اُس مندر میں ایسا کیا تھا جو ایک ہندو راجا نے ہی اسے مسمار کردیا۔

ہندوستان کا شہر متھرا ہندوؤں کے لیے ایک خاص تقدس کا حامل ہے۔ کیونکہ اس شہر میں ہندوؤں کے بھگوان شری کرشنا کی جائے پیدائش بھی موجود ہے۔ آج اس جگہ کیشو دیو مندر قائم ہے لیکن مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں یہاں ایک بہت بڑا اور عظیم الشان مندر ہوا کرتا تھا۔ جس کی تباہی کی ذمہ داری کچھ متعصب ہندو مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر پر عائد کرتے ہوئے اسے اپنا دشمن خیال کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا بالکل نہیں تھا۔ کیونکہ ہندوؤں کی اس مقدس زیارت یعنی  کرشنا مندر کی تباہی کے اسباب انتہائی شرمناک تھے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے  کمبھ کا میلا اپنے عروج پر تھا ۔  اچانک یاتریوں میں ایک شور ہوا کہ بادشاہ سلامت اورنگزیب عالمگیر یاتریوں کی خیریت دریافت کرنے اور رعایا کو اپنی ایک جھلک دکھانے تشریف لارہےہیں۔کچھ دیر میں بادشاہ کی سواری اپنے جلوس کے ہمراہ نمودار ہوئی،دفعتاً ایک شخص بادشاہ کے راستے میں آیا اور دہائی دینے لگا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک پنجابی ہندو ہے جو یاترا کے لیے اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ متھرا آیا تھا لیکن پورنماسی کی رات عین پراتھنا کے وقت اس کی بیوی کرشنا مندر میں غائب ہوگئی، جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔پروہتوں سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اسے بھگوان کرشن نے اپنی گوپی بنالیا ہے۔   جبکہ اس یاتری کا خیال تھا کہ اس کی بیوی مندر میں ہی کہیں موجود ہے جسے اغواء کرلیا گیا ہے۔  شہنشاہ نے اس معاملے کی ذمہ داری  بھرت پور کے مہاراجہ کو دی جو اس علاقے کا والی تھا، اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اگر ہم نےمندر کی تلاشی لی  یا اس کے اندر قدم رکھا تو  متعصب ہندو براہمنوں اور پروہتوں کو  اورنگ زیب کے خلاف زبان کھولنے کا موقع مل جائے گا۔

مہاراجہ بھرت پور نے شہنشاہ کے حکم پر اس ہندو یاتری کو اپنا مہمان تو بنالیا لیکن وہ جانتا تھا  کہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تھا۔ اس مندر سے کم سن لڑکیوں کا غائب ہوجانا، ان کا کرشن کی گوپی بننا اور بعض اوقات ان کی مسخ شدہ لاشیں  مندر کے اطراف و اکناف سے ملنا اب عام سی بات ہوگئی تھی۔  حتیٰ کہ بھرت پور کے سپہ سالار  کی بیٹی بھی اسی مندر میں غائب ہوگئی تھی  جس کی لاش بعد میں دریائے جمنا کےپانی سے برآمد ہوئی۔ مہاراجہ کو یقین تھا کہ مندر کے اندر ضرور کوئی ایسا مقام ہے جہاں نوجوان لڑکیوں کو رکھا جاتا ہے، ان کی آبرو لوٹی جاتی ہے۔ بعد ازاں انہیں قتل بھی کردیا جاتا ہے۔   بھرت پور کا مہاراجہ اس علاقے کا حکمران ہونے کے باوجود اس مندر اور پروہتوں کے آگے بے بس تھا۔ کیونکہ  یہ مندر  ہندوستان کی مقدس ترین جگہوں میں سے ایک تھا لیکن اب معاملہ کچھ اور تھا، یہ شہنشاہ اورنگزیب کا حکم تھا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ مہاراجہ بھرت پور بغیر کسی ثبوت کے مندر کے خلاف کوئی اقدا م نہ کرسکتا تھا ، اس سے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ جاتی۔ اب یہ راجہ شدید پریشان اور مضطرب رہنے لگا۔

راجہ کی پریشانی دیکھ کر اس کی حسین و جمیل بیٹی شہزادی پرتما نے اس معاملے کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا ۔  شہزادی نے چند فوجی دستے اس مندر کے اطراف میں متعین  کیے، خود ایک دلہن کا لباس زیب تن کیا اور اپنی ایک بہادر سہیلی کو دلہا کا لباس پہنا کر مندر کی طرف روانہ ہوئی۔  اس مندر میں ایک  پراسرار کوٹھری موجود تھی ،  روایت کے مطابق جو بھی لڑکی کرشن کی گوپی بنتی اسے اس کوٹھری میں لے جایا جاتا۔شہزادی جب مندر میں داخل ہوئی تو اس کا حسن  و جمال دیکھ کر تمام پروہتوں کی رالیں ٹپکنے لگیں لیکن یہ سب  پروہت بادشاہ اورنگزیب کے حکم سے واقف تھے، اس لیے کچھ دن ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہوا۔

ایک رات جب چاند اپنی پوری جوبن پر تھا شہزادی  اسی پراسرار کوٹھری کے باہر پراتھنا میں مصروف تھی کہ اسے  عقب سے ایک آواز سنائی دی۔دھنے ہو دیوی تمہیں پربھو نے اپنی گوپی بننے کے لیے چن لیا ہے۔ یکایک ماحول میں ایک دھواں پھیل گیا اور شہزادی بے ہوش ہوگئی۔ اس کی سہیلی جو مرد کے لباس میں شہزادی پر مکمل نگرانی رکھے ہوئے تھی۔ فوراً  پجاری کے پاس پہنچی اور اپنی بیوی کا حال دریافت کیا، جیسے ہی پجاری نے اسے بتایا کہ تمہاری بیوی کو بھگوان کرشن نے اپنی گوپی بنالیا ہے۔ شہزادی کی سہیلی نے فوراً  مندر کے  اطراف میں موجود سپاہیوں کو طلب کیا اور اس کوٹھری کی جانب بڑھی۔ پجاری سے زبردستی اس کوٹھری کا دروازہ کھلوایا گیا۔ اندر دیکھا تو شہزادی کوٹھری میں نیم بے ہوش پڑی تھی  اور  اسی کوٹھری کی زمین میں ایک بہت  بڑا دروازہ تھا جو سیدھا دریائے جمنا میں کھلتا تھا، اس کے ذریعے عورتوں کے زیورات اُتار کر انہیں دریا میں بہادیا جاتا۔  دریا انہیں  ایک انجان مقام تک بہا لے جاتا جہاں کچھ دوسرے پروہت ان لڑکیوں کو اچک لیتے، ان سے اپنی جنسی ہوس مٹائی جاتی ، بعد ازاں انہیں نہایت بے دردی سے قتل کردیا جاتا جیسا سپہ سالار کی بیٹی کے ساتھ ہوا۔

راجہ کے سپاہیوں نے یہ مقام دریافت کرلیا اور یہیں سے شہنشاہ تک فریاد پہنچانے والے پنجابی ہندو کی بیوی بھی بازیاب ہوئی۔ وعدہ معاف پروہتوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ ان گنت برسوں سے یونہی جاری ہے اور اگر  بادشاہ اورنگزیب تک یہ اطلاعات نہ پہنچتیں تو  آئندہ بھی ایسے ہی جاری رہتا۔   بھرت پور کے مہاراجہ نے  شہنشاہ اورنگزیب کو خط کے ذریعے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا اور آگے کا لائحہ عمل دریافت کیا۔ شہنشاہ  نے جواب میں خط لکھا کہ مہاراجہ بھرت پور کو اختیار ہے وہ جیسا چاہے سلوک پجاریوں اور پروہتوں کے ساتھ کرے لیکن خیال رہے کہ آئندہ مندر میں ایسی  گھناؤنی حرکتیں نہ ہوں۔ مہاراجہ نے ان تمام پروہتوں کو قید خانے میں ڈال دیا لیکن  راجہ کے اس عمل نے متھرا کے دوسرے پروہتوں میں بغاوت پیدا کردی، ایک دن  یہ سب مل کر قید خانے پر حملہ آور ہوئے اور کرشنا مندر کے  مہا پروہت سمیت سارے پجاریوں کو چھڑا لے گئے۔

ان سب پجاریوں کو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے گھناؤنے کاروبار کی تباہی میں بھرت پور کی شہزادی کا ہاتھ ہے، اس لیے انہوں نے ایک رات محل میں گھس کر شہزادی کا قتل کردیا۔ مہاراجہ اپنی بیٹی کے قتل پر دیوانہ ہوگیا۔اس نے فوراً کرشنا مندر پر حملہ کیا اور تمام  پروہتوں کو چن چن کر تیروں سے چھلنی کردیا۔  اس کے بعد راجہ نے کرشنا مندر کے انہدام کا حکم جاری کیا۔ چنانچہ صرف اس کوٹھری جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں شری کرشنا کی پیدائش ہوئی تھی  کو چھوڑ کر تمام مندر مسمار کردیا گیا۔

اس مندر کے انہدام میں دور دور تک  اورنگزیب عالمگیر کا کوئی ہاتھ نہ تھا لیکن آج تک بعض تعصب پسند لوگ اس شرمناک واقعے کو فراموش کرتے ہوئے شہنشاہ اورنگزیب  کو اس تباہی کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔  اسی مندر کے قریب بادشاہ اورنگزیب کی بنائی عید گاہ موجود ہے جس میں  اس ہندو یاتری اور اس کی بازیاب ہوجانے والی بیوی کی قبر موجود ہے جو شہنشاہ اورنگزیب کے انصاف کو دیکھتے ہوئے مسلمان ہوگئے تھے  اور بعد میں اسلام کی ترویج کا ذریعہ بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے