خلافت عثمانیہ کا سقوط اور اس کے اثرات!

سلطنت عثمانیہ

عظیم قومی اسمبلی نے 3 مارچ 1924ء بمطابق 28 رجب 1342ھ کی صبح یہ اعلان کیا کہ  خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور مذہب کے ریاست سے علیحدگی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

برطانوی سیکرٹری خارجہ لارڈ کرزن نے کہا ’’ترکی تباہ کر دیا گیا ہے اب وہ کبھی بھی اپنی عظمت رفتہ  اور جاہ و جلال بحال نہیں کر سکتا کیونکہ ہم نے اس کی روحانی طاقت کو تباہ کر دیا ہے یعنی

"خلافت اور اسلام‘‘۔

خلافت کے خاتمہ کے بعد امت کی حالت ایسی ہوگئی جیسے پرورش طلب بچہ اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو جائے اور خود غرض دنیا میں اپنی بقا کی جنگ لڑنے کیلئے تنہا رہ جائے۔ خلافت کے خاتمہ کے ساتھ ہی استعماری قوتیں اس امت پر حملہ آور ہوگئیں۔

سرزمین خلافت کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر ریاست کو اپنا آئین ، قانون، قومیت اور جھنڈا دے کر تقسیم کر دیا گیا۔ اسلام کی عادلانہ معیشت کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام سے بدل دیا گیا اور مسلمانوں کے معاملات کی نگرانی اسلامی حکومت کے بجائے سیکولر حکومتی ڈھانچے کے ذریعہ کی جانے لگی۔
اس سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا کہ کبھی کوئی چیز اتنی جلدی فراموش نہیں کی گئی جتنی جلدی مسلمانوں نے اپنے اس مرکز کو دل و دماغ سے محو کر دیا جو ان کے اتحاد کی علامت تھا اور جس کے ذریعہ اپنے مسائل کے حل کے لیے وہ عملی اقدامات اٹھایا کرتے تھے۔

خلافت ان کی دینی و سیاسی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ وہ اس کے انعقاد کو اپنے ہاں واجب سمجھتے تھے۔ ادارئہ خلافت پوری شریعت اسلامیہ میں مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان اپنے عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ایک تسلسل کے ساتھ منصب خلافت پر سرفراز رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے انتخاب سے لے کر خلیفہ مستعصم باللہ عباسی کی شہادت تک عالم اسلام خلیفۃ المسلمین سے محروم نہیں رہا۔

خلیفہ مسترشد باللہ جسے سلطان مسعود سلجوقی نے 10رمضان المبارک 539ھ میں گرفتار کیا تھا اور جس کا زمانہ اسیری تین ماہ اور سات روز سے زیادہ نہیں تھا، اس گرفتاری کے دوران عالم اسلام خلیفہ کے بغیر رہا لیکن اسلامی دنیا کے لیے یہ ایسا المناک واقعہ تھا کہ جس کے رونما ہونے سے بغداد زیر وزبر ہوگیا۔

اسلام دشمن طاقتیں خلافت کو منہدم کرنا کیوں ضروری سمجھتی تھیں اس کا پتہ ایک واقعہ سے چلتا ہے۔ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمود الحسنؒ کے ساتھ تحریک آزادی کے سلسلہ میں مالٹا جزیرے میں نظر بند تھے۔ وہاں ایک انگریز افسر تھا جس کا کسی جرم میں کورٹ مارشل ہوا تھا اور وہ بھی وہاں سزا کاٹ رہا تھا۔
مولانا حسین احمدمدنیؒ نے اس سے پوچھا کہ خلافت عثمانیہ، مسلمانوں کی ایک کمزور سی خلافت ہے، کیا وجہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور اٹلی اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم مسلمان اس نام کی خلافت سے عقیدت رکھتے ہیں لیکن سارا یورپ اس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر تمہیں خلافت ترکیہ سے خطرہ کیا ہے؟

اس نے کہا مولانا آپ کا سوال اس قدر سادہ نہیں جس سادگی سے آپ پوچھ رہے ہیں۔
یاد رکھیے!
خلافت عثمانیہ ایک کمزور سی خلافت ہے مگر قسطنطنیہ میں بیٹھا ہوا ’’خلیفہ‘‘ آج بھی کسی غیر مسلم ملک کے خلاف اعلانِ جنگ کر دے تو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک مسلمان نوجوانوں کی بھرتی شروع ہو جائے گی۔ سارا یورپ ان دو لفظوں ’’_خلافت_اور_جہاد‘‘ سے کانپتا ہے۔
یورپ کے تمام ممالک متحد ہو کر ان دو لفظوں کی قوت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ کر دکھایا۔
خلیفہ عبد المجید ثانی کی معزولی اور سقوط خلافت کا نامبارک اقدام امت مسلمہ کے لیے بیسویں صدی کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔

مسلمانوں کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ ضروری ہے کہ ہمارے خواص و عوام نظامِ حیات اور طرز حکومت لینے کے لیے اقوام مغرب کی طرف حریصانہ نظروں سے دیکھنے کے بجائے اپنا رشتہ تابناک ماضی سے جوڑ لیں اور شاہراہِ خلافت پر گامزن ہو کر ایک حقیقت شناس مرد قلندر کے اس کہے کو سچا کر دکھائیں کہ:

 اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ !!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے