برسین۔ تاریخ کی حسین ترین عورت اور سکندر اعظم کی محبوبہ

برسین

یہ مضمون ایک ایسی  دلفریب اور دلکش حسن کی مالک عورت پر ہے۔ جس کی زندگی میں تین مرد آئے اور وہ تینوں ہی  میدانِ جنگ کے فاتح تھےلیکن اس کے حسن بے انتہاء کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ اس کی زلفوں کےاسیر ہوجانے والوں میں سے ایک تمام عالم کو فتح کرلینا والا سکندراعظم بھی تھا۔ جس نے اس عورت کی خاطر کئی دوستوں کو ناراض کیا ، کئی جاں نثاروں کو کڑی سزا دی انتہاء یہ کہ خود پر قاتلہ حملہ کرنے والے اس کے نوعمر بیٹے کو بخش دیامگر کیوں ۔ اس کا جواب جاننے کے لیے شروع کرتے ہیں اس عورت کی داستان جس کا نام تھا برسین۔یہ 334 قبل مسیح کا زمانہ تھا، ماہ جون کا آغاز ہوچکا تھا۔ ملک فارس میں اس سال پڑھنے والی گرمی  تاریخ کی شدید ترین گرمی تھی جس کے سبب ہر شے آگ کے گولے میں تبدیل ہوچکی تھی۔ لیکن اس علاقے کے لوگ اس گرمی سے زیادہ اس طوفان سے خوفزدہ تھےجو بیس روز پہلے ایشیائے کوچک کے ساحلوں پر اُترچکا تھا۔ اس طوفان کا  نام   تھاسکندراعظم تھا، یونان کی چھوٹی سی ریاست مقدونیہ کا نوجوان ، جو چالیس ہزار کی فوج لے کر دنیا فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تھا۔ جبکہ دوسری طرف فارسی ہائی کمان کی ایک نشست میں اسے روکنے کی تدابیر پر غور کیا جارہا تھا۔ فارس کے ان اعلیٰ ترین عہدے داروں کے درمیان ایک یونانی نسل جرنیل مینن بھی شامل تھا، جس کی تجویز تھی کہ سکندراعظم کا مقابلہ  کھلے میدان میں کرنے کے بجائے اس پر شب خون مارا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی فوجیں مقدونیہ کے  ساحلوں پر اُتار دی جائیں، لیکن اکثریت نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا، اورطے یہ پایا کہ سکندراعظم کا مقابلہ دریائے گرینی  کوس کے مقام پر کیا جائےگا۔مینن اپنے دور کے عظیم ترین جنگجوؤں میں سے ایک تھا۔ یہاں تک کہ سکندراعظم کی محفلوں میں بھی اس شخص کے چرچے ہوتے۔ سکندر اس کی صلاحیتوں سے خوب واقف تھا اوراسے لے کر مستقبل کے اندیشوں سے پریشان بھی۔ یونانی نسل ہونے کے باوجود وہ شہنشاہ ایران کے ماتحت کام کرتا تھا۔ اس لیے اکثر یونانی اسے کرائے کا سپاہی قرار دیتے تھے۔ اور یہی شخص ایران کی حسین ترین عورت برسین کا شوہر بھی تھا۔ ان دونوں کی شادی کا قصہ کچھ یوں ہے 358 قبل مسیح کے دوران  برسین کے باپ آرٹا بازوس  جو بادشاہ زرکسیز کا ایک گورنرتھا۔ اس نے کرائے کے یونانی سپاہیوں کے دم پر شہنشاہ زرکسیز سے بغاوت کردی۔ ان یونانیوں کا سالار مینٹر نامی شخص تھا،  تعلقات کی مضبوطی کی خاطر اس نے اپنی نہایت کم سن بیٹی برسین کی شادی بھی مینٹر سے کردی۔ لیکن اس جنگ میں آرٹا بازوس اور مینٹر کے سپاہیوں کو شکست ہوئی اور برسین سمیت یہ تمام خاندان جلا وطن کردیا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد شہنشاہ زرکسیز سے اس خاندان کے تعلقات درست ہوگئے  اور یہ واپس فارس لوٹ آئے۔ جلد ہی مینٹر انتقال کرگیا اور برسین کی شادی اس کے چھوٹے بھائی مینن سے کردی گئی۔ مینن نے ہنخامنشی شہنشاہوں کے لیے ایسے فوجی کارنامے انجام دیے کہ اس کا شمار فارس کے بڑے جرنیلوں میں ہونے لگا۔ فارس کے اعلیٰ ترین عہدے دار اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے، وہ زیلیا نامی شہر   کے ایک عالیشان محل میں رہا کرتا، اس کے دو بیٹے تھے اور اس کی بیوی برسین تمام فارس میں سب سےحسین اور خوبصورت تصور کی جاتی۔

خیر سکندر اعظم نے گرینی کوس کے ساحل پر ایرانی فوج کو شکست دی لیکن یہ یونانی جنرل میدان جنگ سے بچ نکلا۔  اس شہر کی فتح کے بعد سکندر اعظم کے سامنے ایک نہایت حسین و جمیل عورت کو پیش کیا گیا جو رات کے اندھیرے میں اپنے بیٹوں کے ہمراہ شہر سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی۔   سکندر نے ایسا حسن  کبھی اپنے تصور میں بھی نہ دیکھا تھا۔ سکندر اعظم نے اس عورت یعنی برسین اور اس کے بیٹوں سے نہایت اچھا سلوک برتا، ان کے کھانے، نہانے اور رہائش کا انتظام کیا اور حکم دیا کہ انہیں صبح با حفاظت  ان کی مطلوبہ منزل پر پہنچا دیا جائے، اس کے باوجود رات کی تاریکی میں برسین  جو اپنے شوہر مینن کی انتقام کی آگ میں جل رہی تھی ایک چاقو لے کر سکندر پر حملہ کرنے اس کے خیمے میں داخل ہوئی، اتفاق سے سکندر اس وقت جاگ رہا تھا اور اس نے برسین کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ برسین کے اس عمل کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی تھی، لیکن سکندر چاہتے ہوئے بھی اس کی موت کا فرمان جاری نہ کرسکا،  اس واقعے کے بعد سکندر یہ حقیقت بھی جان گیا کہ یہ عورت جنرل مینن کی بیوی ہے۔   سکندر نے برسین اور اس کے بیٹوں کو شہنشاہ ایران کے پاس  اسوس شہر روانہ کردیا،لیکن جاتے جاتے اس سے وعدہ کیا کہ میں جلد ہی تمہارے شوہر سے دو بدو لڑکر اسے مار دوں گا اور پھر تم پر صرف میرا حق ہوگا۔

دوسری طرف برسین کا شوہر مینن دوبارہ اپنی فوجیں متحد کرنے میں  کامیاب ہوگیا تھا اور سکندر اعظم کو بحری جنگوں میں مسلسل نقصان پہنچا رہا تھا لیکن قسمت چونکہ سکندر اعظم کے ساتھ تھی، اس لیے چند کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد مینن شدید بیمار پڑا اور جلد ہی مرگیا۔کچھ مورخین کا ماننا ہے کہ اس کی موت زہر کے باعث ہوئی، جو سکندر اعظم کے اشارے پر اسے دیا گیا تھا کیونکہ مینن ہی وہ واحدتھا جو  فارس کی جنگ میں سکندر کے خلاف اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ مینن کی موت کے بعد ایران کے شہنشاہ داریوش نے خود فوج کی قیادت سنبھالی۔ 5 نومبر 333 قبل مسیح شہنشاہ ایران اور سکندراعظم کے بیچ پہلا تاریخ ساز معرکہ ہوا۔ جس میں سکندر اعظم نے فارسیوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ فارس کا شہنشاہ اتنا بزدل ثابت ہوا کہ اپنا تمام لاؤ لشکر، ساز و سامان اور سارا شاہی حرم چھوڑ چھاڑ کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔ جنگ کے بعد سکندر اعظم بادشاہ کے حرم میں داخل ہوا۔بادشاہ داریوش اپنے پیچھے اپنی ماں اور ملکہ استیرا سمیت کم و بیش تین سو پچاس داشتائیں چھوڑ گیا تھا۔ ملکہ استیرا سمیت  یہ تمام خواتین سکندر کا آداب بجالانے کھڑی ہوئیں، سکندر ان کا حسن دیکھ کر دنگ رہ گیا، اس کے باوجود اس کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈتی رہیں جو برسین تھی، اتنے بڑے حرم اور لاتعداد حسین چہروں کے بیچ  برسین کو نہ پاکر سکندر مایوس لوٹ گیا۔ لیکن  اس کا ایک جرنیل پارمینو جو دمشق سے کی مہم پر روانہ ہوا تھا، اس نے سکندراعظم کو خبردی کہ اس نے ایک انتہائی خوبصورت عورت کو دولڑکوں کے ہمراہ گرفتار کیا ہے۔ سکندر نے اس عورت کو فوراً اس کے پاس بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔

اب برسین مکمل طور پر سکندر کے اختیار میں تھی اس کے باوجود سکندر نے کبھی اس پر زبردستی نہ کی، وہ  اکثر سکندر کے قافلے کے ساتھ چلتی ، رفتہ رفتہ وہ بھی سکندر سے عشق کرنے لگی ۔ یہ دنیا کی وہ پہلی عورت تھی جس سے فاتح عالم سکندر کو عشق ہوا۔ سکندر اپنا زیادہ تروقت اسی کے ساتھ بسر کرتا، یہاں تک کے فوج کو احکامات بھی برسین ہی کے خیمے سے جاری کیے جاتے۔ایک مرتبہ جب سکندر اعظم اور برسین خلوت کے لمحات میں تھے، اسی دوران برسین اور مینن کا بڑا بیٹا جس کی عمر بمشکل پندرہ سال ہوگی، سکندر پر ایک خنجر لے کر حملہ آور ہوا، سکندر اپنی جنگجوانہ صلاحیتوں کے سبب اس حملے سے بچ نکلا اور چند ہی لمحوں میں اس لڑکے کو زیر کرلیا۔ قریب تھا کہ سکندر کے محافظ اسے پھانسی چڑھادیتے، لیکن برسین کے آنسوؤں نے سکندر کو ایسا نہ کرنے دیا، سکندر نے اس لڑکے کو ناصرف یہاں سے باعزت روانہ کیا بلکہ اسے ایک تلوار اور گھوڑا بھی عنایت کیا، کہ وہ اپنے نانا کے ساتھ مل کر سکندر کے خلاف جنگ لڑے۔

کچھ عرصے بعد ایرانی شہشاہ ایک مرتبہ پھر گوگمیلا کے میدان میں سکندر سے مقابلے پر آیا۔ برسین کا باپ اور برسین کا بیٹا بھی اس فوج میں شامل تھے، سکندر نے اپنی محبوبہ برسین کو جنگ شروع ہونے سے قبل یہ پیشکش کی کہ وہ چاہے تو اپنے والد اور بیٹے کے پاس جاسکتی ہے، لیکن اب برسیین بھی سکندر سے اتنی ہی محبت کرتی تھی کہ جتنا سکندر برسین سے، اس نے یہ مشورہ رد کردیا، جنگ شروع ہوئی اور فارس کے ایک دستے نے  ان خیموں پر حملہ کیا جہاں شہنشاہ ایران کا شاہی حرم موجود تھا، اس حملے کا مقصد ایرانی عورتوں کی رہائی تھی، اسی حملے کے دوران برسین بھی ماری گئی۔ سکندر یہ جنگ جیت چکا تھا،  برسین کا باپ آرٹا بازوس بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھا، سکندر نے فوراً اسے رہا کردیا،  اور اسے برسین کی آخری رسومات فارسی طور طریقوں سے کرنے کی اجازت دی۔برسین کا جسم پتھروں کے ایک چبوترے جسے فارسی مینار خاموشی کہتے ہیں پر رکھ دیا گیا، اور سب لوگ اسے چھوڑ کر جانے لگے  تاکہ پرندے برسین کا مردہ جسم نوچ کھائیں۔ لیکن سکندر اپنی محبوبہ کی یہ حالت نہ دیکھ سکتا تھا، وہ گھنٹوں برسین کے پاس بیٹھا  روتارہا ،  یہاں تک کہ اس نے برسین کے لیے ایک مقبرہ تعمیر کرنے کا حکم دیا، جبکہ تک وہ مقبرہ تعمیر نہ ہوا اس کی فوج برسین کی لاش کو چھوڑ کر نہ گئی۔تمام ہی مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ سکندر نے جس طرح برسین کو چاہا  اس طرح کسی اور عورت کو نہ چاہا اور اسی محبت کے سبب آج ڈھائی ہزار سال گزر جانے کے باوجود برسین نامی اس عورت کے حسن کے قصے تاریخ میں محفوظ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے