ستی کی رسم!جس نے لاکھوں ہندوستانی عورتوں کو جلا کر بھسم کردیا۔

آج ہماراموضوعِ گفتگو ہندوستانی معاشرے سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے ہزاروں سال معصوم اور بے بس عورتوں کو ایک انجان خوف میں مبتلا رکھا۔ کہ نہ جانے کب اس کا بوڑھا اور بیمار شوہر مرجائے گا اور اس کی چتا کے ساتھ ہی مجھے یعنی اس کی بیوی کو بھی زندہ جلاکر بھسم کردیا جائے گا۔

چند صدیاں قبل یورپ میں وچ ہنٹنگ کے نام سے ایک رسم پائی جاتی تھی۔ اس میں یورپ کی کسی بھی خاتون کو ایک ڈائن قرار دے کر زندہ جلادیا جاتا اور اس جرم پر سزا تو دور بلکہ انعامات ملاکرتے۔ تو دراصل ستی کی رسم کو اگر وچ ہنٹنگ کا ہندوستانی ورژن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر اس کی بیوہ کا شوہر کی چتا پر جل مرنا ستی کہلاتا ہے۔ کئی ہندو مردوں کو جلانے کے بجائے انہیں دفن کیا کرتے ہیں ایسی صورت میں اس کی بیوی کو بھی زندہ دفن کردیا جاتا اور اگر کسی شوہر کی موت دور دراز کسی میدان جنگ میں لڑتے ہوئے ہوجاتی تو اس کی بیوی کو، شوہر کی تلوار ، کپڑے یا کسی بھی پسندیدہ چیز کے ساتھ جلادیا جاتا ۔ اس عورت کو جلاتے وقت اسے شادی کے کپڑوں اور زیورات سے آراستہ کرکے ایک دلہن کی طرح اس کی ڈولی اُٹھائی جاتی۔ شادی بیاہ کی رسومات ادا کرنے کے بعد اسے آگ میں جھونک دیا جاتا۔ ایک جیتے جاگتے اور سانس لیتے انسان کو زندہ جلادینے کے بعد دکھی اور رنجیدہ ہونے کے بجائے خوشیاں منائی جاتیں اور یہ سمجھا جاتا کہ انہیں نجات مل گئی اور اب یہ دونوں ہمیشہ سورگ میں ایک ساتھ رہیں گے۔

اس رسم کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ ستی ہونا دراصل بیوہ کی اپنی مرضی ہوتی تھی۔ مگر حقیقت  یہ تھی کہ ایک بیوہ عورت پر ستی ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہ ہوا کرتا۔ کیونکہ اس بیوہ پر معاشرتی اور مذہبی دباؤ کے ساتھ ساتھ کوئی اس کے نان و نفقہ اور گزر بسر کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ ہوا کرتا۔ اس کی زندگی موت سے زیادہ بدتر بنادی جاتی۔ ستی کے حوالے سے ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بیوہ کو چتا جلانے سے قبل چتا پر رسیوں کی مدد سے جکڑدیا جاتا۔ بعض موقعوں پر اسے نشہ آور ادویات کی مدد سے بے ہوش کردیا جاتا اور کبھی کبھی کوئی بیوہ معاشرتی دباؤ میں آکر ستی ہونے کا فیصلہ تو کرلیتی لیکن جب چتا کی آگ اُس کے بدن کو چھوتی اور اسے شدت درد کا احساس ہوتا تو وہ اس چتا سے اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرتی لیکن اسے بانسوں اور ڈنڈوں کی مدد سے مار مار کر واپس اس چتا میں جھونک دیا جاتا۔

ہندوستان میں اس رسم کی شروعات کہاں سے ہوئی، اس بارے میں تاریخ خاموش ہے لیکن ہندوستانی رزمیہ داستانوں جیسے مہا بھارت تک میں اس رسم کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تاریخ میں ستی کے حوالے سے پہلا مستند بیان چوتھی صدی قبل مسیح میں ملتا ہے۔ جب سکندرِ اعظم اپنی فوجوں کے ہمراہ ہندوستان کی طرف آیا تو اس نے فوج میں بہت سے مقامی ہندوؤں کو بھی بھرتی کیا۔ ایک جنگ کے دوران سکندری فوج کا ایک ہندوستانی کمانڈر ششی گپت جب ہلاک ہوا اور اسے ہندوستانی تہذیب کے مطابق جلایا جانے لگا۔ تو یونانی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ششی گپت کی دو بیویوں کے درمیان یہ لڑائی ہونے لگی کہ وہ اس کی چتا کے ساتھ ستی ہوں گی۔ ششی گپت کی پہلی بیوی چونکہ حاملہ تھی اس لیے اسے ستی نہ کیا گیا جبکہ دوسری بیوی کو اس کی مرضی کے مطابق ششی گپت کی چتا کے ساتھ جلادیا گیا۔

اس کے بعد مختلف ادوار میں ابنِ بطوطہ سمیت کئی سیاح ہندوستان آئے اور انہوں نے اس رسم کے متعلق اپنے سفرناموں میں جابجا تذکرہ کیا۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ستی کی رسم ہندوؤں کے بھگوان شیو کی پہلی بیوی کہ جن کا نام بھی ستی تھا کہ یاد میں منائی جاتی ہے۔

یہ واقعہ کچھ یوں بتایا جاتا ہے کہ شیو اور ستی دونوں ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے لیکن ستی کا باپ دکش، شیو کو بالکل بھی پسند نہ کرتا۔ بہرحال ستی نے اپنے باپ کی مخالفت کے باوجود شیو سے شادی کرلی۔

اب ایک مرتبہ ستی کے باپ دکش نے ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا کہ جس میں شیو اور ستی کے علاوہ سبھی کو مدعو کیا گیا تھا۔ ستی اپنے گھر والوں کی محبت سے مجبور ہوکر اکیلی اس دعوت میں چلی گئی۔ جہاں اس کے باپ دکش نے تمام مہمانوں کے سامنے ستی کی اور پھر شیو کی بہت بے عزتی کی۔ اس بات سے دلبرداشتہ ہوکر ستی نے خود کو جلاکر خودکشی کرلی اور ہندوؤں کے مطابق پاروتی کے روپ میں دوبارہ جنم لیا لیکن حقیقتاً ستی کی رسم کا اس کہانی سے کوئی واسطہ نہیں۔

یہ رسم دراصل مردوں کی جانب سے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بنائی گئی۔ ہندوستانی معاشرے میں چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے کا کلچر صدیوں سے چلا آرہا ہے اور آج تک قائم ہے۔ ہوس کے مارے کئی بوڑھے مرد نوجوان اور کم عمر لڑکیوں سے شادی تو کرلیا کرتے لیکن ازدواجی تعلقات نبھانا ان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔ اب ان کے سرپر ہمیشہ یہ خطرہ منڈلاتا رہتا کہ کہیں یہ لڑکی کھانے میں زہر دے کر یا کسی اور طریقے سے ان کی جان نہ لے لے۔ چنانچہ یہ لوگ اس خوف سے نجات پانے کے لیے ستی کی رسم کا سہارا لیا کرتے جبکہ ستی کا دوسرا بڑا سبب مرنے والے کی دولت پر قبضہ کرنا ہوتا۔ جس کی سب سے بڑی حقدار مرنے والے شوہر کی بیوہ ہوا کرتی لیکن ستی کے ذریعے بڑی خوبصورتی سے اسے راستے سے ہٹادیا جاتا۔

ستی کے خلاف مختلف ادوار میں مختلف لوگوں کی جانب سے تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ مغلوں نے اس کے سدباب کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ کیونکہ اس رسم کا تعلق مذہب سے جوڑا جاتا تھا اس لیے مغل بادشاہ ہمایوں، اکبر اور شاہ جہاں نے اسے نرم طریقوں سے روکنے کی کوشش کی جبکہ بادشاہ اورنگزیب نے نہایت سختی کے ساتھ اس عمل پر پابندی عائد کردی لیکن سب کے سب ناکام رہے۔

مغل عہدیداروں اور گورنروں کو رشوت کے نام پر ایک معینہ رقم ملتی رہتی اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں خاموشی سے عورتوں کے ستی ہونے کا تماشہ دیکھتے رہتے۔ اس رسم کی روک تھام میں مسلمان صوفیاء نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ لیکن ستی کی رسم کے مکمل خاتمے کا سہرا انگریز حکومت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ولیم بنٹنگ کے سر جاتا ہے جنہیں اس رسم کی بندش پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ انگلینڈ کی عدالت تک جا پہنچا لیکن فیصلہ لارڈ ولیم کے حق میں رہا۔

بنگال میں پیدا ہونے والے ایک اسکالر راجا رام موہن رائے نے اس رسم کے خلاف سب سے کامیاب تحریک چلائی۔ راجا رام موہن رائے اگر چہ ایک ہندو تھے لیکن یہ بت پرستی، چھوت اچھوت کی تفریق اور ستی کی رسم جیسے افعال کے شدید مخالف تھے۔ ان ہی جیسے افراد کی کوششوں سے 1832 عیسوی میں ستی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن ہندوستان کے مختلف گوشوں میں چھپ چھپاکر یہ رسم آج بھی جاری ہے اور اکثر و بیشتر ایسے واقعات میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے