جوبا (Juba) ایک پراسرار انسان! جس نے لاتعداد امریکی فوجی مار ڈالے۔

juba

جوبا Juba یہ ایک عجیب نام ہے اور کردار بھی بہت عجیب ہے۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ جوبا ہے کون….؟

یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں ہے۔ یہ نام اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے عراق میں اپنی فوجیں اتاریں۔ جنگ کا جو نتیجہ ہوا، وہ تو پوری دنیا کے سامنے ہے لیکن ایک امریکن فوجی کے پراسرار طور پر مارے جانے کےبعد جوبا کے نام کی شہرت پورے عراق میں پھیل گئی۔

اس امریکن فوجی کو جوبا نے مارا تھا۔ امریکی حکام کو بھی یہ باور کرادیا گیا تھا کہ اس فوجی کو اسی نے مارا ہے۔

اس واقعے کے بعد اس کی تلاش شروع ہوئی لیکن جوبا کا سراغ نہیں لگ سکا۔ اسی دوران دو اور امریکن فوجی مار دیے گئے اور ان کی ذمہ داری بھی جوبا نے قبول کرلی۔

اب تو اس کی تلاش کی مہم اور تیز ہوگئ۔ امریکن فوجیوں کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ کوئی اس طرح ان کےساتھیوں کو ہلاک کرتا چلا جائے۔

دو اور قتل ہوگئے۔ یہ قتل بھی جوبا نے کیے تھے۔ پھر عراق کےایک قصبے سے ایک آدمی کو جوبا ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

اس نے یہ اعتراف بھی کرلیا کہ وہی جوبا ہے۔

اسے سزا سنادی گئی لیکن سزا سنانے کے دو ہفتوں بعد تین اور فوجی مار دیے گئے اور یہ قتل بھی جوبا نے کیے تھے۔

اب تو ایک ہنگامہ مچ گیا کہ جس کو سزا دی گئی ہے، اگر وہ جوبا ہے تو پھر یہکون ہے جو امریکن فوجیوں کو مار رہا ہے۔

ایک مرتبہ پھر جوبا کی تلاش شروع ہوئی۔ اس مرتبہ یہ تلاش بہت شور و شور سے ہو رہی تھی۔ جگہ جگہ جاسوس مقرر کردیے گئے۔ خود عراق کےکئی آدمیوں کو لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کرلیا گیا کہ وہ حکام کو جوبا کا سراغ لگا کر دیں۔

بلآخر ایک اور جوبا پکڑا گیا۔ اس نے بھی اعتراف کرلیا کہ وہی جوبا ہے اور اس نے بتایا کہ اس ے کہاں کہاں اور کن کن مقامات پر امریکی فوجیوں کا خون کیا ہے۔

اس جوبا کی گرفتاری کے بعد امریکن فوجیوں نے ابھی اطمینان کا سانس بھی نہیں لیا تھا کہ دو اور امریکن مار دیے گئے۔ اس مرتبہ بھی یہ کارروائی جوبا کی تھی۔

اب ایک مرتبہ پھر کھلبلی مچ گئی۔ کون ہے یہ جوبا! جو اب تک تقریباً ساٹھ ستر فوجیوں کو مار چکا ہے اور ہر گرفتار ہونے والا اپنے آپ کو جوبا ہی ظاہر کرتا ہے۔

آخر کیوں….؟

کیا جوبا ایک کردار ہے یا امریکی فوجیوں کے خلاف کوئی تحریک۔ اگر کردار ہے تو شاید کبھی ہاتھ آجائے، شاید کبھی اسے موت کی سزا مل جائے۔

لیکن اگر وہ ایک تحریک ہے تو پھر تحریکیں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے