جڑواں لوگوں سے جڑی چند دلچسپ و عجیب حقیقتیں!

یوں تو جڑواں ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ان کا ہمشکل ہونا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن جب یہ کہا جائے کہ جڑواں کی قسمت اور زندگی میں ہونے والے واقعات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے تو حیرانی تو ہو گی ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر ان دونوں کی پرورش الگ الگ ماحول میں بھی کیوں نہ کی جائے  تب بھی ان دونوں کے درمیان کوئی نہ کوئی ذہنی رابطہ موجود ہوتا ہے۔

جڑواں بچے عموماً شکل و صورت میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دنیا میں لاکھوں ایسے بچے ہیں جو ایک ساتھ پیدا ہوتے اور زندگی کی بہاریں دیکھتے ہیں۔    والدین کےلیے جڑواں بچوں کی پیدائش کا واقعہ گویا ان کی خوشی کو دوبالا کردیتا ہے۔ مماثل جڑواں بچوں کی تخلیق مرد کے جرثومے اور عورت کے بیضہ کے ملاپ کے بعد ملاپ شدہ بیضہ خلاف معمول دو حصوں میں تقسیم ہو کر دو وجود کی بنیاد پڑنے سے ہوتی ہے۔

عموماً ایسے بچوں کے درمیان کئی عادات مشترک پائی گئی۔ ان کی طبیعتیں بھی قریباً یکساں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ہم شکل مماثل جڑواں بچے مستقل طور پر معاشرے کی دلچسپی کا مرکز رہتے ہیں اوائل عمری سے والدین کا طرز عمل ماحول اور لوگوں کا یکساں رویہ ایسے جڑواں بچوں میں مشترکہ عادات و اطوار پیدا کرتا ہے۔ لیکن ان بچوں کی مشترک عادات و خصائل کو محض ماحول کی بنیاد پر بیان کرنا درست نہیں۔ اس بات کے بڑے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ مماثل جڑواں بچے جنہیں پیدائش کے بعد سے الک الگ ماحول میں ایک دوسرے سے دور رکھ کر اس طرح پرورش کی گئی کہ ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی پھر بھی ان بچوں کے طرز عمل میں فطرتاً مماثلت پائی گئی۔

اگرچہ بعض کا دعویٰ یہ ہے کہ مماثل جڑواں بچوں کی مثال ایسے ہیں کہ گویا ایک ہی شخصیت بیک وقت دو جسموں میں موجود ہے تاہم ان افراد کے مابین کچھ فرق بھی ہوتا ہے مثال کے طور پر مماثل جڑواں افراد کے ہاتھوں کی لکیروں میں فرق ہوا کرتا ہے لیکن یہاں موضوع فطرت کے اس معمے کے متعلق ہے کہ بعض مماثل افراد کے ہاتھوں کی لکیریں ایک دوسرے کا مکمل اور عین عکس ہوتی ہیں اور وہ ایک جان دو قالب کی مثال ہوتے ہیں۔

یوں تو جڑواں ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ان کا ہمشکل ہونا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن جب یہ کہا جائے کہ جڑواں کی قسمت اور زندگی میں ہونیوالے واقعات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے تو حیرانی تو ہو گی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر ان دونوں لوگوں کی پرورش الگ الگ ماحول میں بھی کیوں نہ کی جائے ان دونوں کے درمیان کوئی نہ کوئی ڈہنی رابطہ موجود ہوتا ہے۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جڑواں بچے ایک ہی جیسے لباس زیب تن کرتے ہیں،  ایک ہی جیسے رنگ پہنتے ہیں، ایک ہی جیسے کھلونے اور سامان رکھتے ہیں۔ انہیں وہی چیز پہننا پسند ہوتی ہے جو ان کا جڑواں ساتھی پسند کرتا ہے۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ دو مماثل جڑواں بہنوں فریڈ اچپیلپنFreda Chaplin اور گریٹا چپیلپن Greta Chaplin کا ہے۔ 1980ء میں جب وہ سینتیس برس کی تھیں کسی کیس کے سلسلے میں اسے عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو مجسٹریٹ کو دونوں بہنوں کے درمیان حیرت ناک مماثلت کا علم ہوا۔ اس کے ہر سوال کا جواب دونوں مل کر ایک ساتھ ایک انداز اور ایک جیسے الفاظ میں دے رہی تھیں۔ کوئی بناوٹی حرکات نہیں تھیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان دونوں کی زندگی مماثلت کے ایسے حیرت انگیرز واقعات سے بھری پڑی ہے۔  لڑکپن میں جب دوسرے بچے ان بہنوں کو بالکل ایک جیسے ملبوسات میں ایک  ہی انداز میں چلتے پھرتے دیکھا کرتے تو جادوگرنیاں قرار دے کر خوفزدہ ہوجاتے۔

ماہرین نفسیات نے ان کے تجزیے کی خاطر دونوں بہنوں کو خالی رنگ کے دو ایک جیسے کوٹ دیےجن میں بٹنوں کا فرق تھا یعنی ایک کوٹ کے بٹنوں کا رنگ سبز جبکہ دوسرے کے بٹن خاکی رنگ کے تھے۔ دونوں نے کوٹوں کے بٹنوں کو کاٹ کر الگ کرکے ایک دوسرے میں برابر تقسیم کردیا۔ تاکہ دونوں کے پاس ملے جلے بٹنوں کے ایک جیسے سیٹ بن جائیں۔ وہ اپنی مماثلت قائم رکھنے کو اس حد تک جاتی تھیں کہ جب دونوں کو علیحدہ علیحدہ قسم کے دستانوں کا جوڑا دیا گیا تب بھی ایک ایک دستانے کو تبدیل کرکے پہن لیا حالانکہ دونوں کے دونوں ہاتھوں پر الگ الگ دستانے کچھ اچھا تاثر نہیں دے رہے تھے۔ اب  انہیں دو مختلف صابنوں کی ٹکیاں دی گئیں۔ انہوں نے اپنے صابنوں کو آدھا آدھا کاٹ کر ٹکڑوں کو تبدیل کرلیا مگر اس مرتبہ مماثلت اختیار کرنے میں بیچاریوں کو بڑی مشکل پیش آئی تھی اور وہ روئی بھی تھیں۔ اس سے قبل کبھی ایسا مسئلہ پیش  نہیں آیا تھا۔ وہ تو کھانا بھی ایک سا کھاتی تھیں۔

ماہرین نفسیات کی حیرت کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ دونوں بہنوں نے انہیں ایک آواز ہو کر بتایا کہ ‘‘ہم ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہیں کہ گویا ایک ہی شخصیت ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے کیونکہ ہمارا دماغ ایک ہی ہے۔’’

 

کولمبس (جارجیا) کے علاقے میں 1970ء میں پیدا ہونے والی دو جڑواں بچیوں کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ ماں باپ انہیں گریس کینیڈی Grace Kennedy اور ورجینا کینیڈیVirginia Kennedy  کہتے تھے۔ یہ ابھی سترہ ماہ کی ہی تھیں کہ والدین نے محسوس کیا کہ بچیاں کوئی اور ہی زبان بولتی ہیں۔ جوں جوں یہ بڑی ہوتی گئیں ان کے مابین گفتگو میں صرف دو الفاظ ممی اور ڈیڈی کی شناخت ہوئی باقی تمام الفاظ ان دو کے علاوہ کوئی اور نہیں سمجھتا تھا۔ انہوں نے نہ صرف خود ساختہ زبان ایجاد کرلی تھی بلکہ اپنے نام بھی تبدیل کر رکھے تھے۔ گریس اپنے آپ کو پوٹو Poto کہتی اور ورجینا نے اپنا نام Cabenga رکھ چھوڑا تھا۔ کوئی انہیں پرانے ناموں سے پکارتا تو وہ توجہ نہیں کرتی تھیں اور انہوں نے انگریزی بولنے سے بھی انکار  کردیا تھا۔ وہ آپس میں اپنی خود ساختہ زبان میں ہی گفتگو کیا کرتی تھیں۔

سات برس کی عمر میں بچیوں کو کیلیفورنیا میں سانڈیا گو کے بچوں کے اسپتال لے جایا گیا۔ یہاں ماہرین نے ان کی باہمی گفتگو ٹیپ کرلی۔ جب انہوں نے تجزیہ شروع کیا تو ان کا خیال تھا کہ بچیوں نے مقامی انگریزی زبان اور اپنی جرمن دادی اور جرمن انگلش زبانیں بولنے والی ماں کے زیر تربیت یہ  زبان گھڑلی ہے۔ مگر بچیوں کی گفتگو میں نامعلوم قواعد انشاء، اسم، فعل اور صفت کے استعمال نے انہیں چکرا دیا۔ ماہرین نے جڑواں بچیوں کے درمیان اسے خفیہ رابطے Idioglossia کا نام دیا۔   ایک برس کی تربیت سے بچیوں نے اچانک ہی انگریزی زبان بولنا شروع کردی اور اپنی زبان  کا استعمال ترک کردیا۔ اب ماہرین نے ان کی پرانی گفتگو کی بابت دریافت کیا کہ ان جملوں کا کیا مفہوم ہے تو یہ بچیاں منہ میں گھنگنیاں ڈالنے بیٹھی رہیں کہ ہم کیا جانیں یہ کیا زبان ہے۔ اس روز سے انہوں نے انگریزی بولنا شروع کر رکھی ہے۔ اور اپنی ذاتی زبان کا راز نہ کھولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

یہ تو ان جڑواں لوگوں کی مثالیں ہیں جن کی تربیت ایک ساتھ ایک ہی ماحول میں ہوئی۔ آئیے….! اب بات کرتے ہیں ان جڑواں لوگوں کی  جن کی تربیت اور پرورش الگ الگ ماحول میں کی گئی۔

1939ء میں اوہائیو میں ایک خاتون کے ہاں دو جڑواں  بچوں کی ولادت ہوئی۔ دونوں بچوں کو دو علیحدہ علیحدہ گھرانوں نے گود لے لیا۔ ایک بچے کو لوئس گھرانہ رلما کے علاقے میں لے گیا جبکہ دوسرے بچے کو اسی میل دور ڈے ٹن کے علاقے کی سپرنگر فیملی کے حوالے کردیا گیا۔ ہر دو گھرانوں سے یہی کہا گیا کہ اس بچے کا جڑواں بھائی مر چکا ہے۔

چھ برس بعد بیگم لوئس نے گود لینے کی طویل قانونی مدت کی تکمیل پر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت کو بتایا کہ انہوں نے بچے کا نام جیمز رکھا ہوا ہے مگر عدالت نے اسے حیرت میں ڈال دیا۔ ان کا حکم تھا کہ بچے کا نام جیمز رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ بیگم لوئس کو اب یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ ان کے متبنہ بچے کا جڑواں بھائی درحقیقت زندہ ہے اور اسے گود لینے والوں نے بھی اس کا نام جیمز ہی رکھا ہے۔ بچپن میں بچھڑے دو نوں جڑواں بھائی  کی ملاقات 39برسوں بعد 9 فروری 1979ء کو ہوئی۔  جیمیز  ایڈورڈ لیوس James Edward Lewisاپنے گمشدہ بھائی جیمز  آرتھر سپرنگر James Arthur Springer  کو تلاش کرتا ہوا اس سے آملا ۔ اس ملاقات کے موقع پر دونوں نے اپنے اپنے حالات زندگی شیئر کئے تو پھر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ یہ ناقابل یقین تو تھا مگر سچ تھا۔

جیمز ایڈورڈ لیوس نے اپنے جڑواں بھائی جیمز اسپرنگر کو بتایا کہ اس نے لِنڈا Lindaنامی عورت سے شادی کی تھی لیکن طلاق دیدی۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں بیٹی Betty نامی عورت آئی اور اس سے اس کا ایک بیٹا ہے جس کا نام جیمز ایلن James Allan  ہے۔ جیمز لیوس جیسے جیسے یہ کہانی سنا رہا تھا اس کے بھائی جیمز اسپرنگر  کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جا رہی تھیں۔ جب جیمز لیوس خاموش ہوا تو جیمز  اسپرنگر نے بتایا کیا اتفاق ہے میں نے بھی پہلے لنڈا Lindaسے ہی شادی کی۔ طلاق کے بعد میری شادی بیٹی Bettyنامی عورت سے ہوئی اور اس سے ہونے والے بیٹے کا نام  جیمز ایلن James Allan ہی ہے۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب جیمز لیوس نے اپنے بھائی  کو بتایا کہ میرے کتے کا نام ٹوائے  Toy ہے تو جیمز اسپرنگر کے کتے کا نام بھی ٹوائے  ہی تھا۔ دونوں کے گھروں کی شکل ایک ہی جیسی تھی۔ اور کام کی نوعیت بھی حیرت انگیز طور پر ایک ہی ہے۔دونوں کو گود لینے والے گھرانے کی بیٹیوں کے نام لیری تھے۔ دونوں تعلیمی دور میں ایک جیسے مضامین میں کمزور رہے تھے۔ دونوں کی دلچسپی ایک ہی مضمون سے رہی تھی۔ دونوں کی عادت رہی تھی کہ وہ ہر سال اپنی اپنی چھٹیوں میں  فیملی کو فلوریڈا کے ایک ہی ساحل پر واقع ہوٹلوں میں لے جا کر ٹھہرا کرتے تھے۔ دونوں نے پٹرول پمپوں اور ریسٹورینٹس پر ملازمت کی تھی۔ دونوں نے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی خدمت سرانجام دی یعنی دونوں پارٹ ٹائم ڈپٹی شیرف کی ڈیوٹی دیتے رہے تھے۔ دونوں کا مشغلہ لکڑی کا کام تھا۔ اور ان تمام واقعات کے دوران انہیں ایک دوسرے کی موجودگی کےبارے میں قطعاً علم نہیں تھا۔جسمانی طور پر بھی دونوں ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے تھے یعنی دونوں کا قد چھ فٹ اور وزن 180 پونڈ تھا۔ صحت سے متعلق دونوں ایک ہی قسم کے مسائل میں مبتلا رہے تھے۔ دونوں ایک ہی عمر میں ذہنی تناؤ اور درد شقیقہ کے مریض تھے اور ایک ہی عمر میں ان امراض سے صحت یاب ہوئے…. اسی طرح دونوں کو ایک ہی قسم کی دل کی بیماری لاحق ہوئی اور عمر کے مخصوص حصے میں ایک ہی ساتھ دیگر تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔

جڑواں بچوں کے حوالے سے یہ حقائق حیران کن ہیں۔ جب جِم برادران کی یہ کہانی اخبارات کی زینت بنی تو بہت سے جڑواں لوگوں نے اپنی زندگی کے غیر معمولی واقعات شیئر کئے۔

دو اور جڑواں بہنیں مسز ہیر (یسیسٹر) اور مسز ڈورو تھی (بلیک برن) 1943ء میں پیدائش کے فوراً بعد الگ کردی گئیں اور ان کی پرورش الگ الگ ماحول میں ہوئی۔ مگر دونوں کی شادی ایک ہی سال میں ہوئی۔ ایک نے اپنے بیٹے کا نام ‘‘رچرڈ اینڈریو’’ رکھا تو دوسری نے بیٹے کو ‘‘اینڈریو رچرڈ’’ کا نام دیا۔ دونوں نے اپنی اپنی جگہ پیانو بجانے کی تربیت ایک ہی حد تک حاصل کی اور موسیقی کا امتحان ایک جتنی تعلیم سے پاس کیا۔ دونوں کو ڈائری لکھنے کی عادت تھی اور دونوں ڈائری لکھنے میں خاص ترتیب  رکھتی تھیں اور ایک سال میں ایک ڈائری استعمال کرتی تھیں۔

ان دو جڑواں بھائیوں کا واقعہ تو اور بھی دلچسپ اور عجیب ہے۔ آسکر اسٹوہرOskar Stohr اور جیک یوفیJack Yufe  کے والدین میں جھگڑا ہوگیا تو آسکر کو اس کی ماں اپنے ہمراہ جرمنی لے آیا اور جیک یوفی اپنے والد کے ہمراہ ٹرینی ڈاڈ Trinidadمیں رہ گیا۔ یہ واقعہ 1933ء کا ہے۔

جرمنی میں آسکر نازی نظام تعلیم سے متاثر ہو کر سرگرم نازی پیروکار بن گیا۔ وہ صرف جرمن زبان جانتا تھا اور پکا یہودی دشمن اور کٹّر نازی بن چکا تھا۔ اب ادھر ٹرینی ڈاڈ کی سنیے۔ وہاں جیک یوفی اپنے یہودی باپ کی زیر تربیت یہودیت کی تعلیم پا کر ایک سرگرم یہودی کے طور پر جانا پہچانا جارہا تھا۔ وہ صرف انگریزی بولتا تھا۔ سمندر پار دونوں بھائی شیر خواری کے زمانے سے بچھڑے۔ متضاد ماحول میں پرورش پارے رہے مگر ان کی عادات ایک سی تھیں۔ وہ رسالے کو آخر صفحہ سے شروع کرکے پیچھے کو پڑھا کرتے۔ دونوں کو کلائیوں پر ربڑ بینڈ بےدھیانی میں اس حد تک لپیٹتے چلے جانے کی عادت تھی کہ کلائی زخمی کر بیٹھتے۔ دونوں کو عجیب سے مذاق کی عادت تھی۔ یہ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کی بھیڑ میں ہسٹریا کےمریضوں کی مانند زمین پر گرنے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔

چھیالیس برس بعد 1979 ء میں ایک زمانے کے بچھڑے ہوئے جڑواں بھائی پہلی مرتبہ منی سوٹا کے ائیر پورٹ پر ملے تو یہ عجیب نظارہ تھا۔ دونوں نے بالکل ایک جیسے لباس زیب تن کر رکھے تھے اور آنکھوں پر چور کو شیشے کی عینکیں لگا رکھی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کی زبان سمجھنے سے قاصر تھے۔ مگر واقعہ یہ ہوا کہ ایک دوسرے سے شدید نفرت رکھنے والے نازیت اور یہودیت کے متضاد فلسفہ کے حامل دو بھائی آنکھوں میں آنسو بھرے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

ماہرین نے ایسے افراد کی زندگیوں پر بھی تحقیق کی جو اگرچہ جڑواں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کی پرورش الگ الگ جگہوں پر یکسر مختلف ماحول میں کی گئی تھی۔ ماہرین کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مختلف ماحول میں پروان چڑھنے اور ایک دوسرے سے قطعی طور پر لاعلم ہونے کے باوجود ان کی عادات اور جرائم کی جانب میلان میں70 فی صد سے زیادہ مماثلت تھی۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس مماثلت کی وجہ وہ جین تھے جوجڑواں ہونے کے باعث ان میں ایک جیسے تھے۔

یونیورسٹی آف منی سوٹا University of Minnesota (امریکہ) کے ماہر نفسیات Thomas Bouchard کے زیر سرپرستی ایک تحقیقی پروگرام کا آغاز کیاگیا۔ اس کے تحت تیس ایسے جڑواں افراد پر تحقیق کی گئی جو الگ الگ مقامات پر جداگانہ  ماحول میں پرورش پاتے رہے۔ اس سلسلے میں چند دلچسپ واقعات سامنے آئے مثلاً دو جڑواں بہنوں مسز جین ہملٹن (اسکاٹ لینڈ) اور مسز آئرن ریڈ (یسیسٹر) نے ایک طویل عرصہ کے بعد ملاقات کی اور ان کے بارے میں پتہ چلا کہ دونوں کو سر چکرانے اور خوف کی بیماریاں لاحق رہی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے 440 میل دور رہتی تھیں مگر ان کی عادات میں کافی اشتراک تھا مثلاً دونوں کو پانی سے خوف رہتا تھا اور جب بھی کنبوں کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں میں سمندر کی سیر کو آتیں تو ساحل پر پانی کی جانب پشت کرکے بیٹھا کرتیں۔ دونوں نے جوانی میں اسکاؤٹ تحریک میں کام کیا اور دونوں الگ الگ شہروں میں سنگھار کا سامان بنانے والی ایک ہی کمپنی کے لیے کام کرتی رہیں۔

امریکہ میں جڑواں بچوں کے نفسیاتی پہلوؤں پر کئی  سائنسی تحقیقات ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جڑواں دوطرح کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو ہوبہو ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انہیں عام طور پر identical Twins  اورسائنسی اصطلاح میں  مونو زائگوٹک monozygotic (ایم زی MZ) کہا جاتا ہے جب کہ دوسری قسم کے جڑواں بچے اگرچہ پیدا تو ایک ہی ساتھ ہوتے ہیں لیکن وہ جینیاتی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور انہیں عام طور پر fraternal Twins اور سائنسی اصطلاح میں ڈائیزائگوٹک dizygotic  (ڈی زی DZ)کہاجاتا ہے۔

سویڈن اور ڈنمارک میں جڑواں بچوں پر بڑے پیمانے پر کی جانے والی ایک سائنسی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے۔حقیقی جڑواں افراد کی نفسیات اور کردار ایک جیسا ہوتا ہے اور وہ مخصوص حالات میں ایک جیسے طرزعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر حقیقی جڑواں افراد میں سے ایک مجرم ہے تو دوسرا بھی اتنا ہی قانون شکنی کی جانبراغب ہوگا۔

سن 2000ء میں تہرانی اور مڈنک نے ایم زی جڑواں بچوں کے 32جوڑوں پر تحقیق کی۔ یہ ایسے بچے تھے جنہیں اپنی پیدائش کے فوراً بعد ایسے افراد نے گود لے لیا تھا جو ان کے رشتے دار نہیں تھے۔ان کی پرورش الگ الگ مقامات پر مختلف حالات اور ماحول میں ہوئی۔ ماہرین نے ان کے بچپن اور بلوغت کے دور کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا۔ جس سے پتا چلا کہ مختلف ماحول میں پروان چڑھنے کے باوجود ان کی سوچ اور طرز عمل ایک جیساتھا۔ اگر ایک بچے میں کسی جانب رجحان موجودتھا تو اس کا جڑواں ساتھی بھی اسی جانب اتنا ہی راغب تھا۔

جڑواں لوگوں میں ٹیلی پیتھی

اکثر جڑواں بچے   بچپن سے ہی ایک دوسرے سے روحانی طور پر منسلک ہوتے ہیں۔  وہ ایک جیسا سوچتے ہیں، ایک جیسے کا م کرتے ہیں، ان کی پسند ناپسند بھی ایک جیسی  ہوتے ہے…. حتی کہ اگر ان کی پرورش  بھی الگ الگ ماحول کی جائے   تو ان کے درمیان یکسانیت برقرار رہتی ہے۔   اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر جڑواں  میں سے کسی ایک  پر کوئی مصیبت پڑتی ہے یا اس کو کوئی جسمانی تکلیف ہوتی ہے تو دور دراز بیٹھے اس کے دوسرے  جڑواں پر اس کا اثر ہوجاتا ہے ۔  ماہرین اس بات کی تحقیق میں مصروف ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

لیزا گینLisa Ganz اور ڈیبی گینDebbie Ganz   ایک جیسی جڑواں بہنیں ہیں جو نیویارک میں ایک پرموشنل  ایجنسی  چلاتی ہیں ، دونوں بتاتی ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ایک پراسرار ذہنی کنکشن ہے، دہ ایک دوسرے کے جذبات اور تکلیفوں کو کہے بغیر جان جاتی ہیں۔ وہ اپنا واقعہ بتاتی ہیں کہ   کئی سال پہلے لیزا آسٹریلیا میں مقیم تھی اور ڈیبی نیویارک میں  ، اس دوران لیزا کی کار کا ایکسیڈینٹ ہو جاتا ہے، ٹھیک اسی لمحہ ڈیبی جو ہزاروں میل دور اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی ، اس نے گھبراکر اپنی ماں  کی جانب دیکھا اور کہا کہ ‘‘کچھ غلط ہوا ہے’’،  یہ ایک ایسا احساس  تھا جسے بیان نہیں کیا جاسکتا، ڈیبی کو انجانی تکلیف کا احساس ہورہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ اسے چوٹیں آئی ہیں لیکن وہ گھر پر صحیح سلامت بیٹھی تھی، اس کو یقین تھا کہ اس کی بہن کی ساتھ کچھ ہوا ہے۔ اس نے سڈنی میں لیزا کی تمام دوستوں کو فون کرکے خیریت معلوم کی تو انہیں کچھ دیر بعد ہی لیزا کے  ایکسیڈنٹ کی  خبر ملی ۔ دونوں بہنوں کے ذہنوں میں یہ ہم آہنگی  حیران کن ہے۔ ان دونوں نے جڑواں لوگوں کے   پراسرار تعلقات کے متعلق لتاب بھی لکھی۔

اسی طرح ایک جڑواں  بہن بتاتی ہے کہ ایک صبح وہ واش روم میں منہ دھورہی تھی کی اس کا پیر پھسلا اور  اس کاسر کسی چیز سے ٹکرایا ۔ وہ بے ہوش ہوگئی۔ اسی دوران اس کی بہن جو سورہی تھی خواب میں اسے محسوس ہوا کہ اس کی بہن اسے آواز دے رہی  ہے وہ ہڑبڑا کع اٹھ بیٹی   اور بہن کو نہ پاکر جب واش روم پہنچی کو وہاں اس  نے اپنی بہن  کو بے ہوش پایا۔ ایک جڑواں جوڑا بتاتا ہے کہ وہ دونوں ایک ہی جیسے خواب دیکھتے ہیں  ، جو خواب اس کی بہن کو آتا ہے وہی خواب اس رات اس کو  بھی آتا ہے۔  ایک حیران کن بات یہ بھی نوٹ کی گئی ہے کہ اگر دوجڑواں بھائی یا بہنیں  ایک ہی جماعت میں پڑھتے ہوں تو ان کے گریڈ اور رزلٹ تقریباً ایک جیسے ہی آتے ہیں۔ برطانیہ میں انگریزی کی پروفیسر میریلن الوکن   نے جڑواں بہنوں کے تین جوڑوں کو دو علیحدہ کمروں میں بٹھایا اور  اور ان سے تیس سوالات پر مشتمل ٹیسٹ لیے گئے ۔   جب نتائج آئے تو یہ بات حیران کن تھی کی ہر جڑواں بہن کے جوابات  ایک جیسے   تھے حتیٰ کہ انہوں نے غلط جوابات بھی ایک ہی جیسے دیے ۔

9 سالہ  جڑواں بھائیوں رچرڈ پاولزRichard Powles اور ڈیمین  پاولزDamien Powles کی والدہ بتاتی ہیں کہ   جب ان کے بیٹوں کی عمر  چند ماہ ہی تھی، ایک دن رچرڈ   کے ساتھ تھیں اور ڈیمین ان سے دور دوسرے  بیڈ پر تھا ، اچانک رچرڈ نے رونا شروع کردیا اور ایسا  محسوس ہوا  جیسے اس کا دم گھٹ رہا  ہے ،  بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی، وہ فوراً  ڈیمین کی طرف متوجہ ہوئی دیکھا کہ وہ الٹی کروٹ  پر پڑا ہواتھا   اور تکیہ  سے منہ دبنے کی وجہ سے سانس نہیں لے پارہا تھا ، یوں ان کے بیٹوں میں موجود ذہنی رابطہ سے ان میں سے  ایک بھائی کی جان بچی  گئی۔

رچرڈ اور ڈیمین کے درمیان ٹیلی پیتھی ٹیسٹ کرنے کے لیے ڈیمین  کو ایک پولی گراف polygraph مشین   اور بلڈ پریشر آلہ سے منسلک کیا گیا (جو سانس، پٹھوں، نبض اور جلد  تحریک   نوٹ کرتی ہے اور دوسری جانب  ایک رچرڈ کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اسے ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں سے اس کی آواز اپنے بھائی تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے بعد مختلف طریقوں سے رچرڈ کو چونکایا گیا ، کبھی اس کے سامنے برتن گراکر ، کبھی اس کے کان کے قریب غبارہ پھاڑ کر اور کبھی اچانک ربڑ کا نقلی سانپ   یا آگ کی چنگاریاں دکھاکر، کبھی اس کا ہاتھ برف سے بھرے برتن میں ڈال کرتاکہ وہ ردعمل ظاہر کرے۔

دیکھا گیا کہ ٹھیک اسی وقت جب رچرڈ کسی چیز سے گھبراکر ردعمل ظاہر کیا ۔ دور بیٹھے ڈیمین  کے ہاتھوں میں لگی پولی گراف مشین نے بھی اسی لمحے گراف میں ردعمل ظاہر کیا  اور بلڈ پریشر کے پلس میں اتار چڑھاؤ نظر آیا۔  ایسا لگتا تھا جیسے خوف کا احساس رچرڈ کے ساتھ ڈیمین کو بھی ہورہا تھا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے