تعمیر کروائیں۔  مکانات لکڑی کے بنا کرتے تھے۔ چنانچہ چام قوم نے جب ان کے شہر پر حملہ کیا تھا تو ان مکانات میں آگ لگا دی تھی۔ جایاوارمان ہفتم نے لوگوں کو پتھروں کے مکانات بنانے کی ترغیب دی، تاکہ وہ کافی عرصے تک قائم رہ سکیں۔ اس نے باون شفاخانے  بھی بنوائے تھے۔ اس نے فتوحات کرکے خمیروں کی سلطنت کو بےانتہا وسعت دی۔ اس نے چام بھی فتح کرلیا اور  اسے اپنی سلطنت  کا ایک صوبہ بنا دیا۔

جایاور مان کا ایک  کارنامہ انگ کور تھوم Angkor Thomکی تعمیر تھی۔ یہ انگ کور سے ایک میل کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع تھا۔ یہیں اس کا شاہی محل  تھا۔کھیل کے میدان اور  ہاتھیوں کی گزر گاہیں بھی تھیں۔ وسط میں ایک عبادت گاہ ہے جو انگ کور واٹ کے بعد دوسرے نمبر پر مانی جاتی تھی، جسے بےآن Bayon کہا جاتا تھا۔  ماہرین آثار قدیمہ کو بے آن ہی سے  خمیر تہذیب کا سراغ لگانے میں  مدد ملی۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مار کوپولو جب ایشیا کا سفر کر رہا تھا تو وہ تیرھویں صدی کے آخر میں کمبوڈیا کے قریب پہنچا تھا۔ وہ ساحلی علاقے چمپا ہی کو دیکھ کر لوٹ گیا تھا ورنہ اپنے سفر نامے میں انگ کور کا تذکرہ ضرور کرتا اور آج ہم انگ کور کے بارے میں بہت کچھ جان لیتے۔ تاہم ایک چینی سیاح چوتاکو ان نے وہاں گیارہ ماہ گزارے تھے۔ وہ 1296ء تا 1297ء وہاں رہا اور  اپنے حیرت ناک سفر کو قلم بند کیا۔ دنیا کو اس سفرنامے  سے انگ کور کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا۔

کئی ماہرین اپنے اپنے قیاس لگا کر اس شہر کی تباہی کی اصل وجہ کھوجنے کی کوشش کررہے ہیں۔  بعض ماہرین کے مطابق تیرھویں چودھویں صدی انگکور کے لیے زوال لیے ہوئے تھیں۔ خمیری  حکمرانوں نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے یا دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے کے لیے کچھ نہ کیا۔ جبکہ اس دوران اطراف میں  خمیریوں  کے دشمن لاؤ اور انامیز (ویت نامی)اور آیوتھایہ (تھائی)قوی تر ہوگئے  اور ان پر غالب آگئے۔

کچھ ماہرین ہیں جو انگ کور کی ویرانی کی وجہ قدرتی آفات بتاتے ہیں،  شاید سیلاب، خشک سالی، طاعون  اور قحط کی وجہ سے لوگ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ آسٹریلیا کے آثار قدیمہ کے مطابق ابتدائی پندرھویں  صدی عیسوی سرزمین جنوب مشرقی ایشیا بھر میں خشک سالی کا دور رہا،   جس کی وجہ سے انگ کور  کی نہروں اور آبی ذخائر  بھی خشک ہوگئے، کھیتوں کے ختم ہونے کے امکان میں اضافہ ہوا اور یہی انگکور کی تباہی کا باعث بنا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے