زریاب! ایک افریقی غلام جو درحقیقت مغربی تہذیب کا بانی ہے۔

اکثر غیر مسلم افراد یہ بات کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس دنیا کو دیا کیا ہے؟  تو اس ویڈیو کے بعد آئندہ انہیں یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔   آج ہم آپ کو بڑے بڑے مسلمان سائنسدانوں کے کارنامے نہیں بلکہ ایک ایسے جینئس مسلمان کا قصہ سنانے والے ہیں جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو۔   یہ وہ شخص تھا کہ  جس نے دنیا کو جینے کا قرینہ سکھایا، آج جن طور طریقوں کو مغربی خیال کرکے ہم غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ، دراصل وہ مغرب نہیں بلکہ ہمارے اسی مسلمان بزرگ کی  ذہانت کا نمونہ ہیں۔

خاندانی طور پر تو یہ صاحب غلام ابنِ غلام تھے۔ جو آٹھویں صدی عیسوی کے دوران پیدا ہوئے۔   یہ خلیفہ ہارون الرشید کا دور تھا اور اس دور میں شہربغداد دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر کہلاتا تھا۔   ایک دن فن موسیقی کے استاد اسحاق الموصلی  خلیفہ کے دربار میں حاضر تھے، ان کے ساتھ ایک حبشی غلام بھی موجود تھا۔ خلیفہ نے  الموصلی کی جگہ اس غلام کو گانا گانے کی  دعوت دی۔ جب اس غلام نے  گانا شروع کیا تو  پہروں بیت گئے لیکن دربار میں موجود کسی شخص کو پلک جھپکانے تک کی نوبت نہ آئی۔ خلیفہ اس غلام کی موسیقی سے ایسا متاثر ہوا کہ اسے خوب تحفے تحائف اور مراعات سے نوازا۔  اس غلام کا اصل نام ابوالحسن علی بن نافی تھا، لیکن اس کی خوش الحانی کے سبب اسے زریاب کے لقب سے نوازا گیا، جو عربی زبان میں ایک سریلے پرندے کو کہا جاتا ہے۔

ایک غلام کو خلیفہ کے اتنے قریب دیکھ کر  اس کے استاد الموصلی سمیت تمام درباری زریاب سے شدید حسد کرنے لگے۔   چنانچہ خلیفہ ہارون الرشید کی موت کے بعد اسے بغداد سے فرار ہونا پڑا۔   جب یہ خبر اندلس یعنی اسپین کے حاکم  امیر الحکم ابن ہشام کو ملی تو  اس نے زریاب کو اسپین آنے کی دعوت دی،  اسے بہت عزت و اکرام سے نوازا، ماہانہ وظیفہ مقرر کیا اور اسے اپنے بیٹوں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھلایا کرتے۔   ایسے  ماحول میں زریاب کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا بھرپور موقع ملا، سو اس نے  اسپین کی تہذیب  و تمدن  پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے جوسیکڑوں سال گزر جانے کے باوجود بھی اہل یورپ کے لیے فخر کا باعث ہیں۔  سب سے پہلے بات کرتے ہیں موسیقی کی ، بلاشبہ زریاب اپنے دور  کا تان سین تھا ۔ زریاب سے قبل اہل اسپین عود نام کا ایک آلۂ موسیقی استعمال کیا کرتے ۔ لیکن زریاب نے اس میں تاروں کا اضافہ کیا اور اسے موجود گیٹار کی شکل دی۔  اسپین کی جدید موسیقی کا بانی زریاب ہی ہے جو آج بھی اسپین کے گلی کوچوں میں  سنی جاسکتی ہے۔

زریاب  اس کے علاوہ Decorative Art یعنی فن آرائش کا بھی ماہر تھا،  وہ  شاہی محفلوں کی ایسی تزئین و آرائش کیا کرتا کہ بادشاہ سے لے کر عام حضرات تک دنگ رہ جاتے۔ ہمارے بزرگ اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ میز اور کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانا انگریزوں کی اختراع ہے۔ جبکہ حقیقت میں اس رواج کی ابتداء اسپین سے ہوئی ، اور اس رواج کا بانی کوئی انگریز نہیں بلکہ ہمارا ذہین ترین مسلمان زریاب تھا۔  ایسا ہی ایک خیال یہ بھی ہے کہ چھری اور کانٹوں سے کھانا کھانا انگریزوں کا وطیرہ ہے جبکہ یہ طریقہ بھی انگریزوں نے ہم مسلمانوں سے ہی سیکھا ہے۔  حیرت انگیز طور پر چھری اور کانٹے استعمال کرنے والا پہلا انسان  ہمارا زریاب ہی تھا۔  زریاب سے قبل سونے ،  چاندی  اور دیگر دھاتوں کے برتن استعمال ہوا کرتے ، جبکہ زریاب نے  اہل اسپین کو  کانچ کے برتنوں اور گلاسوں کے استعمال کی ترغیب دی جو آج تک دنیا بھر میں رائج ہے۔ زریاب سے قبل اسپین میں زیادہ تر بھنا ہوا گوشت کھایا جاتا جبکہ زریاب نے اہل اسپین کو  گوشت سبزیوں کے ساتھ پکانے کی ترغیب دی،  تو آج جب آپ آلوگوشت یا ٹنڈے گوشت کھاتے ہیں تو یہ ہمارے مسلمان  جد امجدزریاب ہی کی  نشانی ہے۔   جلیبی جو  پاکستان  اور ہندوستان سمیت  دنیا کے تمام علاقوں میں مشہور ہے۔  یہ بھی دراصل ایک عربی مٹھائی ہے  جس کا اصل نام زلابیہ تھا اور اس  کی ابتداء زریاب ہی کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کے علاوہ  اکثر ہمارے بازاروں میں جو آپ کو گڑ کی پت یا گجک نظر آتی ہے یہ بھی سب سے پہلے اسی مسلمان زریاب نے تیار کی۔   اس کے علاوہ ہم جس ہیر اسٹائل کو فرنچ اور اسپینش ہیر اسٹائل کا نام دیتے ہیں ان کی ابتداء بھی ہمارے مسلمان اجداد ہی کے ہاتھوں ہوئی۔  دنیا بھر میں آج تک رائج ہیراسٹائلز کا بانی بھی زریاب ہے۔

یہ جو آج گرمیاں آتے ہی   ٹی وی پر سمر کلیکشن  کے ایڈورٹائز  کی بھرمار ہوجاتی ہے اور سردیوں میں ایسے ملبوسات  کی نمائش کی جاتی ہے  جو سردیوں کے لحاظ سے موزوں ہوں۔ یہ فیشنز بھی زریاب ہی کی مرہون منت ہیں۔ اس سے قبل  لوگ  سردی ہو یا گرمی بھاری اور کڑھے ہوئے لباس پہنا کرتے۔ لیکن زریاب نے اسپین میں یہ شعور اجاگر کیا کہ لباس کو موسم کی مناسبت سے پہنا جائے یعنی گرمیوں میں ہلکے رنگوں  کا اور باریک لباس پہنا جائے جبکہ سردیوں میں گہرے رنگ کے موٹے کپڑے پہنے جائیں۔ زریاب نے دربار میں حاضر امراء و وزرا کے لیے مخصوص لباس ترتیب دیے۔  جبکہ زریاب ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے خلیفہ کے اسٹاف کے لیے  دنیا میں سب سے پہلے ٹائی کا استعمال کیا اور آج ہم مسلمان ٹائی کو انگریزی یا مغربی لباس قرار دیتے ہیں۔ زریاب سے قبل اور بعد تک یورپ میں صفائی ستھرائی کا کوئی خاص خیال نہ رکھا جاتا۔ نہانے دھونے کا تو وہ سالوں اہتمام نہ کرتے، زریاب نے اہل اسپین کو دن میں دو مرتبہ نہانے کی ترغیب دی اور اس نے مقامی جڑی بوٹیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا ٹوتھ پیسٹ ایجاد کیا۔

زریاب سے قبل   پھولوں اور دیگر اشیاء کو پیس کر خوشبو حاصل کی جاتی جس کی وجہ سے کپڑوں پر دھبے لگ جاتے ، زریاب نے دنیا کا پہلا ایسا محلول تیار کیا جو پرفیومز اور ڈیوڈرنٹ کی ابتدائی شکل تھی۔  زریاب ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے جڑی بوٹیوں، خوشبودار تیل  اور نمکیات کی مدد سے دنیا کا پہلا شیمپو تیار کیا اور حیرت انگیز طور پر اسی شخص نے  دنیا کا سب سے پہلا ڈٹرجنٹ پاؤڈر بھی تیار کیا جس سے کپڑے اُجلے اور صاف ہوجاتے۔ بلامبالغہ   دنیا کی تاریخ میں زریاب  کے کارنامے ایڈیسن ، آئن اسٹائن ، ابن الہیثم اور جابر بن حیان سے بالکل کم نہیں لیکن افسوس کہ اس عظیم انسان کو  ہماری نئی نسل میں شاید ہی کوئی جانتا ہو۔  آج بھی دنیا کے ہرگھرمیں  نویں صدی عیسوی کے اس سیاہ فام  موسیقار ، فیشن ڈیزائنر، اسٹائل ٹرینڈر اور شیف  زریاب کے ذہن اورتجربے سے گندھی ہوئی کوئی نہ کوئی چیزاستعمال ہورہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے