جن، بھوتوں اور چڑیلوں کا ڈیرا۔ قلعہ بھان گڑھ

بھان گڑھ

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ایسے شہر، قصبے، عمارتیں موجود ہیں جنہیں آسیب زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔   لیکن دنیا بھر میں بھارت وہ واحد ملک ہے جہاں بھوت پریت، چڑیل،  بدروح کے متعلق سب سے زیادہ واقعات پائے جاتے ہیں۔

ویسے تو بھارت میں بہت سے مقامات آسیبی مشہور ہیں۔   لیکن آسیبی مقامات کی اس فہرست میں جس جگہ کا نام سب سے اوپر آتا ہے وہ ہے بھان گڑھ کا قلعہ (Bhangarh Fort)۔  یہ لوگوں میں ‘‘بھوتوں کا بھان گڑھ’’  کے نام سے مشہور ہے۔

بھارت کی ریاست راجستھان مختلف حکمرانوں کی سرزمین ہونے کی وجہ سے اپنے نام کی طرح کئی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز قلعوں سے شہرت رکھتی ہے۔ بھان گڑھ کا قلعہ سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز اس لئے ہے کہ اس کے بارے میں کئی پراسرار کہانیاں مشہور ہیں۔

بھان گڑھ   16 وی صدی میں بستا تھا۔  300 سالوں تک بھان گڑھ خوب پھلتا پھولتا  رہا ہے۔    پھر  اچانک  ایک جنگ میں اس علاقے کے تمام باشندے مارے گئے۔ ایک کہانی کے مطابق بھان گڑھ   کی ایک خوبصورت راجکماری  پر کالے جادو میں ماہر ایک تانترک فریفتہ ہو کیا تھا ،  اس نے راجکماری کو حاصل کرنے کے لئے کالا جادو کیا لیکن اپنا عمل اُلٹ جانے کی وجہ سے خود ہی اس جادو کا شکار ہوکر مرگیا کہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے اس نے بھان گڑھ کے بارے میں بہت برے کلمات کہے۔ جادوگر کی موت کے ایک ماہ بعد ہی راجکماری سمیت بھان گڑھ  کے باشندے ایک جنگ میں مارے گئے اور بھان گڑھ ویران ہو گیا۔

یہ  بھی  کہا جاتا ہے کہ یہ قلعہ ایک سادھو بابا بالاناتھ کی بددعا کے نتیجے میں برباد ہوا تھا۔ جس  کا حکم تھا کہ کوئی گھر مندر  سے اونچا تعمیر نہ کیا جائے۔ جب ایسا کیا گیا تو اس نے بددعا دی جس کے نتیجے میں قلعہ تباہ ہو گیا۔    واقعہ جو بھی ہوا     ہو ، لیکن  اس شاندار قلعہ  کو دوبارہ نہیں بسایا جاسکا ۔ اس کے بعد سے اب تک یہ ویران ہے۔   لوگ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں مارے گئے لوگوں  کے بھوت آج بھی رات کو بھان گڑھ کے قلعہ میں بھٹکتے ہیں اور  گاؤں والوں کو  اس قلعہ میں روحیں گھومتی  ہوئی نظر آتی ہیں۔

آئیے ہم آپ کو بھارت کے اس سب سے زیادہ آسیبی مقام کی سیر کراتے ہیں۔ قلعہ بھان گڑھ راجستھان کے ضلع اَلوَر کے قصبے بھان گڑھ میں واقع ہے۔ یہ مقام دہلی سے 300 کیلو میٹر دور ہے۔ شیروں کی نسل  کو بچانے کے لیے بنایا گیا ہندوستان کا مشہور سرسكا  نیشنل پارک Sariska National Park ،  اس قلعہ سے  چند کلومیٹر کی  دوری پرواقع ہے۔

بھان گڑھ قلعے کو آمیر کے راجہ بھگوت داس نے 1573 ء میں بنوایا تھا۔  بھان گڑھ اپنے بسنے کے بعد تقریبا 300 سال تک آباد رہا۔   مغل شہنشاہ اکبر کے نورتنوں میں شامل اور بھگوت داس  کے چھوٹے بیٹے اور امبر (آمیر) کے عظیم مغل سپہسالار، مان سنگھ کے چھوٹے بھائی بادشاہ مادھو سنگھ نے 1613ء میں  اسے اپنی رہائش  کے لیے منتخب کیا۔

بھان گڑھ  کا قلعہ تین طرف پہاڑیوں سے محفوظ ہے۔  اسٹریٹجک نقطہ نظر سے کسی بھی ریاست کے حملہ سے بچنے کے لیے یہ مناسب جگہ ہے۔ حفاظت کے نقطۂنظر سے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔  ساتھ میں سرسبز پہاڑ۔   باغ، تالاب اس کے حسن میں مزید  اضافہ کرتے تھے۔

سب سے پہلے ایک بڑی فصیل ہے جسے دونوں طرف کی پہاڑیوں شامل کر دیا گیا ہے،  اس فصیل کے مرکزی دروازے پر ہندؤوں کے ہنومان دیوتا کی مورتی نصب ہے۔  اس کے بعد بازار شروع ہوتا ہے، مارکیٹ کے اختتام کے بعد محل کے احاطے کی تقسیم کے لئے  ترپولیا (تین دروازہ )بنا ہوا ہے۔ اس کے بعد راج محل واقع ہے۔  اس قلعہ میں بہت سے مندر بھی ہیں جن میں سومیشور، گوپی ناتھ، منگلا دیوی اور کیشو رائے کے مندر مشہور  ہیں۔  مندر وں کی دیواروں اور ستونوں پر کی گئی نقاشی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پورا قلعہ کتنا خوبصورت اور دلکش رہا ہوگا۔  سومیشور مندر کے ساتھ ایک تالاب ہے اس کا پانی ارد گرد کے دیہات میں رہنے والے  اب بھی استعمال کرتے ہیں۔

مادھوسنگھ کے بعد اس کا بیٹا چھتر سنگھ تخت پر بیٹھا۔  1722 میں اسی خاندان کے چشم و چراغ ہری سنگھ کے تخت سبھالنے كے ساتھ ہی بھان گڑھ کی رونق  کم پڑنے  لگی۔  چھتر سنگھ کے بیٹے عجب سنگھ نے قریب ہی عجب گڑھ بنوایا اور وہاں  رہنے لگا۔

یہ وقت شہنشاہ اورنگزیب کی حکومت کا تھا۔  اورنگزیب  کے دورِ حکومت میں ہری سنگھ کے دو بیٹے مسلمان ہو گئے، جنہیں محمد كُلیج اور محمد دہلیز کے نام سے جانا گیا۔  ان دونوں بھائیوں کے مسلمان ہوجانے پر اس خاندان کے دیگر راجہ  ان سے اختلاف رکھنے لگے، اور جیسے ہی اورنگزیب کی حکومت پر گرفت ڈھیلی ہوئی  جے پور کے مہاراجہ سورائی جے سنگھ نے ان دونوں بھائیوں کو مار کر بھان گڑھ پر قبضہ کر لیا اس نے  مادھوسنگھ کے دوسرے جانشینوں کو تخت دے دیا۔

اس کے بعد بھان گڑھ  اچانک سے ویران ہوگیا۔

بتایاجاتا ہے کہ اندھیرا ہونے کے بعد آج بھی کوئی اس علاقہ میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ خاص بات یہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے بھان گڑھ میں داخلہ سرکاری طور پر ممنوع ہے۔

فی الحال اس قلعہ کی دیکھ بھال بھارتی حکومت کی طرف سے کی جاتی ہے۔ آركیولاجكل سروے آف انڈیا (ASI)  کی طرف سے کھدائی سے اس بات کے کافی ثبوت ملے ہیں کہ یہ شہر ایک قدیم تاریخی آثار ہے۔ قلعہ کے چاروں طرف اركیولاجكل سروے آف انڈیا نے جگہ جگہ نوٹس بورڈ پر سخت  ہدایت لگا  رکھی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد اس علاقے میں کسی بھی شخص کا رکنا منع ہے۔  اگر کوئی اندھیرا ہونے کے بعد اس علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

تو یہ ہے بھان گڑھ کہ کہانی  جن کو سن کر سیاح اس قلعہ کو سیر کیلئے آتے ہیں ۔ اب وہاں بھوت ہیں یا نہیں یہ ایک  متنازعہ موضوع ہے ،     بھان گڑھ گھومنے والے اکثر سیاحوں نے وہاں وہا ں عجیب  سا محسوس کیا ہے، بعض نے بھوت پریت دیکھنے کے دعوے کیے  ہیں اور  بعض نے  عجیب اور پراسرار آوازیں اور چیخیں سنی ہیں، بعض  نے وہاں کچھ نہیں دیکھا    لیکن پر اسرار قلعہ اور مندر دیکھ کر خوفزدہ ضرور ہوئے۔

بھوتوں کے بارے  میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے  کہ یہ بات صحیح ہے  کہ یہاں بھوت ہیں لیکن  وہ بھوت قلعہ کے اندر صرف کھنڈرات میں ہی رہتے ہیں قلعہ  سے باہر نہیں آتے۔  مقامی باشندے بتاتے ہیں کہ رات کے وقت اس قلعہ سے طرح طرح کی خوفناک آوازیں آتی ہیں۔

قلعہ بھان گڑھ

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے