دنیا کے خفیہ ترین مقامات! جہاں آپ کبھی نہیں جاسکتے۔

خفیہ مقامات

تجسس  کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے اور انسان  ہمہ وقت  ایسی چیزوں کے کھوج میں لگا رہتا ہے   جو اس  کے لیے راز  ہوتی ہیں۔      بچپن میں بھی جن چیزوں  یا کاموں سے روکا جاتا ہے ، بچہ وہی کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔      لوگوں کے لیے زیادہ کشش  بھی ایسی ہی  چیز میں ہوتی ہے  جو ان کی  دسترس سے باہر ہو،  پوشیدہ  یا خفیہ   ہو یا  اس پر سخت پابندی عائد ہو۔

دنیا کی ہر ریاست،  ہر ملک میں کچھ ایسے  راز ہوتے ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہوتی ،  کچھ ایسے مقام  ہوتے ہیں جہاں ہر کوئی نہیں جاسکتا۔    منچلے سیاحوں  کے لیے بھی وہ تمام مقامات بہت اہمیت رکھتے ہیں  ۔

آئیے  ہم آپ کو دنیا بھر میں مشہور ایسی  ہی کچھ جگہوں کے بارے میں بتا تے ہیں جو کافی خفیہ  اور ریسٹركٹیڈ  Restricted  ہیں۔   کچھ سائٹس تو ایسی ہیں جو نیوکلیر  بم کا حملہ تک برداشت   سکتی ہیں۔  جبکہ کچھ جگہوں سے وکی لیکس جیسے متنازعہ سرور چلائے جاتے ہیں۔  کچھ جگہیں ایسی ہیں جنہیں اپ گوگل ارتھ سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔

Area 51, Nevada

ایریا 51، نیواڈا، امریکا

ایریا 51

دنیا کے خفیہ ترین مقامات کے ضمن میں   سب سے پہلے  امریکی ریاست نیواڈا  Nevada   کے  صحرا کے دوردراز حصے میں ،   لاس ویگاس کے شمال میں 80 میل کے فاصلے پر واقع  گروم جھیل کے گرد موجود  امریکی فوجی مستقر Airbase کا نام لیا جاتا ہے ،جو انتہائی خفیہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔   اسے عرفِ عام میں ایریا 51  کہا جاتا ہے  ۔

ہالی وڈ کی فلموں میں اکثر ایریا 51 کا ذکر آتا ہے۔ خاص طور پر ایسی سائنس فکشن فلموں میں، جن میں خلائی مخلوق کا زمین پر حملہ دکھایا جاتا ہے۔  بلکہ بہت سی فلموں میں تو یہ بھی دکھا گیا ہے کہ ماضی میں خلا سے آنے والی اڑن طشتری ایریا 51 میں موجود ہے جہاں اس پر تحقیق کی جارہی ہے۔ ایسا ہی ایک منظر فلم انڈیپنڈس ڈے  Independence Dayمیں بھی دکھایا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں امریکی خلائی تحقیق دان اڑن طشتریوں کے بارے میں حقائق جاننے کی کوشش کررہے ہیں اور ایریا 51 کے بارے میں امریکی صدر کو بھی صرف اتنی ہی معلومات ہوتی ہے جتنی اسے ضرورت کے تحت فراہم کی جاتی ہے،  اس فلم کے مطابق فراہم کردہ محدود معلومات کے علاوہ امریکہ کا صدر بھی اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ اس مقام پر کیا ہورہا ہے؟

سوال یہ ہے کہ کیا اس بات میں کوئی حقیقت ہے؟

اس علاقے کو ایریا 51 کا نام اس لیے دیا گیا   ہے کہ  یہ ان علاقوں کے نقشے میں شامل کیا جانے والا 51واں علاقہ تھا جہاں ایٹم بم کے تجربات کیے جاتے تھے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ   ایریا 51  اس لیے کہ  امریکہ کی 50 ریاستوں سے ہٹ کر  یہ  ایک طرح سے  51ویں   ریاست  ہے جو   الگ سرحد رکھتی  ہے،   جہاں داخل ہونا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

اس ملٹری ایریا  کے ارد گرد گارڈز گھومتے رہتے ہیں اور انہیں نزدیک آنے والے کسی بھی شخص کو گولی مارنے کا حکم ہے۔

ایریا 51 میں  ہوتا کیا ہے….؟

آج تک کسی کو کچھ نہیں معلوم  ہوسکا….  اس ائیر بیس کے ارد گرد انتہائی سخت سیکیورٹی اور جگہ جگہ لگے

‘‘داخلہ منع ہے’’

کے انتباہی بورڈز کی وجہ سے یہ کئی مشکوک نظریات کا موضوع بنا رہاہے۔      نہ  ہی سی آئی اے  یا کسی حکومتی ادارے نے اس  جگہ کے بارے میں عوام کو کبھی کچھ بتایا  اور نہ ہی کوئی سیاح یا صحافی یہاں تک پہنچ سکا  ہے۔    یہی وجہ ہے کہ  ایریا 51 کے بارے میں ایسی ایسی باتیں مشہور ہيں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔   مثلاً یہ  کہ اس فوجی اڈے  میں  امریکی ریسرچرز  نے خفیہ طور پر  ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کے طیاروں اور مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔       جدید ٹیکنالوجی سے لیس  طیارے   U-2،   B-2 اسٹیلتھ  بمبار اور F-117 اسٹیلتھ فائٹر    طیارے اور ڈرون دنیا سے چھپا کر یہیں تیار کیے گئے تھے۔ یہ بھی  کہا جاتا ہے کہ آواز کی رفتار سے چھ گنا تیز پرواز کرنے والے طیارے  Aurora  بھی یہیں تیار کیا جارہا ہے۔  کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ  ایریا 51 میں دنیا بھر سے ملنے والی اڑن طشتریوں کی باقیات اور خلائی مخلوق پر تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔  امریکی ماہر لسانیات چارلز بیرلٹز Charles Berlitz  اور مصنف ولیم ایل مور William L. Moore  کی کتاب The Roswell Incident کے مطابق جولائی  1947ء میں امریکی ریاست نیو مکسیکو کے شہر ‘‘روزویل’’ میں   اڑن طشتری گری تھی جس میں ملنے والی  خلائی مخلوق کے اجسام کو  ایریا 51 میں ہی تحقیق کے   لیے لایا گیا تھا۔   لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے  اس جگہ کو  لوگوں اور میڈیا کی پہنچ سے دور رکھا گیا ہے۔

آج بھی کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اس جگہ پر عجیب و غریب روشنیاں دیکھی ہیں۔  علاوہ ازیں  دنیا کے موسموں اور زلزلوں کو کنٹرول کرنے والے ہتھیار  ‘‘ہارپ ٹیکنالوجی’’  سے لے کر ‘‘سارس’’ جیسے خطرناک وائرس کی تیاری  ،   ‘‘ٹیلی پیتھی’’ ‘‘ٹائم ٹریول ’’ اور ‘‘انسا نی کلوننگ’’ کے  تجربات سے لے کر   ‘‘نیوورلڈ آرڈر ’’ جیسی خفیہ تنظیموں  کی   سربراہی  تک  نجانے کیا کیا اس علاقے کے بارے میں مشہور ہے ؟….

ویسے ہو بھی سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ باتیں ٹھیک بھی ہوں۔ آخر ہمیں بھی تو نہیں معلوم کہ ایریا 51 میں ہوتا کیا ہے؟

Svalbard Global Seed Vault

سوالبارڈ عالمی بیج گھر، ناروے

سوالبارڈ

تصور کیجیے کہ  کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے نتیجے میں یہ دنیا ہمیشہ کے لیے بدل جائے، زمین کی آبادی ختم ہو جائے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو جائےاور خوراک کے ذرائع مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔ جو شخص باقی بچے گا، اس کا ہدف کیا ہوگا؟ یہی کہ یہ سب دوبارہ بنایا جائے۔  اگر اس فلمی پس منظر میں سوچیں تو ،  ہیرو سب سے پہلے کہاں جائے گا؟ جی ہاں! وہ سوالبارڈ کے گلوبل سیڈ والیٹ  کا رخ کرے گا،  جو ناروے میں واقع ہے۔ یہ خوراک کے کسی بھی عالمی بحران کے نتیجے میں انسانیت کی آخری پناہ گاہ ہوگی۔   اسی لیے اسے   قیامت کا بیج گھر Doomsday  Seed Vault بھی کہا جاتا ہے۔  لیکن یہ انتہائی خفیہ مقام ہے۔ ناروے کے دور دراز جزیرے سپٹسبرجن Spitsbergen میں ایک  برفیلی پہاڑ کے اندر واقع ہے۔  قطب شمالی سے صرف 1300 کلومیٹر دور ایک پہاڑ میں 120 میٹر اندر واقع یہ ذخیرہ دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ اور سخت پہرے میں رہنے والا  خطہ  ہے۔

جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ “عالمی بیج گھر” ہے،  فروری 2008ء میں کھولے گئے اس مقام میں دنیا بھر میں اُگنے والی 250 ملین فصلوں کے بیج موجود ہیں، جنہیں خاص اور انتہائی محفوظ پیک کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ یہ نمی سے محفوظ رہیں۔

لیکن اتنے اہم کام کے لیے اس مقام کا انتخاب ہی کیوں؟ کیونکہ یہاں زلزلے نہیں آتے، یہاں محفوظ رکھنے میں مددگار مستقل برف موجود ہے اور یہ مقام سطح سمندر سے 130 میٹر بلند ہے، یعنی اگر عالمی حدت کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند بھی ہو تو یہ مقام محفوظ رہے گا۔    کہا جاتا ہے کہ یہ بیج یہاں سینکڑوں سالوں تک  محفوظ رہیں گے۔

Vatican Secret Archives

ویٹی کن کے خفیہ محفوظات، ویٹی کن سٹی

ویٹیکن

ڈین براؤن کے ناول سے ماخوذ فلم ‘‘اینجلز اینڈ ڈیمنز’’  آپ نے دیکھی ہی ہوگی،   جس میں  ہیرو  رابرٹ لینگڈن  کو   کیتھولک کلیسا کے خلاف سرگرم عمل صدیوں پرانی خفیہ تنظیم الومیناٹی Illuminati  کے راز سے پردہ اٹھانے  کے لیے بُلایا جاتا ہے۔  اس مشن میں اسے ایک ایسی کتاب کی ضرورت پڑتی ہے جسے ڈیڑھ  ہزار سال پہلے ممنوع قرار دے کر جلادیا گیا تھا ۔ اب یہ کتاب دنیا کی  ایک ہی  خفیہ ترین لائبریری   میں  محفوظ ہوتی ہے۔

دنیا کی یہ سب سے خفیہ لائبریری، ‘‘ویٹیکن سیکریٹ آرکائیو’’   کوئی عام کتب خانہ نہیں ہیں۔ یہ آٹھویں صدی سے اب تک آنے والے تمام پاپائے روم کی ذاتی دستاویزات  رکھتا ہے۔ لیکن  1881ء سے آج تک یہ ویٹی کن سے وابستہ شخصیات کے علاوہ سب کے لیے بند ہے۔  یہاں انتہائی خفیہ دستاویزات مقفل ہیں کہ جن تک رسائی حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ اور بہت طویل عمل ہے۔ صرف مستند دانشوروں کو داخلے کا کارڈ دیا جاتا ہے۔ درخواست گزار دانشوروں کو اپنے بارے میں تمام ذاتی معلومات بتانا پڑتی ہیں اور یہ بھی کہ وہ یہ تحقیق کیوں کر رہے ہیں۔ پھر جس ادارے کی جانب سے تحقیق کر رہے ہیں اس کی جانب سے تعارفی خط بھی دینا ضروری ہے۔ اگر کسی خوش نصیب کو مل بھی جائے تو وہ کیا کیا دیکھے گا؟ یہاں کا کتب خانہ اتنا بڑا ہے کہ الماریوں کی کل لمبائی تقریباً 85 کلومیٹر ہے، جن میں 35 ہزار جلدیں موجود ہیں۔ اس لائبریری میں صلیبی جنگوں سے لی کر اب تک کلیسیائی پوپ اور حکمرانوں کے درمیان خطوط، قدیم قلمی مخطوطات سے لے کر معروف سائنسدانوں اور محقیقن   کی  کتابوں  اور ایسی تمام تحریریں  جنہیں کلیسیا نے  متروک کردیا تھا،  ان نایاب دستاویزات میں سے محض چند ہیں۔

Royal Air Force Menwith Hill

رائل ایئرفورس مینوتھ ہل، انگلینڈ

رائل ایئرفورس

اگر جیمز بانڈ کا دنیا میں کوئی حقیقی وجود ہے اور اس کی کوئی خفیہ پناہ گاہ بھی ہے تو وہ یہی جگہ ہے۔ شمالی یارکشائر، انگلینڈ کی یہ فوجی بیس رائل ایئرفورس RAF جسے دنیا میں سب سے بڑا الیکٹرانک مانیٹرنگ اسٹیشن سمجھا جاتا ہے۔    یہ انتہائی خفیہ بیس 1954ء میں سوویت یونین کی نگرانی کے لیے بنائی گئی تھی۔ آج تک کسی کو نہیں معلوم کہ یہ بیس کس کام میں آتی ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ اڈہ دہشت گردی کی بین الاقوامی سرگرمیوں اور منشیات کی تجارت کی تحقیقات کرتا ہے اور امریکی سیٹیلائٹس کے لیے زمینی اسٹیشن کا کام انجام دیتا ہے۔

Mount Weather, Virginia USA

ماؤنٹ ویدر ،  ورجینیا امریکہ

ماؤنٹ ویدر

فرض کریں کہ ایٹمی جنگ چھڑ جاتی ہے اور کوئی امریکہ پر نیوکلیر  حملہ  کردیتا ہے تو  ایسے میں امریکی صدر   اپنی حفاظت کے لیے کہاں جائیں گے۔  وہ جگہ ہے  واشنگٹن سے سو کلومیٹر دور ورجینیا کا ماؤنٹ ویدر  ایمرجنسی آپریشن سینٹر،  یہ شہریوں کی حفاظت کے لئے بنایا گیا بنکر ہے۔ اس کا استعمال وفاقی ہنگامی مینجمنٹ ایجنسی FEMA کے لئے کمانڈ سینٹر کے طور پر کیا جاتا ہے۔  ماؤنٹ ویدر پہاڑ کے اندر زیر زمین  سات منزلوں تک جیسے پورا شہر آباد ہے،   جو 70 میٹر  مضبوط کنکریٹ سے اس طرح محفوظ ہے کہ کوئی ایٹمی دھماکہ بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

cheyenne mountain complex

چیینے ماؤنٹین کمپلیکس، امریکہ

چیینے ماؤنٹین کمپلیکس

چییینے ماؤنٹین کمپلیکس امریکی ملٹری کا ایک نیوکلیئر بنکر ہے۔ یہ کولوراڈو میں واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہاں امریکہ کا اسپیس   کمانڈ، اییروسپیس ڈیفینس کمانڈ، ایئرفورس کمانڈ اور فیڈرل مینیجمینٹ سسٹم کا مرکز ہے۔ کولوراڈو کے چییینے میں 610 میٹر اندر گرینائٹ پر بنی یہ بلڈنگ    قدرتی آفات سے پوری طرح محفوظ ہے۔ یہ 30 میگاٹن کا جوہری حملہ برداشت سکتی ہے۔  چییینے ماؤنٹین کمپلیکس ریڈیولاجیکل تابکاری سے  بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔

HeavenCo Sealand

ہیون کو، سی لینڈ

ہیون کو، سی لینڈ

جنوب مشرقی برطانیہ  میں سفوک  Suffolk ساحل سے چھ میل آگے سمندر کے درمیان    دنیا کا سب سے چھوٹا ملک واقع ہے ، اسے سی لینڈ کے نام سے  جانا جاتا ہے۔   ایک چھوٹے بحری جہاز کے برابر  رقبے  پر کنکریٹ کے دو بڑے ستونوں کے اوپر لوہے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہی اس ملک کی کل زمین ہے،   اس کی آبادی صرف 22 افراد ہے۔  اس  اسٹرکچر کو جنگ عظیم دوم میں بنایا گیا تھا  اور 1967ء سے یہ آزاد ملک ہے۔ یہ   ملک ایک الیکٹرانک ڈیٹا ہیون ہے۔   یہاں سے  غیرقانونی  پراکسیز، وی پی این سرور کام کرتے ہیں۔  یہاں  کے سرور سے اسپیم اور ہیکنگ بھی کی جاتی ہے۔  دنیا کے کسی  بھی خطہ میں کسی ویب سائٹ پر پابندی ہوتو یہاں  اسے آزادی دی جاتی ہے،  چونکہ یہ برطانیہ سے ایک الگ ملک ہے اس لیے  انٹرنیٹ قانون یہاں نافذ نہیں ہوتا۔ یہ ایک اینٹی ایئرکرافٹ پلیٹ فارم ہے، یہاں بنا اجازت پہنچنا مشکل ہے۔

Woomera, Australia

وومیرا، آسٹریلیا

وومیرا آسٹریلیا

جنوبی آسٹریلیا  کے شہر ایڈلیڈ Adelaide کے نزدیک وومیرا نامی   اس علاقے میں عام لوگوں کا جانا منع ہے۔  یہاں رائل آسٹریلین ایئرفورس کے ہتھیاروں   کی ٹیسٹنگ ہوتی ہے۔ یہاں میزائل، راکٹ اور ایئرکرافٹ کی جانچ  ہوتی ہے۔

یہ علاقہ قدرتی وسائل سے بھی بے  حد  مالامال ہے۔

آپ کہیں گے کہ دنیا کے ہر ملک میں  ایسا ہوتا  ہے جہاں  میزائل اور راکٹ کی ٹیسٹنگ ہوتے ہے وہاں  عام لوگوں کا جانا ممنوع  رکھا جاتا ہے،   لیکن وومیرا کی خاص اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پورا ممنوعہ علاقہ تقریباً ایک لاکھ ستائیس ہزار  مربع  کلومیٹر  پر مشتمل  ہے یعنی پورے انگلینڈ کے رقبے کے برابر ۔

gold vault  bank of england

سونے کا تہہ خانہ، بنک آف انگلینڈ

بینک آف لندن

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بینک آف انگلینڈ کے ہیڈکوارٹر کے زیر زمین یہ تہہ خانہ ہے۔ یہاں 5،152 ٹن سے زیادہ  سونے کی اینٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ اس سونے کی قیمت 315 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ  اس تہہ خانے میں اتنی  جگہ ہے، جتنی 47 منزلہ  بلڈنگ میں ہوتی ہے۔

Google Data Center

گوگل ڈیٹا سینٹر ،  نارتھ کیرولینا

گوگل ڈیٹا سینٹر

دنیا بھر میں  تین  ارب سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں، اور گوگل پر فی سیکنڈ  55  ہزار  مرتبہ اور روزانہ 3 ارب مرتبہ سرچ  کیا جاتا ہے۔   گوگل کے ڈیٹا بیس میں جہاں ہر روز کروڑوں صفحات کا  اضافہ ہوتا ہے وہیں   اس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹر قائم کیے گئے ہیں، گوگل کا مرکزی ڈیٹا سینٹ امریکی ریاست نارتھ کیرولینا  کے شہر لینوئر میں ہے،   جہاں ہزاروں  قدآور کمپیوٹرز  ہمہ وقت مصروف عمل رہتےہیں،  اس جگہ بھی عام لوگوں کا جانا ممکن نہیں۔

Bahnhof data center, Sweden

بین ہا ف   ڈیٹا سینٹر،  سویڈن

بین ہا ف   ڈیٹا سینٹر

سویڈن کے شہر اسٹاکہوم Stockholm کی وائٹ ماؤنٹین  میں بین ہاف   نامی یہ زیر زمین  بنکر  امریکی اور روسی سردجنگ کے دوران نیوکلیئر حملے سے حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن اب یہاں پر  وکی لیکس WikiLeaks  کا  سرور ہے۔

Ni’ihau, Hawaii

نی ایہاؤ، ہوائی

ہوائی

امریکا کے جزائر ہوائی میں آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا جزیرہ نی ایہاؤ ہے۔ یہاں کے دلفریب مناظر، ساحل، نایاب جانور اور سیاحوں کے رش نہ ہونا اسے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔ لیکن ٹھہریے، 180 مربع کلومیٹر کے اس جزیرے پر بیرونی دنیا کے کسی بھی شخص کا داخلہ منع ہے۔  دراصل ہوائی کے بادشاہ نے 1863ء میں یہ جزیرہ مشہور رابن سن خاندان کو فروخت کردیا تھا اور 1915ء سے یہاں کسی دوسرے کا داخلہ ممنوع ہے۔ باقی دنیا سے کٹے ہوئے اس جزیرے پر مستقلاً کوئی 130 افراد ہی رہتے ہیں، جو مقامی ہیں۔ یہاں نہ یہاں سڑکیں ہیں، نہ ٹیلی فون، نہ ہی فراہمی و نکاسی آب کا کوئی نظام۔ نقل و حمل کے لیے گھوڑے اور سائیکلیں کام آتی ہیں اور بجلی کے لیے شمسی توانائی کا استعمال ہوتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں قریبی جزیروں سے آنے والی کشتیاں لاتی ہیں۔

اس جزیرے پر آپ اسی صورت میں جا سکتے ہیں، جب وہاں مقیم کوئی فرد آپ کو دعوت دے۔ اس کے علاوہ کسی کو ساحل پر اترنے تک کی اجازت نہیں۔

Metro 2, Russia

میٹرو 2 ،   روس

میٹرو رشیا

یہ سب وے سسٹم بھی خفیہ بنكرز  کے زیر زمین سسٹم میں سے ایک ہے۔ اسے ماسکو کے نیچے بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر اسٹالن کی جانب سے سرد جنگ کے دوران کی گئی تھی۔ یہ میٹرو   سب وے ایٹمی دھماکہ کو بدراشت کرسکتا ہے۔

Shinghai Complex, China

شنگھائی کمپلیکس ،    چین

شنگھائی کمپلیکس

ویسے تو شنگھائی کمپلیکس  کے زیر زمین بنائے گئے اس بنکر کے بارے میں متعدد معلومات خفیہ رکھی گئی ہیں، لیکن دس ملین مربع فٹ کے اس ‘‘بنکر’’ میں تقریباً 2 لاکھ لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ یہ ‘‘بنکر’’ دھماکوں، جوہری تابکاری اور زہریلی گیسوں سے لوگوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔

Ise Grand Shrine, Ise Japan

آئسے مندر ،    جاپان

آئسے مندر

جاپان کے علاقے  کانسائی  میں جزیرے ہونشو   کا ایک صوبہ میہ پریفیکچر  Mie Prefectureہے۔   میہ کے ایک شہر آئسے Ise  میں جاپان کا مقدس ترین مندر  موجود ہے۔  4 قبل مسیح سے تعمیر اس مندر میں  مخصوص  پروہتوں اور شاہی خاندانوں کے علاوہ کوئی نہیں جاسکتا،  کہا جاتا ہے کہ اس مندر میں شنٹومت کے تاریخی  نوادرات محفوظ ہیں۔

Bold Lane car park, Britain

بولڈ لین کارپارک، برطانیہ

بولڈ لین کارپارک

یوں تو ایک  کار پارکنگ گیراج تک رسائی  سب سے آسان  ہوتا ہے   ، لیکن  برطانیہ کے ڈربی شائر Derbyshire میں  کثیر منزلہ عمارت پر مشتمل بولڈ لین کار پارک    کو دنیا کا سب سے محفوظ پارکنگ ایریا کہا جاتا ہے،      اس     پارکنگ  میں صرف مخصوص  لوگ ہی کار پارک  تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ، اس پارکنگ میں  داخل ہونے پر ایک بارکوڈ  ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے،    اس کے ساتھ ہی زمین میں واقع ایک سینسر تب تک متحرک  ہوجاتا ہے ،  جب تک  وہ گاڑی عمارت سے  واپس چلی   نہیں جاتی   ۔ اس گیراج میں 190 کیمرے ہیں، تمام راستے  پر آٹومیٹک لاک ہیں جو ہنگامی صورت میں خود بخود لاک ہوجاتے ہیں۔

Room 39, North Korea

کمرہ نمبر 39،   شمالی کوریا

39 کوریا

کمرہ نمبر 39 دراصل شمالی کوریا کا ایک بینک ہے،  لیکن یہ دنیا کے عام بنکوں کی طرح نہیں ہے  اس   بنک میں عام لوگوں کا داخلہ منع ہے،   کہا جاتا ہے کہ یہ بنک   دراصل شمالی کوریا کے  لیڈر کم جونگ آن  اور ان کی سینٹرل کمیٹی  بیورو     کی خفیہ ایجنسی کا گڑھ ہے۔

Greenbrier Bunker, Virginia USA

گرین بیرئیر بنکر ،  ورجینیا امریکا

گرین بنکر

گرینبریر بنکر ویسٹ ورجینیا میں واقع   ایک ہوٹل ہے۔ پہلے یہاں کے مہمان صدر  ہوتے تھے۔ بعد میں اس بنکر کو  ایٹمی حملے کی گھڑی  میں ایمرجنسی کے لئے تیار کیا گیا تھا۔  بنکر کو پروجیکٹ گریگ آئی لینڈ کا نام دیا گیا تھا۔ یہاں زیر زمین  منزلوں میں  30 برس تک  محفوظ رہنے کے لیے ضروری  سازوسامان، کا سٹاک تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے 1992 میں اس جگہ کے بارے میں خبر شایع کی تھی۔ امریکہ میں ایسے اور بھی بنکر ہیں جیسے  ریوین راک ماؤنٹین کمپلیکس ، پنسلوانیا میری لینڈ، جو  یہ کثیر المنزلہ عمارت بھی سب سے محفوظ مقامات میں سے ایک ہے۔

اس عمارت میں بہت ساری سہولیات بھی ہیں، جس میں ڈینٹل کلینک باراور سیلون شامل ہیں۔

آئرن ماؤنٹین، میسا چوسٹس بھی  ایک زیر زمین قلعہ جیسے اس بنکر کی تعمیر ایک انٹرپرائز کمپنی کی جانب سے کی گئی تھی۔ حالانکہ اس کی تعمیر بنکر بنانے کے مقصد سے نہیں کی گئی تھی، لیکن یہ دنیا کے سب سے محفوظ مقامات میں سے ایک ہے۔

ڈینور  انٹرنیشنل ائیر پورٹ  کولوراڈو، امریکہکو  دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں واقع اس ایئر پورٹ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ 53 مربع میل پر محیط اس ہوائی اڈے کے نیچے ایک زیر زمین بنکر ہے جس میں آفات کے دوران بہت سے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

Burlington, Britain

برلنگٹن ،  برطانیہ

برلنگٹن ،  برطانیہ

کرشم Corsham   برطانیہ میں 35 ایکڑ کی یہ ایک کولڈ سٹی ہے جسے كرشم کی سطح سے 100 فٹ نیچے بسایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر 1950 میں برطانوی حکومت نے کرائی تھی۔ اس کا نام برلنگٹن رکھا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقام پر تقریبا 6 ہزار لوگوں کو تین ماہ تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

Chapel of the Ark, Axum

چیپل آف آرک ،  ایتھوپیا

اکسم Axum ، ایتھوپیا میں موجود اس  تاریخی گرجا گھر  کے پادریوں کا دعویٰ ہے  کہ اس گرجا گھر  ست متصل عمارت میں حضرت موسیٰ  اور ہارونؑ کے  تبرکات والا تابوتِ سکینہ موجود ہے۔   اس عمارت  کو مکمل  طور پر  لوگوں کے لیے بند  کررکھا ہے صرف گرجا کا پادری ہی اس عمارت میں داخل ہوسکتا ہے۔

Andaman and Nicobar

کالاپانی، انڈیمان  اور نیکو بار

کالاپانی

انڈیمان اور نکوبار جزائر خلیج بنگال اور بحیرہٴ انڈیمان کے سنگم پر واقع ہیں۔ یہ انڈونیشی جزیرے آچے سے محض ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔  انگریز دور میں یہ جزائر ’’کالے پانی‘‘ کے نام سے مشہور تھے اور سیاسی قیدیوں کو وہاں روانہ کیا جاتا تھا۔

انہی جزائر پر حجری دور کے لوگ ‘‘سنٹینیلز’’  آباد ہیں۔ مقامی سطح پر انہیں جاراوا قبائل کا نام دیا جاتا ہے۔ اِس آبادی کا ابھی تک دنیا سے کوئی رابطہ اور تعلق خیال نہیں کیا جاتا۔ یہ آج بھی قدیم ہتھیاروں سے جنگلاتی جانوروں کا شکار کرتے ہیں اور سمندر سے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ اِن کی آبادی گھٹتے گھٹتے اب صرف پانچ سو نفوس پر مشتمل رہ گئی ہے۔

یہ ایک ایسا قبیلہ ہے، جو  دنیا سے کٹا ہوا، الگ تھلگ ہے۔ نہ صرف یہ صدیوں سے یونہی آباد ہے بلکہ یہ بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ بھی نہیں چاہتا اور رابطے  کی  ہر کوشش کو ناکام بھی بنادیتا ہے۔  اگر کوئی کشتی یا ہیلی کاپٹر اس جزیرے کی طرف آنکلتے ہیں تو  اس قبیلہ  کے لوگ  تیر کمان سے ان پر حملہ کردیتے   ہیں ۔

Lascaux Caves, France

لاسکو غار  ،  فرانس

فرانس کے غار

غار لاسکو جنوب مغربی فرانس کے ضلع دوردون میں پائی جاتی ہے جو 17300 ہزار سال پرانی غار ہے۔ اس غار میں پائی جانے والے آرٹ کے نمونے  ماضی کی انسانوں کی ثقافت کا پتا دیتے ہیں ،   پہلے یہاں سیاحوں کو جانے کی اجازت تھی مگر بعد میں یہ محسوس کیا گیا ہے سیاحوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والی  کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار  نے پینٹنگز  کے کچھ  حصوں کو تباہ کر دیا ہے تو اب اس غار میں صرف مخصوص  سائنسدانوں کو جانے  کی اجازت ہے۔

 

یہ بھی ملاحظہ کریں

وولپِٹ کے سبز بچے (Green Children Of Woolpit)

یہ کہانی بارہویں صدی کی ہے۔  لیکن تاریخ لکھنے والوں نے اسے ہمیشہ زندہ رکھا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے