ایک اور برمودا ٹرائی اینگل! زمین کے مدار میں بھی موجود ہے۔

اسپیس

ہمارے اس  کرۂ  ارض میں بہت سے راز پوشیدہ ہیں ۔  اہرامِ مصر، مایا تہذیب، اسٹون ہیج کئی صدیوں سے انسانی عقل کے لئے حیرانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک سربستہ راز برمودا ٹرائی اینگل Bermuda Triangle ہے۔

برمودا ٹرائی اینگل

برمودابرمودا ٹرائی  اینگل کے نام سے کون واقف نہیں ،   بحراوقیانوس کے ایک مثلث کی طرح سمندری علاقہ جس  کا ایک کونہ برمودا میں، دوسرا پروٹوریکو میں اور تیسرا کونا فلوریڈا کے قریب ایک مقام میں واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔ برمودا مثلث کی شہرت کا باعث اس کے ساتھ وابستہ حیرت انگیز واقعات ہیں ہیں۔ ان واقعات کے مطابق کئی بحری اورہوائی جہاز اس علاقے سے گزرتے ہوئے اس طرح لاپتہ ہوگئے  کہ بعد  میں ان کا کوئی نشان بھی نہ ملا۔

5 لاکھ مربع میل پر پھیلے ہوئے سمندر کے اس ٹرائی اینگل کی فضائی اور بحری حدود میں اب تک سینکڑوں ہوائی اور بحری جہاز ،ہزاروں مسافروں سمیت گم ہو چکے ہیں۔اسی بنا پر اس سمندری حصے اور فضا کو جہازوں کا قبرستان قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کی واحد سیاسی سپر پاور، سائنس و ٹیکنالوجی میں سب ے آگے امریکہ کے قریب واقع ہونے کے با وجود کو ئی ریسرچ اس ٹرائی اینگل کی اصل حقیقت یا عقدے کو نہیں کھول سکی۔

برمودا ٹرائی اینگل کی حقیقت کیا ہے ، اس بارے میں ایک عرصہ سے  عالمی فورمز پر بحث ہورہی ہے،  کئی دہائیوں سے مختلف اندازے لگائے جاتے رہے ہیں،  لیکن  برسہابرس  کی تحقیق اور غورو فکر کے باوجود بھی اب  تک یہاں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی ایسا ٹھوس نظریہ پیش نہیں کیا جاسکا جس پر مفکرین، سائنسدان اور  ماہرین متفقہوسکیں۔

ہمارےاس مضمون کا موضوع یہ برمودا ٹرائی اینگل نہیں ،  بلکہ ایک دوسرا ٹرائی اینگل ہے۔  جو اس زمین کے گلوب پر نہیں    بلکہ فضا میں واقع ہے۔

کیا اور بھی ٹرائی اینگل ہیں

دنیا بھر کے سمندری رقبے کے تناسب سے برمودا ٹرائی اینگل ایک انتہائی مختصر رقبہ ہے یاہم یہ کہہ سکتے ہیں  سارے سمندروں کے پانی کو اگر ایک جگہ جمع کیا جائے تو اس کا تناسب سمندر کی ایک بالٹی کا بنتا ہے۔لیکن اس علاقے میں تباہی و بربادی کا تناسب پوری دنیا کے سمندروں میں ہونے والی مجموعی تباہی سے زیادہ  کیوں ہے۔

اس کا جواب ماہرین  یہ دیتے ہیں جی  برمودا دنیا کا واحد خطہ  نہیں جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

بحرالکاہل میں جاپان اور فلپائن کے نزدیک بھی ڈریگن ٹرائی اینگل  نامی مقام ہے۔ یہ جاپان کے ساحلی شہر یوکوہاما ، ماریانا جزائر اور فلپائن کے جزیرے گوام کے درمیان واقع ہے۔     اس سمندر کو جاپانی لوگ مانواومی Ma-no Umi کہتے ہیں جس کے معنی شیطان کا سمندر ہے۔  اس مقام پر جاپان  کے کئی فوجی جہاز گم ہوچکے ہیں،    یہی نہیں اس معمہ کا راز جاننے کے لیے گئے جاپانی سائنسدان بھی خود معمہ بن گئے۔ اس کے بعد جاپان نے اس علاقے کو خطرناک علاقہ قرار دے دیا۔

مشی گن  مثلث Michigan Triangle بھی ایک پراسرار جغرافیائی خطہ تھا  ۔ انیسویں صدی کی ابتداء  میں جھیل مشی گن کے وسط میں کئی جہاز اور ہوائی جہاز غائب ہونے کے واقعات ریکارڈ ہوئےتھے۔

امریکی ریاست ورموٹ کا ایک علاقہ بھی Bennington Triangle کے نام سے مشہور تھا، جہاں 1950 کی دہائی میں انسانوں کے ہاسرار طور پر لاپتہ ہونے کے واقعات  ہوئے۔

امریکی ریاست جنوب مشرقی میسا چوسٹس  اور  بوسٹن کے جنوب میں برج ٹاور مثلث  Bridgewater Triangleنامی تقریبا 200 مربع میل کا علاقہ ہے۔ اس  میں   بھی ایسے  پراسرار  واقعات   ہوتے رہتے تھے۔

نومبر 1930 میں ماؤنیٹر، چرچل (کینیڈا  )کے شمال میں پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع  اسکیمو کے شہر کے لوگ خلافِ توقع غائب ہوگئے تھے اور آج تک ان کا سراغ نہیں ملا۔ اس شہر میں  گھر، سازو سامان، کشتیاں، لیکن انسان ایک بھی موجود نہیں تھا، یہاں تک کہ قبروں کے اندر سے  مردے بھی غائب تھے۔

ان تمام خطوں میں  انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی  جہازوں کا کھو جانا جیسے غیرمعمولی اور مافوق الفطرت  واقعات شامل ہیں۔ ماہرین ان  پراسرار معموں سے بھی پردہ  نہیں اٹھاسکے۔

برمودا ٹرائنگل

پراسرار  خطہ یا مقناطیسی جھول

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خطے کیوں ہوتے  ہیں  اور  کیسے وجود میں  آتے ہیں۔ اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں کہ جن کے باعث بعض لوگ اسے خلائی مخلوق کی کارستانی  کہتے ہیں بعض اسے شیطانی یا  آسیبی مثلث کا نام دیتے ہیں

ان ماوراء طبیعی داستانوں (یا واقعات) کی جو تشریحات کی گئیں ان کی سائنسی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔  البتہ بعض محققین کے نظریات سائنسی ذہن سے شمجھ میں آتے ہیں۔

مثال کے طور پر  بعض ماہرین یہ کہتے  ہیں کہ   دنیا کے کئی حصوں میں  مقناطیسی برقی رو    موجود ہیں۔  ان برقی مقناطیسی رو کی قوتِ کشش سب جگہ تو ایک ہی ہے البتہ وقتاً فوقتاً ان کے معمول میں جھول واقع ہوجاتا ہے، ہماری زمین کی عمودی کشش ثقل کی لہریں برقی مقناطیسی لہروں سے متصادم ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے مقناطیس کی سوئی قطب شمال کی صحیح سمت نہیں بتاتی گویا مقناطیسی قطب اور زمینی قطب الگ الگ ہیں۔

سمندری اور ہوائی جہازراں اس کو Compass Variation کہتے ہیں۔ یہ فرق زمین کے مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے حتیٰ کہ کہیں پر 20 ڈگری 1200 میل تک پایا جاتا ہے۔ اگر جہازراں اس فرق کے مساوی راستہ کی تصحیح نہ کریں تو وہ کبھی منزل پر نہیں پہنچیں۔

کچھ سائنسی نظریات  کے تحت اس علاقے میں مقناطیسی کشش کسی وجہ سے اس قدر طاقت اختیار کرگئی ہے کہ وہ اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے،  اور وہ واپس باہر نہیں آسکتیں۔

جیک گرین کے مطابق ،برموڈا ٹرائی اینگل کی کچھ دلچسپ خصوصیات بھی ہیں ، جیسے کہ اگرقطب نما کی مدد سے اس علاقے کی نشاندہی کی کوشش کی جائے تواسے حقیقی شمال کے رخ پر ہونا چاہئے ۔لیکن عام طور پر قطب نما حقیقی شمال کی بجائے مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے ،جو حقیقی نارتھ ویسٹ سے جنوبی مغرب کی جانب ہے۔  اب اگر ہوائی جہاز یا بحری جہاز میں سمت کا تعین کرنے والے آلات یہ سراغ نہیں لگاپاتے ، تو ظاہر ہے کہ وہ راستہ بھٹک جائیں گے اور ایسا ہی سمندر کے اس علاقے میں ہوتا ہے ۔ محققین کی ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں موجود مقناطیسی لہروں کی وجہ سے وقت اور سمت کا تعین کرنے والے آلات ناکارہ ہوجاتے ہیں اور یوں حادثات پیش آتے ہیں۔

کئی سائنسدان بھی مقناطیسی عجائبات اور ہمارے کرہ پر ان کے پھیلاؤکی سمتیں  اور ان میں موجود جھول معلوم  کرنے میں مصروف عمل ہیں، ایک سائنسدان ایون سینڈرسن نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کی ہماری زمین پر طول بلد کے مخصوص خطوط پر بارہ مقناطیسی گرداب  واقع ہے۔

مقناطیسی قوت کے  متعلق اس نظریہ کو  اس وقع تقویت ملی ،  جب   زمین کے مقناطیسی   پرت پر بھی پڑ جانے والے ایک جھول کی وجہ سے وہاں برمودا ٹرائی اینگل کی طرح کے حالات پیدا ہوگئے ۔

جی ہاں !….

زمین کے مدار کے اندر مقناطیسی پرت  پر  برمودا ٹرائی اینگل  جیسا ایک اور ٹرائی اینگل تشکیل پاچکا ہے۔

زمین   کے گرد موجود مقناطیسی میدان ، خلا   اور  سورج سے آنے والی تابکار لہروں سے تحفظ دے کر ہمارے  سیارے پر زندگی کو تحفظ  فراہم کرتا ہے۔  سورج پر جاری انتہائی طاقتور ایتلافی عمل (Fusion reaction) کے نتیجے میں ہر لمحے اربوں تابکار ذرے زمین کی جانب لپکتے ہیں، مگر زمینی مقناطیسی قوت ان ذروں کے زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی راہ تبدیل کر دیتی ہے  لیکن  جنوبی بحرِاوقیانوس کے اوپر ، اس مقناطیسی ڈھال میں ایک سوراخ  سا واقع ہورہا ہے   اور    یہاں پیدا ہونے والی تابکاری اتنی شدید ہے کہ    یہاں سے گزرنے والے اسپیس شٹل کے  بصری آلات  میں خرابی کا تجربہ ہوا ہے، یہاں تک کہ  مشہور ہبل دوربین بھی اس مقام پر آکر اپنے کیمرے کی آنکھ بند کردیتی ہے ،  مصنوعی سیارچے (سیٹلائیٹ) کوما میں چلے جاتے ہیں اور ان میں لگے کمپوٹرز کریش ہوجاتے ہیں۔ سائنسدانوں پریشان ہیں کیونکہ ایسے واقعات کا ظہور میں آنا، زمین کے  مقناطیسی میدان  کی  بوسیدگی (crumbling )  کے خطرے کی طرف اشارہ ہے۔

زمین کا مقناطیسی میدان

زمین کے مدا ر میں بننے والے اس برمودا  ٹرائی اینگل کو جاننے سے پہلے آئیے ہم یہ جان لیں کہ زمین کا برقی مقناطیسی میدان کیا ہے….؟

سائنس دان بتاتے ہیں کہ زمین کے اردگرد واقع کرہ ہوائی میں ایک ایسا مقناطیسی میدان پایا جاتا ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ کرہ ہوائی کی سب سے اوپر والی تہہ ایک مقناطیسی زون سے بنی ہے جسے ‘‘وین ایلن بیلٹ’’ Van Allen Belt کہا جاتا ہے، جبکہ یہ زون زمین کے قلب یا مرکز  کی خصوصیات سے تشکیل پاتا ہے۔ سورج سے چند تابکار لہریں نسبتاً کم رفتار کے ساتھ نکلتی ہیں اور تقریباً 400  کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ ان لہروں کو  سولر ونڈزSolar wind(سورج سے آنے والی تابکار ہوائیں) کہا جاتا ہے جنہیں وین ایلن بیلٹ کنٹرول کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں شمسی ہوا سے زمین یا اس کے مکین نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔

مقناطیسی میدان

اس مقناطیسی تہہ کی تشکیل کرہ ارض کے مرکز کی خصوصیات سے ممکن ہوئی، جو اپنے اندر مقناطیسی دھاتیں مثلاً لوہا اورنکل رکھتی ہے۔

زمین کا مرکز یعنی نیوکلیئس 2  مختلف اجسام سے مل کر بنا ہے، جس کے اندر کا حصہ ٹھوس اور باہر کا سیال ہے۔ زمین کے مرکز  کی دونوں تہیں ایک دوسرے کے گرد گھومتی ہیں اور اس حرکت سے دھاتوں میں ایک مقناطیسی اثر پیدا ہوتا ہے جو مقناطیسی میدان کو تشکیل دیتا ہے اور یہ مقناطیسی میدان زمین کی ایک جانب سورج کی سمت میں تقریباً 84 ہزار کلومیٹر تک جبکہ دوسری سمت میں 3لاکھ کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے جو زمین کو ان خطرات سے محفوظ رکھتا ہے جن کا خلاء کی طرف سے خدشہ رہتا ہے۔ سورج کی تابکار لہریں  اس ‘‘وین ایلن بیلٹ’’ میں سے نہیں گزر سکتیں، بلکہ تابکار لہریں   جب ذرات کی بارش کی شکل میں اس مقناطیسی میدان سے ملتی ہیں تو تحلیل ہو کر اسی پٹی کے گرد بہنے لگتی ہیں۔ وان ایلن بیلٹ 2 حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا اندرونی حصہ زمین سے400سے 1200 کلومیٹر کے فاصلے سے شروع ہوکر 10ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس وسیع میدان کا انتہائی قوت والا حصہ زمین سے 3500 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ وان ایلن بیلٹ کا دوسر ا حصہ 10 ہزار سے 84 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کا بھرپور قوت والا حصہ زمین کی سطح سے تقریباً 16 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔  وان ایلن بیلٹ کی یہ دونوں پٹیاں اس قدر زیادہ برقی چارج کے حامل ذرات پر مشتمل ہیں کہ اگر کوئی خلائی جہاز ان کی زد میں آجائے تو تباہ ہو جائے گا۔ ان دونوں پٹیوں کے درمیان محفوظ ترین خطہ 9 ہزار سے 11 ہزار کلومیٹر کے درمیان خیال کیا جاتاہے۔

ماہرین کے مطابق اگر وان ایلن بیلٹ کی یہ دونوں پٹیاں نہ ہوتیں تو سورج سے بکثرت خارج ہونے والی توانائی روئے زمین پر زندگی کا بالکل خاتمہ کر دیتی۔ یہ توانائی چونکہ زبردست ہیجان کے ساتھ لپکتی ہے اس لئے اسے سولر فلیئرز Solar Flare یعنی ‘‘سورج کے شعلے’’ کہا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان سولر فلیئرز کا درجہ حرارت 20 لاکھ سے ایک کروڑ 33 لاکھ سینٹی گریڈ تک ہوتاہے۔  یونیورسٹی آف روچسٹر سے وابستہ ارضیاتی طبعیات کے ماہر جان ٹارڈُنو کے مطابق، ‘‘اس مقناطیسی قوت کے بغیر زمین شاید ایک بانجھ سیارہ ہوتی۔اس کی عدم موجودگی میں زمین پر اوزون پیدا ہونا ممکن نہیں تھا اور اگر یہ قوت نہ ہوتی تو زمین سے سارا پانی ختم ہو جاتا۔’’ تحقیق کے مطابق زمینی مقناطیسیت نے کم از کم 4.2 ارب سال پہلے اپنا کام شروع کیا تھا۔ یعنی سیارہ زمین کے وجود میں آنے کے کچھ ہی برس بعد یہ قوت پیدا ہوئی، جو آج تک اس سیارے پر زندگی کی ضمانت اور محافظ بنی ہوئی ہے۔  یہ بات اہم ہے کہ نظامِ شمسی میں واقع صرف دو زمین اور عطارد  مقناطیسی قوت کے حامل ہیں۔ یہ قوت مریخ پر بھی موجود تھی،  ایک وقت تھا، جب مریخ بھی اوزون  اور سمندروں کا حامل تھا، مگر مقناطیسی قوت کھوتے ہی، سورج سے آنے والی طاقتور تابکار ہواؤں نے اس کا کرہء ہوائی چھیل کر رکھ دیا اور پانی کے مالیکیول ٹوٹ گئے تھے۔ نظام شمسی میں واقع دیگر سیاروں میں زندگی کے آثار اس لیے  موجود نہیں کیونکہ انہیں مقناطیسی میدان جیسی  محفوظ چھت حاصل نہیں ہے ۔   اور اب اسی محفوظ چھت یعنی وین ایلن بیلٹ کے ایک حصہ میں  پیدا ہونے  والی  معمولی سی خرابی  اس خطہ سے گزرنے والی سیٹیلائٹ، اسپیس شٹلز اور دیگر خلائی  آلات عجیب و غریب   صورتحال  سے دوچار ہورہے ہیں۔

 نیا  برمودا ٹرائی اینگل

ماہرین کو 25 ستمبر 2010ء سے اس صورتحال کا پتا چلا ، جب کیلیفورنیا (امریکہ  ) کے وینڈنبرگ Vandenberg ائیر  بیس  سے (SBSS) Space Based Surveillance Satellite یعنی  خلائی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ      سے روانگی کے چند منٹ بعد ہی  مدد کے سگنلز SOS آنے لگے،   اربوں  ڈالر سے تیار کردہ یہ خلائی جہاز جو زمین کے مدار میں موجود خلائی ملبوں کی نگرانی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، ابھی جنوبی بحراوقیانوس کے اوپر تھا کہ اس کے اندر موجود تمام کمپیوٹر آلات  نے کام کرنا چھوڑ دیا اور بعض کمپوٹر  اتنی بری طرح متاثر ہوئے  تھے کہ کریش ہوگئے تھے۔  جبکہ اس کے انجینئرز نے دو سال لگائے تھے ایسے سافٹ وئیر بنانے میں  جو اس سیٹیلائٹ  میں آگ لگ جانے کی صورت میں بھی کام کرتے ہیں۔  یہ SBSS سیٹیلائٹ جنوبی بحر اوقیانوس کے اینومیلیا South Atlantic Anomaly (SAA) میں موجود تھا ۔

برمودا اسپیس

تحقیق سے معلوم ہوا  جنوبی بحر اوقیانوس کے اس حصہ کا  وین ایلن بیلٹ    30 فیصد کمزور ہو گیا ہے۔  جس کی وجہ سے  خلا سے آنے والے ہائی انرجی پارٹیکلز SAA میں داخل ہورہے ہیں۔   یہاں تک کہ چھوٹے مصنوعی سیارہ فی سیکنڈ 20 ملین ہائی انرجی پارٹیکلز  سے متاثر  ہورہے ہیں۔  اس تابکاری کی وجہ سے خلائی جہاز  میں موجود کمپیوٹر سسٹمز میں خرابیاں  آرہی ہیں اور خلانوردوں کو عجیب  اور اجنبی سے بصری اثرات  محسوس ہورہے ہیں۔

اس وقت زمین کے اوپر چند سو کلومیٹر فضا میں 500  سے زائد مصنوعی سیارے ہر وقت گردش میں ہیں ۔   جنوبی بحر اوقیانوس کے اوپری فضا میں زمین کے حفاظتی  حصار کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔

دوسری جانب امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی خلا میں بھیجی دوربین ہبل  Hubble جو کی گذشتہ ہچیس برس سے ساڑھے تین سو میل کی بلندی پر زمین کے مدار میں خلا ئی  تحقیق میں اہم کردار ادا کررہی ہے، ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی یہ دور بین  دو اعشاریہ چار میٹر قطر کے عدسے سے خلا کی اب تک بارہ لاکھ سے زیادہ تصاویر لے چکی ہے۔  لیکن  دیکھا گیا ہے کہ   اس علاقے سے   گزرتے ہوئے  ہبل کے لینسز   کے سینسرز بھی متاثر ہوتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے