حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بین الاقوامی تعلقات۔

عرب

(بحوالہ: ڈاکٹر حمید اللہ)

یغمبراسلامﷺ نے صر ف دفاع کی خاطر اور وہ بھی بڑے تامل کے ساتھ ہتھیار اٹھائے تھے۔ جب اسلام کے پرانے دشمنوں کی احمقانہ معاندت ختم ہوگئی تو آپﷺ کا صرف ایک ہی کام اور ایک ہی مقصد رہ گیا کہ عرب اور دیگرممالک میں پرامن طورپر اسلام کی تبلیغ کی جائے۔
حدیبیہ سے واپسی کے بعد جب آپﷺ اہل مکہ سے پُرامن بقائے باہمی پر مفاہمت میں کامیاب رہے۔ آپﷺنے بیرونی ممالک میں قاصد روانہ کرنا شروع کردیے۔ 7ہجری میں انھوں نے بازنطینی فرمانروا، والیِ مصر، شاہِ حبشہ اور شاہِ ایران کے نام مراسلے ارسال کیے جن میں ان فرمانرواؤں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ان ممالک کی طرف بھیجنے کے لیے نبیﷺ نے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو پہلے ہی ان ممالک کا دورہ کرچکے تھے اور وہاں کی زبان کسی حد سمجھ سکتے تھے۔
رسول اﷲ ﷺ نے جن فرمانرواؤں کو خطوط ارسال کیے ان میں ہرقل معمولی گھرانے کا فردتھاجو قسطنطنیہ میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجہ میں برسرِ اقتدار آیاتھا۔ اس نے انہی دنوں ایرانیوں پر زبردست فتح حاصل کی تھی اور انہیں اپنی مملکت کے ان حصوں سے ماربھگایاتھا جس پر انہوں نے قبضہ کررکھاتھا۔ فطری طورپر شہنشاہ ہرقل، عرب کے کسی باشندے کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہوسکتاتھا جبکہ عرب کا ایک حصہ خود اس کی سلطنت کی ایک نو آبادی تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ہرقل نے اپنے ایک سردار کو محض اس لیے پھانسی دے دی تھی کہ اس نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ اس نے مسلم سفیر کو قتل کرنے والے گورنر کو پناہ دی جس نے بین الاقوامی قوانین اور اصول وقواعد کی صریح خلاف ورزی کی تھی۔ جب پیغمبر نے سفیر کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے فوجی مہم موتہ بھیجی تو ہرقل نے ایک زبردست فوج کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔اس کا رویّہ ایک بیاصول ظالم اورجابر بادشاہ کا تھا۔
ایرانیوں اور بازنطینیوں دونوں نے عرب کے اندر اور گرد ونواح میں اپنی نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ انہوں نے عربوں کو غلام بناکررکھاہواتھااور وہ ان سے دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرتے تھے۔وہ عربوں کو کمتر نسل تصور کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ نے براہِ راست یونانیوں(رومیوں) سے رابطہ پیداکرنے سے قبل ان عرب سرداروں سے رابطہ کا فیصلہ کیا۔
سینٹ پال کے دور میں عرب نا صرف دور دور تک آباد تھے بلکہ انہوں نے دمشق کے شمالی علاقہ میں چھوٹی موٹی سرداریاں بھی قائم کررکھی تھیں۔ اس وقت اس علاقے کا حکمران حارث (ارٹیس) نامی ایک شخص تھا۔ رسول اﷲﷺ کے دور میں اس علاقے میں عرب قبیلہ غسان آباد تھا جس نے عیسائیت قبول کرلی تھی۔ رسول اﷲﷺ نے اس قبیلہ کے مختلف سرداروں کے نام بھی خط بھجوائے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
نبیﷺ نے پہلا خط حارث ابن شمیر کولکھا۔مگر اس نے رسول اﷲ ﷺ کی دعوت مسترد کردی۔جلدہی اس کا انتقال ہوگیا یہ 8ہجری کا واقعہ ہے۔ پھر اس کے جانشیین جبلہ الایہم کو بھی اسی طرح کاپیغام بھیجاگیا۔ اس کے قبولِاسلام کے بارے میں متضاد روایات ملتی ہیں۔ رسولِاﷲﷺ نے حاکم بصرہ کے نام بھی اسلام کا دعوت نامہ ارسال کیا۔ یہ خط حارث ابن عمیر الازدی لیکر گئے مگر عیسائی سردار شرجیل ابن عمر و الغسانی نے رسول اﷲ ﷺ کے سفیر کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ عیسائی سردار کایہ فعل تمام بینالاقوامی اصول وقواعد کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ رسول اﷲ ﷺ نے سفیر کے قتل کا تاوان طلب کیا اور مطالبہ کیا کہ مجرم کو سزادی جائے۔ لیکن شہنشاہ ہرقل نے مسلمانوں کی چھو ٹی سی مہم کے مقابلہ میں ایک لاکھ سپاہ پر مشتمل وہ فوج روانہ کردی جو اس نے ایران کی مہم کے لئے بھرتی کی تھی اور ابھی اسے فارغ نہیں کیا گیا تھا۔رسول اﷲﷺ نے اس مہم کے لئے تین ہزار افراد پر مشتمل فوج خشکی کے راستے اور کچھ کمک سمندر کے راستے بھجوائی تھی ، مسلم فوج کا ہرقل کی فوج سے موتہ کے مقام پر مقابلہ ہوا،مسلمان دشمن کی تعداد سے خائف نہیں تھے،جنگ شروع ہوئی مسلمانوں کے دوسینئر جرنیل ،کمانڈر انچیف ،زید بن حارثہؓ ( رسول اﷲﷺ کے لے پالک صاحبزادے) اور ان کے نائب جعفر الطیارؓ ابن ابو طالب(رسول اﷲﷺ کے عم زاد) شہید ہوگئے۔ اس کے بعدفوج نے خالد ابن ولید کو سپہسالار منتخب کیا۔ انہوں نے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور اسلامی فوج کو بتدریج پیچھے ہٹالائے۔دشمن کو مسلم فوج کا تعاقب کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اسلامی فوج مدینہ میں وارد ہوئی جس کے بعد9ہجری میں رسول اﷲﷺ خود تیس ہزار افراد پر مشتمل فوج لیکر نکلے۔ راستے میں اسلامی فوج جس جگہ پڑاؤ ڈالتی، وہاں ایک مسجد تعمیر کردی جاتی۔آپﷺ نے پورے شمالی عرب اور جنوبی فلسطین پر مسلمانوں کی بالادستی قائم کرلی۔ اسلامی فوج نے دُومۃ الجندل ،مقنہ ، ایلہ ، جربا اور ازرُح پر قبضہ کرلیا۔ یہ تمام شہر باز نطینیوں نے خالی کردیے تھے۔ ان میں ایلہ کی بندرگاہ زبردست اہمیت کی حامل تھی۔ علاقہ کی عرب آبادی نے جوعیسائیت کوقبول کرچکی تھی، ظالم بازنطینیوں کے خلاف بغاوت کردی تھی، وہ روادارا ور اصول پرست مسلمانوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر خوش تھے۔ ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ مستحکم ہوگیا اور اب رومی شہنشاہ ان میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔ تاہم ابھی اسلامی مملکت کی سرحدوں کی صورت حال مستحکم نہ تھی۔ چنانچہ ڈیڑھ سال بعد ایک اور فوجی مہم روانہ کی گئی۔ یہ فوج عین اس روز روانہ ہوئی جس روز رسولِاﷲﷺ کا وصال ہوا، اس فوج کو بھیجنے کا فیصلہ رسول اﷲﷺ نے کیا تھا۔ چنانچہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرؓ نے پیغمبرخداﷺ کا فیصلہ برقرار رکھا۔فوج کا کمانڈر اسامہؓ ا بن زید کومقرر کیا گیا۔اُسامہؓ کے والد حضرت زیدؓ جنگ موتہ میں اسلامی فوج کی کمان کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ اس فوج نے اسلامی مملکت کی حدود کو مزید شمال میں وسعت دی اور جلدہی فلسطین مسلمانوں کے زیرِنگیں آگیا۔
عمان کے عرب گورنر کو بھی رسول اﷲ ﷺ نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کرلیا مگر ہر قل کے حکم سے اسے قتل کر دیاگیا۔
مصر، سلطنتِ بازنطین کا ایک حصہ تھا جب ایرانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے قبطیوں سے فیاضانہ سلوک کیا جو باز نطینی حکومت کے ’’مذہبی مظالم ‘‘ سے تنگ آچکے تھے۔ ایرانیوں نے قبطیوں میں سے ایک شخص کو ان کا حکمران بنادیا جسے مقوقس کا خطاب دیا گیا۔مقوقس کا لفظ ایرانی المخرج معلوم ہوتا ہے۔ ایرانیوں کو جب نینوا کے مقام پر ہرقل کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تو وہ مصر بھی خالی کرنے پرمجبور ہوگئے۔ غالباً یہی دور تھا جب رسول اﷲﷺ نے قبطیوں کے سردار کو خط لکھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ قبطی سردار نے رسول اﷲﷺ کے خط کا نہایت مودّبانہ جواب دیا، تاہم مقوقس کے قبولِاسلام کا مقصد حاصل نہ ہوسکا۔مقوقس نے اسلامی سفیر کو متعدد تحائف دیے۔ رسول اﷲﷺ نے مقوقس کو جو خط لکھا تھا اس کا اصل مسودہ اب تک محفوظ ہے اور ان دونوں استنبول (ترکی) کے مشہور میوزیم توپ کاپی میں موجود ہے۔
حبشہ کا علاقہ یمن کے قریب تھا ظہور اسلام سے بہت پہلے مکہ سے حبشہ کے نہایت قریبی اقتصادی تعلقات قائم تھے۔ کہا جاتاہے کہ یہودی حکمران ذُونواس نے عیسائیوں پر مذہبی اختلاف کی بنا پر اتنے مظالم کیے کہ حبشہ کے عیسائیوں نے یمن پر حملہ کردیا اور اس پر قبضہ کرلیا۔ لیکن فاتح عیسائیوں کے جرنیلوں کے درمیان حسد ورقابت کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے گلے۔ اس خُونریزی اور جنگ وجدل کے بعدابرہہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن کا گورنربن گیا۔ وہ مذہب کے معاملے میں بڑا کٹراور ہٹ دھرم تھا۔ یہ وہی ابرہہ ہے جس نے کعبۃ اﷲ کو ڈھانے کے لیے مکہ پرحملہ کیا تھا کیونکہ وہ کعبہ کوعرب میں عیسائیت کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصورکرتاتھا۔ حضوراکرم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کوخط لکھے ان میں حبشہ کا شاہ نجاشی بھی شامل تھا۔ مسلمانوں سے نجاشی کے تعلقات اس خط سے بہت پہلے سے قائم تھے۔ حضورپاکﷺ کے اعلانِنبوتﷺ سے کوئی پانچ سال بعد مکہ میں چند اہل اسلام پر اتنے مظالم ڈھائے گئے کہ انہوں نے مادرِ وطن سے ہجرت کرکے سمندر پار کے ملک حبشہ میں پناہ لینے کافیصلہ کیا۔ اگلے سال اہل مکہ نے دو سفارتیں حبشہ بھیجیں تاکہ مسلمانوں کو حبشہ سے نکال کر اہل مکہ کے حوالے کیاجائے۔ مگردونوں سفارتیں ناکام رہیں۔ جب مکہ والوں کا دوسرا وفد حبشہ گیا تو رسول اﷲﷺ نے بھی اپنا ایک سفیر حبشہ بھیجا تاکہ اہل مکہ کی سازش کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس دورکی حبشہ کی تاریخ معلوم نہیں ہوسکی، جس کے باعث یہ قطعی انداہ نہیں ہوسکتاکہ حبشہ کے جس شاہِنجاشی نے مکی مسلمانوں کو پناہ دی اور دس سال بعد جس نجاشی نے اہل مکہ کے دوسرے وفد سے ملاقات کی تھی وہ ایک شخصیت تھی یا دو مختلف افراد تھے۔قیاس کیا جاتاہے کہ یہ ایک ہی شخصیت تھی اور پیغمبرِ اسلام ﷺ سے اس کے تعلقات نہایت دوستانہ تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اسے خط لکھا تھا جس میں اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔(نبیﷺ کے اس خط کا اصل مسودہ اس وقت دمشق میں موجود ہے۔)کہاجاتاہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کرلیا تھا تاہم وہ اپنی رعایا کو قبول اسلام کی ترغیب نہیں دے سکا تھا۔ نجاشی کا قبول اسلام اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتاہے کہ امام بخاریؒ کے مطابق نجاشی کی وفات کی خبر ملنے پر رسول اﷲﷺ نے مدینہ میں اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا۔رسول اﷲﷺنے شاہ نجاشی کے جانشین کو بھی خط لکھا تاہم اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔مگر حبشہ کے بہت سے شہری مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں شاہ نجاشی کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ وہ بعد میں مدینہ آگیا اور رسول اﷲ ﷺ کے خاندان کے زیرِ کفالت فرد کی حیثیت سے یہیں سکونت اختیارکرلی۔
عرب میں حبشہ کے کئی شہری بھی ملتے ہیں۔ موذّنِرسول حضرت بلالؓ کو حبشی اسی بناپر کہا جاتاتھا کہ وہ حبشہ کے رہنے والے تھے۔
باز نطینی سلطنت کی طرح ایران نے بھی عرب میں نوآبادیاں قائم کررکھی تھیں۔ گو عربوں کے درمیان باہمی اختلافات تھے، وہ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے مگر ان میں انا اور عزتِ نفس کا احساس بہت زیادہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ بہترین وفادار حلیف ثابت ہوئے چنانچہ بنو غسان باز نطینیوں کے نہایت وفادار حلیف تھے۔ اسی طرح حیرہ (موجودہ کوفہ)کے لوگوں کے ایران سے تعلقات تھے اور وہ ایران کے حلیف تھے۔ ایک وقت تھا کہ حیرہ کے حکمرانوں نے اپنے اطوار سے ایران کے شاہی خاندان میں اتنا اعتماد پیدا کرلیا کہ ولی عہد شہزادہ بہرام گورکو بچپن میں مدائن کے شاہی محل میں رکھنے کے بجائے حیرہ بھیج دیاگیا تاکہ یہاں اسکی پرورش اور تربیت کی جاسکے۔ لیکن بعدکی نسلوں کے زمانے میں صورتِحال بالکل بدل گئی۔ایک شہنشاہ ایران نے خواہش ظاہر کی کہ والیِ حیرہ کی بیٹی شاہی حرم میں بھیجی جائے۔ مگر حیرہ کے گورنر نے انکار دیا۔چنانچہ شہنشاہ نے گورنرکومدائن طلب کیا جہاں اسے قتل کردیاگیا ۔اس پر عربوں نے حکومت ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔شہنشاہ ایران نے عربوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور حیرہ پرفوج کشی کردی۔ عربوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شاہی فوج کو جنوبی عراق میں ذوقار کے مقام پر تہس نہس کردیا۔ یہ واقعہ انہیں دنوں رونما ہو جب کفارمکہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگِ بدر لڑی گئی۔ رسول اﷲﷺ ایران کے آں جہانی شہنشاہ نوشیرواں کی عادلانہ حکومت کے معترف تھے لیکن وہ ایرانیوں کی آتش پرستی اور زرتشت کی طرف سے مذہب کے نام پر روارکھی جانے والی بدعتوں کے سخت خلاف تھے۔ہمیں اس صدائے باز گشت قرآن حکیم کی سورۂ روم میں بھی سنائی دیتی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺکی مدینہ کو ہجرت سے قبل ایرانیوں نے باز نطینی سلطنت پر حملہ کرکے شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کرلیاتھا۔قرآن میں کہا گیا ہے ’’رومی (بازنطینی)ہمسایہ ممالک میں شکست سے دوچار ہوئے مگر چند سالوں کے لیے اور وہی فاتح ہوں گے۔‘‘ عیسائیوں کو نسبتاً مسلمانوں کے قریب تصور کیا جاتاتھا اور زرتشتی (ایرانی) کفار مکہ کے ہم مشرب تصورہوتے تھے۔
7ہجری میں جب پیغمبر اسلامﷺ نے خسرو پرویز کو اسلام کی دعوت دی اور اسے خط لکھا……اس خط کا اصل مسودہ ہم تک پہنچا ہے……یہ کہنامشکل ہے کہ آیا رسول اﷲﷺ کا یہ خط خسرو پرویز نے وصول کیاتھا، یا اس کے کسی جانشین کوملاتھا۔ کیونکہ بالکل انہیں دنوں ایرانیوں کو نینواکے مقام پر مکمل تباہی کا سامنا کرناپڑاتھا۔ شہنشاہِ ایران کو خوداس کے بیٹے نے قتل کردیا تھا اور پایۂتخت مدائن(تیسفُون)میں وارثانِ تخت جلد جلد بدل رہے تھے۔بہرحال! اسلامی سفیر سے نہایت توہین آمیز سلوک کیا گیا اور اسے بے عزت کرکے ایرانی دربار سے نکال دیا گیا۔ ترمذی کی ایک حدیث کے مطابق ایران کی ایک ملکہ نے مدینہ میں ایک سفارت بھیجی۔ ایرانی سفیر تحفے لیکر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا مقصد سابق شہنشاہ کی طرف سے مسلمانوں کو پہنچائی جانے والی اذیّت کا مداواکرناتھا۔ایران کی یہ ملکہ غالباً پُوران دُخت تھی جو مختصر عرصہ کے لئے تختِ ایران پر جلوہ گر رہی، وہ اس بات سے خوفزدہ تھی کہ عرب میں ایرانی نوآبادیات تختِ ایران کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔
یمن میں صورت حال خاص طورپر بڑی سنگین تھی۔ یمن ثقافتی اعتبا رسے نہایت ترقی یافتہ علاقہ تھا اور انتہائی شاندار ماضی کا حامل تھا۔یمن میں روم اور ایتھنز سے بھی پہلے مہذب حکومتیں قائم تھیں۔ رسول اﷲﷺ کے ظہورسے صرف ایک نسل قبل یمن میں عظیم الشان سلطنت قائم تھی جس کی حدود میں ناصرف پورا جزیرہ نما عرب بلکہ وہ وسیع علاقے بھی شامل تھے جو بعد میں باز نطینی اور ایرانی سلطنتوں کا حصہ بنے۔ اب یہی یمن ایرانیوں کی غلامی کے خلاف نبرد آزما تھا۔ یمنی ایرانیوں کی غلامیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے یمن میں آباد تمام ایرانیوں، ایرانی النسل حکام اور فوجیوں کو قتل کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔اس موقع پر رسول اﷲﷺ کی طرف سے اہل یمن کو قبولِ اسلام کی دعوت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔پہلے خالدؓ ابن ولید اور پھر حضرت علیؓ کو اس علاقے میں بھیجاگیا۔چنانچہ جہاں یمن کے بہت سے قبائل آسانی سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، وہاں نجران کے عیسائیوں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرکے امن سے رہنے کو ترجیح دی۔یمن کا دانشمند ایرانی گورنر باذان بھی آتش پرستی سے توبہ کرکے حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ رسول اللہﷺنے باذان کو گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا اور کچھ عرصہ بعد جب وہ وفات پاگیا تو رسول اﷲﷺ نے اس کے بیٹے کو گورنر مقررکردیا۔ رسول اﷲﷺ کے اس اقدام سے یمن میں مقیم بہت سے ایرانیوں کو تحفظ کا احساس نصیب ہواہوگا۔ رسول اﷲ ﷺ نے یمن کی انتظامیہ کے لئے مدینہ سے بہت سے لوگوں کوبھیجا۔یہ سب لوگ نہایت پرہیز گار اور صالح مسلمان شمار ہوتے تھے اور ان میں بعض مثلاً ابو موسیٰ الاشعری، یمنی النسل تھے۔انہوں نے یمن میں بطور جج ،استاد ،ٹیکس کلکٹر اور عام انتظامی افسروں کی حیثیت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔معاذابن جبل جن کی مسجد آج بھی قصبہ جند میں موجود ہے ،انسپکٹر جنرل تعلیم کے عہدے پرفائز کیے گئے۔انہوں نے یمن کے ایک ایک علاقے کا دورہ کیا اور ہرجگہ تعلیم کے انتظامات کیے۔ رسول اﷲﷺ نے چند فوجی دستے یمن کے اس بُت خانہ کو مسمار کرنے کے لیے بھیجے جسے کعبہ کا ہمسر تصورکیا جاتاتھا۔ جب اس بُت خانے کوگرایا گیا اور جب بُت شکنوں پر بُتوں کا کوئی غضب نازل نہ ہوا، تویمن کے سادہ لوح عوام کے دلوں میں موجود موہوم خدشات بھی دور ہوگئے۔ جلد ہی عملی طورپر پورا یمن اسلام لے آیا،صرف نجران کا عیسائی قبیلہ اور اکادُکا یہودی خاندان باقی رہ گئے جو اپنے اپنے مذہب پر قائم تھے۔
نجران کے عیسائی مذہبی معاملات میں بے حد منظم تھے۔ ظہورِ اسلام سے قبل وہاں غیر ملکی مبلغ تک آتے تھے۔ایسا ہی ایک مبلغ اٹلی کا گریگنتس تھاجس نے بنونجران میں مسیحیت کو راسخ پایا۔ یہودی بادشاہ ذونواس نے مذہبی اختلاف کی بنا پربنو نجران پر جو مظالم توڑے ان کی بنا پراپنے مذہب پر ان کا اعتقاد اور بھی راسخ ہوگیا۔ انہوں نے اپنا ایک وفد بھی مدینہ بھیجا جس کی قیادت ان کا بشپ اور اس کا نائب کررہے تھے، اس سے ظاہر ہو تاہے کہ نجران میں کلیسا کی مضبوط تنظیم قائم تھی۔ انہوں نے مدینہ میں عقائد پر بحث مباحثہ بھی کیا۔ رسول اﷲﷺ سے مذکرات کے دوران ان کی اجتماعی عبادت کا وقت ہوگیا۔ مذاکرات مسجد نبوی میں ہورہے تھے۔چنانچہ عیسائی وفد عبادت کے لیے واپس اپنے کیمپ میں جانا چاہتاتھا مگر رسول اﷲﷺ نے مہمان نوازی کے ارفع جذبہ کے تحت کہا’’ اگر آپ لوگ پسند کریں توآپ مسجد میں ہی عبادت کرسکتے ہیں‘‘۔ عبادت کے بعد عیسائی وفد نے پھر مذاکرات شروع کردئیے۔ رسولِاﷲﷺ نے ان کے سوالوں کے اطمینان بخش جواب دیے اور مزید کہا’’ اگر آپ کا اطمینان نہ ہوا ہو تو آیئے ہم خد اسے رجوع کرتے ہیں۔ آیئے ہم دونوں (فریق) اﷲ سے دعاکریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور ہم دونوں میں جوجھوٹا ہو اس پر، اس کے خاندان اور بال بچوں پر اپنا غضب نازل کرے۔‘‘(دیکھیے قرآن سورۂ آل عمران:21)اس پر عیسائی وفد نے غورکرنے کی مہلت مانگی ، انہوں نے تنہائی میں باہم مشورہ کیا۔ انہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے سوچا’’ اگر محمد(ﷺ)واقعی اﷲ کے رسول ہیں تو ان کی بددعا ہمیں دونوں جہانوں میں تباہ کرکے رکھ دے گی۔بہتر ہے کہ ان سے معاہدہ صلح کرلیاجائے۔ چنانچہ انہوں نے رضاکارانہ طورپر مسلم حکومت کی بالادستی تسلیم کرلی اور رسول اﷲﷺ سے تحریری معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت نجران کے عیسائیوں کو انتظامی اور مذہبی معاملات میں مکمل آزادی دی گئی۔ رسول اﷲﷺ نے حکم دیا کہ نجران کے عیسائی قرضوں پر سُود ادا نہ کریں بلکہ صرف اصل زر ہی اداکریں۔ فطری طورپر رسول اﷲﷺ نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ بھی مستقبل میں قرضوں پر سُود وصول نہ کریں۔ (یہ تحریری معاہدہ بھی اب تک محفوظ ہے۔)
یمن کے متعدد دوسرے قبائل نے بھی اپنے وفد مدینہ بھیجے اور اسلام قبول کیا۔یمن کا وسیع وعریض علاقہ تین سال کے اندر کسی جنگ کے بغیر اسلامی سلطنت کے زیرِ نگیں آگیا۔
عمان عرب کے جنوب مشرق میں ایک ریاست تھی جہاں جلندیٰ کے دوبیٹے جعفر اور عبد مشترکہ طورپرحکومت کرتے تھے۔ رسول اﷲﷺ کی دعوت پر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے اپنے وعدہ کے مطابق دونوں کو عمان کی حکومت پر برقراررکھا۔ اس طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ اشارہ بھی دے دیا کہ اسلام میں مشترکہ حکومت رَواہے، تاہم رسول اﷲﷺ نے عمان میں اپنا ایک نمائندہ مقررکردیا جو مسلمانوں کی تعلیم وغیرہ کی نگرانی کرتا تھا۔
عمان کا علاقہ اقتصادی لحاظ سے بڑا اہم تھا اس کی بینالاقوامی بندرگاہیں اور وہاں کے تجارتی میلے اسلامی مملکت کے لئے وقار اور قوت کا باعث بنے۔
عبدالقیسکا قبیلہ جعفرکی حکومت کے تحت نہ تھا بلکہ آزاد تھا کیونکہ انہوں نے اپنا وفد الگ سے رسول اﷲﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ جس نے مدینہ سے پیغمبراسلامﷺ سے براہ راست مذاکرات کیے۔ وفد کے ارکان یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ رسول اﷲﷺ ان کے ملک کا وسیع دورہ کرچکے ہیں اور (ظہور اسلام سے قبل) کافی عرصہ عمان میں گزارچکے ہیں۔رسول اﷲﷺ عمان کے بہت سے لو گوں کوذاتی طورپر جانتے تھے انہوں نے اہل وفد سے عمان کی تازہ خبریں بھی دریافت کیں۔بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
دبا کا علاقہ زبردست اقتصادی اہمیت کا حامل تھا۔ دبا اور مقشّر کے مقامات پر سالانہ تجارتی میلے منعقد ہو تے تھے۔جن میں کئی ممالک کے تجّار شریک ہوتے۔ دبا عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی۔ اس کے تجارتی میلہ میں عرب کے کونے کونے سے ہی نہیں بلکہ چینی ،ہندی ، سندھی اور مشرق ومغرب سے تاجر اپنا مالِتجارت لیکر شریک ہوتے تھے‘‘۔
جب یہ علاقہ غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگیا تو رسول اﷲﷺ نے دبا کا الگ گورنر مقرر کیا۔ یہ گورنر دبا کا رہنے والا ایک مسلمان تھا۔ اسکے فرائض میں دبا کی بندرگاہ، شہر اور منڈی کی دیکھ بھال شامل تھی۔
موجودہ بحرین جو خلیج عرب وفارس میں جزیرہ عرب کے مشرق میں واقع ہے ان دنوں اُوال کہلاتاہے۔ ان دنوں جس علاقے کو بحرین (بحران) کہتے تھے (بحرین کا لغوی ترجمہ دوسمندرہے) وہ سعودی عرب کا موجودہ ضلع الحساء ہے جو سعودی عرب کا ایک حصہ ہے۔غالباًظہورِ اسلام کے وقت اس علاقے میں موجود قطر بھی شامل تھا۔ قطر خلیج کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے اور یوں دوسمندروں کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ بہرحال! اس علاقے(بحران یا بحرین) کے عرب گورنر المنذر ابن سادہ نے اسلام قبول کرلیا۔ وہ اسلامی حکومت کا نہایت پرجوش منتظم ثابت ہوا۔ تاریخ میں رسول اﷲﷺ کے نام پراس کے نصف درجن سے زائد خطوط کا ذکر آتاہے ان میں اک خط کا اصل ہم تک پہنچا ہے۔ یہ خط پہلی باربرلن کے ایک پبلشرZDMG نے شائع کیاتھا۔
شمال مشرقی عرب کے قبیلہ بنو تمیم نے نہایت آسانی سے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے مزید شمال میں جنوبی عراق کا علاقہ بھی عربوں کا گہوارہ تھا ۔اس علاقے میں حیرہ(موجودہ کوفہ) کی ریاست سمیت عرب قبائل آباد تھے ۔ایرانی حکومت کی جنوبی اور مشرقی عرب میں جو نوآبادیات تھیں ان پر دارلحکومت مدائن کے قُرب وجوار کی آبادیوں کی نسبت حکومت کی گرفت کمزور تھی تاہم حیرہ کے حکمران قبیلہ بنولخم کے متعدد ذیلی قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اﷲﷺ کی طرف سے جو اسناد فراہم کی گئیں تاریخ میں ان کا ذکر ملتاہے۔
حیرہ(کوفہ) کے جنوب مشرق میں سماوہ کا علاقہ ہے۔ رسول اﷲﷺ کے ایک خط کا ذکر ملتاہے جو حضورﷺنے سماوہ کے فرمانروا اُنفاثہ الدیالی کے نام لکھا تھا تاہم اس خط کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ یہ بادشاہ بھی عربیالنسل تھا اور اس امر کے قوی امکانات ہیں کہ اس نے ایرانیوں کی باجگزاری سے نجات پانے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیا ہو، تاہم اس سلسلے میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں۔
کیا رسولِاکرمﷺ کے ہندوستان سے کوئی تعلقات تھے؟ اس ضمن میں کچھ یقین سے تو نہیں کہا سکتا لیکن اسے ناممکن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عر ب تجار ظہورِاسلام سے قبل ہی سندھ اور مالا بار کی بندرگاہوں پر بکثرت آتے جا تے تھے۔ ہندی تاجر بھی جنوب مشرقی عرب کی بین الاقوامی بندرگاہ دبا کے تجارتی میلے میں شرکت کرتے تھے(دیکھیے ابن حبیب کی المحبرّ، صفحہ625) اس امر کا بھی قومی امکان ہے کہ ہندی تاجر یمن بھی جاتے تھے(دیکھیے ابن ہشام صفحہ265) کیونکہ یمن کے حکمران سیف ابن ذی یزن نے ایک بار ایرانی شہنشاہ کواطلاع دی کہ اس کے ملک پر ’’.کوّوں‘‘ نے قبضہ جمالیا ہے اور اس کی امداد کی جائے۔ ’’کون سے کوّے؟‘‘کسریٰ نے وضاحت طلب کی ’’یہ ہندی کوّے ہیں یاحبشہ سے آئے ہیں؟‘‘شہنشاہِ ایران کے ذہن میں یہ سوال آہی نہیں سکتاتھا اگر یمن اور ہندکے درمیان مستحکم تعلقات نہ ہوتے….. جہاں تک دبا کاتعلق ہے رسول پاکﷺ خود وہاں جا چکے تھے(دیکھیے ابن حنبلؒ جلد 4،صفحہ206) ’’میں نے تمہارے ملک کا وسیع دورہ کیاہے‘‘ مصنف رسول اﷲ ﷺ کی دو احادیث کا تذکرہ کرتاہے جن کے مطابق رسول اﷲﷺ نے مشقّر اوربعض دوسرے علاقوں کا نام لیا جہاں کا وہ سفرکرچکے تھے)چنانچہ یہ کوئی تعجب خیز امر نہیں کہ جب یمن کے قبیلہ بل حارث کا وفد مدینہ گیا اور رسول اﷲﷺ نے پوچھا ’’یہ کون لوگ ہیں جو ہندی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے ابن ہشام صفحہ960 ۔ابنِسعد 2/1،صفحہ72، نسائی 41/25)۔ ابن حنبلؒ (229-6) کے مطابق ابوہریرہؓ جو یمنی النسل تھے اکثر کہا کرتے تھے ’’رسول اﷲﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان کی طرف ایک مہم بھیجی جائے گی اگر میں وہاں (ہندمیں) ہلاک ہوجاؤں تو میں بہترین شہداء میں سے ہوں گا اور اگر میں صحیح وسالم واپس آجاؤں تو میں وہی آزاد شدہ غلام ابوہریرہؓ رہوں گا۔ رسول پاک ﷺ سے ایک حدیث بھی منسوب کی جاتی ہے ،فر مایا’’مجھے ہندوستان کی طرف سے تازہ ہوا آتی ہے‘‘۔
رسول اﷲﷺ کی زندگی میں صرف ہندی لوگوں کا ہی نہیں ان کے مذہب کا بھی ذکر آیاتھا۔ قدیم مسلم مورخ عبدالکریم الجیلی اور دور حاضر کے پروفیسر مولانا مناظر احسن گیلانی نے بھی اس کا ذکر کیاہے۔
میں اس تعارف کو متبحّر عالم مولانا غلام آزاد بلگرامی (دیکھیے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی دو تصانیف اول ان کی سوانحی لُغت ’’ سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان ’’ کا مقدمہ اور دوسری ’’شمامۃ العنبر فی ماوردعن الہندعن سید البشر‘‘ کے ذکر پر ختم کرتاہوں۔
ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلی علاقہ مالابار میںیہ روایت مشہور ہے کہ اس علاقہ کے ایک بادشاہ چکرورتی فرما س نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھاتھا ۔یہ رسول اﷲﷺ کا معجزہ تھا جو مکہ مکرمہ میں ظہور پذیر ہوا، بادشاہ چکر ورتی فرماس نے اس سلسلے میں جب تحقیقات کیں تو اسے علم ہوا کہ عرب میں ایک پیغمبر کے ظہور کی پیشگوئیاں موجودہیں۔ اورشق القمر کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیغمبرِ خدا ظاہر ہوچکاہے۔چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین مقررکیا اور خو د رسول اﷲﷺ سے ملاقات کے لئے عرب روانہ ہوگیا۔ اس نے رسول اﷲﷺ کے رُوبرو اسلام قبول کیا اور پھر ان کے حکم پرواپس ہندروانہ ہوگیا۔ راستے میںیمن کی بندرگاہ ظفار میں اس کا انتقال ہوگیا۔یہاں آج بھی ’’ہندی بادشاہ‘‘ کامزار مرجع خاص عوام ہے۔ انڈیا آفس لائبریری (لندن)میں ایک پرانا مسودہ (نمبر، عربی2807، ص۔173-152) ہے جس میں اس کی تفصیل درج ہے۔ زین الدین المعبری کی تصنیف ’’تحفہ المجاہدین فی بعد اخبار الپرتگالین‘‘ میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے( اس کتاب کا پرتگیزی ترجمہ انگریزی سے کہیں بہتر ہے مگر اس کا اردو ترجمہ نا مکمل ہے۔)
ترکی کے لوگوں کے بارے میں توبہت ہی کم مواد موجود ہے۔ علامہ بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف (485-1) میں روایت کرتے ہیں کہ کہ اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہّ عمار ابن یاسر کی والدہ تھیں۔انہیں ابوجہل نے شہید کیاتھا۔ انکا اصل نام پامیخ تھا اور ان کا تعلق ایران کے علاقہ کسگر سے تھا۔پامیخ کو جدید ترکی میں ’’پاموک‘‘ کہتے ہٰں جس کے لغوی معنی کپاس کے ہیں۔اور یہ کسی ترک خاتون کانام ہی ہوسکتاہے۔ خد ااس خاتون کے درجات بلندکرے۔ ہندوستان کی طرح ترکی میں بھی ایک شخص مقلاب ابن ملکان الخوارزمی گزراہے جس نے یکے از صحابہؓ رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔(دیکھیے ابن حجر،اصابہ۔2126)
چین کے بارے میں حضور اکرم کی ایک معروف حدیث ’’علم حاصل کرو خواہ اس کیلئے چین جانا پڑے‘‘ یہ یقین کرنے کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی چینیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نہ صرف ان کی استقامت سے متاثر ہوئے کہ وہ کئی ماہ تک سمندر میں سفر کرکے آئے تھے بلکہ ان کی مصنوعات کی عمدگی نے بھی رسول اﷲﷺ کو متاثرکیاتھا۔ ایک طرف تو مسعودی لکھتے ہیں(دیکھیے علامہ مسعودی کی ’’مروج الذہب‘‘308-1) کہ چینی ظہورِ اسلام سے قبل بڑی بڑی کشتیوں میں بحران (بحرین) اور عمان آتے تھے اور دوسری طرف ابن حبیب دبا کے تجارتی میلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ یہ (دبا) عرب کی دوبڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی اور اس کے سالانہ تجارتی میلے میں ہند، سندھ،چین اور مشرق ومغرب سے تجار آتے تھے‘‘۔
چینی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے شاہِ چین کے دربار میں سفیر بھیجا تھا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ اس سفیر کا نام ابوعبیدہؓ تھا۔ وہ بعد میں دوبارہ چین گئے اور اسی جگہ ان کا انتقال ہوگیا۔ان کا مقبرہ سنگان فومیں ہے۔ (ان کے مقبرے میں تحریروں کے سلسلے میں ملاحظہ کیجیے وین لینگ وُوکی ’’مہذہبی کتبات‘‘ پیکنگ 1957، اور بروم مارشل کی ’’چین میں اسلام‘‘ ص۔90-83-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے