حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے حالات زندگی اور کرامات!

بابا فرید

رات کے آخری پہر جہاں خلقت نیند کی وادیوں میں گم تھی۔ تاروں کی ٹمٹماہٹ اور چاند کی چاندنی زمین پر خداوند تعالیٰ کے انوار کی صورت میں برس رہی تھی ان لطیف اور مدھم روشنیوں میں ایک مشّاق چور گہری نظر سے مختلف گھروں کا جائزہ لے رہا تھا اور آخر اس نے ایک گھر کا انتخاب کرلیا۔ گھر میں داخل ہونے میں اسے دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ وہ بہت دبے پاؤں آگے بڑھا اور قیمتی اشیاء تلاش کرنے لگا۔ ایک کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا ایک خاتون اس کے قدموں کی آہٹ سے بے خبر اپنے دھیان میں مستغرق مصلّے پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں ۔ قریب ہی چار بچے گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ پورے گھر میں اسے یہی پانچ مکین نظر آئے۔ وہ خوش تھا کہ سامان لے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی کمرے سے نکل کر وہ قیمتی اشیاء جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی چیز کو لے جانے کی نیت سے ہاتھ بھی لگاتا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور دل لرز اُٹھا وہ اپنی آنکھیں ملنے لگا ، اس کی بینائی ختم ہوچکی ہے۔ خوف نے پیروں کو لرزا دیا اور وہ وہیں بیٹھ گیا اس کو یقین ہوگیا کہ وہ خاتون کوئی بزرگ ہستی ہیں۔ خوف، ڈر اور شرمندگی کے احساسات کے ساتھ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے میں داخل ہوکر رونے لگا اور التجا کرنے لگا کہ مجھے معاف کردیں۔
وہ خاتون جو اپنے رب کی عبادت میں مصروف تھیں انہوں نے آواز سن کر آنکھیں کھول دیں اور پوچھنے لگیں کون ہو….؟
چور روتے ہوئے کہنے لگا میں چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہوا تھا اس سے پہلے کہ میں سامان و اسباب چرا کر فرار ہوجاتا میری بینائی ختم ہوگئی۔ میرا دل کہتا ہے آپ ہی وہ ہستی ہیں جو مجھے معاف کردیں تو میری بینائی واپس آجائے گی میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔
خاتون نے کہا ‘‘ اے شخص تو نے مجھے کیا نقصان پہنچایا، معافی ان لوگوں سے مانگ جن کے حقوق تونے غصب کیے اور اس کی بارگاہ میں دامن پھیلا جس نے تجھے توانائی کے ساتھ عقل دی ہے’’۔
پھر خاتون نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیے ‘‘ اے رب میں تجھ سے التجا کرتی ہوں۔ تونے جس کی بینائی سلب کی ہے اس کی آنکھوں کو دوبارہ روشن کردے۔ یہ تیرا ہی بندہ ہے جو سیدھی راہ سے بھٹک گیا ہے ۔ اگر تونے اس کی دستگیری نہیں کی تو یہ کہاں جائے گا۔ اس کے گناہوں سے چشم پوشی فرما اور آنکھوں کے ساتھ اس کے دل کی سیاہی بھی دور فرمادے’’۔
یکایک اس چور کو محسوس ہوا کہ بجلی سی کوندی اور ہر چیز روشن ہوگئی اس کی بینائی واپس آچکی تھی۔ وہ شرمندگی اور تشکر کے احساس سے کانپ رہا تھا۔ وہ چپ چاپ واپس پلٹ گیا ۔ دوسرے دن و ہ چور اپنے گھر والوں کے ساتھ اس خاتون کے گھر روانہ ہوئے۔ دروازے پر دستک ہوئی، اُن خاتون نے دروازہ کھولا۔ چور نے کہا ‘‘میں وہی انسان ہوں جو چوری کی نیت سے کل آپ کے گھر داخل ہوا تھا۔
خاتون نے پوچھا ‘‘اب کیوں آئے ہو؟’’ چور کہنے لگا
‘‘ میں اور میرا گھرانہ بت پرست ہے ، مجھے مسلمان کر کے اس خالق سے ملا دیجئے جو پوری کائنات کا رب ہے’’۔ خاتون نے انہیں مسلمان کرلیا۔ مسلمان ہونے کے بعد اس چور نے اپنا نام عبداللہ رکھا اور معرفت کی راہوں پر قدم بڑھاتے ہوئے اس مقام تک پہنچا کہ لوگ اسے شیخ عبداللہ ؒ کے نام سے جاننے لگے۔
اِن خاتون کا نام حضرت بی بی قرسم خاتون ؒ تھا آپ سلسلۂ چشتیہ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی والدہ تھیں۔
قرسم خاتون ، مشہور بزرگ حضرت جمال الدین سلیمان ؒ کی زوجہ تھیں ان کے تین بیٹے فرید الدین مسعود، عز الدین محمود اور نجیب الدین متوکل اور ایک بیٹی ہاجرہ تھیں۔ بچے ابھی کم سن ہی تھے کہ ان کے شوہر کی وفات ہوگئی اور ان کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ کے ذمہ آ پڑی۔ آپ نے خود اپنے بچوں کی تربیت کرنا شروع کی۔
ایک بار آپ اپنے بیٹے مسعود جو اس وقت کم سن تھے کو نماز کے بارے میں تلقین کررہی تھیں کہ جو بچے نماز قائم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوتا ہے اور انہیں انعامات دیتا ہے۔ مسعود نے ماں سے پوچھا ‘‘ جو بچے نماز قائم کرتے ہیں اللہ انہیں کیا انعام دیتا ہے’’۔ قرسم بی بی ؒ نے بیٹے کو گود میں اُٹھایا اور پیار کرتے ہوئے کہا ‘‘ نمازی بچوں کو پہلے شکر ملتی ہے اور جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو اللہ انہیں اور بہت سے انعامات دیتا ہے’’۔ مسعود مطمئن ہوگئے اور نماز قائم کرنے لگے حضرت قرسم بی بی ؒ مصلے کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیتیں اور مسعود نماز ادا کرنے کے بعد نماز کا انعام سمجھتے ہوئے خوش خوش شکر کھالیتے ۔ اس معمول کو کئی مہینے گزر گئے ایک دفعہ قرسم بی بی ؒ کسی کام سے کہیں گئی ہوئی تھیں ۔ مصلے کے نیچے شکر رکھنا انہیں یاد نہیں رہا۔ واپس آئیں تو پوچھا‘‘بیٹا نماز پڑھ لی’’
مسعود نے کہا ‘‘ جی امی ، نماز پڑھ لی اور مصلّے کے نیچے سے شکر بھی مزے سے کھالی’’۔
یہ سن کر قرسم بی بی ؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ روتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنے لگیں ۔ اس کے بعد بیٹے کو گلے سے لگالیا ۔
فرید الدین مسعود کی والدہ کی تربیت کے زیر اثر کم سنی میں ہی نماز کے پابند ہو گئے تھے۔ مسعود کو بچپن ہی میں قرآن شریف حفظ کرادیا گیا، اور ابتدائی تعلیم کھیتوال کے ایک عالم و فاضل استاد سید نذیر احمد ؒ سے حاصل کی ، سات سال کی عمر میں آپ نے والدہ بھائی ، بہن اور دوسرے رشتہ داروں کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے تمام ابتدائی کتب ختم کر لیں تو والدہ کو ان کی مزید تعلیم کی فکر ہوئی۔
کھیتوال میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جو آپ کو علوم متداولہ کی تکمیل کرا سکتا۔ ملتان ان دنوں علم و دانش کا مرکز تھا ، وہاں بڑے بڑے نامور علما موجود تھے ، چنانچہ حضرت بابا فرید ؒ کی والدہ نے انہیں مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا۔
ملتان پہنچ کر آپ نے ایک مسجد میں قیام کیا۔ یہ مسجد ایک سرائے میں واقع تھی ، جہاں اس دور کے ایک نامور عالمِ دین مولانا منہاج الدین ترمذی درس دیا کرتے تھے۔ حضرت بابا فرید ؒ نے انہی سے علوم دینہ کی تعلیم شروع کی اور دو تین سال کے اندر اندر تفسیر ، حدیث ، اصول ، معانی ، فلسفہ ، منطق ، ریاضی اور ہیئت کی کتابیں ختم کر لیں ۔ کھیل کود کی عمر تھی لیکن مسعود کو کتابوں سے ایسی دلچسپی ہوئی کہ تمام وقت کتابوں کے اوراق پڑھتے ہی گزرتا ۔ کئی سال مستقل مطالعے اور تحقیق میں لگے رہے۔
1206ء میں جب آپکی عمر تقریبا اٹھارہ سال تھی ، فرید الدین مسعود ایک روز مسجد میں بیٹھے مطالعہ فرما رہے تھے کہ ایک تیز خوشبو نے انہیں چونکا دیا ۔ مسعود نے نظر اٹھا کر دیکھا ، ایک روشن چہرہ بزرگ وضو خانے کی طرف جا رہے تھے ۔ یہ حضرت سلطان معین الدین چشتی ؒ کے خلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ تھے۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے وضو کیا اور نماز میں مشغول ہو گئے ۔ اس دوران فرید الدین مسعود انہی کی طرف دیکھتے رہے ۔ جب حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نماز سے فارغ ہوکر فرید الدین مسعود کے پاس سے گذرے تو وہ فرط اب میں احتراماً کھڑے ہو گئے ۔ ‘‘بیٹھے رہو فرزند !’’ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے شفقت سے فرمایا ، پھر پوچھا ، کونسی کتاب پڑھ رہے ہو ؟
‘‘نافع ’’ بابا فریدؒ نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب کا نام لیا ۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے فرمایا ،
انشاء اللہ یہ کتاب تمہیں بے حد نفع دیگی ۔
بابا فریدؒ گویا ہوئے ،‘‘میرا اصل نفع تو آپ کی نگاہ میں پوشیدہ ہے ۔ میں آپ سے واقف نہیں لیکن میرا دل کہتا ہے کہ آپ کے قدموں سے اٹھنے والا غبار ہی میری منزل ہے ۔ ’’
حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے آپکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جاتے ہوئے فرمایا ، ‘‘میں شیخ بہاؤالدین زکریا کا مہمان ہوں اور انہی کی خانقاہ میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ تمہیں فرصت ہو تو تم بھی آنا’’۔
خدا خدا کر کے صبح ہوئی تو آپ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی قدم بوسی کیلئے تشریف لے گئے ۔
خدام نے آپکو عام سا طالب علم سمجھ کر ٹالنا چاہا لیکن آپ بضد رہے کہ ایک بار شیخ کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے ۔ جب خادم نے آپکا پیغام حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کو دیا تو انھوں نے فرمایا ،
‘‘اسے جلدی بھیجو ، ہم اسی کے تو منتظر ہیں ۔’’
جب بابا فرید اندر داخل ہوئے تو حضرت قطب ؒ نے حضرت بہاؤالدین ؒ سے فرمایا ، ‘‘شیخ ! یہ فرید ہے ، میرا فرید !’’
حضرت قطب آٹھ دن تک ملتان میں مقیم رہےاس دوران فرید الدین مسعود ایک خدمت گار کی طرح حضرت قطب کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب حضرت قطبؒ رخصت ہو کر دہلی جانے لگے تو فرید الدین مسعود نے آپ ؒ سے مستقل وابستگی کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جواب میں خواجہ صاحب نے فرمایا ،
‘‘فرید ….! اب تم اللہ کی تخلیقات کا مشاہدہ کرو، سیاحت کرو، اللہ کے بندوں سے ملو، دیکھو کون کس مقام پر کیا کررہا ہے اور دنیا کا نظام کس طرح چل رہا ہے۔ پھر دہلی آنا تم مجھے اپنا منتظر پاؤگے’’۔
یہ ارشاد سن کر فرید الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے انہیں اپنے مرشد کا فراق گوارا نہ تھا۔ حضرت قطب ؒ نے بہت محبت سے سمجھایا ‘‘ جو اللہ کے راستے میں قدم رکھتا ہے اسے تسلیم و رضا کے اصول پر چلنا پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی ہے’’۔
فرید الدین مسعود مرشد کے فراق کا دکھ لیے غمناک آنکھوں سے واپس پلٹ گئے اور ملتان سے کھیتوال اپنی والدہ محترمہ کے پاس گئے اور انہیں ساری بات کہہ سنائی۔
قرسم خاتون ؒ نے اپنے بیٹے کی خوش بختی پر مسرور ہوتے ہوئے فرمایا
‘‘ مسعود مجھے اسی دن کا انتظار تھا اب تمہارے لیے یہ ضروری ہے کہ اپنے مرشد کی ہدایت پر خوش دلی سے عمل کرو تاکہ وہ تم سے راضی ہوجائیں’’۔
اس کے بعد ماں نے فرید الدین مسعود کو اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا ۔ فرید نگر نگر ، بستی بستی، شہر شہر گھومتے رہے۔ قدرت کے عجائبات دیکھتے رہے۔ صوفیوں، بزرگوں ، دانشوروں اور علماؤں سے ملاقاتیں کیں ، دنیا کی مختلف طرز معاشرت کا مشاہدہ کیا اس دوران بہت سے عجیب واقعات بھی پیش آئے۔ بخارا میں حضرت اجل شیرازی کی خدمت میں حاضری دی اور ان سے فیض پایا ، بغداد پہنچ کر حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی صحبت میں رہے، پھر آپ یہاں سےسیستان تشریف لے گئے۔ یہاں آپ حضرت روحدالدین کرمانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
سیستان کی ایک خانقاہ میں قیام کے دوران ایک دن بابا فرید ؒ اور دوسرے حضرات مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کرامات کا تذکرہ چل پڑا جس کے بعد خانقاہ کے صاحب ہنر اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے لگے فرید دلچسپی سے ان محیر العقول کمالات کو دیکھنے لگے کہ خانقاہ کے ایک بزرگ بابا فرید سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ
‘‘فرید تم نے تو بہت سیاحت کی ہے بہت بزرگوں سے ملے ہو تم بھی کوئی کمال دکھاؤ’’۔
بابا فرید یہ سن کر کچھ پریشان سے ہوگئے ۔ سب کی نظریں بابا فرید پر ٹھہر گئیں، بابا فرید آنکھیں بند کرکے اللہ سے دعا مانگنے لگے کہ ‘‘یا اللہ تو اپنے بندوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ یہ سب اہلِ علم اور اہلِ کمال ہیں بہت سے روحانی کمالات رکھتے ہیں تو اس کڑے موقع پر مدد فرما ’’۔
ابھی بابا فرید ؒ آنکھیں بند کیے دعا مانگ رہے تھے کہ تصور میں مرشد حضرت شیخ بختیار کاکی ؒ کا چہرہ روشن ہوگیا۔ آپ ؒ نے فرمایا ‘‘ فرید آزردہ کیوں ہوتے ہو وہ اللہ جو تمہیں سلطان الہند ؒ کے آستانہ تک لے آیا ۔ اب وہی تمہاری مشکل کشائی کرے گا۔ ان بزرگوں سے کہو کہ آنکھیں بند کرلیں’’۔
بابا فرید ؒ نے گھبراکر آنکھیں کھول دیں تو خانقاہ کے بزرگ نے کہا
‘‘ کیا ہوا فرید کیا ابھی اس منزل تک نہیں پہنچے ہو؟’’
بابافرید نے کہا ‘‘ حضرت منزل تو میری بہت دور ہے۔ فی الحال تو آپ سب ایسا کریں کہ اپنی آنکھیں بند کرلیں دیکھیں اللہ کیا ظاہر کرتا ہے’’۔
ان حضرات نے جب اپنی آنکھیں بند کیں تو انہوں نے خود کو بابا فرید کے ساتھ بیت اللہ شریف میں دیکھا۔ کچھ دیر بعد ان بزرگوں نے اپنی آنکھیں کھول دیں وہ سب حیرت کے عالم میں تھے پھر خانقاہ کے ایک بزرگ نے مسرور لہجے میں فرمایا
‘‘فرید اس نوعمری میں تمہیں یہ اعلیٰ مقام مبارک ہو’’
فریدالدین نے عاجزی سے سرجھکالیا اور انہیں کیا بتاتے کہ یہ سب کس کی کرشمہ سازی تھی۔
آپ نے تقریباً پانچ سال قندھار ، غزنی ، بغداد، سیستان ، بدخشاں اور یروشلم وغیرہ میں گزارے۔ نیشاپور میں نامور بزرگ حضرت شیخ فریدالدین عطار سے ملاقات کی ۔ واپسی پربخارا میں چند روز حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ کی خانقاہ میں گزارے۔ سیاحت کے مراحل طے کر کے آپ وطن واپس اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
کچھ دن بعد بابا فرید ؒ اپنی والدہ سے اجازت لے کر اپنے مرشد حضرت قطب سے ملنے دہلی روانہ ہوئے ، دہلی آکر آپ لوگوں سے حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی خانقاہ کا پتہ معلوم کرتے کرتے اس مقام پر پہنچے جہاں خانقاہ واقع تھی۔ جب خانقاہ پر نظر پڑی تو ہوش و حواس جاتے رہے اور بے خودی میں خانقاہ کے دروازے کے سامنے دست بستہ سر جھکائے کھڑے ہوگئے۔ کافی دیر اسی طرح کھڑے رہنے کے بعد حواس مجتمع کرکے لرزتے قدموں سے خانقاہ میں داخل ہوئے اس وقت حضرت قطب ؒ درس دے رہے تھے اور دربارِ معرفت میں اپنے وقت کے مشہور صوفی بزرگ جن میں حضرت قاضی حمید الدین ناگوری ؒ، مولانا شمیم الدین ترک ؒ، شیخ نظام الدین ؒ ضیاء الدین رومیؒ، بدرالدین غزنویؒ، حضرت برہان الدین بلخیؒ، خواجہ محمود، علاؤ الدین کرمانیؒ اور دوسرے اہلِ تصوف موجود تھے۔ بابا فرید وہاں جاکر کھڑے ہوگئے اور حضرت قطب ؒکو وارفتگی سے دیکھنے لگے۔
حضرت قطبؒ نے ایک نظر بابا فرید کو دیکھا اور دوبارہ درس میں مشغول ہوگئے۔
بابا فرید ؒ کے ذہن میں یہ خیال بجلی بن کر گرا کہ شاید شیخ نے آپ کو پہچانا نہیں اس خیال نے ذہن کو تہہ و بالا کردیا۔ غم کی لہر نے اردگرد سے بے نیاز کردیا۔
درس ختم ہوا تو حضرت قطب ؒ نے بابا فرید کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے فرمایا
‘‘فرید ! سب کام مکمل کرکے آئے ہو’’۔
یہ سن کر بابا فرید ؒ آگے بڑھے اور شیخ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگے اور کہنے لگے کہ ‘‘ آپ مجھے نہ پہچانتے تو میں کہاں جاتا ’’ حضرت قطبؒ نے بابا فرید کو دوبارہ بیعت کیا اور پھر دہلی میں غزنی دروازے کے قریب ایک برج میں آپ کو ٹھہرایا گیا۔ کچھ عرصے بعد بابا فرید مرشد کامل کی اجازت سےہانسی چلےگئی۔ لیکن دہلی آتے جاتے رہتے۔

فرید گنج شکر

حضرت بابا فرید الدین ؒ کے گنج شکر لقب کی ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ مرشد کے حکم پر آپؒ مسلسل روزے رکھ رہے تھے۔ حضرت قطب ؒ نے آپ ؒ سے فرمایا تھا کہ جو غیب سے ماحضر آئے اس سے افطار کرلینا۔ غیب سے رزق کے انتظار میں حضرت بابا فرید ؒ کی نقاہت اس قدر بڑھ گئی کہ بے خودی میں کنکر کے ذرے اُٹھا کر منہ میں ڈال لیے لیکن وہ کنکر آپؒ کو شکر کی طرح محسوس ہونے لگے۔ آپؒ نے گھبرا کر انہیں تھوک دیا۔ پھر شیخ کا حکم یاد آیا کہ غیب سے جو ملے افظار کرلینا تو آپؒ نے اس کو غیبی رزق سمجھتے ہوئے افطار فرمالیا۔
دوسرے دن اپنے شیخ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کو یہ واقعہ سنایا تو حضرت قطبؒ نے مسرور ہوتے ہوئے فرمایا ‘‘ فرید وہ کنکر ہی تھے مگر تمہارے منہ میں پہنچ کر اپنی خاصیت تبدیل کرلیتے خدا نے تمہیں گنج شکر بنادیا ہے’’۔
اس کے بعد بابا فرید کی روحانی فیوض و برکات کی منتقلی کا دور شروع ہوا اور بابا فرید سلوک کے مدارج طے کرتے ہوئے کمالِ ولایت تک جا پہنچے۔
صرف تیس سال کی عمر میں آپ ؒ کو سلسلۂ چشتیہ کی خلافت بخش دی گئی۔
ہانسی میں آپ ہمہ وقت تبلیغ اسلام اور خدمت خلق میں مصروف رہنےلگی۔ آپ کو دہلی سے آئےابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قطب العالم کا انتقال ہو گیا ہے، بیدار ہوتے ہی دہلی روانہ ہو گئے ۔
دہلی پہنچ کر معلوم ہوا کہ پیر و مرشد نے وصال سے قبل اپنا خرقہ ، عصا، نعلین ، مصلی اور دیگر تبرکات حضرت قاضی حمید الدین ناگوری ؒ کے سپرد کیے اور وصیت کی کہ میرا جانشین فرید الدین مسعود ہو گا اور یہ سب تبرکات اسی کو دے دیے جائیں۔
حضرت بابا فرید ؒ نے پیر و مرشد کے مزار اقدس پر حاضری دی ۔ بعد ازاں قطب الدین بختیار کاکی کے سب خلفا اور ارباب صحبت جو دہلی میں موجود تھے جمع ہوئے اور سب نے حضرت حضرت بابا فرید ؒ کو حضرت قطب الدین بختیار کاکی کا جانشین تسلیم کیا۔ اسی محفل میں تمام تبرکات حضرت بابا فرید ؒ کے سپرد کیے گئے۔
دہلی میں حضرت بابا فرید ؒ نے اپنے مرشد گرامی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ رات دن عبادت الہی میں مشغول رہتے اور صرف نماز جمعہ کے لیے حجرہ سے باہر تشریف لاتے۔ ایک جمعہ کو حجرہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک درویش باہر کھڑا ہے اس نے حضرت بابا فرید ؒ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا
‘‘شیخ عالم ! ہانسی کے لوگ آپ کی جدائی میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں، کرم فرمائیے اور ہانسی کو پھر اپنے قدم مبارک سے مشرف فرمائیے”
حضرت بابا فرید ؒ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ہانسی جانے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ اس سے لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نے آپ سے دہلی ہی میں قیام کرنے کی درخواست کی لیکن بابا فرید ؒ نے فرمایا: “دہلی کی نسبت ہانسی کو میری زیادہ ضرورت ہے ۔ اس لیے میرا وہاں جانا ضروری ہے”۔
ہانسی میں ایک مدت تک قیام فرما رہے ۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت بابا فرید ؒ کے وجود مسعود سے خوب خوب فیض اٹھایا ۔ شیخ جمال الدین ہانسوی عرصہ سے وہاں مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول تھے ۔ حضرت بابا فرید ؒ نے اپنی باطنی توجہ سے انہیں درجہ کمال تک پہنچا دیا اور جب ہجوم خلق حد درجہ بڑھا تو شیخ جمال الدین ہانسوی کو اپنی سند خلافت دیکر انہیں ہانسی میں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی اور خود اجودھن (پاک پتن ) کی طرف چل پڑے ۔ یہ علاقہ مدت سے باران رحمت کا منتظر تھا۔ ہانسی سے روانگی کے بعد بابا فرید پہلے فریدکوٹ پہنچے جہاں آپ کی ملاقات حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سے ہوئی جو اس وقت نوجوان تھے، جو بعد میں آپ کے مرید خاص اور خلیفہ بنے۔
بابا فرید ؒ پہلے کھتوال پہنچے اور اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں رہنے لگے ، لیکن خلقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے ٹوٹی پڑتی تھی۔ آپ طبعاً عزلت پسند تھے ۔ جب ہجوم خلق سے بیزار ہو گئے تو ایک روز والدہ صاحبہ سے اجازت لے کر کھتوال سے چل پڑے۔ پھرتے پھراتے ایک غیر معروف قصبہ اجودھن میں پہنچے۔ اجودھن ان دنوں جنگلوں سے گھرا ہوا تھا۔ قصبہ کے اطراف میں دور تک چند بستیاں تھیں۔ آپ نے دارالحکومت یا کسی بڑے شہر کی بجائے اس سنسان بے آباد دور افتادہ اور پسماندہ علاقے اجودھن کو اپنے قیام کے لیے پسند فرمایا۔ غرض اجودھن سے باہر مغرب کی سمت ایک درخت کے نیچے بابا فرید ؒ نے اپنا مصلی بچھایا اور یاد الہی میں مشغول ہو گئے۔
ایک دن آپ درخت کے نیچے بیٹھے تھے کہ ایک ہندو گوالن کا ادھر سے گزر ہوا۔ وہ آپ کو دیکھ کر رک گئی اور غور سے آپ کو گدڑی سیتے ہوئے دیکھنے لگی۔
آپ نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے !….اس نے بتایا کہ وہ گوالن ہے ۔ روز دودھ بیچنے جاتی ہے۔
وہ آپ کی شفقت سے اتنی متاثر ہوئی کہ ایک پیالہ دودھ روزانہ آپ کے لیے لاتی۔ کچھ دیر بیٹھتی اور پھر اپنی راہ ہولیتی۔ آپ کی باتوں سے اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ بابا جی اللہ کے لیے گھر بار چھوڑ کر جنگل میں بیٹھ گئے ہیں، اللہ ان کی ضرورسنتا ہوگا۔ ایک روز وہ بڑی پریشانی میں آئی اور اپنے حالات بیان کرنے لگی۔ بابا جی، میں بہت پریشان ہوں ۔ آپ میرے لیے دعا کریں ۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک جوگی آکر ٹھہرا ہے اس کے شاگرد مجھ سے دودھ لیتے ہیں لیکن قیمت نہیں دیتے۔ میں غریب عورت ہوں۔ بڑا گھاٹا اُٹھانا پڑرہا ہے۔ وہ جوگی مجھ سے کہتے ہیں کہ اگر میں انہیں دودھ نہیں دوں گی تو میرے سارے مویشی مر جائیں گے۔
بابا فرید نے فرمایا‘‘تم صبر سے کام لو۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ضروری ہو ا تو ہم انہیں سمجھا بھی دیں گے‘‘۔
ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ چند جوگی اس عورت کو ڈھونڈتے ہوئے آنکلے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ وہ کسی مسلمان فقیر کے پاس بیٹھی ہے تو ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ عورت گھبرا کر اُٹھنے لگی لیکن بابا فرید الدین ؒنے اشارے سے اُسے بیٹھنے کا حکم دیا۔ وہ ڈرتے ڈرتے بیٹھ گئی لیکن اتنی خوف زدہ تھی کہ کبھی جوگیوں کی طرف دیکھتی تھی کبھی بابا کی طرف دیکھ لیتی تھی۔ ‘‘اس عورت کو آج میں نے یہیں بٹھالیا ہے۔ تم بھی بیٹھ جاؤ’’۔ آپ نے نہایت نرمی سے فرمایا تھا۔ لیکن آپ کے الفاظ میں ایسی تاثیر تھی کہ وہ جوگی صابن کے جھاگ کی طرح زمین پر بیٹھ گئے۔
جب یہ جوگی بہت دیر تک اپنے ڈیرے پر نہیں پہنچے تو ان کا گروُ ڈھونڈنے کے لیے نکلا اور یہ دیکھ کر غصے سے پاگل ہوگیا کہ اس کے چیلے کسی مسلمان کے پاس اس طرح ساکت بیٹھے ہیں جیسے پتھر کے ہوں۔
اسے غصہ آیا اور بابا فرید ؒ کو نقصان پہنچانے کے لے کوئی منتر پڑھنے لگا۔ لیکن اس کا ہر منتر بے کار جارہا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ اس مسلمان فقیر میں ایسی کون سی طاقت ہے جو اس کے منتر وں کو ناکارہ بنارہی ہے۔ یقینا یہ کوئی مجھ سے بڑا جادوگر ہے۔
جب اس کے تمام منتر بے کار ہوگئے تو اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی اور آپؒ کے قدموں میں گر کر اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے التجا کرنے لگا
‘‘میرے ساتھیوں کو چھوڑدو ورنہ یہ زندگی بھر یونہی بیٹھے رہیں گے‘‘۔
‘‘تم جوگی ہو۔ کیوں لوگوں کو ناحق پریشان کرتے ہو۔ اب میں دو باتیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔ اسلام قبول کرکے ہمارے ساتھ رہو یا پھر اس شہر سے دور چلے جاؤ۔’’ حضرت بابا فرید الدین ؒ کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے تمام چیلوں کو جیسے ہوش آگیا۔ گرو سمیت سب نے معافی طلب کی۔ انہوں نے اسلام تو قبول نہیں کیا لیکن اپنے وعدے کے مطابق اجودھن سے کوچ کر گئے۔
گوالن اس تمام کاروائی کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ جب آپ کے پاس سے اُٹھ کر گئی تو اس واقعے کے سوا اس کی زبان پر کوئی اور بات تھی ہی نہیں۔ لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے یہی دیکھا کہ جوگی اجودھن چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اس واقعے کا ایسا چرچا ہوا کہ ہر شخص کی توجہ آپ کی طرف مبذول ہونے لگی۔ بے شمار لوگ آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے۔
بابا فرید ؒ کی شبانہ روز کوشش سے اجودھن (پاک پتن )میں دین ِاسلام کی روشنی پھیلنے لگی۔ عقیدت مندوں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی تو بعض کوتاہ اندیش محض حسد و بعض کی وجہ سے بابا فرید ؒ کی مخالفت کرنے لگے۔
ان مخالفوں میں سب سے پیش پیش اجودھن کا قاضی تھا۔ جس نے پہلے تو حکومت کے کارندوں کو بابا فرید ؒ کو ستانے پر اکسایا ادھر بابا فرید ؒ کی وسیع القلبی کا یہ عالم تھا کہ وہ مخالفوں کی حرکات کو مطلق خاطر میں نہ لاتے تھے اور اپنا دل میلا نہ کرتے تھے۔بابا فرید ؒ کی اس شانِ بے اعتنائی سے قاضی کا غصہ اور بھڑک اٹھا اور اس نے بابا فرید ؒ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس نے ملتان کے علما ء کو آپ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی مگر علمائے ملتان نے آپ کے خلاف کی جانے والی ہر بات کو رد کردیا اور قاضی کو کہا کہ تم نے ایک ایسے درویش خدا مست کا نام لکھا ہے جو کہ از خود علوم شریعت کا عالم ہے ۔ ہماری کیا مجال کہ اس کے قول و فعل پر اعتراض کریں۔
قاضی کا یہ حربہ ناکام ہوا تو اس نے ایک شخص کو بابا فرید ؒ کے قتل پر آمادہ کیا۔ یہ شخص کپڑوں کے نیچے اپنی کمر میں ایک تیز دھار چھرا چھپا کر آپ کے آستانے پر پہنچا۔ بابا فرید ؒ اس وقت عبادت میں مشغول تھے۔ صرف آپ کے ایک مرید خواجہ نظام الدین آپ کے پاس موجود تھے۔ بابا فرید ؒ نے مصلّے پر بیٹھے ہوئے چہتاہ پھیرے بغیر دریافت فرمایا: “یہاں کوئی موجود ہے” خواجہ نظام الدین نے جواب دیا: “آپ کا غلام نظام الدین حاضر ہے” بابا فرید ؒ نے فرمایا: یہاں ایک شخص کھڑا ہے جو کانوں میں سفید رنگ کے مندرے پہنے ہوئے ہے۔ خواجہ نظام الدین نے اثبات میں جواب دیا تو بابا فرید ؒ نے فرمایا: “اس شخص کی کمر کے ساتھ چھرا بندھا ہے اور یہ میرے قتل کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے کہہ دو کہ اپنی عاقبت خراب نہ کرے ۔ ”
اس سوال و جواب سے اس شخص پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ وہ وہاں سے بھاگ اٹھا ۔
اب قاضی نے ایک پٹواری کو اکسایا ۔ جس نے بابا فرید ؒ کے فرزندوں کو ناحق ستانا شروع کیا۔ جب اس کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو صاحبزادوں نے بابا فرید ؒ سے فریاد کی ۔ بابا فرید ؒ جلال میں آ گئے اور اپنا عصا زور سے زمین پر پٹکا اور فرمایا :
“اب وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا”
اسی وقت ظالم پٹواری کے پیٹ میں درد اٹھا ۔ اسے بابا فرید ؒ کے فرزندوں پر اپنی زیادتیاں یاد آئیں ، اس نے لوگوں سے کہا ، مجھے بابا فرید ؒ کی خدمت میں لے چلو۔
اللہ تعالی نے آپ کے خلاف قاضی کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا اور رفتہ رفتہ آپ کے تمام دشمن اور حاسد خائب و خاسر ہو کر بیٹھ گئے۔
بابا فرید کی زبان میں بہت مٹھاس تھی۔ انہوں نے اپنی زبان کی مٹھاس، فلاسفی، سادگی سے یہاں کے باشندوں پر بہت مثبت اثرات ڈالے اور لوگوں کے دل جیت لئے۔ اخلاقِ کریمانہ اور اوصافِ حمیدہ میں ایسی قوت پنہاں ہے جس سے پتھروں کو موم کیا جاسکتا ہے، اجودھن کی آبادی تو پھر گوشت پوست کے انسانوں پر مشتمل تھی۔
بابا فریدالدین ؒ حسنِ اخلاق کا ایسا نمونہ تھے کہ آپ کا مخالف بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہتا تھا۔ جو آپ سے ایک بار مل لیتا، آپ کی نرم گفتاری کا عاشق ہوکر آپ کے پاس سے اُٹھتا۔
آپ جب اجودھن میں تشریف لائے تھے۔ ابتداء میں آپ اور آپ کے ساتھیوں نے نہایت کمسپرسی کے ساتھ گزارہ کیا لیکن آپ کے حسنِ اخلاق نے کئی اہلِِثروت کو بھی آپ کا مطیع بنادیا۔ خانقاہ آنے والوں کے لیے لنگر جاری ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے انہوں نے اجودھن فتح کرلیا ہے۔
آپ نے اجودھن (پاک پتن )میں رشد و ہدایت کی وہ شمع روشن کی جس نے پورے جنوبی پنجاب کو منور کر دیا اور اسی شمع کی کرنوں سے حضرت نظام الدین اولیاءاور حضرت صابر کلیر شریف نے دہلی اور برصغیر کو منور کیا۔ بابا فرید ؒ کی نظر کیمیا اثر نے جہاں گم کردہ راہوں کو دین کے دامن سے وابستہ کیا، وہیں غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد آپ کی تبلیغ کے نتیجے میں دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوکر دینِ مبین کی داعی بنی۔
ہر انسان کو جو اس دنیا میں آتا ہے مقررہ وقت کے بعد اس دنیا سے جانا ہوتا ہے اس تقاضائے فطرت کے تحت آپ ؒ ضعیف العمری میں کچھ عرصہ علالت کے بعد اپنے محبوب خداوند تعالیٰ سے جا ملے۔ آپ کا سن وفات 1266ء (666ھ ) ہے۔ آپؒ کا عرس ہر سال پانچ محرم الحرام کو پاک پتن میں روایتی ادب و احترام سے منایا جاتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے