حضرت یوسف ؑ کی بہن دینا کا قصہ۔ بنی اسرائیل کی سرکشی کی داستان

قصہ حضرت یوسفٔ کی بہن کا

یہودیت دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔  اتنا پرانا مذہب ہونے کے باوجود دنیا بھر میں یہودیوں کی تعداد دوسرے مذاہب کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔  جہاں دنیا میں عیسائیت  کے ماننے والوں کی تعداد ڈھائی ارب، مسلمانوں کی تعداد تقریباً دوارب  اور ہندؤں کی تعداد بھی ایک ارب سے زیادہ ہے۔  جبکہ دنیا کے جدید ترین مذہب سکھ ازم کے پیروکار بھی تقریباً تین کروڑہیں۔

ایسے میں  دنیا کے قدیم ترین مذہبوں میں سے ایک یہودیوں کی تعداد صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ ہونا ایک عجیب بات نظر آتی ہے۔ آخر اس بات کی کیا وجوہات ہیں  جو یہودی دنیا میں اتنی کم تعداد رکھتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہودی دور قدیم سے لے کر آج تک  انتہائی نسل پرست ثابت ہوئے ہیں۔  ان کے نزدیک  دنیا میں یہودیوں سے  افضل نسل کوئی نہیں۔  اسی بناء پر یہ لوگ  نہ تو دوسری اقوام کو اپنے مذہب میں قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ہاں اپنے بچوں کو  شادی بیاہ کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق  اصل یہودی وہی ہے جس کے ماں اور باپ دونوں حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹوں کی اولاد میں سے ہوں۔     ان کے علاوہ نہ تو کوئی باہر کا شخص یہودیت قبول کرسکتا ہے اور نہ ہی   کوئی یہودی لڑکی یا لڑکا  غیر اقوام میں شادی بیاہ کرسکتا ہے۔ اگر  کوئی یہودی  ایسا  کرتا ہے تو وہ  خالص یہودیت سے خارج ہوجاتا ہے۔

یہودیوں کی خود پسندی  اور نسل پرستی  کوئی نئی چیز نہیں۔   یہ جذبہ ان میں  اس دور سے پایا جاتا ہے جب اس قوم کی ابتداء ہوئی تھی۔   اس ضمن میں ہم آپ کے سامنے جو قصہ بیان کرنے جارہے ہیں وہ دراصل  اہل  کتاب کا ہے یعنی  بائبل اور تالمود دونوں میں موجود ہے ۔ اس کے علاوہ  امام ابنِ کثیر نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ  یعنی تاریخ ابن کثیر کی پہلی جلد  صفحہ نمبر 454میں  بھی اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔    واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے   کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ سفر کرتے ہوئے  شیخم نامی بستی سے گزرے تو آپ  علیہ السلام نے یہاں کے زمیندار  جس کا نام جمور تھا اس سے سو بکریوں کے عوض ایک زمین خریدی ۔ یہاں یعقوب  علیہ السلام نے اپنا گھر بنایا اور پندرہ مہینوں تک امن امان میں رہے۔  یہ وہ دور تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام  بہت ہی کم سن تھے  اور آپ اپنے دیگر بھائیوں اور ایک بہن دینہ کے ہمراہ اس جگہ رہتے تھے۔ کچھ عرصے بعد  اس بستی یعنی شیخم کے باشندوں نے ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا۔ اس خوشی کے موقع پر  یہاں کے رہنے والوں نے  حضرت یعقوب اور ان کے اہل خانہ کو بھی اس ضیافت میں شرکت کی دعوت دی۔

اسی دعوت کے موقع پر  اس بستی کے شہزادے شکم بن جمور اور اس کے گھر والوں کو   حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیٹی دینا کی سیدھی سادھی شخصیت بہت پسند آئی ۔ اس دعوت کے بعد   بستی کا حکمران جمور حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا۔ اس نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے التجا کی کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی  میرے بیٹے سے کردیں  ۔  ہمارے اس وسیع ملک میں سکون سےرہیں اور اس میں تجارت کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہ آپ جتنا جہیز طلب کریں گے ہم خوشی سے دیں گے۔  حضرت یعقوب علیہ السلام کے دو بیٹے شمعون اور لاوی  اس بات پر بہت چراغ پا ہوئے  کہ اس غیر قوم کی ہمت کیسے ہوئی کہ یہ ہماری اعلیٰ نسل  عورتوں سے شادی کے بارے میں سوچیں ۔ انہوں نے نہایت چالاکی سے اس بستی کے  فرمانروا جمور سے اپنے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام سے مشورہ کرنے اور سوچنے کے لیے کچھ مہلت طلب کی ۔ جب اس بستی کا حکمران جمور  اور شہزاد شکم  دوبارہ ان کا فیصلہ سننے کے لیے آئے تو لاوی اور شمعون  نے ان کے سامنے ایک شرط رکھی  کہ ہمارےلیے اپنی بہن کی شادی ایک ایسے آدمی کے ساتھ کرنا ایک شرمناک بات ہوگی  جس کی ختنہ نہ ہوئی ہو۔     تو اس شادی کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ اور آپ کا تمام قبیلہ ختنہ  کروائے۔

یہ بہت ایک بڑی شرط تھی  لیکن شیخم نامی اس بستی کے  تمام مرد  اپنے شہزادے اور بادشاہ کی خوشی کی  خاطر ختنہ کروانے پر رضا مند ہوگئے۔   ختنہ کروانا دراصل بنی اسرائیلیوں کی طرف سے کوئی شرط نہ تھی بلکہ یہ ایک چال تھی۔  جب یہ تمام شہر ختنہ کرواچکا  تو اس سے اگلے ہی دن  وہ لوگ اپنے ارادوں کو پورا کرنے نکلے اور ایک ناگہانی آفت کی طرح اس بستی پر ٹوٹ پڑے۔  اس بستی کے تمام مرد ختنے کے باعث درد میں مبتلا تھے چنانچہ  حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا اور انہوں  نے بادشاہ جمور  اور شہزادے شکم سمیت بستی کے تمام مردوں کو قتل کرکے ان کا مال و اسباب لوٹ لیا ۔  حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپ اپنے بیٹوں کی اس حرکت پر    شدید غم زدہ اور ناراض ہوئےاور اپنے بیٹوں کی اس حرکت پر شدید ملامت کی۔  اس واقعے پر حضرت یعقوب علیہ السلام کی ناراضگی اس حد تک تھی کہ  بائبل  کے مطابق جب آپ نے اپنی آخری وصیت کی ، تب بھی اپنے بیٹوں شمعون اور لاوی کوبے گناہ انسانوں کے اس قتل عام پر معاف نہ کیا تھا۔

بعد ازاں حضرت یعقوب علیہ السلام  کے انہی بیٹوں نے  حضرت یوسف علیہ السلام  سے  حسد کے سبب انہیں  کنویں میں ڈالنے جیسے عمل کا ارتکاب بھی کیا۔  لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور  منظور تھا ، اسی لیے اللہ پاک نے حضرت یوسف علیہ السلام کو  اس کنویں سے نکال کر دنیا کی سب سے عظیم بادشاہت کے مرتبے پر فائز کیا۔

آج یعنی ہزاروں سال گزرجانے کے بعد بھی  یہ قوم یعنی بنی اسرائیل آج بھی اپنی  اسی ہٹ دھرمی اور نسل پرستی میں مبتلا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال  فلسطینی مسلمانوں پر یہودیوں کی جانب سے کیے جانے والے مظالم ہیں۔     کونسے انسانی حقوق ہیں جو انہیں مل رہے ہیں۔ آئے روز نہتے فلسطینی  ان  یہودی غاصب فوجیوں  کی بندوق کا نشانہ بنتے ہیں۔  دوسری جنگ عظیم  کے دوران ہٹلر کے ظلم و ستم  کا رونا رونے والے یہ یہودی  آج فلسطینوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھارہے ہیں جنہیں دیکھ کر شاید ہٹلر کا دل بھی پسیج جائے اور  یہودیوں کی ان تمام حرکتوں کا سبب صرف  ان کی نسل پرستی اور  سرکشی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ آج بھی خود کو خدا کی پسندیدہ قوم تصور کرکے ہر غلط کام اور گناہ سے مبرا قرار دیتے ہیں۔   جبکہ  ہمارا دین اسلام ہمیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ  دنیا میں موجود تمام  انسان برابر ہیں۔ کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں  ، نہ تو کوئی عجمی  کسی عربی پر فوقیت رکھتا ہے اور نہ کوئی عربی کسی عجمی پر ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے