خلیفہ مہدی کا وفادار کوتوال!ایک سبق آموز حکایت

عبداﷲ بن مالک کا بیان ہے کہ میں خلیفہ مہدی کے زمانے میں کوتوال ( یعنی پویس کا چیف) تھا۔ خلیفہ بسااوقات اپنے بیٹے ہادی کے ہم نشینوں کو میرے پاس بھیجتا اور مجھے حکم دیتا کہ میں ان کو زدو کوب کروں اور انہیں قیدخانے میں ڈال دوں۔ خلیفہ مہدی کا مقصد تھا کہ وہ اپنے بیٹے ہادی کو اس کے بُرے ہمنشینوں سے محفوظ رکھے۔
اس دوران ہادی بھی میرے پاس اپنا کارندہ بھیجتا کہ میں اس کے ہم نشینوں سے اچھا سلوک کروں اور ان کی سزا میں تخفیف کروں، مگر میں اس کی بات نہیں مانتا تھا اور جو خلیفہ مہدی حکم دیتا، کر گزرتا۔
خلیفہ مہدی کے بعد جب اس کا بیٹا ہادی خلافت کی باگ ڈور سنبھال چکا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب میری خیر نہیں، یہ ضرور میری خبر لے گا، چنانچہ اس نے ایک دن مجھے بلا بھیجا۔ میں نے کفن پہنا اور مُردوں والی خوشبو لگا کر خلیفہ ہادی کے سامنے جاپہنچا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، اس کے سامنے چمڑے کا فرش (جس پر مجرم کو قتل کیا جاتا ہے) بچھا ہوا تھا اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ میں نے جب اسے سلام کیا تو وہ کہنے لگا ’’خدا تجھے برباد کرے! تجھے یاد ہے کہ فلاں آدمی کو خلیفۃ المسلمین نے تیرے پاس بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ اسے خوب مارو، مگر میں نے جب اس کی سفارش کی تو تُونے قبول نہیں کی تھی اور میری بات رَد کر دی تھی‘‘….. اس طرح خلیفہ نے اپنے کئی ہم نشینوں کے نام گنِوائے۔
میں نے عرض کیا ’’خلیفۃ المسلمین! آپ کا کہنا بالکل درست ہے، مگر کیا آپ مجھے لب کشائی کا موقع دیں گے؟‘‘…..
خلیفہ نے کہا ’’ہاں کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘…..
میں گویا ہوا ’’میں آپ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ٹھیک ٹھیک بتائیں کہ آپ نے مجھے ایک ذمہ داری سونپی جو آپ کے والد نے بھی مجھے سونپی تھی ، اب آپ مجھے کوئی حکم دیں، ساتھ ہی آپ کا بیٹا بھی مجھے کوئی ایسا حکم کرے جو آپ کے حکم کے مخالف ہو، پھر اگر میں آپ کے بیٹے کا حکم بجالاؤں اور آپ کا حکم نہ مانوں تو کیاآپ کو اس سے خوشی ہوگی؟‘‘…..
خلیفہ نے کہا: ’’نہیں نہیں! ‘‘…..
میں نے عرض کیا ’’پھر میں اسی طرح آپ کے لیے بھی وفادار کوتوال ہوں جس طرح آپ کے والد کا وفادار کوتوال تھا‘‘۔
میری بات سنتے ہی خلیفہ ہادی کا غصہ کافور ہوگیا اور اس نے مجھے اپنے قریب کر لیا۔ پھر اس نے مجھے شاہی لباس عنایت کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد میں اپنے گھر کو روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچ کر میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ عین ممکن ہے خلیفہ کے وزراء، ہم نشین ومنشی لوگ میرے خلاف اسے ور غلائیں اور خلیفہ کو باور کرائیں کہ وہ مجھے معاف نہ کرے، بلکہ گزشتہ خلاف ورزی پر مجھے عبرتناک سزا دے یا قتل کردے۔
دوسرے روز جبکہ میں گھر میں بیٹھا تھا، سامنے گرم گرم روٹی سالن رکھا ہوا تھا اور میں بچوں کو کھانا کھلارہا تھا کہ اچانک دروازے کے باہر سے شور وغل کی آواز آنے لگی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ زلزلہ آگیا ہے، کیوں کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز انتہائی ہنگامہ خیز تھی۔ میں کہنے لگا ’’شاید! موت کا فرشتہ آ گیا‘‘…… اتنے میں زور سے دروازہ کھلا اور خلیفہ ہادی کے سپاہی میرے گھر میں تیزی کے ساتھ داخل ہوگئے۔ ان کے درمیان خلیفہ بھی تھا۔ میں دیکھتے ہی فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور خلیفہ کا ہاتھ چوم لیا وہ کہنے لگا’’اے اﷲ کے بندے! میں تمہاری واپسی کے بعد تمہارے معاملے میں غو ر وفکر کرنے لگا۔ میں نے سوچا کہ جب میں اپنی مجلس میں بیٹھوں گا اور وہاں تمہارے مخالفین میرے کان بھرنے لگیں گے تو میرا تمہارے بارے میں جو حسنِ ظن ہے سوئے ظن میں تبدیل ہوجائے اور جب میں بدظن ہوجاؤں گا تو تم خوف ودہشت میں مبتلا ہوجاؤ گے اور تمہارا چین وسکون ختم ہوجائے گا، اسی لیے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ میں خود ہی تمہارے پاس پہنچ کر تمہاری موانست( دلجوئی) کروں اور تمہیں بتادوں کہ میرے دل میں تمہارے خلاف کوئی بات اب باقی نہیں رہ گئی، لاؤ مجھے بھی اپنے کھانے سے کھلاؤ‘‘….
عبداﷲ بن مالک کا بیان ہے :
’’چنانچہ جو کچھ سالن تھا، میں نے خلیفہ کے سامنے پیش کردیا۔ خلیفہ نے مزے سے ہمارا کھانا تناول فرمایا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جو کچھ عبداﷲ کے لیے لائے ہو حاضر کرو۔ سپاہیوں نے خچروں پر لدا بہت سارا سامان اور درہم کو میرے گھر میں اتارا۔ خلیفہ کہنے لگا ’’یہ سامانِزیست اور درہم رکھو اور ساتھ ان سارے خچروں کو بھی رکھ لو۔علاوہ ازیں میرے والد نے جس عہدے پر تمہیں فائز کیا تھا میں بھی اس پر تمہیں برقرار رکھتا ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر خلیفہ واپس ہوگیا اور اس کے بعد میرا شمار خلیفہ کے قریبی لوگوں میں ہونے لگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے