ایک سو بم برسانے کے باوجود قائم رہنے والا! پیسا کا مینار۔

پیسا کا مینار

مثل مشہور ہے کہ اگر بنیاد ٹیڑھی ہو تو چاہے اس کی تعمیر  آسمان کی بلندیوں تک  کی جائے عمارت ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔   ایسی  عمارت کو سیدھا کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ اُسے دوبارہ نئے سرے سے تعمیر کیا جائے۔

آج سے ہزاروں  سال پہلے جب فن تعمیر ایک مشکل اور غیر معمولی فن سمجھا جاتا تھا۔ اس فن کے ماہرین بہت کم تھے اور خام مال و تعمیراتی تکنیک بھی محدود تھی۔ آج کی طرح اس شعبے میں آسانی نہیں تھی۔  تعمیرات پر بےپناہ اخراجات آتے تھے۔  صرف وہی حکومتیں عالی شان تعمیرات کراتی تھیں جن کےخزانوں میں خراج یا فتوحات کی دولت وافر آتی تھیں۔ یہی وجہ ہے ہمیں اس معاملے میں وہ ملک آگے نظر آتے ہیں جو زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ تھے۔ جیسے مصر، ہندوستان اور عراق وغیرہ یا پھر سلطنت روما اور سلطنت ایران جیسے ممالک جنہوں نے فتوحات کی مدد سے آس پاس کے ممالک کی دولت لوٹی تھی۔  عموماًذاتی شاہانہ خرچ، دفاع اور کسی قدر عوام کی فلاح و بہبود سے بچ جانے والی رقم سے ان ملکوں کے حکمران عالی شان عمارات بنواتے تھے۔

عام طور سے  دفاع کے لیے یا کسی فتح یا کسی غیرمعمولی واقعے کی یاد میں عالی شان تعمیرات کی جاتی تھیں۔ آج بھی ایسی غیر معمولی تعمیرات دنیا بھر میں موجود ہیں جو کسی نہ کسی فتح یا واقعے کی یاد دلاتی ہیں۔ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ صرف سلطنت روما کے دور میں بنائی گئی عمارات اور قلعوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے اور یہ ساری تعمیرات غیر معمولی تھیں جن پر اس زمانے کے لحاظ سے کروڑوں کا خرچ آیا تھا اور ان کی تعمیر پر ہزاروں افراد کئی سال تک کام کرتے رہے تھے۔

تاریخی عمارتوں کے  لحاظ سے یورپ کا شہر اٹلی خاص مقبولیت رکھتا ہے۔ سلطنت روما کے زوال کے بعد اٹلی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ کر رہ گیا۔  ان ریاستوں میں  اٹلی کے جنوب میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست پیسا بھی تھی۔ پیسا ایک شہری ریاست تھی جو ساحل کے ساتھ ساتھ آباد ہے۔ اٹلی کےا نتہائی جنوب میں واقع سسلی کے جزیرے سے اس کا فاصلہ کچھ ہی میل تھا۔1172ء میں سسلی نے جنگ کے بعد فتح کی خوشی میں ایک چرچ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔ اس وقت پیسا میں جمہوریت تھی اور ایک منتخب کونسل شہر اور ریاست کا نظم و نسق چلاتی تھی۔ اس کونسل نے چرچ کے ساتھ ایک گرجا گھر اور ایک مینار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا.تھا۔ اٹلی میں امراء اور ریاستوں کو مینار سازی کا جنون رہا ہے اور تقریباً پورے اٹلی میں ہزاروں کے حساب سے  مینار بنائے گئے تھے۔ ان میں سے بعض تین سو فٹ تک بلند تھے۔ میناروں کی تعمیر کاجنون اتنا تھا کہ لوگ اپنی  دولت ایک دوسرے سے مقابلے میں مینار سازی پر لگانے لگے تھے ۔

1173ء میں چرچ کی تعمیر شروع ہوئی…. کئی دہائیوں کے بعد جا کر کہیں یہ چرچ مکمل ہوا تھا۔ اس وقت اسے بنانے والے معماروں اور ریاستی کونسل نے گھنٹا گھر اور بپتسمہ گھر کی جگہ محفوظ رکھنے کے لیے ان کی بنیادوں پر کام کرلیا تھا۔ خاص طور سے گھنٹا گھر کی اولین منزل تعمیر کرلی گئی تھی۔ یہ پورا کیتھڈرل سفید اور ہلکے سبز رنگ کے سنگ مرمر سے بنایا جارہا تھا۔ اس کی اندرونی دیواریں اور بنیادیں گرینائٹ سے بنائی گئی تھیں۔  گرینائٹ دنیا کا مضبوط ترین پتھر ہے۔ اس سے تعمیر کی گئی عمارات صدیوں برقرار دہتی ہیں۔ گرینائٹ اصل میں چونے کا پتھر ہوتا ہے جو موسمی تغیرات اور لاکھوں سال تک زیر زمین رہنے کے بعد سخت شکل اختیار کرجاتا ہے۔ چرچ کی تعمیر مکمل کردی گئی اور بپتسمہ گھر بھی کچھ عرصے بعد مکمل ہوگیا تھا لیکن گھنٹا گھر (کلاک ٹاور)کی تعمیر  آنے والے دو سو سال تک جاری رہی۔ حالانکہ یہ کوئی بہت بلند گھنٹا گھر نہیں تھا۔

پیسا کے گھنٹا گھر کی تعمیر کئی وجوہات کی بنا پر دو صدیوں تک جاری رہی تھی۔ ایک تو اس کی تعمیر پر خرچ بہت زیادہ آرہا تھا اور وہ یورپ کی مفلوک الحالی کا دور تھا…. ایک وجہ یہ تھی کہ دوسری منزل کی تعمیر کے ساتھ ہی مینار کسی قدر ترچھا ہوگیا تھا اور اس کا جھکاؤ جنوب کی طرف ہوگیا تھا۔ جب گھنٹا گھر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا اور اس کا ڈیزائن منظور ہوا تو اس میں تعمیراتی اصول نظر انداز کردیے گئے تھے۔ بلند میناروں کی تعمیر کےلیے ضروری ہے کہ یہ جس جگہ تعمیر کیے جائیں وہاں زمین سخت اور پتھریلی ہو اور بنیاد اتنی چوڑی ہو کہ پوری عمارت کا بوجھ سنبھال سکے۔ لیکن یہ دونوں باتیں نظر انداز کردی گئیں۔

اٹلی کے بیشتر ساحلی شہروں کی طرح پیسا بھی اصل میں ایک نرم دلدلی ٹاپو پر آباد ہے۔ رومن دور میں یہاں دلدلوں کو پاٹ کر شہر بسایا گیا تھا۔ پھر بندر گاہ بنی، اگلی دو صدی میں پیسا ایک بڑا اور خوبصورت شہر بن چکا تھا۔ اوپر کی سطح پتھریلی ہونے کے باوجود پیساکی اندرونی سطح آج بھی دلدلی اور نرم ہے جس پر ایک حد سے زیادہ بڑی اور وزنی عمارت کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ اس زمین پر حکومت  نے سوچے سمجھے بغیر پندرہ ہزار ٹن وزنی مینار کی تعمیر کا منصوبہ بنالیا۔ مینار دوسری منزل کی تعمیر کے دوران ہی جھکنے لگا تھا لیکن اس وقت اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ ایک تو اس وقت تعمیراتی تکنیک اتنی اچھی نہیں تھی دوسرے معماروں کے پاس نقص جانچنے والے آلات بھی نہیں تھے۔ اس لیے جھکاؤ کے باوجود تعمیر کا سلسلہ جاری رہا  ۔

زمین میں کئی میٹرز تک گہری اس کی بنیاد رکھی گئی اور پھر ایک کے بعد ایک منزل تعمیر ہورہی تھی۔ دو سو مربع میٹر کی بنیاد والے اس مینار کی بلندی سو فٹ سے زیادہ ہے۔ مختلف وقتوں میں اس کی کل آٹھ منزلیں تو تعمیر ہوئیں۔ ان میں پہلی منزل کوئی بیس فٹ بلند ہے اور اس کے بعد ہر منزل چودہ فٹ بلند ہے جبکہ آخری منزل جہاں گھنٹا گھر ہے وہ بیس فٹ سے زیادہ بلند ہے۔ یوں اس کی بنیاد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کی بلندی زیادہ ہے اور پھر اسے بنایا بھی دلدلی زمین پر ہے جس کی وجہ سے مینار تعمیر مکمل ہونے کے فوراً بعد یہ ٹیڑھا ہونے لگا تھا۔

پیسا ٹاور  کی بنیاد 1174ء میں بونانو پیانو نامی معمار نے رکھی۔ 1185ء تک وہ صرف تین منزلیں تعمیر کر پایا تھا کہ اس کی موت کا بلاوا آگیا۔ کہا جاتا ہے اس کی موت اس خوف سے ہوئی کہ مینار میں اس وقت جھکاؤ موجود تھا۔ 90 برس بعد ایک اور معمار نے اسے گرایا، بنیادیں گہری کھودیں اور ازسر نو تعمیر شروع کی۔ وہ بھی سات منزلیں بنانے کے بعد دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا۔ 80 سال تک تعمیر التوا میں پڑی رہی، پھر ایک تیسرے انجینئر نے اس کی آٹھویں منزل اور اس کے اوپر گنبد بنایا اور اس میں سات گھنٹیاں لٹکائیں، گویا یہ مینار دو صدیوں تک جاری رہی اور 1370ء میں یہ گھنٹا گھر پایۂ تکمیل کو پہنچا   جو  بعد میں عجائبات عالم میں سے ایک کہلایا۔ اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے دس مشہور ترین  میناروں میں اس کا نمبر پہلا ہے۔ ایفل ٹاور کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے بونانو نے یہ جھکاؤ خود رکھا تاکہ دیکھنے والوں کی حیرت  ہو، لیکن سائنسدان کہتے ہیں کی یہ سرزمین پیسا کی اس مٹی کا قصور ہے جس میں اسفنج کی طرح مٹی اور ریت کے علاوہ ساٹھ فیصد پانی بھی موجود ہے۔ اگرچہ مینار کی بنیار تیرہ فٹ چوڑی اور نو فٹ گہری ہے، اس کے باوجود جھکاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ پیسا ٹاور کی تکمیل  کے وقت ہی اس کا ٹیڑھا پن واضح ہوگیا تھا اور مینار کی بالائی منزل مرکز سے کئی فٹ دور جا چکی تھی۔ لیکن اس وقت یہ جھکاؤ خطرناک نہیں تھاااور دوسرے اس بات سے واقف ہونے کے باوجود ان لوگوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ مینار کا جھکاؤ ختم کرسکتے یا اسے مزید جھکنے سے ہی روک سکتے۔ اس لیے بےبس ہو کر اہل پیسا نے مینار کو اس کے حال  پر چھوڑ دیا ۔ انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ خدا ان پر مہربان ہے اور وہی اس مینار کو گرنے سے بچائے ہوئے ہے۔

اس مینار کی وجہ سے وہ چوک جس پر کیتھڈرل واقع ہے معجزوں کا چوک کہلاتا ہے۔ اس کے نام کی وجہ پیسا ٹاور ہے جو خطرناک حد تک جھکا نظر آنے کے باوجود گزشتہ نو  صدیوں سے کھڑا ہے اور اس کی مستحکم تعمیر میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔  حیرت انگیز بات ہے  کہ نو  صدیوں کے دوران پیسا ٹاور نے درجنوں سمندری طوفانوں اور کم سے کم دو شدید زلزلوں کا سامنا کیا ہے اور اس کے باوجود یہ کھڑا ہوا ہے۔ ایک زلزلے میں چرچ کی عمارت کو نقصان ہوا تھا لیکن پیسا کا مینار صرف جھولتا رہا اور پھر اپنی جگہ مستحکم ہوگیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی نرم دلدلی زمین  جو اس کے جھکاؤ کا سبب بن رہی ہے اسی نے اسے زلزلے میں زمین بوس ہونے سے بچایا ہے۔ کیونکہ یہ زمین زلزلے کا شدید جھٹکا جذب کرکے اسے مینار تک جانے سے روکتی ہے یوں مینار اتنی حرکت نہیں کرپاتا جو اس کے زمین بوس ہونے کے لیے کافی ہو۔

پندرہویں صدی میں اٹلی اور یورپ کے تعمیراتی ماہرین نے پیسا ٹاور کو جھکنے سے روکنے کی تگ و دو شروع کر دی تھی۔ اس وقت تک یہ اپنے مرکز سے دو میٹر یا سات فٹ دور جاچکا تھا۔ جب سورج دوپہر میں عین اس کے اوپر ہوتا تھا تو جنوبی سمت میں اس کا سایہ دیوار سے سات فٹ آگے پڑ رہا ہوتا تھا۔ اس وقت ماہرین کو اس کے سوا اور کوئی ترکیب سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ اسے سہارا دینے کےلیے اس کی جنوبی سمت میں پلرز تعمیر کردیے جائیں۔ لیکن حکومت نے یہ منصوبہ مسترد کردیا اور رومانوی فن تعمیر کا یہ حسین شاہکار بدصورت ہونے سے بچ گیا۔  ایک تجویز یہ تھی کہ اس کی پہلی منزل کے چاروں طرف دیوار بنا کر اسے پگھلی ہوئی دھاتوں سے بھر دیا جائے اور یہ دھاتیں ٹھنڈی ہو کر پہلی منزل کو اپنی گرفت میں لے لیں گی جس سے پیسا کا مینار گرنے کے خطرے سے نکل آئے گا اور اس کا مشہور زمانہ جھکاؤ بھی برقرار رہے گا۔ لیکن عملی طور پر یہ بہت مشکل اور ناممکن حد تک پیچیدہ کام تھا کیونکہ پگھلی ہوئی دھات الٹا عمارت کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔

آنے والی دو صدیوں تک مینار بچانے کی کوئی نئی کوشش نہیں کی گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کا جھکاؤ برابر جاری تھا اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ سترھویں صدی تک مینار کا جھکاؤ تین میٹرز یا دس فٹ ہوچکا تھا۔ یہ جھکاؤ اتنا واضح اور خوف ناک تھا کہ لوگ اس کے پاس جانے سے ڈرنے لگے تھے۔ ایک معمولی زلزلے نے اس کے جھکاؤ میں یک دم ایک فٹ کا اضافہ کردیا تھا۔ لیکن جب پیسا کا مینار برقرار رہا تو رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا۔

سترہویں صدی میں ماہرین تعمیرات نے جدید تکنیک کی مدد سے مینار اور اس کی بنیادوں کا پہلی مرتبہ سائنٹیفک معائنہ کیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ  جھکنے کے باوجود اس کے تمام حصے اپنی جگہ مستحکم اور مضبوط ہیں۔ ان ماہرین نے مینار کو مزید جھکنے سے بچانے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں لیکن ان میں سے کوئی بھی قابل عمل نہیں تھی۔  حیران کن طور پر اٹھارویں صدی میں مینار کا جھکاؤ بہت کم ہوا تھا اور یہ تقریباً ایک جگہ رُک گیا تھا، اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ اب یہ اپنی بنیادوں پر مستحکم ہوگیا ہے اور مزید نہیں جھکے گا لیکن انیسویں صدی میں ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا اور مینار پھر جھکنے لگا ، اس کی  جھکنے کی رفتار پچھلی صدیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ  بھی ہوگئی تھی۔ ایک سو سال کے اندر یہ مزید تین فٹ اپنے مرکز سے دور چلا گیا تھا اب یہ اپنے مرکز سے چار میٹرز کے فاصلے پر تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا ، دوسری جنگ عظیم سے پہلے  اٹلی نے صنعتی لحاظ سے بڑی تیزی سے ترقی کی ،   اس دور میں  ماہرین نے مینار کو مزید جھکنے سے بچانے کے منصوبے کا آغاز کیا ، اس سلسلے میں جدید علوم کی مدد سے مینار کے جھکاؤ کی پیمائش کی گئی اور جدید ٹیکنالوجی سے کام لے کر اسے گرنے سے بچانے کے کام کا آغاز کیا گیا۔ ماہرین نے فرش میں متعدد چھوٹے لیکن طویل سوراخ کرکے فولادی پائپ ڈالے اور عمارت کو ان پائیوں سے منسلک کرکے پائیوں مین کنکریٹ بھر دیا ، آج کل بھاری عمارتیں جو ریتیلی یا دلدلی زمین پر تعمیر کی جاتی ہیں ان کو زمین میں دھنسنے سے بچانے کے لیے یہی تکنیک استعمال کی جاتی۔لیکن پیسا ٹاور میں یہ طریقہ ناکام رہا۔ کیونکہ زمین میں بہت زیادہ کھدائی ممکن نہیں تھی۔ بنیاد بہت مختصر ہونے کی وجہ سے مینار کے گرنے کا خطرہ لگا رہتا تھا اور پھر مینار کا کوئی بنیادی فولادی ڈھانچا نہیں تھا جس سے فولادی پائپ منسلک کیے جاتے اور  پورے مینار کو سہارا دیتے۔ اس لیے مختلف جگہوں پر 80 ٹن کنکریٹ بھرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں رہا ۔

دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں نے اس شہر پر تقریباً ایک سو بم برسائے۔ پورا شہر تلپٹ ہوگیا، مگر مینار کو ذرا بھی  آنچ نہ آئی۔    جنگ عظیم کے بعد  ہوائی سفر کی وجہ سے دنیا میں سیاحت فروغ پانے لگی تھی اور بےشمار سیاح صرف جھکا ہوا ٹاور دیکھنے کے لیے پیسا کے خاموش اور چھوٹے سے شہر میں آنے لگے۔  پیسا، جدید اٹلی کا ایک چھوٹا سا اور غیر اہم شہر ہے۔ یہاں کی بندرگاہ عام سی ہے اور یہاں صنعتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لوگ زیادہ تر  ماہی گیری سے روزگار کماتے ہیں۔ اس لیے جب سیاحوں نے صرف پیسا مینار کی خاطر یہاں آنا شروع کیا تو اہل پیسا کو اس مینار کی افادیت کا درست اندازہ ہوا۔ بیسویں صدی کے نصف سے ہر سال دس سے بیس لاکھ سیاح پیسا آنے لگے۔ ان سیاحوں کی وجہ سے پیسا کے باشندوں کی مالی حالت بہتر ہوتی چلی گئی۔

دنیا کے مختلف حصوں سے جو سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں، وہ جھکاؤ دور کرنے کےلیے گوناگوں تجویزیں پیش کرتے ہیں۔لیکن  کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اٹلی کے سائنسدان بھی اس کے متعلق نئے نئے منصوبے پیش کرتے رہتے ۔  لیکن  جب ماہرین نے مرمت اور عام لوگوں کی حفاظت کے لیے پیسا ٹاور کو عام افراد کے لیے بند کرنے کی بات کی تو مقامی لوگ چراغ پا ہوگئے تھے کیونکہ پیسا مینار پر چڑھنے اور اس کے آس پاس گھومنے پرپابندی لگ جاتی تو پھر کون پیسا آنا پسند کرتا۔ لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے پورے تین سال تک مینار کو عام لوگوں کے لیے بند نہیں کیا گیا تھا۔حالانکہ اس سارے عرصے میں مینار مسلسل جھکتا رہا تھا اور اسے بچانے کے لے کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہ ہوسکی ۔  معاملہ ٹلتا رہا اور مینار کا جھکاؤ اپنے مرکز سے چار اعشاریہ سات میٹرز ہوگیا یعنی پندرہ فٹ اور تقریباً ساڑھے چار انچ۔ یہ جھکاؤ بہت زیادہ تھا اور مینار اب کسی وقت بھی گر سکتا تھا۔

بیسویں صدی کے دوران کچھ ایسے واقعات ہوئے جس سے پیسا ٹاور کے بارے میں لوگوں کے خدشات بڑھ گئے۔ اٹلی کے ساحلی شہر اور بندرگاہوں پر  دلدلی زمینوں پر آباد چند صدیوں پرانے مینار زمین بوس ہوگئے ۔ اس حادثے نے اہل پیسا  کو مضطرب کردیا۔ ہرطرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ پیسا ٹاور کو بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اسے عام افراد کے لے بند کردیا جائے ۔ 1990ء میں پیسا ٹاور کو عوام کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

لیکن ابھی تک مینار کے جھکاؤ کی وجہ کا تعین نہیں ہوپایا تھا ۔ سول انجینئرز کا خیال تھا کہ مینار کی بنیاد کی مٹی نرم ہے اور یہ آسانی سے الگ ہوجاتی ہے، اس کابونڈ کمزور ہے اور وجہ سے مینار جھک رہا ہے لیکن جیوٹیک انجینئرز کا خیال تھا کہ اصل مسئلہ اس سے نیچے کی ریت والی پرت ہے۔ کیونکہ جب سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو اس ریت میں نمی کی وجہ سے کھسکاؤ پیدا ہوتا ہے اور یہی مسئلے کی جڑ ہے۔

1992ء میں مینار کو عارضی سہارا دینے کے لیے اس کی شمالی سمت سے مضبوط فولادی رسے اس کی بالائی منزل سے باندھ دیے گئے۔ یہ خاصا دشوار کام تھا کیونکہ ایک ایک رسے کا اپنا وزن دو سے چار ٹن تک تھا اور ہر رسا سو ٹن وزن سہار سکتا تھا۔

پیسا ٹاور کی بنیاد بہت مضبوط قسم کے پتھروں سے بنی ہے۔ اس لیے  ماہرین  نے فیصلہ کیا کہ اس پتھر کی بنیاد پر وزن رکھ کر مینار کو مزید جھکنے سے روکا جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے وزنی دھات  سیسے  کا انتخاب کیا گیا، لیکن یہ منصوبہ بھی رد کردیا گیا کیونکہ سیسہ بہت زیادہ آلودگی پھیلانے  والی دھات ہے ۔

ایک تجویز یہ تھی کہ فرش میں سوراخ کرکے بنیادوں میں وزنی لنگر باندھ دیے جائیں جو زیر زمین مٹی کے ساتھ مل کر عمارت کو سہارا دیں ۔ اس طرح یہ مزید جھکنے سے بچ جائے گی لیکن عمارت کے فرش میں سوراخ کرنے سے عمارت  کے اصل اسٹرکچر کو نقصان ہوتا، دوسرے اس عمل کے دوران معمولی سی غلطی سے مینار فوراً گر سکتا تھا۔ بہر حال  1995ء میں اس پر عمل درآمد شروع ہوا۔  مگر اس بار مینار اتنی تیزی سے ٹیڑھا ہونے لگا کہ پچھلے کئی سالوں میں اتنا نہیں جھکا جتنا ان چند مہینوں میں جھک گیا۔مینار کو گرنے سے بچانے کے لیے اسے مزید فولادی رسوں سے سہارا دیا اور اس کے فرش پر پھر سے سیسے کی اینٹیں رکھ دی گئیں۔ ان کا وزن نوسو ٹن تھا۔

آخر کار لندن کے جیوٹیک انجینئرز پروفیسر برلینڈ نے ایک تجویز پیش کی کہ اگر مینار کی شمالی سمت سے بنیاد کے پنجے سے مٹی کی ایک مخصوص مقدار نکال دی جائے تو مینار کشش ثقل کے زیر اثر خود بہ خود سیدھا ہونے لگے گا۔  پروفیسر برلینڈ پُرامید تھا کہ اس عمل سے مینار نہ صرف گرنے سے بچ جائے گا بلکہ اس کا خطرناک جھکاؤ ختم ہو کر اپنے معمول کے جھکاؤ پر واپس آجائے گا۔ اس نے ذمہ داری لےلی۔ کمیٹی نے اجازت دے دی۔ 1999ء میں یہ  کام شروع ہوا اور پیسا ٹاور کی شمالی سمت  میں بنیاد کے نیچے ڈرل کرکے مٹی نکالی جانے لگی۔ یہ سارا عمل بہت احتیاط اور سست روی سے کیا جارہا تھا تاکہ بنیاد کو نقصان نہ ہو۔

کام اتنی احتیاط اور سست روی سے ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی چمچ سے کنواں کھود رہا ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دو سالوں میں مینار کی شمالی بنیاد کے نیچے سے صرف ستر ٹن مٹی نکالی جاسکی تھی۔ دو سال بعد جا کر یہ کام مکمل ہوگیا، جب ماہرین نے جائزہ لینا شروع کیا کہ مینار پر اس کا کیا اثر ہوا ہے تو  حیرت  کی انتہا نہ رہی کہ  اب مینار اڑتالیس سینٹی میٹر سیدھا ہوگیا تھا۔ اس کوشش سے   یہ  مینار چند مہینوں میں اس پوزیشن میں آگیا جس میں انیسویں صدی کے آغاز میں تھا۔

2001ء میں پیسا ٹاور کو پورے بارہ سال بعد عوام اور سیاحوں کے لیے پھر کھول دیا گیا تھا۔   2008ء میں ماہرین  کو  اس کی بنیاد میں نصب برقی آلات سے معلوم ہوا ہے کہ اب پہلی مرتبہ اس نے پوری طرح جُھکنا بند کر دیا ہے۔ اور اس پوزیشن میں اس کے گرنے کا خطرہ باقی نہیں رہا ہے۔  ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے 300 سال تک اسے گرنے سے بچالیا گیا ہے،   لیکن پھر بھی  محفوظ ہونے کے باوجود اسے کسی سمندری طوفان اور زلزلوں سے بہرحال خطرہ لاحق ہے۔

ایک رائے

  1. ashraf reza

    Masha Allah … bahut hi kaar aamad jaankariyan hain…Alhumdolillah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے