دس چڑیلیں! جو تاریخ انسانی میں اپنا وجود رکھتی تھیں۔

 

جادو ۔ ایک ایسا عمل ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔    یہ  تاریخ انسانی کے ہر دور میں رائج رہا ہے اور آج بھی   دنیا کے کونے کونے میں   مختلف لوگ  ایک دوسرے پر یہ عمل بد کرتے اور کرواتے ہیں۔  کچھ صدیاں قبل اسی عمل بد کے شبے میں    یورپ کی  لاکھوں لڑکیوں کو زندہ جلادیا گیا  تھا۔ اس واقعے کو دنیا وچ ٹرائل کے نام سے یاد کرتی ہے۔اگر آپ اس بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو اُردو ڈائری کی ویڈیو معصوم چڑیلیں ملاحظہ کیجیے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اُن زندہ جلائی جانے والی لڑکیوں میں تمام ہی معصوم اور بے قصور تھیں تو آپ غلط ہیں۔ کیونکہ  اس آرٹیکل میں ہم ان چند چڑیلوں کی بات کریں گے جو حقیقت میں  اپنا وجود رکھتی  تھیں۔ یہ اپنے شیطانی عملیات کی مدد سے مختلف شیاطین کو بلانے  اور ان سے مطلوبہ کام کروانے میں ماہر تھیں۔ شروعات کرتے ہیں پہلی چڑیل یا جادوگرنی سے۔

Mother Shipton

مادر شیپٹن

مدر شیپٹن  نامی ایک جادوگرنی  15 ویں صدی عیسوی   کے دوران انگلینڈ میں رہا کرتی۔ انگلینڈ میں یہ عورت اپنی غیب بینی  اور جادوگری کی صلاحیتوں کے حوالے سے کافی معروف ہے۔  مدر شیپٹن  ایک انتہائی بدصورت عورت تھی،  جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے جادوگر  باپ اور چڑیل ماں کے کسی شیطانی عمل کا نتیجہ ہے۔   انگلینڈ کے کچھ لوگ مدر شیپٹن  کو  فرانس کے مشہور مستقبل بین ناسٹرڈیمس کا ہم پلہ خیال کرتے ہیں، کیونکہ  اس عورت نے اسپین کے بحری بیڑے کی کامیابی، لندن میں پھیلنے والی پراسرار وبا اور کوئین میری کی سزائے موت کی کامیاب پیشین گوئیاں کیں، مدر شیپٹن کا خوف اس قدر زیادہ تھا کہ لوگ اس پر ہاتھ ڈالنے یا اُسے سزا دینے سے کتراتے تھے ، اس لیے یہ عورت  قدرتی    موت مری، اس کے مرنے کے بعدجہاں اسے دفنایا گیاوہ جگہ آج تک انتہائی منحوس اور ناپاک تصور کی جاتی ہے۔ یہ وہ غار ہے جسے مدر شیپٹن کا غار کہا جاتا ہے ، یہ آج بھی برطانوی لوگوں کے لیے خوف و دہشت کی ایک علامت ہے۔

Alice Kyteler

Alice Kyteler

الیس کیٹیلر آئرلینڈ کی وہ پہلی عورت تھی جسے  چڑیل قرار دیا گیا۔ الیس نے  کئی مختلف مردوں سے الگ الگ  ادوار میں شادیاں رچائیں اور یہ تمام ہی  بڑے عجیب و غریب طریقے سے بیمار ہوئے اور پھر مرگئے، جبکہ الیس  درجہ بدرجہ طاقت اور شہرت حاصل کرتی رہی یہاں تک کہ جب اس کا آخری  شوہر مرا تو اس کے اپنے ہی بچوں نے الیس پر جادوگری اور اپنے باپ کی موت کے الزامات عائد کیے،  آئرلینڈ کے بشپ نے الیس کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے، لیکن اس وقت تک الیس اس قدر اختیارات حاصل کرچکی تھی کہ اُس نے اُلٹا بشپ کو ہی 17 دنوں کے لیے جیل میں بند کروادیا۔ بعد ازاں عوامی دباؤ کے سبب چانسلر نے اسے راتوں رات آئرلینڈ سے غائب کردیا اور اس کے بعد الیس کیٹیلر کسی کو نظر نہیں آئی۔

Helen Duncan

Helen Duncan

1944عیسوی  ہیلین ڈنکن نامی ایک عورت  برطانیہ میں وہ آخری قیدی بنی جس پر ایک چڑیل ہونے کا الزام تھا۔ہیلین اپنی روحانی طاقتوں کے سبب کافی مشہور تھی، لیکن 1941 میں انہی طاقتوں نے اسے ایک مجرم بنادیا۔جب ہیلین نے یہ دعویٰ کیا کہ HMS Barhams نامی ایک جہاز کے ڈوبنے میں خود برطانوی نیوی ملوث تھی اور اسے یہ بات ایک مردہ ملاح کی روح نے بتائی ہے۔ہیلین کے اس دعوے نے برطانوی دفاعی اداروں کو ہلاکر رکھ دیا، اسے ہنگامی طور پر گرفتار کیا گیا اور کالاجادو کرنے کی پاداش میں 10 مہینوں کی سزا دی گئی۔ لیکن چند افسران کے مطابق برطانوی  فوج ہیلین کی خفیہ صلاحیتوں سے بہت زیادہ متاثر تھی ، اس لیے  ہیلین کافی عرصہ  منظر عام سے غائب رہی یہاں تک کہ ایک روز 1956  عیسوی میں ایک پراسرار مکان سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ ہیلین کی موت کسی انتہائی خطرناک جادوکی رسم ادا کرتےہوئے واقع ہوئی۔ جو آج تک ایک معمہ ہے۔

Malin Matsdotter

Malin Matsdotter

سترہویں صدی عیسوی سوئیڈن میں ایک انتہائی طاقتور جادوگرنی گزری ہے۔ جس کا نام میلن میٹس ڈورتھا۔ اس  بیوہ عورت پر جادوگری، شیاطین سے تعلقات اور بچے  چرانے کا الزام تھا جو خود اس کی اپنی بیٹیوں نے میلن میٹس ڈور پر عائد کیا۔ کیونکہ اس عورت نے اپنی ہی بیٹیوں کے بچوں یعنی اپنے نواسوں کو بھی نہ بخشا تھا، میلن نے انہیں اغوا کرکے شیطان  پر نذر کردیا۔ میلن میٹس ڈور کو اپنا جرم قبول نہ کرنے پر زندہ جلادیا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر  میلن میٹس ڈور نامی اس  عورت نے زندہ جلنے کے دوران کوئی ایک آواز منہ سے نہ نکالی۔

Marie Catherine

میری کیتھرین

میری کیتھرین نامی ایک عورت اُنیسویں صدی عیسوی کے دوران ایک انتہائی بدنام زمانہ جادوگرنی گزری ہے۔ اسی عورت نے امریکہ کے علاقے نیو آرلینز میں شامنزیم وڈو کی بنیاد رکھی۔ میرین کیتھرین  اور دیگر جادوگرنیوں میں صرف ایک فرق تھا وہ یہ کہ میری کیتھیرین جادئی عملیات کسی سے چھپ چھپا کر نہیں کیا کرتی بلکہ اس کے عقیدت مندوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ میری کیتھرین کے فالورز کا دعویٰ تھاکہ وہ اپنی جادوئی صلاحیتوں کے سبب اپنا جسم تبدیل کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے، اسی لیے آ ج تک میری کیتھرین  کے ماننے والےاسے زندہ سمجھتے ہیں اور اس کی قبر پر جاکر مختلف نشانات کی مدد سے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Entjen Gillis

Entjen Gillis

جہاں  دیگر جادوگرنیوں کو  شیطان سے بنائے تعلقات کے سبب جانا جاتا ہے وہیں اینٹجن گیلیس نامی اس عورت کو لوگ اس کے بھیانک ترین جرائم کے سبب یاد کرتے ہیں۔ اینٹین دراصل نیدر لینڈ نامی ملک میں ایک دایہ ہوا کرتی تھی ۔1613 عیسوی میں اینٹجن پر  بچوں کو پیدا ہوتے   ہی ماردینے یا پھر رحم مادر میں ہی ختم کردینے  جیسے سنگین الزامات لگے۔ تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کالے علوم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ایسے جرائم انجام دیا کرتی۔اینٹجین کو  اس کے بھیانک جرائم کے عوض سزائے موت دے دی گئی۔

Agnes Sampson

Agnes Sampson

1590 عیسوی  میں ا سکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمس 6 اور ڈنمارک کی شہزادی  اینے کی شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی۔  تقریبات کے بعد جب یہ شاہی جوڑا واپس اسکاٹ لینڈ کے لیے روانہ ہوا تو ان کا جہاز کئی مرتبہ شدید طوفانوں کی لپیٹ میں آیا لیکن جیسے تیسے یہ  لوگ اسکاٹ لینڈ پہنچنے میں کامیاب رہے۔ واپس پہنچنے پر نجومی اور ماورائی علوم پر مہارت رکھنے والوں کے مطابق پتہ چلا کہ یہ طوفان دراصل کالے جادو کے ذریعے پیدا کیے گئے تھے، کوئی ہے جو بادشاہ اور شہزادی کی شادی سے خوش نہیں۔ بادشاہ جیمس نے تمام ملک میں جادو کرنے والوں اور والیوں کے خلاف ایک مہم شروع کی،  انہی دنوں Agnes Sampson  نامی ایک راہبہ بھی  اسکاٹ لینڈ میں رہا کرتی، ایگنس کی ہی ایک شاگرد جادوگرنی نے بادشاہ سے اس کی مخبری کی اوراسے گرفتار کروایا۔ بعد ازاں  شدید تشدد کے نتیجے میں  اس عورت نے اپنے کردہ یا ناکردہ جرم کا اعتراف بھی کرلیا جس کے بعد اسے  سزائے موت دے دی گئی۔

Alistar Crwoley

Aleister Crowley

اب ہم جس شخص کی بات کرنے جارہے ہیں وہ کوئی جادوگرنی نہیں بلکہ  چند ہی دہائیاں قبل گزراایک بدنام ترین جادوگر ہے۔  کوئی ڈھکا چھپا شیطان کا پجاری نہیں بلکہ  کھلےعام ایک شیطانی مذہب  تھیلماکی بنیاد رکھنے والا یہ جادوگر اپنی پراسرار صلاحیتوں اورماورائی علوم پر لکھی اپنی کتابوں کے سبب آج بھی دنیا بھر میں بدنام ہے۔ جلد ہی اس کے بارے میں ایک کمپلیٹ آرٹیکل آپ اردو ڈائری ڈاٹ کام پرملاحظہ کرسکیں گے۔

Merga Bien

Merga Bien

مرگا نامی یہ عورت جرمنی  کی ایک مشہور ترین جادوگرنی گنی جاتی ہے۔ مرگا بین  کا تعلق کسی غریب یا پسے ہوئے طبقے سے نہ تھا بلکہ وہ جرمنی کے ایک اعلیٰ اور نہایت بارسوخ خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ مرگا بین پر اپنے پچھلے دو شوہروں سمیت کئی بچوں کے قتل کا الزام تھا ۔ اس کے علاوہ یہ عورت رنگے ہاتھوں جادوئی رسومات ادا کرتی پکڑی گئی، جس پر اسے کئی جادوگرنیوں سمیت زندہ جلادیا گیا۔

The Salem Witches

The Salem Witches

امریکی ریاست میسا چیوسٹس کا شہر سیلم آج بھی اپنے وچ ٹرائل کے سبب ساری دنیا میں مشہور ہے۔ 1692 عیسوی میں اس شہر کی عورتوں کو ایک پراسرار بیماری کا سامنا ہوا، یہ ایک عجیب و غریب اور دردناک قسم کافنگس تھا، جو پھیلتا ہی چلا جاتا۔اس بیماری کے زیر اثر عورتیں انتہائی عجیب و غریب حرکات کرتیں۔   ڈاکٹر اس بیماری کے اسباب جاننے میں ناکام رہے، چنانچہ مقامی افراد نے اس عمل کی ذمہ داری  جادو اور اس میں ملوث جادوگرنیوں پر عائد کی،  دلچسپ بات یہ ہے  کہ کچھ عورتوں اور مردوں نے  اپنے اس سیاہ عمل کی ذمہ داری قبول بھی کرلی۔ سیلم کے لوگوں نے ان سب کو سزائے موت دی لیکن سیلم وچ ٹرائل آج تک ایک پہیلی بنا ہوا ہے کیونکہ کافی لوگوں کا ماننا ہے کہ سیلم میں موت کے گھاٹ اتارے جانے والی اکثر عورتیں  دراصل ہسٹریا نامی بیماری کا شکار تھیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے