حضرت عمر فاروقؓ! تمام عالم میں اسلامی قوت کا سکہ بٹھانے والے خلیفہ

عمر فاروق

مسلمانوں نے فلسطین کے اردگرد تمام علاقے فتح کر لیے تو بیت المقدس کا پادری صفرینوس اپنے سپاہیوں کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا…..
حضرت عمرؓ وبن عاص نے کئی روز تک بیت المقدس کا محاصرہ جاری رکھا۔ چند روز پہلے وہ امیر المومنینؓ کو مزید امدادی لشکر بھجوانے کے لیے لکھ چکے تھے ۔ امیر المومنینؓ کو جب یہ خط ملا تو آپؓ خود فلسطین جانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اِدھر امیر المومنینؓ مدینہ سے چلے اُدھر بازنطینیوں کو اطلاع ہوگئی ۔ ان کے دل ڈوب گئے، صفرینوس نے اپنے سالارِ لشکر سے کہا’’ اب کیا ہوگا؟‘‘…..
سالارِ لشکر نے کہا۔ ’’میرا خیال ہے صلح کرلینی چاہیے‘‘…..’’ مسلمانوں نے قریب قریب شام کا سارا علاقہ فتح کرلیا ہے‘‘۔
صفرینوس بولا’’ خلیفہ مدینہ سے آرہے ہیں کیوں نہ ہم مسلمانوں کو کہلوادیں کہ ہم صلح کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ تمہارا امیر خود آکر ہم سے معاہدہ کرے‘‘۔
مسلمانوں کو صفرینوس کا یہ پیغام ملا تو انہوں نے صلح کی شر ط منظور کرلی۔ صلح نامہ تیار ہوگیا۔ اب انتظار تھا کہ امیر المومنین پہنچیں تو صلح نامہ پر مہر ثبت کردیں۔
صفرینوس خود امیر المومنینؓ کے استقبال کے لیے جابیہ جاپہنچا۔ حضرت ابو عبیدہؓ اورحضرت خالد بن ولیدؓ، امیرالمومنین کے انتظار میں تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ دوڑے دوڑے آئے اطلاع دی کہ امیر المومنین ؓ بستی کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
ابو عبیدہؓ چند سپاہیوں کو لے کر استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے صفرینوس کا دل امیر المومنینؓ کے رعب ودبدبہ کی ہیبت سے تھر تھر کانپ رہا تھا، اس کا خیال تھا کہ ابھی امیرالمومنینؓ .کا لاؤ لشکر نظر آئے گا، محافظ دستہ پہنچے گا، نوکر چاکر دکھائی دیں گے….. وہ اسی سوچ میں تھا کہ دور سے ایک آدمی اُونٹ پر بیٹھا ہوا نظر آیا دوسرا اس کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا….. مسلمان سالار اور مجاہدین اس طرف دوڑے اور جو شخص نکیل پکڑے پیدل آرہا تھا اس کو بڑے ادب احترام سے سلام کیا۔
صفرینوس نے پوچھا’’یہ شخص کون ہے؟‘‘
حضرت ابو عبیدہؓ نے بتایا کہ’’ یہ امیر المومنینؓ ہیں‘‘…..
’’امیر المومنینؓ !‘‘….. صفرینوس حیرت کے سمندر میں ڈوب گیا۔ صفرینوس نے سمجھا مسلمانوں کے سالار نے مذاق کیا ہے ۔ بولا’’تو پھر یہ اونٹ پر کیوں سوار نہ تھے؟‘‘….. حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا’’ بات یہ ہے کہ سفر لمبا تھا امیر المومنینؓ اور ان کا خادم باری باری اونٹ پر سفر کرتے رہے جب جابیہ تک پہنچے تو اونٹ پر سوار ہونے کی باری خادم کی تھی‘‘۔
مساوات کی یہ بلندی ،انسان کی یہ عزت، اس نے کبھی ایسا تصور بھی نہیں کیا تھا….. صفرینوس نے ڈرتے ڈرتے کہا ’’ہمارے شہر کے بہت سے عیسائی، مسلمانوں کے امیر کو دیکھنے کے لیے ٹھٹ کے ٹھٹ لگائے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ آپ امیرالمومنینؓ سے کہیں کہ وہ قیمتی کپڑے زیب تن فرمالیں‘‘۔
صفرینوس کی یہ گفتگو امیر المومنینؓ تک پہنچ گئی، صفرینوس کو بلوایا ،وہ بے چارہ ابھی تک لرزہ براندام تھا۔ فرمایا ’’صفرینوس! خدا نے جو عزت ہمیں دی ہے وہ اسلام کی بدولت ہے ، اس کے علاوہ ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں،
اسلام کی عزت سے مشرف ہونے والے یہ امیرالمومنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظمؓ تھے ۔ جن کے سامنے ہرمظلوم قوی اور ہر ظالم کمزور تھا۔
حضرت فاروقِ اعظمؓ کانام نامی عمر اور کنیت ابو حفصہ تھی۔ والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام ختمہ تھا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہم نسب تھے، آٹھویں پشت میں ان کا نسب نامہ کعب بھی لوی بن فہر پر حضورِ اکرمC کے نسب نامے سے مل جاتاہے۔ حضور اکرم Cکی ولادت کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان قبیلوں میں نہایت ممتازحیثیت رکھتا تھا۔ آپ کے جدِ اعلیٰ عدی عربوں کے باہمی جھگڑوں میں پنچ مقرر ہواکرتے تھے اور جب کبھی قریش کو دوسری سلطنتوں سے اہم معاملہ پیش آتا تو یہی سفیر بن کر جاتے تھے۔ چنانچہ یہ دونوں منصب(عدالت اور سفارت) آپ کے خاندان میں پشت درپشت چلے آرہے تھے۔
آپ کی والدہ ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔ ان کا خاندان بھی نہایت معزز تھا جب قریش لڑائی کے لیے نکلتے تو فوج کا اہتمام مغیرہ کے سپرد ہوتا۔
حضرت عمرؓ نوجوانی کے دور میں داخل ہوئے تو ان کے والد نے اونٹ چرانے کی خدمت ان کے سپرد کی، یہ عربوں کا قومی شعار تھا۔ ایک مرتبہ آپ زمانۂ خلافت میں اسی میدان سے گزرے جس میدان میں بچپن میں اونٹ چرایا کرتے تھے تو آبدیدہ ہوکر فرمایا’’ایک وہ دن تھا کہ میں نمدہ کا کرتہ پہن کر اس میدان میں اونٹ چرایا کرتاتھااگر ذراتھک کر بیٹھ جاتا تو باپ کے ہاتھ سے پٹتا تھا اور آج یہ دن ہے کہ اﷲ کریم کے سوا میرے اوپر کوئی حاکم نہیں‘‘۔
حضرت عمرؓ جوان ہوئے تو نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور خطابت میں کمال حاصل کیا کہ یہ اس زمانے میں لوازم عظمت تھے….. علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ عکاظ کے میلے میں وہ فن پہلوانی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہیکل کے قول کے مطابق انہوں نے عکاظ میں چوٹی کے پہلوانوں کو پچھاڑنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
حضرت عمرؓ کو شہسواری میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی، اسی زمانے میں لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ قریش میں صرف سترہ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ حضرت عمرؓ ان میں ممتا زتھے۔ عبرانی بھی جانتے تھے ان فنون سے فراغت کے بعد انہوں نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔ ان کی تجربہ کاری اور غیر معمولی علمیت وفراست کی وجہ سے قریش نے سفارت کا عہدہ ان کو تفویض کردیا۔
حضرت عمرؓبن خطاب کی زندگی کا ستّائیسواں سال تھا کہ عرب میں آفتابِ رسالت طلوع ہوا اور اسلام کی صدا بلند ہوئی۔ عمرؓ کے گھرانے میں سب سے پہلے سعیدؓ بن زید اسلام لائے۔ سعیدؓ کا نکاح آپؓ کی بہن فاطمہؓ سے ہوا تھا اور وہ بھی مسلمان ہوگئی تھیں۔ حضرت عمرؓ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ یہ اسلام کے سخت خلاف تھے اور مسلمانوں کو بڑی اذیتیں دیاکرتے۔ آخر فیصلہ کیا ، تلوار کمر سے لگاکر سیدھے رسول اﷲ C کی طرف آپ C کے قتل (نعوذ باﷲ) کے ارادے سے چلے۔
راستے میں اتفاق سے نعیمؓ ابن عبداﷲ مل گئے۔ اُن سے معلوم ہوا کہ بہن اور بہنوئی مسلمان ہوگئے۔ فوراً پلٹے اور بہن کے ہاں پہنچے۔ وہ قرآن پڑھ رہی تھیں۔ آہٹ پاکر چپ ہوگئیں۔ اور قرآن کے اجزاء چھپالیے، مگر آواز اُن کے کانوں میں پڑچکی تھی۔ بہن سے پوچھا ’’یہ کیسی آواز تھی‘‘۔ اُنہوں نے کہا ’’کچھ ،کچھ نہیں‘‘۔
بولے’’نہیں! میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں اپنا مذہب تبدیل کرچکے ہو‘‘۔
یہ کہہ کر بہنوئی سے دست وگریبان ہوگئے اور جب فاطمہؓ بچانے کو آئیں تو اُن کی بھی خبر لی، یہاں تک کہ اُن کا بدن لہولہان ہوگیا۔ اُن کی زبان سے نکلا’’عمر ! جو بَن پڑے کرو، لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا‘‘۔
ان الفاظ نے حضرت عمرؓ کے دل پر خاصا اثر کیا، فرمایا’’ تم لوگ جو پڑھ رہے تھے، مجھے بھی سناؤ‘‘۔ فاطمہؓ نے قرآن کے صفحات لاکر سامنے رکھ دیے۔ اُٹھا کر جب یہ آیات پڑھیں تو دل نے اس کے حق ہونے کی گواہی دی اور یوں بے اختیار ایمان لے آئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیتِ ار قم میں پہنچ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بے ساختہ اﷲ اکبر پکار اُٹھے اور ساتھ ہی سب مسلمانوں نے مل کر اس زور سے اﷲ اکبر کا نعرہ بلند کیا کہ مکے کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں۔
حضرت عمرؓ کے ایمان لانے پر اسلام کی تاریخ کا نیا دور شرو ع ہوا۔ اُنہوں نے مسلمانوں کی جماعت ساتھ لے کر کعبے میں اعلانیہ نماز ادا کی اور کسی کو مزاحمت کی جرأت نہ ہوئی۔
ایک بہت بڑی جماعت حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئی تو قریش نے قوت کے ساتھ اسلام کو مٹادینا چاہا۔ حضرت ابوطالب کی زندگی میں تو کفّار کچھ نہ کرسکے، لیکن اُن کی رحلت کے بعد وہ ہرطرف سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور جس جس مسلمان پر بس چلا اُسے ستانا شروع کردیا ۔ پانچ چھ برس مسلمانوں پر بڑے سخت گزرے۔
اس اثنا میں یثرب کے ایک معزز گروہ نے اسلام قبول کرلیا تھا، چنانچہ بانئ.اسلام حضرت محمد رسول اﷲ Cنے حکم دیا کہ جو لوگ کفّار کے ستم سے تنگ ہیں وہ مدینہ ہجرت کرجائیں۔ مہاجرین کے دوسرے قافلے میں حضرت عمرؓ کے علاوہ اُن کے بھائی زیدؓ ، بھتیجے سعیدؓ، داماد خنیسؓ اور دوسرے دوست احباب سمیت بیس مسلمان شامل تھے۔
پہلی صدی ہجری بمطابق622ء سے حضورپاکﷺ کے وصال تک پیغمبرِ اسلام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں جومعرکے پیش آئے، غیر قوموں سے جو معاہدات ہوئے، وقتاً فوقتاً جو انتظامات واحکامات جاری کیے گئے، اشاعتِ اسلام کے لیے جو تدبیریں اختیار کی گئیں، اُن میں سے شاید ایک واقعہ بھی ایسا نہ ہو جو حضرت عمرؓ کی شرکت کے بغیر انجام پایا ہو۔ ان تمام واقعات وغزوات میں ان کے کارنامے نمایاں نظر آتے ہیں۔ غزوۂ بدر واُحد سے لے کر فتحِمکہ اور غزوۂ حنین تک ہر معرکے میں آپ عزم وثبات کا پیکر دکھائی دیتے ہیں۔
خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد میں مرتدینِ عرب اور مدعیّانِ نبوت کی سرکوبی کے بعد فتوحات کا آغاز ہوچکا تھا۔ خلافت کے دوسرے ہی برس یعنی 12ہجری t?میں عراق پر لشکر کشی ہوئی اور حیرہ کے تمام اضلاع فتح ہوگئے۔ اگلے سال شام پر حملہ ہوا اور اسلامی فوجیں رومی سرحدوں میں داخل ہوگئیں۔ ان مہمّات کا ابھی آغاز ہی تھا کہ حضرت ابو بکرؓ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت عمرؓ کو خلافت کی ذمہ داری ملی تو آپؓ نے سب سے پہلے عراق پر توجّہ کی۔ اسلامی لشکر کی پیش قدمی شروع ہوئی اور معرکۂ قادسیہ کے بعد بابل اور مدائن فتح ہوگئے اور ایوانِ کسریٰ میں تختِ شاہی کے بجائے منبر نصب ہوا اور وہاں جمعے کی نماز ادا کی گئی۔
13ہجری میں فتح اجنادین کے بعد اسلامی لشکر نے خالدؓ کی قیادت میں دمشق کا رُخ کیا اور شہر کا محاصرہ کرلیا، محاصرہ اگر چہ حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں شروع ہواتھا لیکن فتح حضرت عمرؓ کے عہد میں ہوئی۔ اس کے بعد فحل ، یرموک اور بیت المقدس فتح ہوتے چلے گئے۔ حضرت عمرؓ جس شان سے بیت المقدس میں داخل ہوئے اس کا بیان اوپر ہوچکا ہے۔ 17ہجری میں قیساریہ کی فتح سے گویا شام کا مطلع صاف ہوگیا ۔ ادھر جزیرہ ، عراقِ عجم، آذربائیجان اور آرمینیا فتح ہوئے۔ 23ہجری میں کرمان، ہیستان ، مکران اور خراسان فتح ہوئے اور شاہِ ایران یزدگرد نے بھاگ کر خاقانِ ترکستان کے پاس پناہ لی۔
اس دور کا ایک اور واقعہ مصر کی فتح ہے۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے 20ہجری میں مصر پر حملہ کیا۔ فسطاط اور اسکندریہ کی فتح کے بعد پورے مصر پر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔
حضرت عمرِ فاروق ؓ کے عہدِ خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود کا رقبہ تقریباًساڑھے بائیس لاکھ مربّع میل تھا۔ ان میں شام، مصر، عراق ، جزیرہ، خوزستان ، عراقِ عجم، آرمینیا، آذربائیجان، فارس ، کرمان، خراسان اور مکران شامل تھے۔
حضرت عمرؓ کے گردوپیش جو حکومتیں تھیں ، وہ جمہوری نہ تھیں۔ ایران میں تو سرے سے کبھی یہ اصول نافذ ہی نہ ہوا، روم البتہ کسی زمانے میں اس شرف سے ممتاز تھا، لیکن حضرت عمرؓ کے زمانے سے بہت پہلے وہاں شخصی حکومت قائم ہوچکی تھی جو اَب ایک جابرانہ خودمختار سلطنت میں ڈھل گئی تھی۔ اس پسِ منظر میں یہ بات کسی کرشمے سے کم نہیں کہ حضرت عمرؓ نے بغیر کسی مثال اور نمونے کے ایک ایسی فلاحی حکومت کی بنیاد ڈالی جس کا اصل ا صول مجلس شوریٰ کا انعقاد تھا۔
جب کوئی انتظامی معاملہ پیش آتا تو ہمیشہ اربابِ شوریٰ کی مجلس منعقد ہوتی اور کوئی امرمشورے اور کثرتِ رائے کے بغیر عمل میں نہ آسکتاتھا۔ اس مجلس میں اکابر صحابہؓ شامل تھے۔
معمولی اور روز مرّہ کے کاروبار میں اس مجلس کے فیصلے کافی سمجھے جاتے، لیکن جب کوئی اہم امر پیش آتا تو مہاجرین وانصار کا اجلاس عام ہوتا اور سب کے اتفاق سے وہ معاملہ طے پاتا۔ عراق وشام کی زمینیں کئی روز کی بحث وتمحیص کے بعد بیت المال کی ملکیت قرار دی گئیں۔
مجلسِ شوریٰ کے علاوہ ایک مجلس اور تھی جہاں روزانہ انتظامات اور ضروریات پر گفتگو ہوتی ۔ یہ مجلس ہمیشہ مسجدِنبوی میں منعقد ہوتی ۔ مختلف علاقوں سے روزانہ خبریں دربارِ خلافت میں پہنچتیں ، حضرت عمرؓ اس مجلس میں بیان کرتے اور لوگوں کی رائے لیتے۔
عام رعایا کو بھی انتظامی اُمور میں دخل حاصل تھا۔ صوبوں اور اضلاع کے حاکم اکثر لوگوں کی مرضی سے مقرر کیے جاتے، بلکہ بعض اوقات باقاعدہ انتخاب کا طریقہ عمل میں آتا۔ سعدؓ بن ابی وقاص بلند مرتبہ صحابی اور فاتحِ ایران تھے، حضرت عمرؓ نے اُنہیں کوفے کا گورنر مقرر کیا تھا لیکن جب لوگوں نے اُن کی شکایت کی تو وہ معزول کردیے گئے۔
جمہوری حکومت کا ایک بہت بڑا اصول یہ ہے کہ ہرشخص کے حقوق محفوظ ہوں۔ حضرت عمرؓ کی حکومت میں ہرشخص کو یہ استحقاق حاصل تھا اور لوگ اعلانیہ اپنے حقوق کا اظہار کرتے ۔ مختلف علاقوں سے تقریباً ہر سال وفود آتے جو دربارِ خلافت کو ہر قسم کے حالات اور شکایات سے مطلع کرکے داد رَسی چاہتے۔ حضرت عمرؓ خود کو عام آدمیوں کے برابر سمجھتے اور کسی قانون سے مستثنیٰ نہ تھے۔ ہر شخص کو اُن پر نکتہ چینی کا حق حاصل تھا۔ ایک موقع پر تقریر میں فرمایا:
’’صاحبو! مجھ پر تم لوگوں کے کئی حقوق ہیں جن کا تمہیں مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے۔ آپ خیال رکھیں کہ میں خراج اور مالِ غنیمت بے جا طور پر جمع نہ کروں، میرے ہاتھ سے خراج اور مالِ غنیمت بے جا طور پر صرف نہ ہونے پائیں۔ پھر یہ کہ میں تمہارے وظیفے بڑھاؤں، سرحدوں کو محفوظ رکھّوں اور تمہیں خطرات میں نہ ڈالوں ‘‘۔
ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمرؓ کو مخاطب کرکے کہا’’اے عمرؓ! خدا سے ڈر‘‘….. حاضرین میں سے ایک شخص نے اُسے روکا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا’’نہیں ، کہنے دو۔ اگر یہ لوگ نہ کہیں تو یہ بے مصرف ہیں ، اور ہم نہ مانیں توہم کسی کام کے نہیں‘‘۔
نظامِ حکومت کا ابتدائی سلسلہ ملک کی مختلف انتظامی وحدتوں یعنی صوبوں اور اضلاع وغیرہ میں تقسیم ہے۔ اسلامی تاریخ میں حضرت عمرؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کی ابتداء کی….. اُنہوں نے 20ھ میں مکہ ، مدینہ، شام ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر اور فلسطین ، آٹھ صوبوں میں تقسیم کیے۔ پھر فتوحات کے ساتھ ساتھ فارس ، خوزستان ، کرمان وغیرہ مزید صوبے قائم ہوئے۔
صوبوں میں درجِ ذیل بڑے بڑے عہدیدار تھے….. والی یعنی حاکمِ صوبہ(گورنر)، کاتب یعنی میر منشی، کاتبِ دیوان یعنی دفترِ فوج کا میر منشی، صاحب الخراج یعنی کلکٹر، صاحبِ حداث یعنی افسرِ پولیس، صاحبِ بیت المال یعنی افسرِ خزانہ قاضی یعنی جج۔
ہر صوبے میں ایک فوجی افسر بھی ہوتاتھا ، لیکن اکثر حالتوں میں صوبے کا والی یا عامل ہی یہ خدمت بجالاتا۔ بعض اوقات پولیس کے فرائض بھی عامل کے سپرد کردیے جاتے۔ اضلاع میں بھی عامل افسرِ خزانہ اور قاضی وغیرہ ہوتے تھے اور یہ سب والئ صوبہ کے ماتحت حکومت کا کام کرتے ۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں کی رائے اور مشاورت سے نہایت دیانت دار اور قابل لوگ منتخب کرکے ملکی خدمات اُن کی سپرد کیں۔ زیادہ اہم خدمات کے لیے مجلسِ شوریٰ کے عام اجلاس میں انتخاب ہوتاتھا، چنانچہ عثمان بن حنیف کا تقرر اسی طریقے سے ہوا تھا۔ ہر عامل سے عہد لیا جاتا کہ تُرکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا….. باریک کپڑے نہ پہنے گا…..چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھائے گا….. دروازے پر دربان نہ رکھے گا اور اہلِ حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔
یہ شرطیں اکثر پروانۂ تقررّ ی میں درج ہوتیں اور مجمعِعام میں پڑھ کر سنائی جاتیں۔ وقتاً فوقتاً عمّال کی جوشکایتیں آتیں، اُن کی تحقیقات کے لیے ایک خاص عہدۂ احتساب قائم کیا جس پر مشہور صحابی محمدؓ بن مسلمہ مامور تھے۔
باوجود یہ کہ اُس وقت عرب کا تمدّن ابتدائی حالت میں تھا اور سلسلۂ حکومت کے آغاز کو چند ہی برس گزرے تھے، تاہم حضرت عمرؓ نے بہت سے جداگانہ محکمے قائم کیے اور ایسی اصطلاحات نافذ کیں جو آج تک فلاحی ریاست کے بنیادی ستون قرار دی جاتی ہیں۔
عرب میں پہلے خراج اور محاصل کا باقاعدہ کوئی نظام نہ تھا۔ اسلام کے آغاز میں جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے درخواست کی کہ زراعت کا کام ہم اچھا جانتے ہیں ، اس لیے زمین ہمارے ہی قبضے میں چھوڑ دی جائے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کی درخواست منظور کرلی اور بٹائی پر معاملہ ہوگیا۔ اس کے سوا جن مقامات کے باشندے سب مسلمان ہوگئے تھے، اُن کی زمین پر عُشر مقرر کردیا جو ایک طرح کی زکوٰ ۃ تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں خراج وغیرہ کا کچھ انتظام نہ ہوسکاتھا۔ حضرت عمرؓ نے جنگی مہمّات سے قدرے فراغت پاکر خراج کے نظم ونسق پر توجّہ کی۔ مفتوحہ علاقوں کی پیمائش کی گئی اور دکان کی باقاعدہ شرح مقرر ہوئی۔ ہر سال مالگزاری کے بارے میں رعایا کی رائے معلوم کی جاتی۔ اُنہوں نے سب مفتوحہ ممالک میں نہریں بنانے، بند باندھنے اور تالاب تیار کرانے کا ایک بڑا محکمہ قائم کیا۔ تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر کی۔ محکمۂ قضا(عدالتی نظام) بھی حضرت عمرؓ کی بدولت وجود میں آیا۔ اُنہوں نے اسے انتظامیہ سے بالکل الگ کرکے تمام علاقوں میں عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔ اس کے علاوہ ابو موسیٰ اشعریؓ گورنرِ کوفہ کو ایک فرمان لکھا جس میں صیغۂ.عدالت کے تمام اصولی احکام درج تھے۔
15ہجری میں حضرت عمرؓ نے باقاعدہ بیتِالمال کی بنیاد ڈالی۔ سب سے پہلے مدینۂ منورہ میں مرکزی بیتِالمال قائم کیا اور اُس کی نگرانی اور حساب کتاب کے لیے عبداﷲؓ ارقم کا بطورِ افسرِخزانہ تقررّ فرمایا۔ اس کے علاوہ آپؓ نے باقاعدہ محکمۂپولیس اور جیل خانے قائم کیے۔ بےِشمار مساجد، فوجی قلعے اور بارکیں تعمیر کرائیں۔ فوجی دفتر ترتیب دیا اور رضاکار سپاہیوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ دفترِمال قائم کیا اور مردم شماری کرائی۔ کوفہ ، بصرہ، جزیرہ، فسطاط اور موصل جیسے شہر آپ ہی کے عہد میں آباد ہوئے۔ آپؓ نے دریا کی پیداوار یعنی عنبر وغیرہ پر محصول لگایا۔ آپؓ نے پرچہ نویس مقرر کیے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے لیے مکانات بنوائے اور مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ آپ نے بے آسرا بچوں ، مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے روزینے اور معلمّوں اور مدرسّوں کے مشاہرے مقرر کیے۔
حضرت مغیرہ بی شعبہؓ کا ایک ایرانی غلام ابولولو فیروز تھا اس نے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ’’ میرے آقا نے مجھ پر بھاری محصول عائد کررکھاہے آپ کم کرادیجیے‘‘ آپؓ نے پوچھا ’’کس قدر محصول ہے؟‘‘….. اس نے جواب دیا ’’دو درہم روزانہ‘‘ …. .آپؓ نے پوچھا ’’کیا کام کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’نجاری،نقاشی اور آہنگری‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’تو پھر یہ محصول زیادہ نہیں‘‘ اس پر وہ ناراض ہوکر چلاگیا۔
دوسرے روز آپؓ صبح کی نماز پڑھارہے تھے کہ فیروزنے خنجر سے آپؓ پر کئی وار کیے۔ ایک زخم ناف کے نیچے تھا اور وہی سب سے زیادہ مہلک تھا صف میں آپؓ کے پیچھے کلب بن بکریشی ؓ تھے ان کو بھی قتل کردیا لوگوں نے اس کو پکڑا تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کرلی۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا’’یہ قاتلانہ حملہ کرنے والا کون تھا؟ لوگوں نے بتایا تو فرمایا اﷲ کا شکر ہے میرا قاتل مسلمان نہیں‘‘۔
دوسرے روز صحابہ نے دیکھا کہ آپ کی حالت زیادہ تشویشناک ہے چنانچہ آپؓ سے درخواست کی کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کردیں آپؓ نے فرمایا کہ اگر ابوعبیدہؓ ، یا سالم مولی، ابی حذیفہؓ آج زندہ ہوتے تو میں خلافت کے لیے انہیں نامزد کردیتا…..لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا ’’یہ چھ آدمی ہیں حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ،حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت زبیرؓ، اور حضرت طلحہؓ….. ان میں سے کسی ایک کو امیر بنالو پھر تاکید فرمائی کہ یہ کام میرے مرنے کے بعد تین دن کے اندر ہوجائے‘‘۔
وفات سے پہلے آپؓ نے اپنے صاحب زادے عبداﷲ کو ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کے پاس اس درخواست کے ساتھ بھیجا کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عبداﷲ گئے تو ام المومنین حضرت عائشہؓ اس حادثہ پر رورہی تھیں فرمایا اس جگہ کو میں نے اپنے لیے محفوظ رکھا تھا مگر میں عمرؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ حضرت عمرؓ یہ مژدہ سن جانفزا سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا’’ میری ایک بہت بڑی آرزو پوری ہوگئی معاً خیال آیا کہ شاید حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رعبِ خلافت کی وجہ سے اجازت دے دی ہے۔ چنانچہ آپؓ نے اپنے صاحبزادے عبداﷲ کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ام المومنینؓ سے اجازت مانگیں اگر اذن مل جائے تو بہتر ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا۔
حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہ جلیل القدر صحابی تین دن زخمی حالت میں رہ کر یکم محرم الحرام 24ھ کو 63سال کی عمر میں واصل بہ حق ہوگئے۔ وصیّت کے مطابق حضرت صہیبؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی ۔تدفین سے قبل حضرت علیؓ نے آپؓ کا چہرہ دیکھا اور فرمایا’’ لوگو! سب سے زیادہ محبوب مجھے یہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے‘‘۔
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ والدؓ کی وصیت کے مطابق ان کی وفات کے بعد ہم ان کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ کے قریب لے گئے اور ان سے اجازت طلب کی ۔ انہو ں نے خوشی سے اجازت دے دی اورپھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ، رسول اﷲ صلی اﷲ علی وسلم اور حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے