تاریخ انسانی کی خونخوار ترین فوج! ینی چری

Janissaries

سلطان مراد اول کے دور 1362-1389 میں ینی چری نام کی ایک فوج قائم کی گئی۔ ینی چری سلطنت عثمانیہ کی جری فوج اور سلطان کی ذاتی محافظ ہوتی تھی۔ ایک یورپی مصنف کے مطابق ینی چری میں مفتوحہ علاقوں کے غیرمسلم بچوں کو تربیت کے بعد شامل کیا جاتا تھا۔ ان غیر مسلم بچوں کو مسلمان کرنے کے بعد مدرسوں میں دینی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ فوجی چھائونیوں میں سخت فوجی تربیت دی جاتی تھی۔ مضبوط اعصاب اور بہادر جانثاروں کو سلطان کے ذاتی محافظ بنایا جاتا تھا۔ ینی چریوں کے شادی کرنے پر پابندی عائد تھی ۔ ایسا اس لئے کیا گیا کہ جنگی مہارتوں میں کمی نہ ہو اور فوج امور گھرانہ میں مصروف ہوکر سلطان اور محل کی حفاظت سے صرف نظر نہ کرے۔ ایک نظام کے تحت ان کی بھرتی کی جاتی تھی اور خصوصا بلکان اور اناطولیہ سے مضبوط جسموں کے جوان منتخب کئے جاتے تھے جن کی سخت جنگی تربیت کی جاتی تھی۔ستارہویں صدی میں بھرتی کے عمل کو روکا گیا اور سلطان احمدسوئم کے دور میں بھرتی ختم کردی گئی۔ ینی چری انتہائی سخت ڈسپلن اور احکامات کی پابندی کے حوالے سے پوری سلطنت میں مشہور تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا اور ینی چری امورسلطنت میں مداخلت کرنے لگے یہاں تک کہ سلطان کی نامزدگی میں بھی ان کا عمل دخل بڑھ گیا۔ فوجی قوت کی ساتھ وہ سلطان کو نامزد اور برطرف بھی کرنے لگے لیکن اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ۔ تاریخ میں سلطان عثمان کوتخت سے اتارنے میں ان کا کردار واضح ہے۔ دوسرا محل کی خواتین نے بھی ینی چریوں کی طاقت کو اپنے ساتھ ملانے اور اپنے بیٹوں کی بطور حکمران راہ ہموار کرنے میں ان کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ ینی چریوں کی بڑی بغاوت سلطان مراد چہارم کے دور میں ناکام ہوئی اور سب کو دوبارہ سلطان سے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑا۔ایک اور سلطان سلیم کو ینی چریوں نے گرفتار کرکے قتل کردیا جس کے بعد ان کی پوری سلطنت میں ہیبت پھیل گئی۔پھر وہ کٹھ پتلی سلطان بھی بنانے لگے جن میں محل کی خواتین کی سازشیں بھی شامل ہوتیں تھیں ۔ان کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی ۔ چودھویں صدی میں ان کی تعداد ایک ہزار سے 6 ہزار تک تھی ۔ جو فتوحات کے ساتھ35 ہزار سے زائد تک پہنچ گئی۔ بڑھتی ہوئی مداخلت کو دیکھتے ہوئے عثمانی خاندان کو تشویش لاحق ہوئی تو پاشائوں اور زعما نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ 1826 میں ان کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور سلطان نے ینی چریوں کی جگہ جدید فوج بنانے کا اعلان کیا۔ جس پر ینی چری سیخ پا ہوگئے اور انہوں نے سلطان سے بغاوت کرتے ہوئے محل کی طرف مارچ شروع کردیا ۔ سلطان کی وفادار فوج نے ینی چریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی بیرکوں کو آگ لگا دی جس سے تقریبا4 ہزار ینی چری مارے گئے جو باقی بچے ان کو پھانسیاں دے دی گئیں یا جلاوطن کردیا گیا۔ سلطان محمود دوئم نے ینی چری ختم کرکے نئی فوج کی بنیاد ڈالی ۔اس طرح ایک بڑی طاقت زوال پذیر ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے