جلال الدین خوارزم شاہ! چنگیز خان سے ٹکرانے والی آخری چٹان۔

خوارزم شاہ

علم وفن کا مرکز بغداد!…..
جہاں سے سائنس، فلسفہ، مذہب، فقہ، صرف ونحو وغیرہ جیسے مختلف علوم کے بنیادی اصول وضع کئے گئے….. بغداد! جو اہل اسلام کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، اُس دور میں اپنی طاقت کھو بیٹھا تھا۔ اس کی علمی وفکری بنیادی، بیعملی کے باعثِ مخدوش ہورہی تھیں اور مفاد پرست اور نامِنہاد دانشوروں نے عوام کو لا یعنی بحثوں اور مناظروں میں مشغول کررکھا تھا۔ دوسری جانب چنگیز خان اپنی فوج کے ٹڈی دل لشکر سمیت چین کے علاقوں سمرچائی اور سنگیانگ کو اپنی سلطنت میں شامل کرلینے کے بعد سلطنتِ خوار زم کی طرف بڑھتا جارہا تھا۔
سلطنت خوار زم اور بغداد میں آپس کی باہمی رنجشیں موجود تھیں لیکن اہل دانش و اہل فہم یہ چاہتے تھے کہ چنگیز خان کو یہ باور کرا دیا جائے کہ مسلمان اپنی باہمی رنجشوں کے باوجود متحد ہیں اور اس کے خوارزم پر حملہ کی صورت میں حکومتِ بغداد خوارزم شاہ کا ساتھ دے گی۔
لیکن ایسا نہ ہوسکا!….. چنگیز خان نے مقابلہ کی تیاری کی اور خوارزم شاہ کے خلاف حملہ کے لیے آن موجود ہوا۔
منگول سپاہی شمال سے جنوب کی طرف ایک آندھی اور طوفان کی طرح بڑھتے چلے آرہے تھے۔ ترکستان کی وسیع و عریض چراگا ہوں سے ہندوکش کے درّوں تک پہنچ چکے تھے۔ تمام راستے وہ ماردھاڑ کرتے اور لڑتے مرتے چلے آئے تھے۔ جانوروں کی کھالوں میں ملبوس ایک افق سے دوسرے افق تک پھیلا ہو خونخواروحشیوں کا ایک بیکراں سمندر تھا۔ ان کے فولادی ہھتیاروں پرسورج کی کرنیں اس طرح پڑرہی تھی کہ ان کے نیزوں کی انیاں چمک اٹھتی تھیں اور آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی تھیں….. اُن کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی گرج سے زمین کا سینہ دہل رہا تھا اور شمال کی طرف آسمان گرد کے ایک طوفان میں لپٹا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
لوگوں میں دہشت پھیل گئی….. منگول آرہے تھے….. اپنے جلو میں قیامتیں سمیٹے ہوئے…..
خوارزم ترکستان کا ایک اہم خطہ جس کا اہم شہر خیوہ ہے، یہ دریائے جیحوں کے غزبی کنارے پر بحیرۂارال سے 140میل جنوب میں، مرو سے 280 میل شمال اور بحیرۂ حزر سے 400 میل مشرق میں ہے۔ اس علاقہ کے جنوب کی طرف پروان کے مقام پر جلال الدین نامی ایک باہمت نوجوان ایسا بھی تھا جس نے اپنے جنگی گھوڑے کی پھرتی اور اپنی تلوار کی دھار کو آزماتے ہوئے اُن سے مقابلہ کرنے کا ارادہ کرہی لیا۔
چنگیز خان!….. سات سو سال قبل کا یہ جنگجو جس نے قتال اعظم، قہرخدا، جنگجوئے کامل کے لقب پائے۔ جس کے بارے میں مورخین کا خیال ہے کہ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کرتا تو اس کا سفر میلوں نہیں، عرض البلد اور طول البلد کے پیمانوں پر ہوتا۔ اس کے راستے میں جو شہر آتے ،اکثر حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتے۔ دریاؤں کے رخ بدل جاتے، صحرا کے صحرا، سراسیمہ اور لبِ مرگ پناہ گزینوں سے بھرجاتے اور اس کے گزر جانے کے بعد ان علاقوں میں جو کبھی آباد ہوا کرتے تھے، بھیڑیوں اور کرگسوں (گدھوں) کے سوا کوئی زندہ مخلوق نہ ہوتی۔
چنگیز خان اپنی فوج کی قیادت کررہا تھا۔ اس کے چاروں طرف اس کے ذاتی محافظ دستے کے سپاہی تھے جو بیشتر جنگوں میں زور آزمائی کر چکے تھے۔ وہ اپنے سیاہ رنگ کے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار تھا۔ یہ وہ گھوڑا تھا جس کا سلسلۂ نسل اُس اعلیٰ ترین گھوڑے سے جاملتا تھا جس نے چین کی عظیم فصیل کو طے کیا تھا۔ اس وقت سے چنگیز خان کن کن ادوار سے نہیں گزر ا تھا۔ تیرہ برس کی عمر میں جب اُس نے سیاہ گھوڑوں کی ایک چھوٹی سی فوج کی کمان ہاتھ میں لی تھی۔ اس وقت سے آج تک جبکہ اس کے سرخ مائل کتھئی بالوں میں سفیدی جھلک آئی تھی۔ اس کی چھوٹی نیلی آنکھوں نے خون کے سمندر بہتے دیکھے تھے اور اُس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اپنی موت سے پہلے وہ پوری دنیا کو فتح کرلے گا۔ اس وقت بھی یوریشائی ممالک کا تین چوتھائی علاقہ اس کے زیر نگیں تھا۔ صرف یورپ اور مشرق وسطیٰ کی حکومتیں اس کی سلطنت سے باہر تھیں۔

چنگیز خان آگے بڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر ایک شہر کی دیوار پر پڑی ۔ اُس نے اپنے گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں اور یکلخت اس کی گھڑ سوار فوج نے اپنے اپنے گھوڑے روک لئے ۔ اسی کے ساتھ ہی زمین کی گرد آہستہ آہستہ بیٹھنا شروع ہوگئی اور اس چھٹتی ہوئی گرد کے دھندلکے میں اس کی سپاہ نے اِس شہر کو دیکھا۔ چنگیز خان نے کہا ’’یہ چند دنوں میں تباہ کر دیا جائے گا ۔ پہلے اس کو نذرِآتش کیا جائے گا اس کے بعد پورے شہر کے مسمار شدہ ملبہ پر اس طرح ہل چلادیا جائے گا کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہ رہے ۔ اور پھر یہاں ہری بھری گھاس اُگے گی۔ اور یہ علاقہ خدا کی پیدا کی ہوئی زمین کی طرح ہوجائے گا۔ یہ شہر!….. یہ شہر جو کسانوں اور تاجروں نے اپنے لئے آباد کر لئے۔ یہ دم گھونٹ دینے والے شہر۔ خدانے دنیا کو ہری بھری گھاس کے لئے پیدا کیا تھا۔ وہ گھاس جو ہمارے گھوڑوں اور مویشیوں کی خوراک بن سکتی ۔ جب میں اس علاقے کو عبور کرلوں گا تو یہ شہر ایک بار پھر ایک چراگاہ میں تبدیل ہو جائے گا‘‘۔
دوسری جانب جلال الدین کو چنگیز خان کے لشکر پہنچنے کی اطلاع مل چکی تھی وہ براہِ راست گفتوشنید کے لیے چنگیز خان کی طرف ہاتھ میں صلح کا پرچم لیکر روانہ ہوا۔
چنگیز خان کی فوج کے ایک افسر نے شہر کی طرف اشارہ کیا۔ اُدھر سے تین اشخاص عارضی صلح کا سفید پرچم اُٹھائے بڑھتے آرہے تھے۔ چنگیز خان مسکرایا ’’تو ان لوگوں سے لڑنا بھی نہیں پڑے گا۔ وہ تو پہلے ہی سے ہتھیارڈالنے پر تیار معلوم ہوتے ہیں‘‘۔
تینوں سوار اس وحشی لشکر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اچانک اس میں سے ایک سوار نے گھوڑے کا رخ موڑلیا اور وہ تیزی سے واپس شہر کی طرف چل دیا۔ منگولوں میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔
باقی دونوں آدمی اپنا پرچم اٹھائے بڑھ رہے تھے۔ آخر وہ بالکل سامنے آگئے اور چنگیز خان کی فوج سے ایک کمان کے فاصلے پر رُک گئے۔ منگول سردار اپنے محافظ دستے اور پانچ ترجمانوں کے ساتھ آگے بڑھا اور اُس نے اُن دونوں کا خیر مقدم کیا۔ ان دونوں میں سے ایک شخص ایرانی فوج کا ایک معمولی سپاہی تھا۔ چنگیز خان نے آنکھ کے اشارے سے اسے رخصت دیتے ہوئے اپنی توجہ دوسرے آدمی کی طرف مبذول کی ۔ یہ شخص ایک جانباز نوجوان تھا جس کی شخصیت نہایت مسحور کن تھی۔ وہ عربی لباس میں ملبوس تھا س کی لمبی اور ستواں ناک اور لانبی مونچھوں نے اس کو اور زیادہ بارعب بنادیا تھا۔ وہ سفید رنگ کے ایک خوبصورت تازی گھوڑے پر سوار تھا۔
چنگیز خان نے اُس سے سوال کیا۔’’ تم نے اپنے ساتھیوں کی موت کا فیصلہ کر کے کچھ اچھا نہیں کیا‘‘۔
’’کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟‘‘….. چنگیز خان نے پھر پوچھا۔
’’کیوں نہیں!….. چنگیز خان سے کون واقف نہیں! اور میں۔ میرانام جلال الدین ہے میں سلطان خوارزم شاہ کی فوج کا سپہ سالار ہوں‘‘۔ جلال الدین نے اپنا تعارف کراتے ہوئے دریافت کیا ’’آپ کا میرے شہر کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟‘‘…..
چنگیز خان نے اپنا پسندیدہ جملہ دہرایا ’’اے ترک سردار! کیا تم نہیں جاتے کہ آسمان پر صرف ایک سورج۔ کائنات میں صرف ایک خدا اور دھرتی پر صرف ایک خان ہے۔ یعنی میں تیموجین۔ جو صحرائے گوبی کا بیٹا ہے۔ جو منگولوں کا سردار اور نصف سے زائد دنیا کا مالک ہے۔ اگر تم یہ حقائق تسلیم کرلیتے ہو تو میرے وفاداربن کر رہو میں تمہاری جان بخشی کروں گا۔ لیکن اگر تمہارے لوگوں نے ذرا بھی مزاحمت، نافرمانی یا حکم عدولی کی کوشش کی تومیں تم سب کو تہس نہس کردوں گا اور تمہاری ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل جائینگی‘‘۔
جلال الدین نے ایک حقارت آمیز نگاہ چنگیز خان پر ڈالی اور کہا ’’اے لشکر زریں کے سپہ سالار!….. ہم اﷲ کے سپاہی ہیں، اﷲ کے سامنے سر بسجود ہونے کے بعد ہمارا سر کٹ تو سکتا ہے جھک نہیں سکتا….. اور تم ہم جیسے لوگوں کو صرف دوراستے بتا رہے ہو؟….. یعنی غلامی یا موت‘‘۔
چنگیز خان بولا ’’وہ بھی اس شرط پر کہ تم بغیر لڑے ہمیں اپنا علاقہ حوالے کردو۔ لیکن اگر تم نے ایک دن کی دیر کی تو تمہاری فوج کے تمام سردار اور افسران ماردیئے جائیں گے۔ اگر دو دن کی دیر ہوئی تو پوری فوج ختم کردی جائے گی۔ اور اگر تین روز تک ہتھیار نہ ڈالے گئے تو تمام عورتیں بچے فنا کردی جائینگی۔ اور اگر مزاحمت میں چاردن لگ گئے تو تمہارے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی اور یہاں رہنے والی ہر جاندار مخلوق کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔ حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے بھی زندہ نہیں رہیں گے۔ اور اس کے بعد چلچلا تی ہوئی دھوپ میں تم سب کی کھوپڑیوں کا مینار بنایا جائے گا تاکہ ہرشخص دیکھ سکے کہ چنگیز خان کے مخالفوں کا حشر کیا ہوتا ہے‘‘۔
جلال الدین نے بہت افسردگی سے جواب دیا۔ ’’میں یہ سب پہلے بھی جانتا تھا لیکن میں تمہاری زبان سے سننا چاہتا تھا‘‘۔
’’خوب تو کیا تم ہتھیارڈال رہے ہو؟‘‘….. چنگیزخان پُر امید آواز میں بولا۔
اس ایرانی النسل ترک سردار کی بے خوفی اور بہادری نے اس کی اُمیدوں کو خاک میں ملا دیا تھا۔ اب وہ بوڑھا ہو چلا تھا اور سوچتا تھا کہ اگر اسی طرح ایک ایک علاقے کے لیے اُسے وقت ضائع کرنا پڑا تو وہ پوری دنیا کو بھلا اپنی زندگی میں کس طرح فتح .کرسکے گا؟۔
’’نہیں۔ ہرگز نہیں….. جب تک میرے جسم میں جان اور دم میں دم باقی ہے، میں تمہارے آگے ہرگز سرنگوں نہیں ہوں گا۔ میں اپنی قوم کی آزادی اور بقاء کے لئے تازیست جنگ کروں گا۔ اور پھر اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی کہ ہم میں سے کون بہتر جنگجو تھا؟‘‘…..
چنگیز خان نے اشارہ کیا اور سینکڑوں کمانیں جلالِالدین کی طرف تن گئیں اور ہزاروں تیرانداز جلال الدین کا سینہ چھلنی کرنے کے لئے بے چین ہوگئے۔ چنگیزخان نے پھر کہا …..
’’اے ترک نوجوان! تم نے یہاں آکر سخت بے وقونی کی، اَب ہمارے لئے تمہیں یہاں تنہائی میں مارکر تمہاری فوج کو سردار سے محروم کر دینا نہایت آسان ہوگا۔ تم نے یہ کیسے سوچ لیا تھا کہ ہم تمہیں جنگ کا موقع دیں گے؟‘‘…..
جلال الدین نے اسی بارعب آواز میں جواب دیا ’’کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں صلح کا پرچم ہاتھ میں لے کر جارہا ہوں اور بحیثیت ایک جنگجو تم یہ تو جانتے ہی ہوگے کہ صلح کا پیغام لانے والوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ دوسرے یہ کہ اگر تم مجھے اس طرح ماردوگے تو اندازہ بھی نہ کرسکو گے کہ اس جنگ میں فاتح کون تھا!‘‘…..
سینکڑوں منگول سپاہی سانس روکے ہوئے اپنی اپنی کمانیں تانے اس ترک سردار کو ختم کرنے کے حکم کے منتظر تھے۔ لیکن چنگیز خان خاصی دیر تک جلال الدین کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے ایک گہری سانس لی، اور بولا ’’خوب! تو تم نے اپنی قوم سمیت ذلت کی موت مرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنی فوج میں واپس جاؤ اور اپنے آدمیوں کو میرا پیغام سنادو۔ اَب دوسری مرتبہ میں جب تم سے ملوں گا تو یا تم ختم ہوچکے ہوگے یا اپنی موت کی دُعائیں مانگ رہے ہوگے‘‘۔
جلال الدین نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اپنے شہر کی طرف مڑگیا تاکہ واپس جا کر چنگیز خان سے مقابلہ کی تیاری شروع کر سکے۔ اس کے اس فیصلے کی بڑی وجہ ان وحشی منگولوں کا راستہ روکنا تھا جو نوعِ انسانی کی ہلاکت پر کمر بستہ تھے۔ یہ منگول جب کسی شہر کو مسمار کرکے آگے بڑھتے تو اس کے نواح میں اناج کی جتنی فصلیں ہوتیں انہیں روند ڈالتے یا جلا دیتے تاکہ اگر کچھ لوگ ان کی تلوار کی زد سے بچ گئے ہوں تو فاقوں سے مرجائیں….. ’’گنج‘‘ کے مقام پر جہاں انہیں طویل محاصرے کی صعوبت برادشت کرنا پڑی تھی انہوں نے شہر کے پیچھے دریا پر بند باندھ کر اس کا راستہ اس طرح بدلا کہ شہر کے مکانوں اور دیواروں کے ملبے تک اس کی زدمیں آگئے۔ دریائے جیحوں کے رخ بدلنے کا واقعہ لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔ منگولوں کی اس جنگ کا مقصد بنی نوع انسان کا قتلِ عام تھا۔ اس لیے جلال الدین نے ایک فیصلہ کن معرکہ کا انتخاب کیا۔ایسا فیصلہ کن مقابلہ جو رہتی دنیا تک اس کی بہادری کی یاد گار بن جائے۔
جلال الدین کے باپ علاؤ الدین کے عاقبت نااندیش فیصلوں کی وجہ سے سلطنتِ خوارزم کے کئی علاقے ہاتھ سے نکل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔ جلال الدین نے بچی کچھی فوج کو پروان مقام پر جمع کیا اور تاتاریوں سے مقابلہ کے لیے اُن میں ایک نئی روح پھونک دی۔
ابھی شہر کے پھاٹک جلال الدین کے لئے پوری طرح کھل بھی نہیں پائے تھے کہ چنگیزخان کے لشکر نے نہایت عیارانہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کردیا۔
یہ شہر کافی بلندی پر واقع تھا۔ اس کے ایک طرف زیریں علاقے میں دریائے سند ھ ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔ اور تین طرف سے اس شہر کو بلند و مضبوط فصیلیں اپنے حصار میں لئے ہوئے تھیں۔ لیکن ایک گھنٹے کے اندر اندر منگول سپاہیوں نے اس کو گھوڑے کی نال کی صورت میں تین طرف سے گھیرلیا۔چنگیزخان ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنے خیمے میں بیٹھا ہوا خوشبودار چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کے سپاہیوں کے آتشیں تیروں کی بارش شہر کی فصیل پر کھڑے ترک سپاہیوں پر برس رہی تھی۔ سورج سفر کی آخری منزل پرپہنچ چکا تھا۔ لیکن شام کی اُس دھندلی فضا کو شہر کے اندر جلتے ہوئے گھروں سے لپکتے شعلوں نے لالہ زار بنا رکھا تھا۔ اور اسی ڈوبتے سورج کے ساتھ چنگیز خان کے تیر اندازوں کا ایک تازہ دم دستہ فصیل کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اُس رات منگول فوج جلال الدین کے مٹھی بھر سپاہیوں سے نبرد آز ما رہی۔
صبح طلوع ہوئی تو چنگیز خان نے دیکھا کہ اس شہر کے سب سے بلند مینار ے پر مسلمانوں کا سبز ہلالی پرچم اب تک لہرارہا تھا آسمان پر چکنے اورسیاہ دھوئیں کے بادل دور دور تک چھائے ہوئے تھے۔ شہر کا نصف حصہ اُس رات جل کر بھسم ہو چکا تھا۔لیکن اس کی فصیلیں ابھی تک قائم تھیں۔ دیوار کی بنیادوں کے پاس چمڑے کے ہتھیاروں سے لیس منگول سپاہیوں کی ان گنت لاشیں اوندھے منہ پڑی تھیں اور فصیل پرکھڑا جلال الدین، لشکرِ زریں کوہاتھ ہاتھ ہلاہلا کر اشارے کر رہا تھا ۔ چنگیز خان نے یہ منظر دیکھا اور بھنویں سکیڑلیں۔ یہ سب اس کی توقعات سے بالکل مختلف تھا۔
اپنے سپاہیوں کی بے نتیجہ ہلاکت کے سبب چنگیز خان کو اپنے فولادی اصولوں میں لچک پیدا کرنا پڑی۔ اُس نے جلال الدین کو ایک پیشکش کی۔
’’خان اعظم رحم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اور تمہاری جان بخشی بھی، بشرطیکہ تم اس کی شرائط کو مان لو‘‘۔ چنگیزخان کے فرستادہ منگول سردار نے پیش کش جلال الدین کے سامنے رکھی ’’اس کی شرائط یہ ہیں کہ تم اس کی فوج میں شامل ہو جاؤ تو وہ تم کو منگول حکومت کی وفادار اور تابعدار رعایا بنانے پر تیار ہے‘‘۔ پھر اُس نے بھوک سے پریشان ترک سپاہیوں پر نظر ڈالی اورفخریہ مسکراہٹ سے کہا۔ ہمارے پاس خوراک کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور پانی کی بھی افراط ہے۔ ہمارے قیدی تمہاری فوج سے بہتر خوراک پارہے ہیں۔ تم آخر اپنی وفاداری کے حلف کے طور پر چنگیزخان کو اپنے شہر کی مٹی اور پانی کا تحفہ کیوں نہیں بھیج دیتے ‘‘۔
جلال الدین نے چنگیز خان کی اس پیشکش کو حقارت کے ساتھ ٹھکرادیا۔
چنگیز خان کو اس جواب کی ہرگز توقع نہ تھی۔ اُس نے اپنے سپہ سالاروں کو جمع کر کے اس توہین کا بدلہ لینے کا حکم سنایا۔ اس نے حکم دیا کہ یہ شہر آج ہی تسخیر ہو جانا چاہیے۔
یہ حکم آناً فاناً پوری فوج میں پھیل گیا۔ یہ وہ حکم تھا جو ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ چنگیز خان کی فوج کا ہر سپاہی انتقامی جنون سے پاگل ہو رہا تھا۔ یہ آخری فیصلہ کن معرکہ تھا۔
چنگھاڑتے ہوئے منگول سپاہی پے درپے فصیلوں پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ ہلاکت خیز تیروں کی باڑھیں اُنہیں چھیدرہی تھیں اورفصیل کے نیچے میدان میں منگولوں کے کشتوں کے پشتے لگ گئے تھے۔ جلال الدین کے سپاہیوں نے اپنے ترکشوں کو خالی کر دیا اور پھر جب ان کے پاس ایک تیر بھی باقی نہیں رہا تو وہ فصیل پر کھڑے انتظار کرتے رہے….. چنگیز خان کی فوج سے دست بدست جنگ کا انتظار!…..
وحشی لشکر نے آگ اور خون کا کھیل جاری رکھا۔ یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ اب جھڑپوں کی جگہ انتہائی شدید دست بدست جنگ نے لے لی تھی۔ منگول سپاہی فصیل پر چڑھنے کے لیے اپنے ہی ساتھیوں کی لاشوں کے ڈھیر کو روندنے میں بھی عارنہیں سمجھ رہے تھے۔ فصیل سے ملاکر سیڑھیاں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ جان پر کھیل جانے والے ترک سپاہیوں نے ان سیڑھیوں کو اپنے نیزوں سے نیچے گرانا شروع کردیا۔ لیکن ابھی یہ سیڑھیاں چیختے ہوئے سپاہیوں کو لے کر پتھریلی زمین پر گرنے بھی نہیں پائی تھیں کہ اس کی جگہ دوسری سیڑھیوں نے لے لی۔ اوپر چڑھتے ہوئے سپاہیوں پر ترک فوج نے اُبلتا ہوا تیل اُنڈیل دیا۔ چنگیز خان کی فوج کے سپاہی کرب سے چیخ اٹھے۔ کیونکہ اس اُبلتے ہوئے تیل سے ان کے بال اور کپڑے جل اٹھے تھے اور اسی تکلیف کی شدت سے ان کے ہاتھوں سے سیڑھی بھی چھوٹ گئی۔
آخر کار ایک زخمی منگول سپاہی بچ نکلا اور اُس نے اپنے گنتی کے چند ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ قدم جمانے کی کوشش کی۔ اور اس طرح منگول فصیل پر چڑھ کر اس شہر کی ہر متحرک شے کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ کچھ منگولوں نے فصیل سے اُتر کر صدر دروازہ کھول دیا اور سپاہیوں کا جم غفیر شہر میں امنڈنے لگا لیکن جو شیلے ترک سپاہیوں نے ان کا قلع قمع کردیا۔ منگولوں کا ایک اوردستہ صدر دروازے کے جلتے ہوئے میناروں تک پہنچ گیا۔ دفاع کرنے والے مسلمان ترک ابھی تک لڑ رہے تھے لیکن اب وحشی منگولوں کا پلہ بھاری ہوتا جارہا تھا….. کہ اور ہزاروں منگول سپاہی چیونٹیوں کے سیلاب کی طرح شہر میں داخل ہونا شروع ہوگئے…..

چنگیزخان نے جلال الدین کا سر لانے والے کے لیے ایک اعلیٰ عہدے کی پیش کش کی تھی۔
جلال الدین نے ہر قدم پر اس وحشی لشکر کا بے جگری سے مقابلہ کیا۔ چنگیز خان کی فوج اس کو اور اس کے محافظ دستے کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دھکیلتی چلی جارہی تھی۔ جلال الدین بُری طرح زخمی ہوچکا تھا اور اس کے ساتھیوں میں سے بھی بہت سے ختم ہوچکے تھے۔ تاہم وہ لڑتارہا۔ آخر لڑتے لڑتے وہ ایک تنگ سے زینے میں پہنچ گیا۔جہاں چنگیزی سپاہیوں نے اسے نرغے میں لے لیا۔ زینے کے اوپر چڑھا ہواجلال الدین تنِ تنہا لڑرہا تھا۔ اس ایک دلیر اور جانباز سردار کی پھرتی اور تیغ زنی کے بے مثال جو ہر نے ایک بھاری بھر کم منگول کو جو چمکدار ہتھیاروں سے مسلح اور ریشمی لباس میں ملبوس تھا موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اور عین اُسی وقت جلال الدین نے فرار کا موقع نکال لیا۔ وہ چھتوں چھتوں دوڑتا رہا۔ اس کی تلوار بھی اُس لحیم شحیم منگول کی کھوپڑی میں اٹک کر ٹوٹ چکی تھی۔ اور اب وہ غیر مسلح تھا۔ دھوئیں کے مرغولوں نے چھتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جلال الدین نے ایک مردہ سپاہی کے پاس سے تیر کمان اٹھا کر حملہ آوروں کو تیروں سے روکنے کی کوشش کی…..
ایک چھت کے کنارنے پر کھڑے ہو کر جلال الدین نے نیچے نظر ڈالی۔ دومنزل نیچے زمین کرب واذیت سے تڑپتے ہوئے ان مسلمانوں سے بھری پڑی تھی جن کو منگول وحشیوں نے گھروں سے کھینچ کھینچ نکالا تھا اور گلی میں لاکر بے دردی سے ذبح کر دیا تھا۔ ایک منگول افسرعین اس کے نیچے سے ایک سفید گھوڑے پر سوار گزرا….. اُسے اپنے گھوڑے کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی…… جلال الدین نے ایک مردہ منگول کی تلوار گھسیٹی اور ایک نعرہ مارا اور دومنزل اوپر سے کود پڑا ۔ اس کا اندازہ اتنا صحیح تھا کہ وہ تلوار سے منگول سردار کاسراڑاتا اور اُسے دھکیلتا ہوا خود اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا….. منگول سپاہی یہ سمجھے بغیرکہ اُسے کسِ چیز کی ضرر لگی….. ختم ہو چکا تھا….. اس کا سر گھوڑے کے ایک طرف لڑھک گیا اور جسم دوسری طرف جھول گیا۔
جلال الدین نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کی گردن پر آہستہ آہستہ تھپکی دی۔ وحشت زدہ گھوڑا اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ جلال الدین نے مضبوطی سے گھوڑے کی باگیں تھام رکھی تھیں پھر اُس نے دائیں بائیں انسانوں کے ہجوم کو اپنی شمشیر آبدار کے جو ہر دکھائے اور آگے بڑھتا گیا تربیت یافتہ اور وفادار گھوڑے کو اپنے آقا کی پنڈلیوں کا دباؤ اور اشارہ اچھی طرح معلوم تھا۔ چنانچہ وہ اس تنگ گلی میں پوری قوت سے دوڑ نے لگا۔ منگول سپاہیوں نے اِ دھر اُدھر بکھرنا شروع کردیا جو لوگ جلال الدین کے برق رفتار گھوڑے کی راہ میں حائل ہوئے وہ موت سے ہمکنار ہوئے ۔ کیونکہ گھوڑا ان کو اپنے دانتوں سے چبارہاتھا اور اپنے کُھروں سے زخمی کررہاتھا اور جلال الدین اپنی تلوار کو چاروں طرف فضا میں لہرارہا تھا۔ آخر جلال الدین شہر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا اوروادی تک پہنچ گیا۔ اس کے دائیں جانب دریائے سندھ بہہ رہا تھا لیکن اس کے اور دریا کے درمیان ہزاروں چنگیزی سپاہی حائل تھے۔ جلال الدین نے اپنی خون آگیں شمشیر فضا میں بلند کی اور نعرہ تکبیرلگاتا ہوا وحشی لشکر پر جھپٹ پڑا۔
چنگیز خان چنگھاڑا ’’اس شخص کو روکو‘‘….. سپاہیوں کا ایک ٹڈی دل گروہ جلال الدین کا سر قلم کرنے کے لیے لپکا۔ جلال الدین نے پوری قوت اور جوش سے اپنی تلوارسے حملہ کیا، اور وہ اپنا سربلند کئے نعرۂ تکبیر بلند کرتاآگے بڑھتا جارہا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جلال الدین پوری چنگیزی فوج کے مقابلے میں آنے والا سب سے زیادہ دلیر اورجنگجوسپاہی تھا۔ اس کا گھوڑا جب چنگیزی فوج میں گھسا تو ایک افراتفری کا عالم تھا۔ لیکن جلال الدین انسانوں کے اس غول کو چیرتا ہوا نرغے سے نکل جانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کا گھوڑا لہولہان ہوچکا تھا، اس کا جسم تیروں سے چھلنی تھا، وہ چند لمحوں کا مہمان تھا لیکن اُ س وفا دار گھوڑے نے اپنے آقاکو اس کی منزل تک پہنچا کر ہی دم لیا۔ اور آخر جلال الدین دریائے سندھ کے کنارے ایک چھوٹی سی چٹان پر پہنچ گیا۔ اس کے کپڑے تار تار ہو چکے تھے۔ اور اس کا بدن اپنے ہی خون سے تر بتر تھا۔ ساٹھ فٹ نیچے دریائے سندھ بہہ رہا تھا۔ اُس نے آخری بار اپنی تلوار گھمائی اور اپنے زخمی گھوڑے سمیت دریا میں کود پڑا….. دیکھنے والوں کے منہ سے بے اختیار چیخیں نکل گئیں۔ اس شخص کا زندہ بچ جانا ممکن ہی نہ تھا اس کی تو ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو جا ئینگی۔یہ منظر دیکھنے کے لیے چنگیز خان اپنے گھوڑے پرسوار چٹان تک آیا پھر ساٹھ فٹ نیچے دریائے سندھ میں انسانی سر کو پانی میں ڈوبتے اور اُبھرتے دیکھا تھوڑی دیر تک وہ خاموشی سے جلال الدین خوارزم شاہ کو دیکھتا رہا۔ پھر انگشت بدنداں ہوکر کہا ’’وہ باپ خوش قسمت ہے جس کا بیٹا اتنا بہادر ہو‘‘۔
چنگیز خان کے پوتے نے کہا’’خان اعظم ہم اس کے پیچھے دریا کے پارتک جائیں گے وہ اتنا زخمی ہے کہ دریا پار کرکے زیادہ پیدل نہیں چل سکتا اس لئے ہم اس پر آسانی سے قابو پالیں گے اور آپ کے قدموں میں لاڈالیں گے‘‘۔
چنگیز خان اس تیرتے ہوئے انسان کو بغور دیکھتا رہا اور کچھ تو قف کے بعد بولا۔’’نہیں میرے پوتے اسے جانے دو‘‘۔
اُس کا نوجوان پوتا اس بات پر سخت حیران ہوا۔ بوڑھے خان اعظم نے پلٹ کر اُ س جلتے ہوئے شہر پر ایک نظر ڈالی جس کا سردار ابھی تک دریائے سندھ میں ڈبکیاں کھا رہا تھا۔ لیکن وہ اس وقت جذبات واحساسات سے بالکل عاری تھا ۔ نہ اُسے فتح ونصرت کی خوشی تھی اور نہ اپنے غنیم پر غصہ۔ اس کا ذہن اس وقت صرف یہ سوچ رہا تھا کہ ’’کیا واقعی وہ پوری دنیا کو اپنی زندگی میں فتح کر سکے گا؟‘‘….. اس کے بعد اس نے سر گوشی میں کہا۔ ’’صحرائے گوبی کے ایک نوجوان سپاہی کی حیثیت سے لے کر آج تک ان جہاں دیدہ آنکھوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔ لیکن آج اپنے مرنے سے قبل مجھے اس بات کا ضرور اطمینان ہوگیا ہے۔ کہ کم ازکم ایک شخض میرے بعدبھی ایسا زندہ رہے گا جس کی بہادری اور شجاعت کا دنیا لوہا مانے گی‘‘۔
خدا معلوم یہ سرگوشی اُ س نے اپنے پوتے سے کی تھی یا خود اپنے آپ سے۔
جلال الدین دریائے سندھ عبور کرکے مختلف منازل طے کرتا ہوا ہندوستان پہنچا، چنگیز خان اور اس کی فوج جلال الدین کے تعاقب میں تھی۔ جلال الدین کو پناہ دینے کا مطلب چنگیزخان کے خونیں لشکر کو دعوت دینا تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ برباد کرکے رکھ دیتا تھا۔ ہندوستان کے بادشاہ سلطان ناصر الدین التمش نے اس سے ہرممکن مددکا وعدہ کیا لیکن و ہ ہندوستان میں جلال الدین کے قیام پر راضی نہ ہوا۔ یہاں سے جلال الدین اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوا۔ اس کے یہ ساتھی لوگوں کو چنگیزی آفت سے خبردار کرتے جو مسلسل بڑھتی چلی آرہی تھی اور اس طرح انہوں نے لوگوں کو منظم کرکے ایک لشکر تیار کرلیا، اس کے ساتھ ہی اس نے بغداد سے امداد چاہی، جسے وہاں کے حکمراں نے نام نہاد دانشوروں اور علمائے سو کی فتنہ پرور سازشوں کی وجہ سے رد کردیا۔ بغداد سے مدد کے انکار پر جلال الدین ہمت ہار گیا، اس کا تمام جوش اور ولولہ ختم ہوگیا، وہ ہرطرف سے نااُمید ہوگیا اور اس نے اپنے لئے گوشۂ تنہائی کو منتخب کرلیا۔
اسلامی تاریخ میں جلال الدین کا کردار ایک بہادر، حوصلہ مند اور جری سپاہی کی حیثیت سے موجود ہے، لیکن اس کی ناکامی کی وجہ خود اس کی اپنی قوم کا نفاق یا فرقہ بندی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی اور بہود کا راز اس کی اجتماعیت میں پنہاں ہے، جو قومیں ہرلحظہ اور ہرآن اجتماعیت کو فوقیت دیتی ہیں وہیں قومیں عروج پاتی ہیں۔ دوسری صورت میں کوئی معمولی سی طاقت بھی انہیں تنکوں کی طرح بکھیر کر رکھ سکتی ہے۔ مسلمان جب بھی زوال سے دوچار ہوئے اس کی بنیادی وجہ اﷲ کے اس حکم کی خلاف ورزی نظر آتی ہے کہ ’’اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو‘‘۔ فرقہ بازی کی صورتوں میں مخلص، بہادر اور جانباز لوگوں کی کوششیں بھی مردہ ضمیروں میں زندگی کی کوئی رمق پیدا نہیں کرسکتیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے