رومانیہ کے زندہ پتھر۔ جو پودوں کی طرح اُگتے ہیں!

رومانیہ کے پتھر

ہماری زمین پر ہر جانب مظاہر قدرت بکھرے ہوئے ہیں۔ کچھ کی حقیقت انسان پر آشکارا ہوچکی ہے جب کہ بہت کچھ اس کی آنکھوں سے ابھی تک اوجھل ہے۔ جو مظاہر قدرت ہنوز انسان کے لیے معمہ ہیں ان ہی میں سے ایک رومانیہ کے ‘‘زندہ پتھر ’’ ہیں جنھیں زندہ چٹانیں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پتھر رومانیہ کی ارجشArgeș  کاؤنٹی کے ایک گاؤں کاسٹیسٹی Costesti میں پائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ان پتھروں میں زندگی موجود ہے اسی لیے ان کی جسامت بڑھتی رہتی ہے۔  مقامی سطح  پر یہ پتھر ٹرووانٹسTrovants کہلاتے  ہیں۔ ٹرووانٹسTrovants علم ارضیات کی اصطلاح ہے جس کا مطلب چٹانی مٹی ہے۔

کاسٹیسٹی  costesti کے اطراف جابجا پائے جانے والے خوبصورت لیکن عجیب الخلقت پتھروں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں بڑھوتری کا عمل پودوں کی طرح مسلسل جاری رہتا ہے جہاں یہ پتھر حالات و واقعات کے سبب یا کسی خاص وجہ کے باعث حیوانات کے  بچوں کی طرح نشو ونما پا کر موٹےتازے ہو رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پتھروں کے اجسام بڑھتے رہتے ہیں اور ایک مخصوص مدت کے بعد یہ پتھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ لیکن ان سے بننے والے چھوٹے کنکر پھر بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

زندہ پتھردنیا بھر کے سائنسدان اور ماہرین ارضیات اس راز کو جاننے سے قاصر ہیں کہ پتھروں میں افزائش کا عمل علاقائی موسمیات کے سبب ہے یا ان کے اندر پائے جانے والے کیمائی مادے ان کی افزائش کا سبب بنتے ہیں۔ مختلف ماہرین کی جانب سے اب تک اس کی الگ الگ توجیہات پیش کی گئی ہیں لیکن کوئی بھی سائنسدان حتمی طور پر قدرت کے اس راز کو نہیں جان پایا ہے۔ رومانیہ کے ایک سائنسدان انجیلو کروسٹ کا کہنا ہے کہ ان پتھروں میں ایک کیمیائی مادہ ٹرووانٹس Trovants موجود ہے جو ان پتھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔ اس کیمیائی مادے کو بارش کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں بکثرت ہوتی ہے۔ جب بارش کا پانی ان پتھروں پر پڑتا ہے تو ان زندہ چٹانوں میں موجود ٹرووانٹس مادہ پانی پی کر ان پتھروں کے سائز میں چھ سے آٹھ ملی میٹر اضافہ کردیتا ہے، جس نے سائنسدانوں کو حیران کیا ہوا ہے۔ رومانیہ سے تعلق رکھنے والے دیگر ماہرین نے بتایا ہے کہ ان پراسرار زندہ پتھروں کا سائز پانچ ملی میٹر سے دس میٹر تک ہوتا ہے۔ ان پتھروں کے حوالے سےبعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی زمین میں معدنی نمکیات موجود ہیں۔ جب  بارش پڑتی ہے تو معدنی نمکیات  تشکیل دینے والے کیمیائی اجزا پھیلتے ہیں اور مٹی پر نیچے سے اوپر کی جانب دباؤ ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے ان پتھروں کی جسامت بڑھجاتیہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ پتھر دراصل مٹی ہی کے بنے ہوئے ہیں۔ اس علاقے کی مٹی میں کچھ ایسے اجزا بھی پائے جاتے ہیں جو اسے چٹان کی طرح سخت بنادیتے ہیں۔ڈیڑھ صدی قبل رومانیہ میں ان زندہ پتھروں کا انکشاف کیا گیا تھا۔

اگرچہ کہ اب تک سائنسدان کئی نظریے پیش کرچکے ہیں لیکن وہ اس سوال کا جواب اب تک تلاش نہیں کر پائے ہیں کہ جب ان پراسرار پتھروں کو عرضی  Transverse  انداز میں کاٹاجاتا ہے تو ان کے اندر ویسے ہی رنگ برنگے دائرے کیوں پائے جاتے ہیں جیسے کہ چند برس پرانے درخت کو کاٹنے پر اس کے تنے میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہی نہیں ان پتھروں کی بیرونی سطح  درختوں کی چھال  کی مانند ہوتی ہے۔

رومانیہ کے مقامی اخبار کا کہنا ہے کہ عجیب الخلقت پتھروں تحقیق اور ان کے شائقین کے لیے مقامی حکام نے 2006ء میں گاؤں کاسٹیسٹی Costosti میں ایک عالمی سطح کا عجائب گھر قائم کردیا ہے جہاں مختلف مقامات سے بڑھنے والے زندہ پتھروں اور چٹانوں کو لا کر رکھا گیا ہے۔ کاسٹیسٹیCostosti کے میوزیم میں ان پتھروں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ ان پتھروں کا رنگ اور ساخت سائنسدانوں، شائقین اور سیاحوں کے لیے  خاص دلچسپی رکھتی ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ جلد ہی وہ ان پتھروں کے اندر نشو و نمااور   ان سے جڑے تمام رازوں کو بے نقاب کردیں گے۔

(بشکریہ روحانی ڈائجسٹ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے