حضرت سلطان باہوؒ کے حالات زندگی اور کرامات

سلطان باہو مزار

برِ صغیر پاک وہند میں دینِ اسلام کی ترویج و ترقی میں مسلم صوفیائے کرام ؒ  کا کردار روشن اور نمایاں ہے۔ ان صوفیائے کرامؒ میں ایک نام حضرت سلطان العارفین سلطان محمد باہوؒ  کا بھی ہے۔ سلطان باہو اپنے عہد کے کامل بزرگ اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں۔

حضرت سلطان باہوؒ  کے والدین کا تعلق قبیلۂ اعوان سے تھا۔ آپ کا خاندان پشت درپشت  سلطنت دہلی کے دربار سے منسلک رہا ۔

حضرت سلطان باہوؒ کے والد بازید محمد اعوان بھی مغل بادشاہ شاہجہان کے لشکر میں   اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور اپنی  جرات مندی اور شجاعت کی وجہ سے مشہور تھے۔  بازید محمد نے اپنی پوری جوانی فوج  میں بسر کی اور ڈھلتی عمر میں شاہی دربار چھوڑ کر  شورکوٹ  (جھنگ )میں قیام پذیر ہوئے۔

آپ کی شادی  ایک عارفہ کاملہ خاتون راستی بی بی سے ہوئی۔   حضرت سلطان باہو  کی ولادت  یکم جمادی الثانی 1039ھ  (17 جنوری 1630ء ) کو ہوئی ۔ والدین نے آپ ؒ  کا نام‘‘سلطان محمد باہو’’ تجویز کیا۔ ‘‘باہو’’ کا مطلب ہے جو اﷲ کے ساتھ ہو  یا جس کے ساتھ اﷲ ہو۔

سلطان باہو  نے ظاہری علوم کا اکتساب باقاعدہ اور روایتی اندز میں نہیں کیا بلکہ زیادہ ترابتدائی تعلیم اپنے والد اور والدہ سے حاصل کی ۔ان کے  لڑکپن میں ہی والد کا انتقال  ہوگیا۔  نوجوانی کے دور میں داخل ہوتے ہی  آپ نے مرشد کی تلاش شروع کردی۔ اس زمانے میں تو شہروں اور آبادیوں کی اس قدر بہتات نہ تھی۔ کہیں کہیں شہر اور آبادی نظر آتی تھی۔ آپ قریہ قریہ میں سفر کرتے ہوئے مرشد کو تلاش کرتے رہے۔ اسی مسافرت کے دوران آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت شاہ حبیب اﷲ قادریؒ جو بہت بلند مرتبہ ولی کامل ہیں دریائے راوی کے کنارے مقیم ہیں اور لوگوں کو ان سے فیض حاصل ہوتا ہے۔ جب آپ شاہ صاحب کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک دیگ کے نیچے آگ جلا رکھی ہے۔ یعنی اس دیگ میں پانی ہر وقت گرم رہتا ہے۔ جو بھی طالب حق آتا ہے  شاہ صاحب اس کو اس دیگ میں ہاتھ ڈالنے کا حکم دیتے ہیں اور وہ اپنے ظرف کے مطابق فیض حاصل کرتا ہے۔ کچھ روز حضرت سلطان باہوؒ یہ سب کچھ ملاحظہ فرماتے رہے پھر آپ شاہ صاحبؒ  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے آنے کامدعا بیان کیا۔ شاہ صاحب نے بذریعہ کشف معلوم کرلیا کہ یہ نووارد کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجودفرمایا کہ :

‘‘کیا تم نے دیگ میں ہاتھ ڈالا’’۔

آپ نے عرض کیا‘‘حضرت صاحب! میں نے دیگ میں ہاتھ ڈالنے والوں کا حال دیکھا مگر میری طلب تو اس سے پوری نہیں ہوتی’’۔

شاہ صاحب نے فرمایا ‘‘اچھا ٹھیک ہے ۔ تم ایسا کرو ابھی کچھ دن یہاں پرقیام کرو اور تمہارے ذمہ مسجد میں پانی کا انتظام کرنا ہے’’۔

مسجد کے کنارے ایک کنواں تھا، اس میں سے ڈول بھر بھر کر پہلے تو مشک میں ڈالا جاتا اور اس کے بعد مسجد کے صحن میں موجود حوض جو وضو کے لیے ہوتا ہے اس کو بھرا جاتا تھا۔ اسی طرح مسجد میں موجود طہارت خانوں کی ٹینکی کو بھی بھرا جاتا تھا۔ یہ کام خاصا دقّت طلب تھا اور یقینی طور پر ایک آدمی کے بس کابھینہیں تھا۔

حضرت سلطان العارفین ؒ نے فقط ایک ہی مشک بھری اور اس مشک کے پانی سے مسجد کے صحن میں واقع حوض اور حمام لبالب بھر گئے ۔ شاہ صاحبؒ  کے خدام نے جب یہ واقعہ ملاحظہ کیا تو بھاگم بھاگ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ماجرا کہہ سنایا۔ شاہ صاحب نے ان سے کہا کہ اس نو وارد کو میرے پاس حاضر کرو۔  اب حضرت حبیب اﷲ شاہ ؒ  کو بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ یہ کوئی عام طالبِ علم نہیں بلکہ فقر کی کافی منازل طے کرچکا ہے۔ انہوں نے آپ سے فرمایا کہ

‘‘اے باہو! تم جس نعمتِ الٰہی کے حقدار ہو وہ تو ہمارے امکان سے باہر ہے۔ البتہ ہم تمہیں اس سلسلہ میں یہ ضرور بتلائیں گے کہ تم کو یہ فیض کہاں سے مل سکتا ہے۔ تم میرے شیخ طریقت حضرت سید پیر عبدالرحمن دہلوی قادری ؒ کے پاس چلے جاؤ۔  اُمید ہے کہ تم گوہر مقصود حاصل کرلو گے’’۔

آپؒ عازمِ دہلی ہوگئے۔اُدھر دلّی میں آپؒ کی آمد سے قبل ہی حضرت عبدالرحمن قادریؒ نے اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ اِس حلیہ کا ایک شخص تمہیں فلاں جگہ ملے گا تم بڑی عزت کے ساتھ اس کو میرےپاسلےآنا۔

سلطان محمدؒ دہلی کے قریب پہنچے تو وہ خادم آپؒ  کو ملا۔  اس  نے آپؒ  کو سلام عرض کیا اور شیخ   ؒ کا حکم سنایا۔ آپ تو آئے ہی اس مقصد کے لیے تھے۔ آپ نے اس کو ایک سعادت خیال کیا اور اس خادم کے ساتھ خاموشی کے ساتھ چل دئیے۔

جب سلطان العارفین ؒ ،  خانقاہ میں شیخ  ؒکی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپؒ  کو  بڑی گرمجوشی سے اپنے گلے لگایا۔ چند روز بعد حضرت شیخ عبدالرحمن قادری  ؒنے بعد از بیعت آپ کو چند ہدایات دیں اور رخصت کی اجازت مرحمت فرمادی۔  مرشد سے رخصت ہوکر آپ نے دہلی کی سیر شروع کی۔ساتھ ہی ساتھ آپ نے بطورِ آزمائش محض دیکھ کر لوگوں کو پریشانیاں بتلانا شروع کیں اور ان کا تدارک بھی فرمانا شروع کیا۔ بہت ہی جلد آپ کی شہرت پورے دہلی شہر میں پھیل گئی۔ پریشان حال لوگوں نے جوقِدرجوق آپ کے پاس آکر فیض حاصل کرنے لگے۔

اس سے قبل ایک دور کا ذکر ہے۔  حضرت سلطان باہوؒ  کھیتی باڑی میں مصروف تھے۔ پنجاب کے کسی دور  دراز علاقے میں ایک شریف شخص رہا کرتا تھا جس کی کئی بیٹیاں تھیں جو شادی کے قابل ہوگئی تھیں وہ شخص اپنے گھرانے کا بھرم رکھنے کے لیے اُجلا لباس پہنتا تھا جسے دیکھ کر اہلِ محلّہ سمجھتے تھے کہ وہ مالی طور پر آسودہ حال ہے۔ اس کی اسی ظاہری حالت سے متاثر ہوکر اچھے خاندان کے لوگوں نے اس کی بیٹیوں کے لیے رشتے بھیجے تھے مگر وہ اندرونی طور پر اس قابل نہیں تھا کہ بیٹیوں کی شادی کا خاطر خواہ انتظام کرسکے۔ آخر ایک دن وہ اپنے مسائل سے پریشان ہوکر کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

‘‘شیخ ! میں نے بہت اچھا وقت گزارا ہے مگر اب سفید پوشی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک مالدار شخص ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی سرمایہ جمع نہیں کرسکا ۔ میں اپنی زندگی تو گزار چکا مگر بیٹیوں کا فرض ابھی ادا کرنا ہے۔ قرض خواہ ہر وقت دروازے پر کھڑے رہتے ہیں اب آپ ہی میرے حق میں دعا فرمائیے کہ اﷲ مجھے ان مشکلات سےنجات دے’’۔

بزرگ کچھ دیر تک سیّد زادے کی حالت زار پر غور کرتے رہے پھر معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگے۔ ‘‘تمہارے مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ہے’’۔

‘‘میں تو دعا کے لیے درخواست کررہا ہوں’’۔ سیّد زادے نے اُداس لہجے میں عرض کیا۔

‘‘اب دعا ہی تمہاری دوا ہے….اور میری دعا میں اتنی تاثیر نہیں ہے کہ وہ تمہارے سر اور گھر سے گردشِ وقت کو ٹال دے’’۔ بزرگ نے صاف صاف کہہ دیا۔

‘‘میں نے تو لوگوں سے آپ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے’’۔ بزرگ کا انکار سن کر سیّد صاحب مزید دل شکستہ نظر آنے لگے۔

‘‘وہ لوگوں کا حسنِ ظن ہے مگر میں تمہیں حقیقت بتا رہاہوں’’۔ بزرگ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ‘‘مگر میں تمہیں ایک ایسے شخص کا پتہ دیتا ہوں جس کی زبان میں بہت تاثیر ہے وہ مرد حق دریائے چناب کے کنارے قصبہ شور کوٹ میں رہتا ہے۔ اس کے آستانے پر حاضری دو۔ اﷲ تمہاری مشکل آسان کرے گا’’۔

ان صاحب کے چہرے سے کچھ دیر کے لیے رنج والم کا غبار دھل گیا اور وہ تیز آندھیوں میں اُمید کا چراغ جلائے ہوئے شور کوٹ پہنچے۔

اس وقت حضرت سلطان باہوؒ سادہ لباس میں ملبوس اپنی زمین پر ہل چلارہے تھے۔ اگر کوئی اجنبی شخص،  حضرت شیخ  ؒ کو اس حالت میں دیکھتا تو یہی رائے قائم کرتا کہ یہ محض ایک  کسان ہیں۔ ان  صاحب نے بھی حضرت سلطان باہوؒ کے بارے میں یہی سوچا اور دل ہی دل میں افسوس کرنے لگے۔

‘‘میرا سفر رائیگاں گیا، جو شخص خود اتنا پریشان حال ہو، وہ کسی دوسرے کی کیا مدد کرسکتا ہے’’۔ یہی خیال کرکے وہ صاحب واپس جانے کے لیے مڑے۔

ابھی وہ چند  قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ حضرت سلطان باہوؒ  کی صدائے دل نواز سنائی دی ۔

‘‘محترم جناب….! اتنا طویل سفر اختیار کیا اور موسم کی سختیاں برداشت کیں پھر بھی ہم سے ملاقات کیے بغیر واپس جارہے ہو….؟’’

اپنا نام سن کر وہ  صاحب حیرت زدہ رہ گئے۔   بڑی عقیدت کے ساتھ حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں سلام پیش کیا اور سفر کی وجہ بیان کرنے لگے۔

حضرت سلطان باہوؒ نے بہت غور سے ان  کی درخواست سنی پھر نہایت شیریں لہجے میں فرمانے لگے‘‘تم میرا کام کردو، میں تمہارا کام کیے دیتا ہوں اس لیے کہ کام کا بدلہ کام ہے’’۔

انہوں نے بڑی حیرت سے حضرت سلطان باہوؒ کی طرف دیکھا ‘‘شیخ ! ایک سوالی آپ کے کیا کامآسکتاہے….؟’’

‘‘میں اپنے ایک ضروری کام سے فارغ ہوکرابھی آتا ہوں جب تک تم میرا ہل چلاؤ، بس یہی کام ہے’’۔ اتنا کہہ کر حضرت سلطان باہوؒ  تشریف لے گئے۔

اس دوران وہ  صاحب ہل چلاتے رہے۔ حضرت سلطان باہوؒ  کو دیکھ کر انہیں یقین سا ہوگیا تھا کہ وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے۔

تھوڑی دیر بعد حضرت سلطان باہوؒ واپس آئے اور اپنے سامنے پڑا ہوا مٹی کا ایک ڈھیلا اُٹھا کر زمین پر ماردیا۔ انہوں نے حضرت سلطان باہوؒ کے اس عمل کو بڑی حیرت سے دیکھا مگر دوسرے ہی لمحے ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں اردگرد کے سارے ڈھیلے سونابن گئے تھے۔

‘‘سید! اپنی ضرورت کے مطابق سونا اُٹھالو’’۔ حضرت سلطان باہوؒ نے بے نیازانہ فرمایا۔

انہوں نے سونا اُٹھالیا۔ پھر حضرت سلطان باہوؒ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے بڑی وارفتگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا   ؎

نظر جنہاں دی کیمیا، سونا کردے وٹ

قوم اتے موقوف نہیں، کیا سیّد کیا جٹ

‘‘جن لوگوں کی نگاہ کیمیا اثر ہے، وہ ایک ہی نظر سے مٹی کو سونا بنادیتے ہیں ۔

یہ ذاتِ الٰہی کا فیض ہے جو کسی قوم پر موقوف نہیں، خواہ وہ سیّد ہو یا جٹ’’۔

حضرت  سلطان العارفینؒ زیادہ تر مستغرق رہتے تھے۔ ذکر ہمیشہ آپ کے قلب میں جاری رہتا تھا۔  آپ بہت ہی کم کسی ایک جگہ پر قیام پذیر رہے۔  آپ کے سفر کے تفصیلی حالات امتداد زمانہ کی وجہ سے ناپید ہوچکے ہیں۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ میں 30برس تک مرشد کامل کی طلب میں رہا۔ دہلی میں مرشد سے ملاقات اور بیعت کے بعداپنے آبائی وطن شور کوٹ تشریف لے آئے اور متلاشیانِ حق کو فیوض و برکات سے نوازنے لگے۔

سلطان باہو کےسینےمیں روحانی علم کا ایک سمندر موجزن تھا۔ فقر،  تصوف،  معرفت پر آپ کےملفوظات کا ذخیرہ ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ شریعت،  طریقت اور حقیقت جیسےمشکل اور نازک موضوعات پر کئی  تصانیف ان سےمنسوب ہیں۔

آپ نے اپنی باطنی دولت اور روحانی نعمت کو کتابوں  کی صورت میں قلمبند فرمایا اور اس طرح اپنے باطنی فیض کو طالبانِ حق اور صادقوں  کے لیے عامفرمادیا۔   حضرت سلطان باہونے  تقریباً 140کتابیں تصنیف کیں ۔ جن میں بہت سی کتابیں امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں ناپید ہیں ۔ تاہم اب بھی آپ کی بہت سی کتابیںدستیاب ہیں ۔

سلطان باہو  لوگوں  کو عبادت وریاضت کا درس دیا کرتے ۔ اکثر یہ فرمایا کرتے کہ:

‘‘ تم لوگ اپنی اصلاح کرو اور کرامات کے چکر میں  مت پڑو۔ کیونکہ اس طرح تم قصے کہانیوں  میں  مشغولہوجاؤ گے’’۔

مزید  فرمایا کہ

‘‘اگر تو ہوا میں  اُڑے تو ایک مکھی کی طرح ہے اور اگر پانی پر چلے تو ادنیٰ تنکے کے برابر ہے اور اگر لوگوں  کے دلوں  کو  اپنی کرامات سے اپنی طرف راغب کرے تو یہ اہلِ ہوس کینشانی  ہے’’۔

سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں :

‘‘مراقبہ کیا ہے؟…. اور مراقبہ سے کیا حاصل ہوتا ہے؟…. مراقبہ وہی ہے جو رقیبوں  سے دور کرکے وحدت الٰہی میں  پہنچائے۔ مراقبہ محبت الٰہی کا دوسرا نام ہے۔ جو استغراقِ مقامِ حی قیوم کا رہنما ہے اور اُس سے مقامِ موتو قبل ان تموتوا  (یعنی موت سے پہلے موت کے عالم سے واقف ہوجاؤ) حاصل ہوتا ہے’’….

حضرت سلطان باہو ؒفرماتے ہیں :

‘‘واضح رہے کہ شاعروں  کے علم کا تعلق شعور سے ہے جبکہ اﷲ والوں  کا علم ‘‘علمِ لدنّی‘‘ ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص اولیاء اﷲ کی تصنیفات کا غیر جانبدار ہوکر گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتا رہے تو ایک وقت آئے گا کہ اُس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہ ہوگی اور اُن کی تصانیف، تحریروں  اور اقوال کی برکت سے ارادت اور زندگیٔ دل نصیب ہوجائے گی’’۔

ایک جگہ حضرت باہوؒ نے فرمایا :

‘‘دائمی ذکر کی دو علامتیں  ہیں …. ایک الا اﷲ کی معرفت میں  غرق ہونا…. دوسرے مجلس محمدیﷺ میں  حاضر ہونا….

مکمل فکر کی دو نشانیاں  ہیں …. ایک فنائے نفس…. دوسرے بقائے روح و فرحت ِروح’’….

حضرت سلطان باہوؒ مرشد کے مرتبے اور مقام کو واضح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :

‘‘ مرشد اُس ذات بابر کا ت کو کہتے ہیں  جو قلب کو زندہ اور نفس کو مُردہکردے ’’۔

حضرت سلطان باہو ؒ ارشاد فرماتے ہیں ‘‘ جب عاشق باﷲ فقیر فنا فی اﷲکے مقام پر فائز ہوتا ہے تو وہ اپنی آنکھوں  کو بند کرکے جس جگہ جانا چاہتا ہے، پہنچ جاتا ہے۔  اگر وہ اپنی ظاہری آنکھوں  کو کھول بھی لیتا ہے تو اپنے آپ کو ظا ہر و باطن میں  اُس جگہ دیکھتا ہے، جس مجلس یا جس مقام میں  چاہتا ہے، اس میں جا بیٹھتا ہے۔ ایسا بندہ طریقت میں  منتہٰی کو پہنچ جاتا ہے۔

مبتدیٔ طریقت صرف روبرو ہوکر مشاہدہ کرتاہےجبکہ منتہیٔ طریقت اپنے آپ سے بے خود ہو کر خود کو اﷲ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے اور مقام کبریا میں حق الیقین کا ادراک حاصل کرتا ہے’’۔

سلطان باہو نے جہاں  اپنی تعلیمات سے ہزاروں لوگوں کو مسلمان کیا وہاں اپنی صوفیانہ شاعری کے ذریعے ہزاروں عقیدت مندوں کو عشق حقیقی کے اسرار و رموز سے بھی آشناء کیا۔  حضرت سلطان باہو عربی فارسی کے بہت بڑے عالم تھے۔ آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب آپ کا پنجابی کلام ہے۔  آپ بظاہر فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے اور سیدھی سادھی باتیں خطیبانہ انداز میں کہے چلے جاتے۔ دنیا کی خرافات تیا گنا، تحصیلِ علم،  حسن اخلاق،  رواداری  برداشت ،  احترام ،   انسان  دوستی ،  محبت کا درس اور محبوب ازلی کا حقیقی عشق  حضرت سلطان باہوؒ کے کلام  کے اہم موضوعات ہیں۔

آپ پنجابی شاعری کی معروف صنف سی حرفی کے بانی بھی ہیں۔  آپ کے کلام میں ایک روح پرور تاثیر، مٹھاس اور چاشنی ہے۔  آپ کی شاعری میں ایک سرور انگیز ‘‘ہو’’ کی پکار  آپ کو عالمی ادب میں نمایاں حیثیت دیتی ہے اور دیگر  صوفی شعراء سے ممتازکرتی ہے ۔

الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہُو

نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہُو

اندر بوٹی مشک مچایا جان پھلاں تے آئی ہُو

جیوے مرشد کامل باہُو جہن ں اے بوٹی لائی ہُو

63سال مسیحائی کے بعد حضرت سلطان باہوؒ 1629ء میں بمطابق جمادی الثانی 1102ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ کو دریائے چناب کے کنارے موضع ‘‘قہرگان’’کے قلعے میں سپرد خاککیاگیا۔

1706ء میں دریائے چناب شدید طغیانی کی لپیٹ میں آگیا جس کے باعث آپ کے مزارِ مبارک کو نقصان کا خطرہ پیدا ہوا۔ نتیجتاً حضرت سلطان باہوؒ کے جسدِ مبارک کو بستی سمندری کے قریب منتقل کردیا گیا۔ پھر 157سال بعد 1863ء دریائے چناب میں دوبارہ خوفناک سیلاب آیا یہاں تک کہ پانی کی سرکش لہریں مزار مبارک کو چھونے لگی تھیں۔ ایک مرتبہ پھر آپ کے جسم مبارک کو منتقل کرکے گڑھ مہاراجہ (ضلع جھنگ) میں آسودۂ خاک کیا گیا۔آپ کا عرس ہر سال ضلع جھنگ کے علاقہ گڑھ مہاراجہ میں  جمادی الثانی کی پہلی تاریخ کو منایاجاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے