سلطان الہند۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ! تعلیمات اور کرامات

غریب نواز
مغلیہ  سلطنت کو ہندوستان بھر میں توسیع دینے والے مغل بادشاہ جلال الدین اکبر وسیع و عریض سلطنت، مضبوط ترین مغلیہ فوج اور بےپناہ شاہی دبدبے کے باوجود شدید احساس محرومی میں مبتلا تھا۔

یہ تخت و تاج، دنیا کے بہترین خطے پر حکومت بہترین سپاہیوں پر مشتمل اس فوج کا میرے بعد وارث کون ہوگا۔  مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے ہاں یکے بعد دیگرے کئی بیٹے پیدا ہوئے لیکن وہ سب کے سب چند دن یا زیادہ سے زیادہ چند سال اس دنیا میں رہ کر موت کی وادیوں میں اتر گئے تھے۔ اولاد اور وارث یہ محرومی کا یہ دکھ مضبوط ترین مملکت کے طاقتور ترین فرمانروا کو اندر ہی اندر سے کمزور کیے جارہا تھا۔

شہنشاہ اکبر کو اپنی زندگی بےکیف اور بےمقصد دکھائی دینے لگی تھی۔ ادھر  وارث کی روز بروز بڑھتی ہوئی تمنا نے اس کے اندر ایسی آگ دہکا دی تھی جس نے بڑھتے بڑھتے اس کے پورے وجود کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ انہی دنوں اس نے ایک درویش سلیم کا ذکر سنا۔ یہ درویش اکبر بادشاہ کے دارالحکومت آگرہ کے قریب ایک علاقے فتح پورسیکری میں رہتے تھے۔ اکبر بادشاہ نے اس درویش سے مل کر  اپنی دلی آرزو بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ کا ارادہ جان کر اس کے مصاحبین نے کہا کہ بادشاہ کا ایک فقیر کے پاس جانا مناسب نہیں۔ فقیر کو دربار میں طلب کرلیا جائے….یہ تجویز سن کر بادشاہ نے کہا کہ اگر اس فقیر نے ہمارے دربار میں آنے سے انکار کردیا اور پھر اس کے بعد ہم اپنی خواہش کے لیے اس کے پاس گئے تو یہ بات ہمارے لیے بالکل مناسب نہ ہوگی۔

آخر کار ایک دن وسیع و عریض مغل سلطنت طاقتور ترین بادشاہ اکبر سوالی بن کر ایک درویش شیخ سلیم چشتی کی بارگاہ میں سر جھکائے حاضر ہوا۔

شیخ سلیم چشتی نے اکبر بادشاہ کی بات سنی اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ اکبر بادشاہ کو ایک ولی اللہ کی دعا لے کر بہت اطمینان  ہوا لیکن ساتھ ہی ایک ایسی بات بھی ہوگئی جس نے اکبر بادشاہ کو سوچ میں ڈالدیا۔   حضرت شیخ سلیم چشتی نے اکبر بادشاہ کو اولاد اور وارث سلطنت کے لیے دعا دینے کے بعد  فرمایا کہ اب اسے سلطان الہند کے دربار میں حاضری دینی چاہیے ۔

‘‘سلطان الہند کا دربار….؟’’  ہندوستان کا بادشاہ  تو میں ہوں…. اکبر نے کچھ حیرانی اور کچھ بےیقینی کے سے انداز میں کہا۔

دیکھیے….! آپ کی بادشاہت ہندوستان کی سرزمین پر ہے۔ یہ دنیاوی اور عارضی حکمرانی ہے۔ سرزمین ہند کی روحانی اور مستقل حکمرانی کا تاج تو اللہ تعالیٰ نے ایک ولی، رسول اللہﷺ کے ایک غلام حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے سر پر سجا دیاہے۔

شیخ سلیم چشتی کے پاس آکر ان سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرکے اکبر بادشاہ کو ددلی سکون ملا تھا۔ حضرت کی عقیدت اکبر بادشاہ کے دل میں گھر کر گئیتھی۔  شیخ سلیم چشتی کے فرمان پر لبیک کہنا اکبر بادشاہ نے اپنا فرض جانا۔ آگرہ میں چند روز رہنے کے اور اکبر بادشاہ نے اجمیرکوچ کا فرمان جاری کیا۔ اس فرمان پر دربار کے بعض لوگوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ شہنشاہ سلطنت کا فرمانروا ایک ولی اللہ کے مزار پر جائے۔لیکن بادشاہ نے ایسے تمام مشورے رد کر دیےاور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ سے اظہار عقیدت میں آگرہ سے اجمیر  120 کوس (تقریباً400 کلومیٹر)  فاصلہ سواری کے بجائے پیدل طے کیا۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے دربار میں حاضر ہو کر مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے کافی دیر تک گریہ و زاری کی۔ جیسے کوئی تھکا ہارہ شخص اپنی ماں کی گود میں آکر بلک بلک کر روتا ہے۔ غریب نواز کے دربار میں حاضری کے دوران بادشاہ کی آنکھوں سے رواں ہونے والے آنسوؤں نے اس کے باطن میں بڑھتی ہوئی بےقراری و بےچینی کی آگ کو بجھا دیا۔ بادشاہ کے دل کو سکون ملا اور اسے یقین ہوگیا کہ اب اللہ اس کی مراد پوری کردے گا۔

اکبر بادشاہ اجمیر سے واپس آگرہ آگیا اور چند دنوں بعد حضرت شیخ سلیم چشتی کے دربار میں حاضر ہوا۔ حضرت شیخ سلیم چشتی کی دعاؤں کا اثر یہ ہوا، اکبر بادشاہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، اکبر بادشاہ نے حضرت شیخ سلیم چشتی کے نام پراپنے فرزند کا نام سلیمرکھا۔ حضرت سلیم چشتی سے کیا عقیدت تھی کہ بادشاہ نے اپنے نومولود بیٹے کا نام سلیم رکھ تو لیا لیکن حضرت کے احترام میں اپنے بیٹے کو کبھی سلیم کہہ کر نہیں پکارا بلکہ اس کا لقب شیخو رکھا۔ تاریخ شہزادہ سلیم بن اکبر کو شہنشاہ جہانگیر کے نام سے جانتی ہے۔

حضرت خواجہ معین الدینؒ    کی ولادتِ باسعادت ایران کے صوبے سیستان کے شہرسنجر میں 1141ء میں ہوئی ۔  معین الدین  کے والد بزرگوار کا اسمِ گرامی سید غیاث الدین اور والدہ کا نام ماہ نور تھا۔ والد بزرگوار اپنے علاقے کے نہایت صاحبِ ثروت تاجروں میں شمار کئے جاتے تھے۔جس دور میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ  کی پیدائش ہوئی اُس وقت عالمِ اسلام  شدید انتشار و افتراق سے دوچار تھا۔ اسپین اور شمالی افریقہ کے مسلم حکمرانوں کی باہمی جنگوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے الفانسو نے اُن پر حملے شروع کردیئے تھے۔ اندرونی طور پر فتنہ و فساد کا یہ عالم تھا کہ حسن بن صباح کے فدائیوں نے عباسی خلیفہ المستر شد کو قتل کردیا ۔   ملّتِ اسلامیہ  میں پھیلا انتشار  معین الدین کے شہرِ سنجر تک آپہنچا۔  معین الدین کی عمر ابھی تیرہ برس کی ہی تھی کہ حسن بن صباح کے فدائیوں نے سنجر پر حملہ کردیا ، اس حملے کے نتیجے میں شہر برباد و تباہ ہوگیا۔  سید غیاث الدین اپنے خاندان کے ہمراہ بڑی مشکل سے جان بچاتے ہوئے خراسان روانہ ہوگئے۔  انہوں نے نیشاپور میں سکونت اختیار کی۔  سفر کی سختی اور مصائب و آلام نے سید غیاث الدین کی صحت پر بُرا  اثر ڈالا اور آپ صرف دو سال بعد ہی خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ابھی معین الدین اس صدمہ جانکاہ سے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک سال بعد ہی والدہ ماجدہ ماہ نور بھی انتقال کرگئیں۔ ان لگاتار حوادث اور المیوں نے آپ کی زندگی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔  ناز و نعم میں پرورش پانے کے باوجود آپ کا مزاج دوسرے صاحبِ ثروت خاندان کے بچوں سے قطعی مختلف تھا۔  آپ نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ،   گزر بسر کا ذریعہ پھلوں کا ایک باغ اور ایک پن چکی  تھی جو  ورثہ میں آپ کو ملی تھی ۔  ایک روز  آپ کسی کام میں مصروف تھے کہ باغ میں ایک بزرگ  تشریف لائے۔ ان بزرگ کا نام ابراہیم قندوزی ؒ  تھا یہ مردِ درویش مجذوب تھے۔   معین الدین  نے درویش کو سائے میں بٹھایا اور انگوروں کا ایک خوشہ نذر کیا۔ درویش اس مہمان نوازی پر بہت مسرور ہوئے اور اپنے تھیلے سے کھلی کاایک ٹکڑا نکالا اوراُسے اپنے دانتوں سے چبا کر خواجہ صاحبؒ کو دے دیا۔ چبایا ہوا کھلی کا یہ ٹکڑا  کھاتے ہی معین الدین  کے اندر کی دنیا بدل گئی ۔ انہیں احساس ہوا کہ اُن کی زندگی کا کوئی مقصد ہے اور یہ مقصد باغ ، پن چکی اور کاروبار کی نگرانی سے زیادہ ارفع و اعلیٰ ہے۔

نئی منزلوں کی تلاش کے لیے  سترہ سال کی عمر میں آپ نے سمرقند کے عالم دین مولانا حسام الدین بخاری کی شاگردی اختیار کی اور دو سال کے مختصر عرصے میں ۔ تفسیر ، حدیث ، فقہ اور فلسفے کے اندر کمال حاصل کرلیا۔ کچھ عرصہ علوم فنون کے مرکز بخارا میں گزارا  اور صرف 20 برس کی عمر میں ریاضی ، فلکیات اور علم طب میں مہارت حاصل کی۔ جس سے آپ کی شعوری استعداد میں اضافہ ہوا لیکن آپ کو احساس تھا کہ ان علوم سے تو ابھی  حقیقی مقصد کاہی پتہ نہیں چلا تو اُس کا حصول کیوں کر ممکن ہوسکے گا۔ جستجو اور تلاش کی  چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔ آرزو تھی کہ کوئی صاحبِ کمال اس چنگاری کوشعلہ بنا  دے۔  سلسلہ چشتیہ کے صاحب کمال بزرگ خواجہ عثمان ہارونی    ؒنیشاپور شہر کے قریب ہی ایک قصبے ہارون یا ہرون میں جلوہ افروز تھے۔ معین الدین   خواجہ عثمان ہارونی  ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُس وقت آپ کی عمر لگ بھگ 21 برس کی تھی۔ خواجہ عثمان ہارونی  ؒنے بیعت کرنے کے بعد آپ کو خانقاہ کی ایک ذمّہ داری سونپ دی اور آپ نے بلاچون چراں اُس ذمہ داری پر عمل درآمد شروع کردیا۔ دن مہینوں میں اور مہینے سال میں بدل گئے ۔ اس دوران نہ تو خواجہ عثمان ہارونی  ؒنے دوبارہ معین الدین  کی خبر لی اور نہ ہی معین الدین نے دریافت کیا کہ حضرت میرے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟ !….

ایک روز حضرت خواجہ عثمان ہارونی  ؒنے آپ کو بلایا اور پوچھا ‘‘تمہارا نام کیا ہے؟!!’’

آپ  نے جواب دیا ‘‘ معین الدین ’’

خواجہ عثمانؒ نے فرمایا ‘‘ہمارے ساتھ آؤ’’….

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اپنی تصنیف ‘‘انیس الارواح’’ میں تحریر کرتے ہیں:

‘‘مرشد کریم نے  دورکعت نماز اور قبلہ رو بٹھاکر چند  سورتیں اور درود شریف پڑھوائی اور  پھر   مجھے اپنی دو انگلیاں دکھا کر استفسار فرمایا! کیا دیکھتا ہے؟…. میں نے عرض کیا اٹھارہ ہزار عالمین کا مشاہدہ کررہا ہوں. ’’

کہا جاتا ہے  کہ اس واقعہ کے بعد بھی کافی عرصہ معین الدین اپنے مرشد کی قربت میں رہے۔ معین الدین ؒ کو فیض عطاکرنے کے بعد   وقتِ رخصت خواجہ عثمان ہارونیؒ  نے انہیں اپنے سینہ سے لگایا، سر و چشم کو بوسہ دیا اور فرمایا ‘‘تجھ کو خدا کے سپرد کیا ’’۔

معین الدین خواجہ عثمان ہارونی ؒ، سے رخصت ہوئے اور مختلف شہروں اور ملکوں سے ہوتے ہوئے  آب نے شیخ حسام الدین ؒ ابراہیم قنذوزیؒ، مولانا شرف الدین ؒ ،   شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ، شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ ابونجیب سہروری ؒ ، شیخ احد اورین کرمانی ؒ ، شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ ، حضرت یوسف ہمدانی ؒ ، شیخ ابو سعید تبریزی ؒ ،شیخ محمود اصفہانی ، شیخ ناصر الدین استرآبادی ؒ، احمد بن مودودچشتی ؒ ، عبدالواحد غزنویؒ ، شیخ صدر الدین محمد احمد سیستانیؒ، بہاالدین بختیار اوشی ؒ جسے بزرگان دین سے اکتساب فیض حاصل کیا ۔  دورانِ سفر اصفہان میں خواجہ بختیار کاکیؒ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بیعت کی درخواست کی جو خواجہ معین الدینؒ  نے قبول فرمائی۔ اصفہان سے حضرت خواجہ معین الدینؒ حضرت بختیار کاکیؒ کی معیت میں مکہ معظمہ پہنچے اور  حج کا فریضہ انجام دیا۔ پھر مدینہ تشریف لے گئے۔

مسجد نبویﷺ میں آپ مسلسل مراقبہ و مشاہدہ میں مشغول رہے۔ ایک روز آپ کو حضور نبیکریمﷺ کی زیارتِ ہوئی۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا ‘‘اے معین الدین، تو میرے دین کا معین ہے۔ میں نے ولایتِ ہندوستان تجھ کو عطا کی ، تو اجمیر جا تیرے وجود سے وہاں ظلمت ِ کفر دور ہوگی اور اسلام رونق افروز ہوگا’’۔  دربارِ رسالتﷺ کی اس بشارت سے خواجہ معین الدین ؒ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپؒ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی…. لیکن اجمیر  کا نام ہی آپ نے پہلی بار سنا تھا ، آپؒ نہیں جانتے تھے کہ اجمیر کہاں ہے؟ کتنی دور ہے؟  وہاں تک پہنچو ں گا کیسے ؟ سوچتے سوچتے پھر غنودگی آگئی ۔ عالم خواب میں آپ کو اجمیر کا راستہ دکھا دیا گیا۔

خواب سے بیدار ہوئے تو روضۂ اقدسؒ  پر حاضری دی اور پھر اپنے احباب کے ہمراہ بغداد کی طرف چل پڑے تاکہ اس کامیابی سے مرشد کو باخبر کر سکیں اور ان سے اجازت لے کر ہندوستان کا قصد کریں۔

1189 ء میں آپ مدینہ منورہ سے بغداد پہنچے۔ کچھ عرصہ وہاں قیام فرمایا۔ پھر افغانستان کے راستے لاہور پہنچے۔ لاہور میں حضرت سید علی ہجویریؒ کے مزار پر چالیس روز مراقبہ میں مشغول رہے۔ مراقبہ کے بعد ہجرہ سے باہر تشریف لائے تو یہ شعر ارشاد فرمایا؎

گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا

ناقصاں را پیر کامل کا ملاں را رہنما

اس کے بعد سے ہی حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے لقب سے مشہور ہوئے۔لاہور سے آپؒ نے ملتان کا قصد کیا۔ ملتان میں آپ نے تقریباً پانچ سال قیام فرمایا۔ ملتان میں قیام کے دوران خواجہ معین الدین  نے سنسکرت، پراکرت اور دیگر مقامی زبانیں سیکھیں۔ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا، وہاں کی ثقافت کا جائزہ لیا  اس کے بعد آپ اجمیر روانہ ہوئے۔

راجہ اجے پال نے چھٹی صدی عیسوی میں کوہِاراوی کے دامن میں ایک بستی اجےمیرو   کی بنیاد رکھی ،  اجے میرو کے معانی  ہیں  ‘‘ناقابلِ شکست پہاڑ’’۔ اجے پال  نے ہندوستان کا پہلا پہاڑی قلعہ تارا گڑھ تعمیر کیا اور اِسے اپنا پایۂ تخت قرا ردے کر ایک مستقل سلطنت قائم کرلی۔   وقت گزرتا رہا ۔  ساتویں صدی میں اجمیر پرچوہان راجپوتوں کا قبضہ ہوگیا۔  خواجہ معین الدین چشتیؒ جب اجمیر میں رونق افروز ہوئے  اُس وقت پرتھوی راج اجمیر کا فرماں رواں تھا۔

1191ء میں جب حضرت خواجہ معین الدینؒ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اجمیر پہنچے تو آپؒ نے ایک مقام پر قیام کرنا چاہا یہاں ارد گرد گھنے درخت بھی تھے اور یہ علاقہ شہر سے الگ تھلگ بھی تھا۔ لیکن مقامی چراہوں  نے آپ کو اس جگہ قیام کی اجازت نہیں دی۔ انہوں کہا  کہ آپ لوگوں کو یہ جگہ نہیں دی جاسکتی اس لئے کہ یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھتے ہیں…. خواجہ صاحبؒ نے یہ سنا تو عالمِ استغراق میں فرمایا ‘‘اچھا اونٹ بیٹھتے ہیں تو بیٹھیں’’۔  اس کے بعد آپ نے تھوڑی دور انا ساگر کے کنارے ایک جگہ کو قیام کے لیے منتخب فرمایا ۔

اُدھر جس جگہ راجہ کے اونٹ بیٹھتے تھے وہاں  جب اونٹ بیٹھے تو ایسے بیٹھے کہ اُٹھانے سے بھی نہ اُٹھے۔  چرواہے  سخت پریشان ہوئے۔ انہوں  نے اس واقعہ کی اطلاع اپنے افسران کو پہنچائی،   ان لوگوں نے بھی اپنے طور پر سارے جتن کرلئے لیکن اونٹ اُٹھ کر نہ دیئے۔ بالآخر پتہ چلا کہ کوئی مسلمان سادھو یہاں آئے تھے اور انہوں نے اس جگہ کو اپنے قیام کے لئے منتخب کیا تھا، لیکن چراہوں  کے منع کرنے پر وہ یہاں سے چلے گئے تو افسران نے  حکم دیا کہ جا کر اُس سادھو فقیر سے معافی مانگو۔  چرواہے حضرت خواجہ معین الدینؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معافی کے خواست گار ہوئے۔ خواجہ معین الدینؒ نے مسکرائے اور ازراہِ شفقت گردن کے اشارے سے چرواہوں  کو معاف کیا اور ارشاد فرمایا ‘‘اچھا جاؤ اونٹ کھڑے ہوگئے’’۔  چراہوے واپس اُس جگہ پہنچے اور اُن کی خوشی اور حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اُنہوں نے دیکھا اونٹ کھڑے ہوگئے ہیں۔    ان چرواہوں پر آپ کی اس کرامت کا بڑا اثر ہوا۔  اونٹ لے کہ جہاں جہاں سے گزرتے تھے یہ واقعہ بیان کرتے جاتے تھے ۔

یہی چرواہے جب دوسرے دن  اپنے اونٹ باندھنے آئے تو لامحالہ اُن کے دل میں خیال آیا کہ کچھ دیراس درویش کے پاس بھی بیٹھا جائے۔وہ بڑ ے ادب سے آئے اور سر جھکاکر خواجہ معین الدین ؒ کے پاس کھڑے  گئے۔ حضرت خواجہ معین الدین ؒ نے ان چرواہوں کو اپنے پاس بٹھایا اور ان سے  باتیں کرنے لگے۔   چرواہے  حیران ہوئے  ۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں چھوت چھات کانظام تھا،ذات پات کی تفریق تھی، نچلی ذات کے لوگوں  کو اونچی ذات کے ساتھ عبادت تک کی اجازت نہیں تھی۔ غریب اور امیر کی تفریق تھی۔  وہاں خواجہ معین الدین  کے حسن ِ اخلاق پر سب کو حیرت ہوئی تھی۔ ان کے اپنے سادھو  انہیں اپنے پاس بیٹھنے تک نہیں دیتے تھے۔ اونچی اور نیچی ذات، چھوت چھات کی تفریق وہ عام دیکھ رہے تھے۔  ان درویشوں کے اخلاق نے انہیں بے حد متاثر کیا ۔ چرواہے  خاموشی سے آپ کی باتیں سنتے رہے۔ ان باتوں میں نہ کوئی پیچیدگی تھی نہ کوئی ہیر پھیر  انہی کی زبان میں باتیں ہورہی تھیں۔  لہجہ بھی شگفتہ اور دل موہ لینے والا تھا ۔ غرور تھا نہ تکبر  انہیں ایسا لگا کہ اپنے ہی جیسے کسی آدمی سے بات کررہے ہیں۔

وہ چراہوے جب خواجہ معین الدین کے پاس  سے روانہ ہوئے تو راستے بھر مسلمان درویش  کی باتیں کرتے رہے ۔ اب وہ جس سے بھی ملے ان کے حسنِ اخلاق کے قصے بیان کیے ۔  اب   ان چرواہوں کا ہر دن  خواجہ صاحب کے ساتھ گزرنے لگا ۔ ہر ملاقات میں وہ ایک نیا تاثر لے کر اُٹھتے ، ان چرواہوں کی زبانی آپ کی باتیں سن کر کئی اور لوگ  بھی آپ کو  دیکھنے اور ملنے  پہنچنے لگے۔  بعض لوگوں کو پریشانیوں اور مصیبتوں نے ابھارا کہ وہ دعا کے لیے اس فقیر کے پاس جائیں۔ کسی نہ کسی طر ح عوام کا رخ آپ کی طرف ہوگیا ۔ ان میں زیادہ تعداد غریبوں اور نچلی ذات کے لوگوں  کی تھی ۔ معاشرے میں ان  غریبوں کی کوئی عزت نہیں تھی لیکن جب وہ غریب نواز ؒ کے ڈیرے پر پہنچتے تو انہیں عزت و احترام سے بٹھایاجاتا۔ ان کے دکھوں کا مداوا کیا جاتا۔ ان کے لیے دعا کی جاتی۔   جب لوگوں کے کام ہونے لگے تو ان کا اعتقاد بھی بڑھنے لگا ۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے خیالات  میں تبدیلی آنے لگی  اور بعض تو اتنے متاثر ہوئے کہ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ پھر یہ تعداد بڑھنے لگی، جو کام بادشاہوں کی تلواروں سے ممکن نہیں تھا،دربارتصوف کے ایک فقیر کے ہاتھوں انجام پانے لگا ۔

سادھو،  پنڈت اور پر وہت تو یہ سمجھ رہے تھے کہ کوئی مسلمان فقیر آیا ہے ۔ کچھ دن ٹھہرے گا، چلا جائے گا۔ لیکن جب  نوبت یہ آگئی کہ بہت سے ہندو اپنا مذہب ترک کرکے نیا دین قبول کرنے لگے تو ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔   پنڈت سادھو  اکھٹے  ہوئے  اور اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ترکیبیں سوچنے لگے ۔ آخر طے پایا کہ ان فقیروں کو اجمیر سے نکال دیا جائے۔ انہوں نے اپنے چند آدمیوں کو حضرت معین الدین ؒ کے پاس بھیجا  کہ آپ یہ جگہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔  اجمیر میں آپ نہیں رہ سکتے اور انا ساگر سے پانی بھی نہیں لے سکتے ۔یہ ہمارے لیے  پوتر جل ہے،آپ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے ۔ ’’ خواجہ معین الدین  نے کہا کہ  ٹھیک ہے، صرف ایک مشکیزہ پانی لینے دو ۔ اس کے بعد ہم تم سے پانی نہیں مانگیں گے۔  سادھو راضی ہوگئے۔

آپ نے ایک خادم کو اشارہ کیا کہ خادم مشکیزہ لینے چلا گیا۔   تمام سادھو  خوشی خوشی واپس چلے گئے کہ ایک مشکیزہ کتنے دن چلے گا۔ پیاس تنگ کرے گی تو خود بھاگ جائیں گے ۔

دوسرے دن سادھو  خوشی  خوشی  انا ساگر کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تالاب بالکل سوکھاپڑاہے ۔ پانی کہا ں چلا گیا ….؟  یہ کوئی یقین میں آنے والی بات تھی ہی نہیں۔    سادھو  شور مچاتے، واویلا کرتے بستی کی طرف بھاگے۔  ‘‘انا ساگر خشک ہوگیا۔ ایک قطرہ پانی بھی نہیں ۔ فقیروں نے سارا پانی چرالیا۔ ’’

یہ خبر ایسی تھی کہ جس نے سنی  تالاب کی طرف بھاگا ۔ سب  لوگ  انا ساگر تالاب پر جمع ہوگئے۔ تھوڑی دیر میں سادھو ، راجا کے افسران کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے سوکھے ہوئے تالاب کو دیکھا اور پھر دور بیٹھے فقیروں کودیکھا۔  سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایک رات میں تالاب کا پانی کہاں چلاگیا۔  افسران  خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے  اور کہنے  لگے  :

‘‘انا ساگر کا پانی خشک ہوگیا ہے تمام لوگ سخت پریشان ہیں،ہمیں نہیں معلوم ہے کہ یہ کیسے  ہوا ، سادھو کہتے ہیں کہ یہ آپ نے کیا ہے۔

خواجہ معین الدین نے فرمایا :

‘‘ہم نے تو آپ لوگوں کی اجازت سے صرف ایک مشکیزہ پانی لیاتھا۔ وہ پانی ہم آپ کو لوٹا دیتے ہیں’’۔

آپ نے  یہ فرمایا کر  خادِم کو اشارہ  دیا ۔  خادم نے پانی سے بھرا مشکیزہ اٹھایا  اور لے جا کر انا ساگر میں انڈیل دیا ۔  ایسا لگتا تھا کہ جیسے پورا تالاب اس ایک مشکیزے میں بند ہوگیاتھا۔ مشکیزے کا پانی انڈیلتے ہی اناساگرمیں پانی بھرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے تالاب کا پانی کناروں کو چھونے لگا ۔

یہ ایسی کرامت تھی جو تقریباً پورے اجمیر کے سامنے ظہور میں آئی تھی ۔ سب نے اپنی آنکھوں سے تالاب کو بھرتے ہوئے دیکھا تھا۔ لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگے  اور خواجہ معین الدین کی جے جےکار کرنے لگے۔   سرکاری افسروں نے خواجہ صاحب سے عرض کی  ‘‘آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جتنا پانی چاہیں استعمال کریں۔   جتنا عرصہ چاہیں یہاں قیام کریں۔ ’’

اس واقعہ کے بعد کئی لوگوں نے حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا وہ بھی متاثر ضرور ہوئے۔ اب اناساگر کے قریب آپ کی  ایک خانقاہ تیار ہوگئی تھی،  جہاں ہر روز  دسیوں لوگ اپنے دکھوں کے مداوے  کے لیے حاضر ہوتے۔

اُدھرترائن کے مقام پر شہاب الدین غوری اور راجا پرتھوی راج کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوئی تھیں۔ دونوں فریقین مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے ۔ شہاب الدین غوری کے ساتھ خلجی،غوری اور خراسانی امراء آئے تھے۔ پرتھوری راج نے ہندوستان بھر کے راجاؤں کو اپنے ساتھ ملایا تھا۔ ان میں سے ہر ایک مارنے مرنے پر تلا ہوا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کئے ۔  کبھی ایک کا پلہ بھاری رہتا کبھی دوسرے کا ۔   جب اس کیفیت میں کئی دن گزر گئے تو سلطان شہابِ الدین غوری کے فوجیوں میں بددلی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ غوری کی فوج  کی اس بددلی کو راجا پرتھوی نے محسوس کر لیا اور اس کے حوصلے بڑھ گئے ۔ اس نے تا بڑ تو ڑ حملے شروع کردیے۔ بالآخر شہابالدین غوری زخمی ہوکر واپس غزنی واپس لو ٹ گیا  اور بھٹنڈہ   قلعہ اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔

پرتھوی راج نے اپنے لڑکے ‘‘کولا’’ کو قلعے  پر مامور کیا اور خود اجمیر واپس لوٹ گیا۔   راستے بھرپرتھوی راج کی فتح کی جے جے کار ہوتی رہی۔ اجمیر میں اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔  راجا محل میں جانے کے بجائے انا ساگر کے قریب بنے بڑے مندر میں اپنی فتح کا شکر ادا کرنے پہنچا کہ اذان کی آواز اس کی  سماعت سے ٹکرائی ۔  کسی نے بتایا کہ یہ مسلمانوں کو عبادت کے لیے بلانے کی پکار ہے۔’’

راجہ جو خود ابھی مسلم افواج سے لڑ کر آرہا تھا، خود اپنے شہر میں مسلمانوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کا سن کر  اتنا برہم  ہوا کہ الٹے قدموں مندر سے نکل کر   سیدھا اپنے محل پہنچا ۔ وہاں  عمال اور امر اہاتھ باندھ کر حاضر ہوگئے۔   ‘‘میں کچھ دیر اجمیر سے باہر کیا رہا، یہاں کا نقشہ ہی بدل گیا ۔  اس مسلمان فقیر کو فورا ً اجمیر سے نکالاجائے۔’’

‘‘مہاراج ! اب یہ اتنا آسان نہیں رہا ۔ ’’

‘‘ کیا مطلب ؟ میں نے شہاب الدین غوری کو فرار ہونے پر مجبور کردیا ۔ یہ فقیر کس گنتی میں ہے ۔ ’’

‘‘مہاراج !شہاب الدین کی بات اور ہے۔ اس  فقیر نے لوگوں  کے دل جیت لیے ہیں ۔ اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ صبرسے کام لیجئے ۔  ہمیں کوئی اور طریقہ سوچنا ہو گا ۔   درباری اور سادھو پروہت دیر تک سر جوڑے بیٹھے رہے۔ طے یہ پایا کہ پہلے عوام کی عقیدت کو کم کیاجائے  اور یہ بات پھیلا دی کہ یہ درویش دراصل شہاب الدین محمد غوری کا جاسوس ہے ، دوسری طرف اپنے کچھ ملازموں کو اس کام پر متعین کیا کہ وہ اس درویش کی جاسوی کریں اور ان کا شہاب الدین غوری سے تعلق کا پتہ لگائیں۔

حکم ملتے  ہی ملازم عقیدت مند کا روپ دھار کر آپ کے پاس وقت بسر کرنے لگے۔  ان لوگوں نے شب و روز میں کوئی بات بھی ایسی نہیں دیکھی جو حکومت  کے منافی ہو۔ اللہ کے ان نیک بندوں کا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا تھا۔ کبھی مریدین حلقہ باندھے بیٹھے ہیں اور حضرت خواجہ بزرگ ؒحکمت و دانائی کے موتی نچھاور کر رہے ہیں ۔  فقیر وں کی صحبت سے رفتہ رفتہ ان کی نگرانی کرنے والوں کے دل بھی پگھل گئے   اور وہ بھی خواجہ معین الدینؒ کے گرویدہ ہوگئے۔  انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا ، راجا کے گوش گزار کردیا ۔ راجا کا یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا۔ وہ پھر سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا طریقہ اختیار کرے۔

راجہ کے مشیروں نے پھر ایک ترکیب سجھائی کہ حسین ترین عورتوں کو وہاں بھیجا جائے تاکہ  ان عورتوں کا سندر روپ دیکھ کر درویش  کے قدم لڑکھڑا جائیں۔

چنانچہ چند عورتوں  بن سنور کر  آپ کی خانقاہ  میں پہنچ گئیں۔ لیکن  جو نہی حضرت خواجہ معین الدین ؒ کے سامنے پہنچیں تو کسی انجانی قوت نے ان عورتوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں۔ ان کے ہاتھ اپنی اوڑھینوں تک گئے اور گھونگھٹ نکال کر بیٹھ گئیں اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہاں سے چلی آئیں۔ یہ عورتیں حیران تھیں کہ کس قوت نے انہیں  پردے میں چلے جانے پر مجبور کردیا۔  جاسوس حسینائیں  اپنے آپ کو ملامت کرنے لگیں لیکن  انعام کا لالچ الگ اکسا رہا تھا۔دوسرے دن وہ پھر پہنچ گئیں۔ لیکن کسی قوت نے پھر انہیں بے بس کردیا۔ بالآخر وہ  پرتھوی راج کے دربار میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ ‘‘مہاراج ! وہ فقیر بہت بڑا جادوگر معلوم ہوتا ہے، اس کے سامنے پہنچتے ہی ہماری اپنی حالت غیر ہوجاتی ہے۔ اس کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہے’’ ۔

اب درباریوں  نے  کہا کہ  اس مسلمان فقیر سے مقابلے کے لیے کسی بڑے گیانی پنڈت  کی مدد لینی چاہئے۔  چنانچہ  سب سے بڑے پجاری ‘‘رام دیو’’کو بلایا گیا ۔   رام دیو بہت مانا ہوا سادھو  تھا،  برسوں کی تپسیاؤں اور ریاضتوں سے اس نے کئی مخفی صلاحیتیں حاصل کر رکھی تھیں۔    راجہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے گیان  سے پتہ لگائے کہ اس مسلمان فقیر کے  آنے کا مقصد کیا ہے۔

رام دیو اپنے  چیلوں کو لے کر  خواجہ معین الدین ؒ کے پاس پہنچ گیا۔ آپ کی نظر رام دیو اور اس کے ساتھیوں پر پڑی ۔ آپ نے انہیں بیٹھنے کو کہا۔

رام دیو نے   خواجہ معین الدین کی طرف  گہری نظر   ڈالی ،  اس نے دیکھا کہ خواجہ صاحبؒ کا سارا جسم بقعۂ نور ہے لیکن دل میں ایک سیاہ دھبہ ہے۔   سادھو نے خواجہ صاحب سے کہا:  ‘‘تیری آتما تو روشن ہے لیکن تیرے دل میں ایک سیاہ دھبہ ہے’’۔ رام دیو کی بات سن کر خواجہ غریب نوازؒ نے فرمایا۔ ‘‘تو سچ کہتا ہے’’۔

سادھو یہ سن کر حیرت کے دریا میں ڈوب گیا اور کہا ‘‘چاند کی طرح روشن آتما پر یہ دھبہ اچھا نہیں لگتا۔ کیا میری شکتی سے یہ دھبہ دور ہو سکتا ہے؟’’

خواجہ غریب نوازؒ نے فرمایا۔ ‘‘ہاں  تو چاہے تو یہ سیاہی دھل سکتی ہے۔’’

سادھو  کے اوپر اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی اور نم  آنکھوں اور کپکپائے ہونٹوں سے عرض کیا۔ ‘‘کیسے ’’

آپؒ  نے فرمایا:‘‘اگر تو اللہ اور  رسول ﷺ پر ایمان لے آئے تو یہ دھبہ ختم ہو جائے گا’’۔  سادھو کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی لیکن وہ اللہ پر اور  محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آیا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ ‘‘اب اپنی من  کی آنکھ سے دیکھ۔’’ سادھو نے دیکھا تو روشن دل سیاہ دھبے سے پاک تھا۔

سادھو خواجہ غریب نوازؒ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا  اور عرض کی کہ مہاراج اس راز  سے پردہ اٹھایئے۔ خواجہ اجمیریؒ نے فرمایا۔ ‘‘وہ روشن آدمی جس کے دل پر تو نے سیاہ دھبہ دیکھا تھا  میں نہیں بلکہ تو خود تھا۔ لیکن اتنی شکتی کے بعد بھی تجھے روحانی علم حاصل نہیں ہوا۔ آدمی کا دل آئینہ ہے اور ہر دوسرے آدمی کے آئینے میں اسے اپنا عکس نظر آتا ہے تو نے جب اپنی روشن آتما میرے اندر دیکھی تو تجھے اپنا عکس نظر آیا۔ تیرا ایمان حضرت محمد رسول اللہﷺ کی رسالت پر نہیں تھا اس لئے تیرے دل پر سیاہ دھبہ تھا اور جب تو نے کلمہ پڑھ لیا تو تجھے میرے آئینے میں اپنا عکس روشن نظر آیا۔’’

رام دیو  اپنی جگہ سے اٹھا اور آپ کے قدموں پر سر رکھ دیا اور حلقۂ  اردت میں شام ہوگیا۔ ’’

حضرت خواجہ نے اُس کا نام شادی دیو رکھا اور اپنی تربیت میں لے لیا۔ شادی دیو  ہندی میں مسرت بخش کو کہتے ہیں۔  رام دیو کے چیلے یہ سب کاروائی بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ رام دیو واقعی مسلمان ہوگیا ہے تو ان پر ہیبت طاری ہوگئی ۔ وہاں سے اُٹھ کر بھاگے اور سیدھے پرتھوی راج کے پاس جا کر دم لیا۔   اب درباریوں  نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے اور اس کے مقابلے میں کسی بڑے جادوگر کو بلانا چاہیے۔  راجہ اجمیر نے جوگی جے پال کو جو جادوگری کے فن میں سارے ہندوستان میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا بلا یا ۔   جے پال،  جادوگروں  کی ایک جماعت لے کر اجمیر پہنچا۔  اس نے راجہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا کہ ہم اُس مسلمان فقیر کو ہرادیں گے۔

جے پال کی قیادت میں کئی جادوگر حضرت خواجہ معین الدین کے پاس پہنچے۔  ان جادوگروں کی آمد پر خواجہ صاحب اٹھے ، وضو کیا ۔ اپنے تمام ساتھیوں کے اردگرد ایک لکیرسی  کھینچی اور کیا  کہ ان شاء اللہ اس لکیر کے اندر ہمارے کسی دشمن کو آنے کی جرأت نہ ہوگی۔ چنانچہ جونہی کسی نے اُس لکیر سے آگے بڑھنے کی جرأت کی وہ منہ کے بل گرپڑا  ناچار وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے ۔   اب جادوگر ں نے دور سے اکٹھے ہوکر جادو گری کا آغاز کردیا۔ لوگوں  کو یوں دکھائی دیتا تھا کہ پہاڑ کی چوٹیوں سے ہزاروں اور لاکھوں سانپ اُس لکیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔  جونہی کوئی سانپ لکیر تک پہنچتا تو اپنا سر لکیر پر رکھ دیتا ۔  جے پال یہ دیکھ کر بڑا پریشان ہوا۔ اب اُس نے جادوگروں کو کہا کہ آسمانوں سے آگ برسادو۔  دیکھتے ہی دیکھتے اتنی آگ برسی کہ سارا آسمان  انگاروں اور شعلوں سے بھر گیا ، اردگرد کے  درخت آگ میں جلنے لگے لیکن اس دائرے کے اندر آگ کا کوئی اثر نہ ہوا۔  جادوگروں نے جب یہ بات دیکھی کہ اُن کے اردگرد کا سارا علاقہ جل گیا ہے مگر حضرت خواجہ کے مریدوں  کو آنچ تک نہیں آئی تو جے پال کو کہنے لگے کوئی اور کام کرنا چاہیے۔

جےپال کے پاس  ہرن کے چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس نے وہ ٹکڑا ہوا میں پھینکا اور چھلانگ لگا کر اُس پر سوار ہوگیا ۔ اب جے پال  آسمان کی طرف پرواز کرتا نظر آنے لگا وہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگیا۔  حضرت خواجہ  نے جے پال کو اس طرح اُڑتے ہوئے دیکھا تو فوراً اپنے جوتوں کی طرف نگاہ کی اور فرمایا کہ جاؤ اور جے پال کو واپس لاؤ، دونوں نعلین  ہوا میں اُڑے اور فضا میں جاکر جے پال کے سر پر برسنے  لگے اور اس تکبرونخوت کے پتلے کی تواضع کرتے ہوئے  اسے زمین پر اتار لائے ۔  جے پال  زمین پر آکر نڈھال ہوکر رونے لگا ،  آپ کے  قدموں میں گر کر معافی کا خوستگار  ہوا اور  کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

اجمیر کے راجہ نے جے پال کو شکست خوردہ دیکھا تو مایوس ہوکر شہر میں واپس چلا آیا اور دل میں عہد کرلیا کہ اب مسلمان فقیر  کی مخالفت نہیں کرے  گا۔  کچھ دنوں بعد رام دیو نے خواجہ صاحبؒ سے درخواست  کی کہ آبادی میں چل کر قیام کریں تاکہ مخلوق خدا یہاں تک آنے کی زحمت سے بچ جائے۔  چنانچہ  حضرت خواجہ بھی اجمیر شہر کے اندر تشریف لے آئے اور رام دیو   کی ایک زمین پر آپ نے مسجد کی   تعمیر کی۔  ساتھ ہی آپ  کے لیے حجرہ بھی بنایا گیا۔   یہ حجرہ  اسی جگہ تھا جہاں اب  آپ کا مزار ہے۔

اخلاق کریمانہ اور شفقت کا برتاؤ وہ ہتھیار ہے جس سے چٹانوں کو ریزہ ریزہ کیا جاسکتا ہے ۔ سمندر وں کا رُخ موڑا جا سکتا ہے ۔ نفرتوں کو محبت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ خواجہ غریب نوازؒ نے یہی کیا ۔ آپؒ جب اجمیر میں وارد ہوئے تھے، لوگ مسلمانوں کا نام سننا پسند نہیں کرتے تھے لیکن لوگ جیسے جیسے خواجہ ؒکے قریب ہونے لگے ، آپؒ کے گن گانے لگے۔ آپؒ نے کسی کو دھتکارا، نہ مذہب بدلنے پر مجبور کیا ۔ آپ ؒنے حق کا راستہ بتایا ۔ ضرورت مندوں کی مدد کی۔دکھی دلوں کی دل جوئی کی، نتیجہ یہ ہوا کہ  خلقت ان کے پاس اپنی مرادیں لے کرآنے لگی۔ پرتھوی راج کے روکنے کے باوجود خلقِ خدا  آپ کی زیارت کو آنے لگی۔

خواجہ غریب نواز  نے اجمیرکے راجہ کو بھی خیر کی طرف بلایا اور ترغیب دی کہ وہ  اسلام قبول کرلے مگر اس نے انکار کردیا  اور ساتھ ہی پیغام بھیجا کہ آپ  اجمیر چھوڑ کر چلیں جائیں،  پیغام سن کر آپ نے فرمایا کہ ہم تو جاتے ہیں مگر تمہیں نکالنے والا آنے والا ہے۔

سلطان شہاب الدین غوری ترائین کی شکست کے بعد غزنی چلا گیا۔  وہ اس  شکست کے بعد چین سے نہیں بیٹھااور ہمیشہ شکست کا بدلہ لینے کا سوچتا رہتا، ایک روز خواب میں آپ کو ایک نورانی چہرہ بزرگ کی زیارت ہوئی جنہوں نے اسے یہ بشارت اور خوش خبری سنائی کہ اللہ تعالی نے ہندوستان کی حکومت تجھے بخش دی،  جلد اس کی طرف متوجہ ہو اور راجہ پرتھوی راج کو زندہ گرفتار کرکے سزا دے۔   شہاب الدین نے علماء و فضلاء سے یہ خواب بیان کیا۔ سب نے مبارک دی  اور کہا یہ خواب فتح و کامرانی کا مژدہ ہے۔

شہاب الدین 1193ء میں ایک لاکھ سات ہزار کی فوج کے ساتھ تھانسیر کے میدان میں دریائے سرسوتی کے پار میدان جنگ میں پہنچ گیا۔  پرتھوی راج  تین لاکھ سوار فوجیوں، تین ہزار جنگی ہاتھیوں اور سولہ ہزار سازوسامان کی گاڑیوں کے ساتھ مقابل آیا۔ ڈیڑھ سو راجوں مہاراجوں کی افواج اس کے ہمراہ تھی۔ پرتھوی راج کو اپنی فتح کا یقین تھا، شہاب الدین غوری کے حوصلے بلند تھے اور اسے خواب میں بزرگ  کی مدد کی بشارت بھی یاد تھی۔  ترائن کی یہ لڑائی 589ھ مطابق 1193ء میں فیصلہ کن تھی۔   گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔ شہاب الدین نے یہ تدبیر لگائی   کہ اپنے خاص جوانوں کا ایک تازہ  دم دستہ  چھپائے  رکھا۔ چنانچہ جب اس کے دوسرے دستوں کے ساتھ راجہ کی فوج لڑتے لڑتے تھک  گئی تو تازہ دم اور جانباز جوانوں کا یہ دستہ   میدان ِ جنگ میں اتر آیا ور بہت سے راجاؤں کے مار گرایا۔ پرتھوی راج کی فوج میں ہل چل مچ گئی۔  بالآخر شہاب الدین کی فوج غالب اور راجہ پرتھوی راج کی فوج مغلوب ہوئی۔ راجہ پرتھوی راج نے بھاگنا چاہا لیکن وہ دریائے سرقی کے کنارے گرفتار ہوکر مارا گیا۔

جس وقت شہاب الدین فاتح کی طرح اجمیر میں داخل ہوا شام ہو چکی تھی۔ مغرب کا وقت تھا۔ اتنے میں اس نے اذان کی آواز سنی۔ اذان کی آواز سن کر اسے سخت تعجب ہوا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ایک مسلمان فقیر  یہاں مقیم ہیں جنہوں نے یہاں مسجد بھی تعمیر کی ہے ۔ شہاب الدین فوراً وہاں پہنچا  اور نماز  کی صف میں شامل ہو گیا۔ نماز کے بعد شہاب الدین کی نظر خواجہ صاحب پر پڑی۔ یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ تو وہی بزرگ ہیں جنہوں نے خواب میں اس کو فتح کی بشارت دی تھی۔ شہاب الدین آگے بڑھا اور غریب نواز کے قدموں پر گر پڑا۔

کچھ دن اجمیر میں قیام کرکے شہاب الدین دہلی آیا۔ دہلی کے حاکم نے تحائف پیش کئے۔ شہاب الدین غوری قطب الدین ایبک کو دہلی میں اپنا نائب مقرر کرکے ہندوستان سے واپس خراساں لوٹ  گیا۔

اب حجرۂ مبارک میں ذکر و فکر کی محفلیں آزادنہ آراستہ ہونے لگیں۔علم وفیاضی کے دریا بہنے لگے۔ اجمیر اور اس کے مضافات اور قریبی شہروں میں بسنے ولالے لوگ دعا وبرکات کے لیے آستانہ عالیہ پر حاضر ہونے لگے ۔اپنی مشکلات کے حل کی امیدیں لیے آنے لگے۔ بڑی تعدادمیں غیر مسلم سائل ، حاجت ،مند محتاج، یتیم، بیوائیں درِ خواجہ پر حاضر ہوتے ۔ آپ سب کی دستگیری فرماتے…. بھوکو ں کو کھانا مل جاتا …. ظالم کو ظلم سے نجات ملتی ….ہر ایک سے  اس طرح گفتگو کرتے کہ وہ یہی سمجھتا جیسے وہ سب سے زیادہ اسی کو چاہتے ہیں ۔ اس درسے جسے نوازا جاتا وہ آپ کو غریب نواز اؒ کہہ کہ پکار نے لگتا ۔   اپنے بعض مریدین و خلفا ء کو آپ نے تبلیغ حق پر متعین کر رکھا تھا جو ا جمیر کے قرب و جوار میں جا کر اسلام کی حقانیت واضح کر تے رہتے تھے ۔ا س انداز و طریق تبلیغ نے کفارو مشرکین کے اذہان و قلوب میں انقلاب عظیم برپا کر دیا اور نور اسلام اپنی تابانیوں اور رحمتوں کے ساتھ پھیلنے لگا۔

سلطان الہندؒ نے اپنے جانشین کی حیثیت سے حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ  کو دہلی میں متعین فر مایا ، اجمیر میں رہتے ہوئے حضرت معین الدین چشتی ؒدعوت تبلیغ میں بے انتہاء مصروف رہے۔   اس دوران حضرت قطب الدین ؒدہلی سے مسلسل خطوط لکھتے رہے۔ ہر خط  میں ا یک ہی التجا ہوتی تھی کہ پیرو مرشد  دہلی تشریف لاکر اس شہر کے باشندوں کو بھی قدم بوسی کی دولت سے سرفراز فرمائیں۔  حضرت خواجہ معین الدین چشتی  ؒکو حضرت قطب  الدین ؒ کی بے قراریوں کا شدید احساس تھا مگر آپ نے اپنی زندگی کے جس عظیم مقصد کی خاطر اجمیر آئے تھے، ابھی اس کی تکمیل کا وقت نہیں آیا تھا ۔  جب ایک طویل کشمکش کے بعد حق کو باطل پر فتح حاصل ہونے لگی اور دوسری طرف اسلام کی روشنی تیزی سے پھیلنے لگی تو سلطان الہند ؒ نے دہلی جانے کا ارادہ فرمایا ۔

اجمیر کے باشندوں کو غریب نواز ؒ کے عزم سفر کی اطلاع ہوئی عقیدت مندوں کا ایک ہجوم ، خانقاہ کے سامنے رو رو کر فریاد کرنے لگا ۔ چنانچہ خواجہ صاحب واپس آنے کے وعدے پر دہلی روانہ ہوئے،  اور خواجہ  قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے پاس قیام کیا، ان دنوں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ایک نوجوان  مرید فرید الدین مسعود بھی پنجاب سے دہلی آکر خانقاہ میں  مصروف ِ ریاضت تھے،   فرید الدین مسعودؒ نے بھی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی زیارت کی اور آپ سے فیض پایا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ ، حضرت شیخ فریدالدین مسعود (گنج شکرؒ) اور دیگر عقیدت مندوں میں علمِ وعرفان کی دولت تقسیم کرنے کے بعد حضرت سلطان الہند ؒ واپس اجمیر تشریف لے گئے۔

تذکروں میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی دو بیگمات تھیں۔  جس  سے تین بیٹے ہوئے  خواجہ ابوسعید ، خواجہ فخرالدین اور خواجہ حسام الدین۔  حضرت خواجہ کی دوسری بیوی ہندوستان کے راجاؤں میں سے ایک راجہ کی بیٹی تھی جن کا اسلامی نام امۃ اللہ رکھا گیا ۔  ان سے ایک بیٹی پید اہوئی جس کا نام حافظہ جمال تھا ۔ یہ بڑی عابدہ زاہدہ اور پارسا تھیں۔  آپ کو اپنے والد سے بڑی ارادت تھی آپ نے انہیں روحانی تربیت دی اور خلافت سے بھی نوازا اور انہیں خواتین کی تبلیغ کے لیے وقف کردیا چنانچہ ہندوستان میں ہزاروں عورتیں آپ کی کوششوں سے قرب الٰہی کے درجہ کو پہنچیں۔ بی بی حافظہ جمال کا مزار حضرت خواجہ کے مزار کے پہلو میں ہے۔

خواجہ غریب نواز اپنی عمر کے چھیانوے سال پورے کر چکے تھے ۔ عمر طبعی کے قیمتی سال گز ر چکے تھے ۔ آپ نے مختلف خلفاکی صورت میں ایسے چراغ روشن کر دیے تھے جو مختلف مقامات پر اپنے کردار و اخلاق کے ذریعے قلوب و اذہان کو اسلام کی روشنی سے منور کر رہے تھے ۔   6 رجب 627ھ، بمطابق 21 مئی 1229ء کے دن عشا کی نماز کے بعد خواجہ غریب نواز نے اپنے حجرہ کا دروازہ بند کیا۔ کسی کو بھی حجرہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ حجرہ کے باہر خدام حاضر تھے۔ رات بھر ان کے کانوں میں صدائے وجد آتی رہی۔

رات کے آخری حصہ میں وہ آواز بند ہو گئی۔ صبح کی نماز کا وقت ہوا لیکن دروازہ نہ کھلا۔ خدام کو تشویش ہوئی آخر کار دروازہ کھلوایا  گیا۔ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ خواجہ غریب نواز ،  خالق حقیقی کے پاس جاچکے ہیں۔

آپ کے حجرے میں ہی آپ کی تدفین ہوئی ۔

برصغیر میں دینِ اسلام کی روشنی پھیلانے، توحیدِ باری تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا پیغام  انسانوں تک پہنچانے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درخشاں خدمات آنے والی سب  نسلوں کے لیے روشن مثال ہیں۔  محتاط اندازوں کے مطابق   اس زمانے میں جبکہ آبادی  بہت کم تھی ایک لاکھ سے زیادہ افراد خواجہ غریب نوازؒ کی تبلیغ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ جن لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا ان میں سے بے شمار کے دل بھی غریب نواز ؒ کی عقیدت سے لبریز ہونے لگے۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر شریف میں آرام فرما ہیں اور وہاں فیضِ عام کا لنگر جاری ہے۔  آج بھی اگر کوئی شکم سیری کی نیت سے جاتا ہے تو اسے پیٹ بھر کے کھانا ملتا ہے، صبح شام لنگر جاری ہے شہر کے سارے مساکین، غربا و فقرا کھاتے ہیں اور کھانا پھر بھی بچا رہتا ہے۔ یہ ہے دستِ غیب ۔ یہ ہے اللہ کے دوستوں کا تصرف۔  کسی کو اطمینان و سکون کی تلاش ہوتی ہے تو حاضر ہوتے ہی کسی دستِ شفقت کا سایہ پاتا ہے…. اولیاء اللہ کے مزارات پر ہر وقت رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ جو وہاں جاتا ہے اطمینان ِ دلی سے فیض یاب ہوتا ہے۔

جب رجب المرجب کا چاند چڑھتا ہے اور خواجہ کے عرس کا دن آتا ہے تو بہاریں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ سوئے اجمیر چل پڑتے ہیں۔ ان میں عام لوگ بھی ہوتے ہیں، عقیدت مند بھی ، اولیاء اللہ بھی، امیر بھی ، غریب بھی، ہندو بھی، سکھ بھی، عیسائی بھی مسلمان بھی، کیونکہ خواجہ سب کے خواجہ ہیں۔ ان کے احسانات سب پر ہیں،لوگ آج بھی خواجہ ٔ بزرگ کے مزار پر چلے کاٹتے ہیں اور روحانی انعامات سے نوازے جاتے ہیں۔ آٹھ سو سال گزر گئے ہیں یہ فیض جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ انشاء اللہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے