بلغاریہ کی نابینا خاتون بابا وانگا کی پیشین گوئیاں!

بابا وانگا

انسان حالیہ دنوں میں انتہا پسندی کے پرتشدد واقعات، آب و ہوا کی شدید تبدیلیوں، بین الاقوامی سیاسی اتھل پتھل کی خوفناک منتقلی دور سے گزر رہا ہے۔ اسی درمیان ان واقعات اور تبدیلیوں کی دہائیوں پہلے پیشن گوئی کرنے والی ایک نابینا خاتون  ‘‘بابا وینگا’’ کا ذکر بھی بہت ہورہا ہے۔  یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسی پیشن گوئی پر عالمی سطح بحث  ہو رہی ہے، اس سے پہلے سولہویں صدی میں فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس نے بھی بہت شہرت پائی۔

مستقبل کے بارے میں جاننا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔  کچھ لوگوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں یا سالوں کے بارے میں خبر دے سکتے ہیں۔بعض اوقات یہ باتیں درست ثابت ہوتی ہیں اور کبھی غلط۔

آج ہم آپ کو بلغاریہ کی رہنے والی ایک ایسی نابینا خاتون کے بارے میں بتاتے ہیں جس نے بیسویں صدی کے شروع  میں آنے والے سینکڑوں سالوں کے بارے میں کئی  پیشنگوئیاں کیں ، جن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی پیش گوئی بہت مقبول بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی دیگر باتیں بھی اب تک کافی درست ثابت ہوچکی ہیں۔بابا وینگا  بیسویں صدی کی پہلی دہائی  میں 31 جنوری 1911ء میں بلغاریہ  کے شہر استرومیتا Strumicaمیں وہ پیدا ہوئی، جو اس دور میں سلطنت عثمانیہ کا ایکحصہ تھا۔

وہ غربت زدہ گھر کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس کی ماں کے اردگرد گھر کی پرانی دایہ کے علاوہ دوچار رشتہ دار خواتین بھی تھیں۔   پورے کمرے میں تیل اور مسالوں کی بُو رچی ہوئی تھی۔ ایک عجیب سا ماحول۔ اس پر ایک ایسی بچی کی پیدائش جس کی سانسیں شاید گنتی کی تھیں۔پیدا ہونے والی بچی کا باپ دوسرے کمرے میں اپنا سر تھامے بیٹھا تھا۔ یہ ان کی پہلی اولاد تھی۔ اگر یہ بچی صحت مند اور نارمل ہوتی تو شاید اس کے باپ کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا۔ لیکن اس وقت تو وہ اس کی زندگی ہی کی طرف سے مایوس تھا۔

اس  کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی   اس لیے وہ بےانتہا کمزور پیدا ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں اس کے گھر والوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ وہ زندہ نہیں بچے گی۔ اس لیے اس کا کوئی نام نہیں رکھا گیا تھا۔

لیکن ان سب  کے خدشات کے برعکس بچی نے نہ صرف کلبلانا شروع کردیا بلکہ ہلکی آواز میں رونے بھی لگی تھی۔ اس کے باپ کو جب یہ خبر سنائی گئی تو وہ جوش میں کھڑا ہوگیا۔ جب بچی کی صحتیابی کے آثار نظر آنے لگے، تو اس بچی کا نام رکھا گیا ۔

اس علاقے کی روایت یہ تھی کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو دایہ بچے کو گود میں لے کر گلی میں نکل جاتی اور جو پہلا راہ گیر دکھائی دیتا اس سے درخواست کی جاتی کہ بچے کا نام رکھ دے۔ اگر پہلے راہ گیر کا نام پسند نہیں آتا تو پھر دوسرے راہ گیر سے کہا جاتا۔

دایہ رسم کے مطابق بچی کو کپڑے میں لپیٹ کر گود میں اٹھا کر گلی میں لےآئی اور کسی اجنبی راہ گیر سے نام رکھنے کو کہا، وہ اجنبی جس کا تعلق شاید یونان سے تھا اُس نے اس  بچی کا نام  ‘‘اینڈروماخہ’’ رکھا۔

پہلے راہ گیر نے جو نام رکھا وہ ان لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ وہ مشکل بھی تھا اور اس نام میں یونانی اثرات بھی تھے۔ دوسرے راہ گیر نے جب اس بچی کو دیکھا تو کچھ دیر تک دیکھتا ہی رہا۔ پھر دھیرے سے بولا۔ ‘‘یہ بچی بہت مختلف ہوگی۔ اس لیے اس کا نام ‘‘وینجلیا ’’ (وانژلیا )Vangelia نام  رکھ دو’’۔

وینجلیا  کے معنی تھے ‘‘خوشخبری لانے والی’’….

بالآخر اس  کا نام  ‘‘وانژلیا پاندوا دیمیتروا ’’ Vangelia Pandeva Dimitrovaرکھا گیا۔  جو  بعد میں وینگا میں تبدیل ہوگیا۔

وینگا بچپن سے نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں کی وجہ سے خوبصورت تو تھی ہی ساتھ میں ذہین بھی تھی،  انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والی یہ بچی دوسرے بچوں سے بہت مختلف تھی۔  دوسرے بچے تو کھیل کود میں وقت گزارتے جبکہ یہ کسی گوشے میں بیٹھ کر نہ جانے کیا کیا سوچتیرہتی۔

بچی ذرا بڑی ہوئی تو اس کے مشاغل دوسروں سے بہت مختلف نظر آنے لگے۔ وہ آسمان کو دیکھا کرتی۔ ہواؤں کو سونگھا کرتی۔

ایک دن اس نے کہا۔ ‘‘کل بہت زور کی بارشہوگی۔’’

سب نے اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا کیونکہ نہ تو وہ بارش کا موسم تھا اور نہ ہی آسمان پر بادلوں کا نام و نشان تھا۔ اس کے باوجود وہ بہت پریقین تھی۔ ‘‘میں نے کہا نا کہ کل بارش ہوگی۔ تم لوگ دیکھ لینا کیسی بارش ہوتی ہے۔’’

اور دوسرے دن خلاف توقع  واقعی بہت زور دار بارش ہوئی۔ وینگا کی اس بات کو حیرت سے دہرایا تو گیا لیکن اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا گیا۔ کبھی کبھی کچھ بچے اس قسم کی باتیں کہہ جاتے ہیں اور قدرت ان کی بات رکھ لیتی ہے۔ یہ بھی شاید کوئی ایسی ہی بات ہوگی جو اتفاقاً ہوگئی ہوگی۔

لیکن جب اس نے ایک بار شہر کے ایک علاقے میں آگ لگنے کی پیش گوئی کی تو سب یہ جان گئے کہ اس میں کوئی غیر معمولی صلاحیت ضرور ہے۔ ایک بار اس کے والد  کی بھیڑ چوری ہوئی تو اس نے وہ پتا بتا دیا جہاں چوروں نے بھیڑ کو چھپا رکھا تھا۔

وینگا کے مشاغل صرف یہیں تک محدود نہیں رہے  بلکہ اس نے علاج بھی شروع کردیا۔ کوئی بچہ بیمار ہوجاتا تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر یا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہیلنگHealing  بھی کیا کرتی، اس طرح اس نے بےشمار بیمار بچوں کے علاج کر ڈالے تھے۔

اپنے گھر اور پورے محلے میں وینگا کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی تھی۔ کئی بڑے لوگ بھی اپنی قسمت کا حال جاننے کے لیے اس کے پاس آیا کرتے۔ کچھ لوگ موسم کا حال معلوم کرنے اس کے پاس آتے اور وہ ٹھیک ٹھیک بتا دیا کرتی۔

اس کے ساتھ کئی انتہائی خطرناک حادثات بھی ہوئے۔ پہلا حادثہ تو اس کی ماں کی موت کا تھا۔ اس ماں کی موت اچانک ہی ہوئی تھی اور دوسرا حادثہ اس کے نابینا ہوجانے کا ہوا۔

وینگا کی زندگی میں ایک  حادثہ ہوا جس نے اسے نابینا کر دیا۔ بارہ سال کی عمر میں وہ ایک پراسرار بگولے کی زَد میں آگئی۔ ہوائی بگولے نے اسے اٹھا کر اتنی دور پھینک دیا کہ وہ زخمی حالت  میں کئی دنوں کے بعد اپنے خاندان کو ملی ۔   لیکن  اس کی آنکھیں مٹی سے بھر گئی تھی اور تکلیف کے مارے اس سے آنکھیں نہیں کھولی جا رہی تھیں۔ اس کے غریب باپ نے جو ایک سپاہی رہ چکا تھا، اس کا علاج کروانے میں کوئی کمی نہیں رکھی تھی۔ لیکن اس کی آنکھیں ٹھیک نہیں ہوسکیں۔اس کی بینائی ہر طرح کے علاج اور کوشش کے باوجود ختم ہوگئی۔

کہتے ہیں کہ  جنہیں قدرت کسی ایک حس سے محروم کردیتی ہے اور تب ان کی دیگر صلاحیتیں بےدار ہوجاتی ہیں۔  وینگا میں یہ صلاحیتیں شروع سے موجود تھیں۔  نابینا ہوجانے کے بعد وہ صلاحیتیں پوری طرح کھل کر سامنے آگئیں۔

1925ء میں جب وہ تیرا   سال کی تھی تو اس کے باپ نے اسے زیمون Zemunشہر میں نابیناؤں کے ایک اسکول میں داخل کرادیا   ۔ وہ تین سال تک وہاں تعلیم حاصل کرتی رہی ۔

اس کے باپ نے دوسری شادی کرلی تھی۔ جس سے وینگا کے سوتیلے بھائی بہن تھے۔ ‘‘خوش قسمتی یہ ہوئی کہ وینگا کی دوسری ماں بہت مہربان اور پیار کرنے والی عورت ثابت ہوئی۔ اس نے اپنی سگی اولاد کی طرح وینگا کا خیال رکھا تھا۔

سوتیلی ماں نے اس کی خفیہ صلاحیتوں کی بھی بھرپور ہمت افزائی کی۔

اسکول میں آنے کے بعد اس کی دوسری صلاحیتیں بھی سامنے آنے لگیں۔ نابینا ہونے کے باوجود وہ بہت اچھا پیانو بجالیتی۔ کوکنگ کرلیتی۔ رقص کرسکتی تھی۔یہاں اس نے بریل رسم الخط کی لکھائی سیکھی ، پیانو بجانا ، سلائی کڑھائی اور پکانا سیکھا۔

اس کی پیش گوئی اور لوگوں کے علاج  کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ اسکول میں اس نے صرف تین سال گزارے۔ لیکن وہ زیادہ پڑھ نہیں سکی کیونکہ لوگ اسے گھیرے رہتے تھے۔ چنانچہ تین سال کے بعد وہ گھر واپس آگئی۔ دوسری اہم وجہ  یہ بھی تھی اس کی سوتیلی ماں کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔

سوتیلی ماں کی وفات کے بعد وہ اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کے لئے اپنے گھر آ گئی۔ اس کا گھرانہ کافی غریب تھا۔ تمام لوگ محنت مزدوری کرتے تھے۔ اس نے اس موقع پر نابینا ہونے کے باوجود بڑی بہن کا بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ اپنے سوتیلے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرتی رہی۔

1934ء میں اسے پھیپھڑوں کی ایک بیماری Pleurisy  ہوگئی۔  1939ء میں  ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا تھا کہ وہ عنقریب مر جائے گی۔ مگر خلاف توقع وہ صحت یاب ہوگئی۔ اس مرتبہ بھی قدرت نے اسے بچالیا۔ اس کے ٹھیک ہوجانے کے بعد اس کی پیش گوئیوں کا رکا ہوا سلسلہ پھر شروعہوگیا۔

جنگ عظیم دوم کے دوران اس کے پاس ہزاروں کے تعداد میں  لوگ آئے، یہ جاننے کے لیے کہ ان کے پیارے  بیٹے یا    شوہر جو جنگ پر گئے ہیں کس حال میں ہیں۔

ان ہی لوگوں میں ایک نوجوان  ‘‘ڈی می ٹرگشتارو’’Dimitar Gushterov  بھی تھا، جو بلغاریہ کا ایک سپاہی تھا اور وینگا کے پاس یہ جاننے آیا تھا کہ اس کے بھائی کا قاتل کہاں ہے۔   اس کے لہجے اور آواز سے اس کے اندر چھپی ہوئی نفرت اور غصے کا اظہار ہورہا تھا۔

وینگا نے اس سے کہا کہ لوگ یہاں اپنے پیاروں اور محبت کرنے والوں کی  تلاش میں  آتے ہیں اور تم نفرت کے لیے تلاش کر رہے ہو۔ چنانچہ وینگا نے اسے جانے کے لیے کہا۔

وہ دوسرے دن پھر آن موجود ہوا۔ لیکن وینگا اسے بدلہ  لینے سے منع کرتی رہی۔

وینگا نے کہا کہ انہیں بھول جاؤ اور اپنے اندر  یہ بدلے کی آگ بجھانے کی کوشش کرو۔   تم نے اگر ایسا نہ کیا تو تم پر ایسی ایسی مصیبتیں ٹوٹیں گی کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ مجھے ان لوگوں کا پتا تو چل گیا ہے لیکن تمہیں نہیں بتاسکتی۔

بالآخر اس نے  انتقام لینے سے توبہ کرلی، لیکن وہ اس کے بعد بھی وینگا کے پاس آتا جاتا رہا۔ کچھ دنوں کے بعد وینگا اور اس کے درمیان اچھی خاصی دوستی ہوگئی۔ بالآخر  10 مئی 1942ء کو ان دونوں نے شادی کرلی تھی۔اور وہ بلغاریہ کے شہر پیٹرک میں منتقلہوگئی۔

اس کے شوہر نے بھائیوں کے  قاتلوں سے انتقام لینے سے تو کنارہ کشی کرلی لیکن  اس انتقام کی آگ کو بجھانے کے لیے اس کی ایک اور عادت بن گئی تھی وہ عادت تھی شراب نوشی کی۔  جس نے وینگا کو پریشان کرکے رکھ دیا۔

وہ بےانتہا شراب پیا کرتا تھا۔  وینگا اس کو منع  کرتی رہی۔ لیکن وہ نہ مانا ، اور شراب نوشی کی کثرت  کی وجہ سے  1962ء میں  وہ شدید بیمار پڑ کر بستر سے جالگا،   اور اسی بیماری میں  اس کا انتقال ہوگیا ۔

وینگا نے اپنی صلاحیتوں کا استعمال جاری رکھا،  اس کی ہیلنگ اور جڑی بوٹیوں کے علاج نے بھی لوگوں کو اس طرف دھیان دینے اور اس کے پاس آنے پر راغب کردیا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی شہرت بلغاریہ سے نکل کر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنے لگی۔

بلغاریہ اور روس کے بڑے بڑے سیاستدان بھی اس کی صلاحیتوں سے  فائدہ اٹھانے پہنچے،   جن میں سوویت یونین کمیونسٹ پارٹی کے سیکٹری جنرل لیونیڈ بریزانیو بھی شامل تھے، یہاں تک کہ زار  بھی اس سے ملاقات کرنے اور اپنے مستقبل کا حال معلوم کرنے کے لیے آپہنچا۔کہا جاتا ہے کہ ہٹلر بھي اس سے ملنے آیا اور ملنے کے بعد پريشان نظر آيا۔

وینگا واجبی سی تعلیم یافتہ تھی۔ اس نے خود کوئی کتاب نہیں لکھی تھی۔ بلکہ اس کی ساری باتیں اس کے پرستاروں ،   ملازموں نے تحریر کی تھیں۔ وینگا دعوی کرتی تھی کہ اس کو کسی ناقابل فہم ذریعے سے لوگوں کی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔

وینگا کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے بابا وینگا کہا جانے لگا ۔ (بابا کا تصور ہمارے ہاں جو ہے، بلغاریہ میں ایسا نہیں ہے۔ یہ بابا کا لقب وینگا کو ترکی والوں کا دیا ہوا ہے)۔

وہ جو بھی پیش گوئی کرتی۔ اس کا اسٹاف اسے لکھ لیا کرتا۔  بابا وینگا  کی دو بڑی پیش گوئیاں مکمل طور پر غلط ثابت ہوئیں۔ اس نے کہا تھا کہ 1994ء کا فٹبال چیمپئن وہ ملک ہوگا جس کا نام B  سے ہوگا۔

اس نے اس سلسلے میں بتایا تھا کہ سیمی فائنل دو ایسی ٹیموں کے درمیان ہوگا جن کے نام B سے ہوں گے یعنی برازیل اور بلغاریہ۔

لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ برازیل کے ساتھ اس کا مقابل اٹلی تھا۔ اس کی ایک اور بڑی پیش گوئی یہ تھی کہ نومبر  2010ء میں ایک خوفناک تیسری عالمی جنگ  کا آغاز ہوجائے گا جو اکتوبر  2014ء تک چلتی رہے گی۔ اس جنگ میں ایٹم بم اور کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جائیں گے۔یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی ہے۔ لیکن  اس کی لاتعداد پیش گوئیاں درست بھی ثابت ہوچکی ہیں۔

آنجہانی بابا وانگا نے اپنے ملک میں سیکڑوں واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی پیشن گوئیاں کیں جس پر اسے ‘‘بلغاریہ  کی ناسٹراڈیمس’’ کا لقب دیاگیا۔

بابا وینگا نے سوویت یونین ٹوٹنے ، چرنوبل کے حادثے ، اسٹالن کی تاریخ وفات ، روسی آبدوز کرسک  Kurskکی تباہی ،  2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے اور 2004ء میں سونامی، ایک سیاہ فام امریکی شہری کے امریکی صدر بننے ، یورپی یونین، مختلف قدرتی آفات، اور 2010ء میں عرب دنیا میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کے سلسلے عرب بہار جیسے مختلف واقعات کی اپنی موت سے پہلے ہی پیش گوئی کردیتھی ۔

کئی لوگوں کو خیال ہے کہ اس خاتون کے پاس مافوق الفطرت طاقتیں تھیں جس کی وجہ سے یہ مستقبل کی باتیں بتایا کرتی تھی اور کئی لوگوں کا   کہنا تھا کہ وہ پیشگوئیوں کی آڑ میں جاسوسی کیا کرتی ہے اور اس کی پیشگوئیاں دراصل وہ پیغامات ہیں جنہیں وہ مطلوبہ ایجنسیوں تک پہنچایا کرتی ہے۔

1990ء میں بابا وینگا  نے زائرین کی طرف سے ملنے والی رقم کو پیٹرک میں ایک چرچ اور  دیگر فلاحی کاموں میں خرچ کیا۔  بابا وینگا  تقریباً 20 سال پہلے  11 اگست 1996ء کو تقریباً 85 سال کی عمر   پیٹرک میں انتقال کرگئیں ۔ ان کے مکان کو ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا، جہاں اب سیاح آتے ہیں۔

اپنی موت سے پہلے بابا وینگا  نے کئی سنسنی خیز پیشن گوئیاں کی جن کااب خاصہ چرچہ  ہو رہا ہے۔

1980ء میں بابا وینگا نے روسی آبدوز کرسک  Kurskکی تباہی  کی پیش گوئی کی تھی کہ

‘‘1999ء کے اگست میں کرسک  پانی سے بھر جائے گا اور پوری دنیا اس کے لیے آنسو بہائے گی’’

روس میں آبدوز کا سب سے تباہ کن حادثہ اگست  2000 میں اس وقت پیش آیا تھا جب کرسک نامی جوہری آبدوز ڈوب گئی تھی اور اس حادثہ میں آبدوز پر موجود تمام ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

1989ء میں بابا وانگا نے کہا تھا کہ

‘‘خوف ، خوف! ہوشیار رہو، امریکا  پر دو آہنی پرندے حملہ کریں گے اور ہر طرف دہشت کا راج ہوگا،  بہت خون بہے گا اور بھیڑیے واویلا کریںگے’’۔ 

کہا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی نائن الیون کے بارے میں کی گئی تھی، جب 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دو جہازوں سے حملہ  ہوا تھا۔

اس کے علاوہ 2004 میں آنے والے  سونامی  اور گلوبل وارمنگ کی بھی پیش گوئی 1950ء میں کردیتھی۔

‘‘سرد علاقے گرم ہوجائیں گے اور آتش فشاں بھڑک اٹھیں گے، ایک بڑی لہر  ایک طویل ساحلی علاقے  پر چھاجائے گی  اور کئی دیہات  اور انسان  پانی کے اندر غرق  ہوجائیں گے۔’’

بابا وینگا نے امریکا میں سیاہ فام شخص کے صدر بننے کی بھی کی پیش گوئی کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا میں کسی سیاہ فام شخص کا کانگریس کا رکن بننا بھی مشکل تھا۔ اس نے اپنی پیش گوئی میں صدر باراک اوباما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ

‘‘امریکا کا صدر افریقی نسل کا ایک سیاہ فام شخص ہو گا۔ لیکن وہ امریکا کا آخری صدر ہو  گا، اس کے بعد امریکہ پر پریشانیاں اور مشکلات چڑھ دوڑیں گی۔’’ 

اپنی کئی بہت ہی درست پیشین گوئیوں کی وجہ سے  بابا وینگا مدتوں شہ سرخیوں میں رہیں تاہم ان کی ایک پیشین گوئی  پر آج کل نئے سرے سے بحث ہو رہی ہے۔  جو اسی سال کے متعلق ہے ۔

غور طلب ہے کہ اس عورت نے 20 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ 2016 میں بعض شدت پسند مسلم دنیا میں دہشت گردی کا سبب بنیں گے۔

بابا  وینگا نے بتایا تھا کہ اس دہشت گردی کاآغاز 2010 میں عرب دنیا میں اُبھرنے والی انقلابی تحریکوں سے ہوگا ، اوراس پرتشدد جنگ کا مرکز ملک ‘‘شام ’’ہو گا۔    10سال قبل کی گئی پیشنگوئیوں میں واضح الفاظ میں کہا کہ

 2010ءکے قریب ‘‘بہار عرب’’ کا تلاتم برپا ہوگا جس کے بعد شام میں خانہ جنگی ہوگی۔

وانگا نے آنے والے وقت کے بارے میں کچھ اور اہم پیشنگوئیاں کر رکھی ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم ترین پیش گوئیاں پیش خدمت  ہیں۔

2018ء:  چین سب سے بڑا سپر پاور بن جائے گا۔

2023ء :  زمین کے مدار میں ہلکی سی تبدیلی آئے گی۔

2023ء :  یورپ کی آبادی انتہائی کم ہوجائےگی۔

2028ء:  اناج کی کمی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔  دنیا میں بھوک پر کچھ حد تک قابو پا لیا جائے گا جبکہ انسان تیل کے بجائے توانائی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لے گا۔  سیارے زہرہ کی جانب ایک انسانی خلائی مشن بھیجا جائے گا۔

2033ء: قطبین پر جمی ہوئی برف (گلیشئر)پگھل جائے گی اور سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہو جائےگی۔

2043ء: اس سال مسلمانوں کو براعظم یورپ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ یورپ کے زیادہ تر حصے خلافت کے تحت آ جائیں گے۔ اس کا مرکز روم ہو گا۔

2046ء: انسان اپنی مرضی کے مطابق انسانی اعضاء بنا سکے گا۔ اعضاء کی تبدیلی امراض کے علاج کا ایک اہم ذریعہ بن جائے گا۔

2076 :  یورپ اور دنیا میں کمیونزم لوٹ آئے گا۔

2100ء: مصنوعی سورج  سے زمین کے تاریک حصوں کو روشن کیا جا سکے چھوٹی قومیں  آپس میں جنگ کریں گی اور بڑی قومیں دور رہیں گی۔

2111ء: انسان اور روبوٹ کو ملا کر سائیبورگ کے نام سے نئی مخلوق وجود میں لائی جائے گی۔

2130 ء: انسان پانی کے اندر رہائشی بستیاں بنا لے گا۔ ان بستیوں میں توانائی اور خوراک کی فراہمی کے ویسے ہی انتظامات ہوں گے، جیسے زمین پر ہوں گے۔

2154ء: سائنسی طریقے سے جانور وں کو ارتقا کے عمل سے گزارتے ہوئے انسان جیسا  ذہین بنانے کی کوششیں کی  جائیں گے۔

2170ء: زمین کو بے مثال خشک سالی اور قحط  کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آبادی میں کمی ہوگی۔

2288ء: صدی کی سب سے بڑی سائنسی دریافتوں میں وقت میں سفر (ٹائم ٹریول ) کا تصور ممکن ہو جائے گا   اور  دوسرے سیاروں سے تعلق قائم ہوں  گے۔

2341 ء: کوئی خوفناک چیز خلاء سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہوگی اور ڈر ہوگا کہ یہ زمین سے ٹکرا جائے گی لیکن یہ خطرہ عین وقت پر ٹل جائے گا۔

سنہ 1996ء میں اپنی وفات سے قبل بانا وینگانے آخری پیشن گوئی  یہ کی  تھی کہ فرانس میں رہنے والی ایک 10 سالہ نابینا بچی اس کی جانشین اور وارث بنے گی اور اس نے وعدہ کیا کہ دنیا جلد ہی اس کے بارے میں جان لے گی۔

روس ، بلغاریہ اور وسط ایشیائی ریاستوں  میں بہت سے لوگ بابا وینگا کی پیش گوئیوں پر یقین رکھتے ہیں ۔  بابا وینگا کی پیش گوئیاں کس حد تک درست ثابت ہوتی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے