کوئی سجدہ کیے بغیر جنت حاصل کرنے والے خوش نصیب صحابی!

صحابی

بستی کے تمام لوگ انہیں حنظل کے نام سے پکارتے تھے لیکن حنظل ان کا اصلی نام نہ تھا، کیونکہ حنظل تو ایک کڑوے اور بدبودار پھل کو کہتے تھے، یہ نام تو ان کے یہودی آقا کی حسین و جمیل لڑکی نے انہیں دیا تھا۔

شروع شروع میں جب وہ لڑکی انہیں اس نام سے پکارتی تو انہیں بہت غصہ آتا لیکن وہ احتجاج کرتے بھی تو کس سے ….؟ کیونکہ وہ ایک حبشی النسل معمولی سے زر خرید غلام تھے جبکہ وہ لڑکی ایک امیر ترین یہودی کی اکلوتی بیٹی۔ سو رفتہ رفتہ انہوں نے اس نام کو قبول کرلیا۔ یہ دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہودیوں کی ایک بستی تھی جسے خیبر کہا جاتا تھا۔ حنظل کا آقا بھی ایک یہودی اور اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ خیبر ، مدینہ سے دو سو میل کے فاصلے پر واقع تھا اور ان دنوں یہود کی آبادی حجاز کے ہر گوشے سے سمٹ کر یہاں اکٹھی ہوگئی تھی۔ اس آبادی میں چند نہایت مضبوط و مستحکم قلعے موجود تھے، جن کے نام تو جدا جدا تھے مگر ان سب کو ملاکر خیبر کہا جاتا تھا۔ یہاں پر یہود کی بڑی بڑی حویلیاں اور عبادت خانے تھے۔ اُن ایام میں یہ یہودی مسلمانوں کے لیے قریش سے بڑا خطرہ بن چکے تھے۔ یہ لوگ جنگ خندق کی ناکامی کے بعد سخت مشتعل تھے جس کی آگ ان یہودیوں کی ہی بھڑکائی ہوئی تھی۔ اب یہ دن رات اسی سازش میں مصروف رہتے کہ کسی طرح مدینے کی ریاست پر براہ راست حملہ کیا جائے۔

اپنے یہودی آقاؤں کی ان سرگرمیوں سے بے خبر حنظل ایک شام ایک دیوار کے سائے میں اونگھ رہے تھے کہ ایک آہٹ سے ان کی آنکھ کھلی۔ نیچے جھانک کر دیکھا تو انہی کی طرح ایک سیاہ فام شخص حنظل کے پانی سے بھرے مشکیزے کو ہاتھوں میں تھامے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ حنظل نے اسے چور سمجھا اور سوچا کہ اسے پکڑ لیا جائے، مگر پھر یہ خیال آیا کہ اگر یہ شخص پیاسا ہے تو یہ پانی پیتا کیوں نہیں….؟

وہ بار بار اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتا، اور ادھر اُدھر اس پانی کے مالک کو تلاش کرتا، حنظل ایک غلام ضرور تھے لیکن ذہین بھی تھے، وہ سوچنے لگے کہ اس شخص کی جان لبوں پر ہے مگر وہ کون سی طاقت ہے جو اسے پانی پینے سے روک رہی ہے….؟ کچھ دیر انتظار کے بعد اس شخص نے وہ پانی واپس رکھ دیا اور آسمان کی طرف رُخ کرتے ہوئے کہا

‘‘یا اللہ ! تو گواہ ہے کہ میں نے خیانت نہیں کی کیونکہ تیرے بھیجے ہوئے رسول نے خیانت سے منع فرمایا ہے’’۔

یہ کہہ کر وہ اجنبی چند ہی قدم چلا ہوگا کہ چکرا کر گر پڑا۔ حنظل نے اسے سہارا دیا اور پانی پلایا، کچھ دیر بعد دونوں اشخاص ایک سایہ دار پیڑ کے نیچے بیٹھ کر کھجوریں کھارہے تھے اور باتیں کررہے تھے۔ اجنبی نے بتایا کہ وہ قریش کے ایک مفرور غلام ہیں کہ جو اسلام قبول کرنے کے بعد مدینہ جانے کی غرض سے مکہ سے نکلے مگر راستہ بھٹک کر ادھر آگئے۔

اب حنظل نے اپنے دل میں مچلتا سوال اس اجنبی سے کر ڈالا کہ وہ کون سی طاقت ہے کہ جس نے تمہیں مرتے مرتے بھی خیانت سے باز رکھا۔ اجنبی نے جواب دیا کہ وہ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن پر میں ایمان لاچکا ہوں اور انہی کی خدمت میں  مدینہ جارہا ہوں، اس سے قبل کہ حنظل مزید کوئی سوال پوچھتے کہ دور سے یہودیوں کا ایک مسلحہ دستہ نظر آیا اور وہ اجنبی قریب سے گزرتی ایک نہر میں کود کر وہاں سے چلے گئے۔ لیکن حنظل کے دل میں ایک انجانا سا تجسس چھوڑ گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی سے پوچھ سکیں، لیکن ایک غلام ہونے کی وجہ سے انہیں یہ حق حاصل نہ تھا، روز سورج نکلتا اور ڈوب جاتا لیکن حنظل کی یہ بے چینی ختم نہ ہوتی۔ انہوں نے آج تک اپنے آقاؤں سے صرف گالیاں اور جھڑکیاں ہی سنیں تھیں مگر جب وہ اُس اجنبی غلام کی اطاعت گزاری اور اپنے آقا سے عشق کی صورتحال دیکھتے تو ایک کشمکش میں مبتلا ہوجاتے۔

آخر کار تلاش حق کی اس چنگاری نے اپنا کام کردکھایا اور حنظل نے مدینہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔  ایک دن وہ اپنے مالک کی بکریوں کو لے کر مدینہ روانہ ہوئے، دل میں نیت کی کہ وہ ان بکریوں کے ذریعے مسلمانوں کو آزمائیں گے کہ کیا واقعی وہ خیانت کے خلاف ہیں۔ اتفاق سے انہی  دنوں مسلمان یہودی سازشوں کے خاتمے کے لیے خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے اور راستے میں حنظل کی ملاقات اسلامی لشکر سے ہوئی، انہیں اپنا وہ اجنبی دوست بھی نظر آیا، اجنبی نے حنظل کو دیکھتے ہی کہا  مجھے یقین تھا میرے دوست کہ تم ضرور آؤ گے، پھر وہ آپ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔

یہاں حنظل کی ملاقات ایک انتہائی شفیق اور مہربان ہستی سے ہوئی، جو ان کی سوچوں سے کہیں دور تھی، انہوں نے راستے میں کئی سوالات سوچ رکھے تھے، مگر جیسے ہی حضور علیہ  الصلوٰۃ والسلام سے سامنا ہوا تو تمام سوالات بھول گئے، اور آپ کی دعوت پر ایمان قبول کرلیا۔ پھر اپنے ساتھ لائی بکریوں کے متعلق دریافت کیا تو حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا انہیں ان کے مالکوں تک پہنچادے۔

اس جواب نے حنظل رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں موجود تمام شکوک و شبہات دور کردیے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو صبح کا وقت ہوچکا تھا، اور صبح ہوتے ہی یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی، حنظل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایمان قبول کرتے ہی اس جنگ میں حصہ لیا اور آپ شہید ہوگئے۔ حضور پاک ﷺ نے جب آپ کی لاش دیکھی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے فرمایا:

‘‘اللہ نے اس غلام کو عزت بخشی اور نیکی کی طرف چلایا۔ اس کے سرہانے دو خوبصورت آنکھوں والی حوریں کھڑی ہیں حالانکہ اس نے اللہ کو ایک بھی سجدہ نہ کیا’’….

جبکہ اسی معرکے میں ان کے سابق یہودی آقاؤں کو جو زندگی بھر سیاہ فام حنظل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھڑکیاں اور گالیاں دیتے رہے ان کو بھی ذلت آمیز موت نصیب ہوئی۔ وہ تمام عمر اپنی خوبصورتی اور دولت پر نازاں رہے۔ لیکن یہ ناز اور غرور صرف ان کی زندگیوں تک محدود تھا، جبکہ حنظل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات فتح خیبر کے موقع پر بھی قابل رشک تھی اور آج بھی ہر مسلمان ان کی قسمت پر رشک کرتا ہے کہ جن کی جنت کی بشارت خود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے