ایک کتا جو جادوئی صلاحیتوں کا مالک تھا؟

اکثر و بیشتر آپ نے  جادو ئی صلاحیتوں کے حامل  حضرات اور خواتین کی کہانیاں سنی ہوں گی۔ تاریخ انسانی چڑیلوں ، جادوگروں ، جنوں اور پریوں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے لیکن آج ہم آپ کے سامنے  جادوئی قوتوں  کی حامل ایک ایسی مخلوق کا ذکر کریں گے جو نہ تو انسان تھااور نہ ہی عورت بلکہ وہ ایک کتا تھا۔  جی ہاں دوستو! ایک کتا۔  اس کتے کے بارے میں بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ کتے کے روپ میں ایک چڑیل تھی ، تو کوئی کہتا ہے کہ وہ بذات خود شیطان تھا جو کتے کا بھیس بدل کر رہا کرتا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی عجیب و غریب باتیں اس کتے سے منسوب ہیں۔ اس  جادوئی کتے کے بارے میں جاننے سے قبل ضروری ہے کہ ہم اس کے مالک کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرلیں۔

یہ واقعہ آج سے تقریباً چار سو سال پہلے کا۔ پرنس روپرٹ آف رائن جرمن شاہی خاندان کا ایک معزز فرد ۔ جو ایک فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فن کار اور ایک سائنسدان بھی تھا۔ اس کے علاوہ یہ جرمن شہزادہ انگلستان کے بادشاہ چارلس اول کا بھتیجا بھی تھا۔ وہ اپنی جوانی کے ادوار میں ہی اپنی بہادری کا لوہا کئی جنگی میدانوں میں منوا چکا تھا۔  بدقسمتی سے جرمنی میں ہونے والی تیس سالہ جنگ  میں یہ شہزادہ روپرٹ آف رائن ہولی رومن ایمپائر کے خلاف لڑتا ہوا ایک جنگ میں قیدی بنا  اور لینز نامی ایک شہر کے قیدخانے میں ڈال دیا گیا۔ درحقیقت تو وہ ایک قیدی تھا لیکن اس کے اعلیٰ خاندان اور مرتبے کو دیکھتے ہوئے  اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک برتا گیا۔ اس اچھے سلوک کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ شہزادے کو شاہی خاندان سے متنفر کرکے کیتھولزم میں داخل کرنا تھا۔ قید کے اسی زمانے میں شہزادے کے ایک انگریز دوست نے اسے نہایت ہی اعلیٰ اور نایاب نسل کا ایک چھوٹا سا شکاری کتا تحفے میں دیا۔ اس تحفے کا مقصد قید میں رہنے والے شہزادے کی تنہائی دور کرنا تھا۔

یہ کتا جو درحقیقت ایک مادہ یعنی  کتیا تھی  اس کے باوجود شہزادے روپرٹ نے اس کا نام بوائے رکھا۔ اُس وقت تک یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ معمولی سا کتا ایک دن انگلستان کی ایک بااثر  اور سیاسی شخصیت بن جائے گا۔ آخر کار کچھ دن بعد شہزادے روپرٹ آف رائن کو اس قید خانے سے آزادی ملی ۔ ان دنوں انگلستان میں سول وار یعنی خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی۔ انگلستان کے بادشاہ چارلس 1 کا بھتیجا ہونے کے ناطے اس شہزادے کو شاہی فوج میں ایک اعلیٰ عہدہ مل گیا۔ شہزادے روپرٹ کو بادشاہ کی فوج کے گھڑسواروں کا سردار بنایا گیا تھا۔ اب شہزاد جہاں بھی جاتا وہ اپنی تنہائیوں کے اس ساتھی یعنی بوائے نامی کتے کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا چاہے وہ میدان جنگ ہو یا پھر شاہی دربار۔ بوئے نامی یہ کتا ہمیشہ اپنے  مالک کے ہمراہ پایا جاتا۔ انہی وجوہات کے باعث یہ کتا بھی  یورپ میں اتنا مشہور ہوگیا کہ جتنا اس کا مالک یعنی شہزادہ روپرٹ آف رائن تھا۔ رفتہ رفتہ   فوج میں اس کتے کی شمولیت کو ہار یا جیت کی وجہ سمجھا جانے لگا۔ جب اس کتے کی شہرت پھیلنے لگی تو بادشاہ چارلس کے مخالفین یعنی پارلیمنٹیرینز کی طرف سے اس کتے کے لیے انتہائی عجیب و غریب باتیں کہی گئیں۔ جیسے کہ یہ کتا کالے جادو یا دوسرے سفلی عمل کرنے کی صلاحیتیں رکھتا ہے، کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ کتا درحقیقت ایک چڑیل ہے جو کتے کے جسم میں سماگئی ہےجبکہ کچھ پارلیمنٹیرینز اس کتے کو شیطان سے تشبیہہ دیتے اور کہتے کہ بادشاہ چارلس کی مدد کرنے خود شیطان کتے کے بھیس میں ظاہر ہوا ہے۔

جب یہ افواہیں  یورپ کے طول و عرض میں پھیلنے لگیں اور اس کتے کی کافی بدنامی ہوئی تب خود حکومت انگلستان کی طرف سے اس کتے کے دفاع میں ایک پمفلٹ شائع کیا گیا ۔اس پمفلٹ میں بوائے نامی کتے کو جادوئی صلاحیتوں کا حامل تو بتایاگیا تھالیکن کافی مثبت انداز میں۔ اس پمفلٹ میں لکھا گیا تھا کہ بوائے نامی یہ کتا حقیقت میں ایک نیک اور خوبصورت عورت ہے ، جو لیپ لینڈ سے آئی ہے اور ایک کتے کی شکل میں شاہی فوجوں کی حفاظت پر مامور ہے۔اس پمفلٹ کے مطابق یہ کتا سونگھ کر زمین میں چھپے خزانے ڈھونڈ نکالنے کا ماہر تھا،اس کے ساتھ ساتھ یہ کتا دشمنوں کی جانب سے کیے گئے حملے روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا،تانبے کو سونے میں تبدیل بھی کرسکتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب دیومالائی کہانیاں ایک طرف ، اس کتے یعنی بوائے کو برطانوی شاہی فوج میں ایک خاص اہمیت اور عزت حاصل تھی۔

فوج میں اس جادوئی کتے کا عہدہ سارجنٹ میجر جنرل کا تھا۔  اور یہ کتا میدان جنگ میں اپنے مالک پرنس روپرٹ آف رائن کے شانہ بشانہ لڑا کرتا۔ وہ انگریزوں میں اتنا مقبول ہوچکا تھا کہ بادشاہ چارلس 1 خود اپنے ہاتھ سے اسے کھانا کھلایا کرتا اور یہ کتا اس کے ساتھ کھیل کودکیا کرتا۔اس کے برعکس  مخالفین میں  اس کتے کو مارنے پر بڑی بڑی انعامی رقموں  اور اہم عہدے دینے کا اعلان کیا گیا تھا، بوائے نامی کتے کی شہرت اب برطانیہ، پھر یورپ اور اب دنیا بھر میں پھیل چکی تھی۔ یہاں تک کہ اس کتے کے چرچے  ترکوں کے عثمانی دربار تک جاپہنچے۔

ان دنوں سلطنت عثمانیہ کے تخت پر سلطان مراد فورتھ جلوہ افروز تھے۔ یہ باتیں جب سلطان مراد تک پہنچیں تو آپ نے برطانوی  سفیر کو دربار میں طلب کرکے  برطانیہ سے بوائے جیسی صلاحیتوں کے حامل کتا منگوانے کی خواہش ظاہر کی۔ 1644 عیسوی میں   بیٹل آف مارسٹن نامی جنگ کے دوران بد قستی سے یہ کتا مارا گیا۔  حالانکہ یہ کتا دوران جنگ ایک محفوظ کیمپ میں موجود تھا مگر کسی نہ کسی طرح وہ اس کیمپ سے بھاگ نکلنے میں کامیاب رہا۔ جنگ اس وقت اپنے عروج پر تھی،اپنے مالک کو ڈھونڈتے ہوئے یہ کتا کسی نامعلوم سپاہی کی گولی کا نشانہ بنا اور مرگیا۔جب اس کتے کی موت کی خبر میدان جنگ میں پھیلی تو شاہی فوج  کے عزائم دم توڑ گئے اور یہ جنگ پرنس روپرٹ آف رائن کی شکست پر ختم ہوئی۔

جہاں بوائے نامی اس کتے کی موت بہت سے لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بنی وہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہ ایک المناک سانحے سے کم نہ تھی۔  ظاہر ہے کہ یہ کتا کسی جادوئی طاقت کا مالک نہیں تھا بلکہ یہ تو اُن لوگوں کی گڑھی ہوئی کہانیاں تھیں جنہوں نے یورپ کی کئی معصوم لڑکیوں کو چڑیل قرار دیتے ہوئے زندہ جلادیا تھا، اب چڑیل نہ ملی تو کتے کو ہی چڑیل بنادیا۔ بہرحال اس کتے کو آج بھی  شاہی خاندان  کے ایک رکن کے طور پر جانا جاتا ہے۔  اور اسی کتے یعنی بوائے کو برٹش آرمی سروس میں پہلا کتا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے