تین براعظموں پر حکومت کرنے والے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی عید!

عیدالفطر میں صرف دو چار دن باقی تھے اور ملک کا سب سے بڑا اور مقتدر گھرانہ عید کی خوشیوں کی تلاش میں افسردہ اور قدرے مایوس تھا۔ گھر کی بچیوں کے پاس عید کے لیے نئے کپڑے نہیں تھے اور خاتون خانہ یعنی خاتون اول کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

وہ خود ایک بادشاہ کی بیٹی تھی اور اس کا شوہر بھی بادشاہ تھا مگر ان کے گھر کی شہزادیاں عید کے لیے غمزدہ تھیں۔ رات کو جب شوہر یعنی وقت کے بادشاہ گھر آئے تو ملکہ نے کہا کہ عید سر پر ہے اور بچیوں کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں کچھ بندوبست کیجیے۔ تاریخ نے یہ واقعہ انسانی تاریخ کا ایک عجوبہ سمجھ کر بیان کیا ہے۔

بادشاہ سلامت نے ملکہ عالیہ کی بات سن کر بیت المال کا رخ کیا اور وہاں پہنچ کر بیت المال کے منتظم سے کہا کہ آپ میری رواں ماہ کی تنخواہ پیشگی دے دیں۔ منتظم نے عرض کیا کہ آپ مالک ہیں آپ کا حکم ہمارے لیے ایک لازم امر ہے۔ اپنی تنخواہ آپ لے لیں لیکن آپ نے اگر مجھے اس بیت المال کا منتظم اور محافظ مقرر کیا ہے تو پھر میری عرض بھی سن لیں۔ پیشگی تنخواہ کی واپسی کا کیا طریقہ ہو گا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیا ایک ماہ تک یعنی نئی تنخواہ تک آپ زندہ رہیں گے۔

یہ عہد حاضر کی سب سے بڑی مملکت کا بادشاہ عمر بن عبدالعزیز تھا اور ملکہ عالیہ فاطمہ تھی مرحوم بادشاہ عبدالمالک کی بیٹی۔ دونوں کی محبت کی شادی تھی لیکن ان کی محبت اس مملکت کے اصولوں اور قوانین کی پابند تھی ان کی قید میں تھی۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بیت المال کے منتظم اور محافظ کی بات سن کر سر جھکا لیا اور چپکے سے بیت المال سے نکل گئے۔

گھر پہنچے تو شکل دیکھ کر ہی بیوی نے سب کچھ جان لیا۔ خلیفہ نے کہا کہ یوں کرو کہ بچیوں کے کپڑے دھو لو، انھیں دلاسا دو اور جیسے تیسے راضی کرنے کی کوشش کرو۔ یہ کہہ کر وہ جس طرح سر جھکا کر افسردہ اور مایوس حالت میں گھر میں داخل ہوئے تھے اس حالت میں گھر سے باہر نکل گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے