سلطنت عثمانیہ کی مکمل تاریخ…. (عثمان غازیؒ)

عثمان غازی

سلطنت عثمانیہ جس سے شاید ہماری نئی جنریشن واقف نہ ہو۔  یہ مسلمانوں کی سب سے مضبوط اور سب سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔ اس کی حدود تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی۔ خدا نے اس سلطنت کو ایک کے بعد ایک ایسے قابل اور عظیم فرمانراؤں سے نوازا کہ جنہوں نے اس کی شان و شوکت کو عروج تک پہنچادیا تھا۔

آئیے شروعات کرتے ہیں سلطنت عثمانیہ کے پہلے امیر عثمان غازی سے۔ عثمانیوں کے آباؤ اجداد دراصل کردستان میں بسنے والے چرواہے تھے۔ جب چنگیز خان نے ان کے علاقوں پر حملے کیے تو یہ وہاں سے منتقل ہوکر ارطغرل نامی شخص کی قیادت میں موجودہ ترکی کے علاقے اناطولیہ  آگئے۔ اس وقت یہ قبیلہ سو خاندانوں اور چار سو گھڑ سواروں پر مشتمل تھا۔

اس علاقے میں ترکی نسل کے ہی لوگوں جنہیں سلجوقی کہاجاتا تھا کی بادشاہت قائم تھی۔ سلجوقی حکومت اپنا عروج گزار چکی تھی۔ سلجوقیوں نے عالم اسلام کو الپ ارسلان جیسے بادشاہ دیے تھے۔ جنہوں نے صرف پندرہ ہزار کے لشکر کی مدد سے رومیوں کے ایک لاکھ جم غفیر کو عبرت ناک شکست سے دوچار کی اور رومیوں کو اپنا باجگزار بنالیا تھا۔ مگر اب یہ حکومت ایک طرف تاتاری یعنی منگولوں کے حملوں اور دوسری طرف رومیوں سے برسرپیکار ہوکر روز بروز اپنے زوال کی طرف گامزن تھی۔ جب ارطغرل اپنے مختصر سے قبیلے کے ساتھ اناطولیہ پہنچے تو یہاں دو گروہوں میں خونریز جنگ جاری تھی۔ ایک طرف رومیوں کا لشکر جرار تھا اور دوسری طرف سلجوقیوں کی چھوٹی سی فوج۔

ارطغرل چونکہ فطرتاً ایک بہادر انسان تھا ۔ اس نے کمزور اور چھوٹےگروہ کا ساتھ دیا۔ قسمت اس کے ساتھ تھی  اس لیے فتح نے اس کے قدم چومے۔ سلجوقی سلطان علاؤالدین نے ارطغرل کی بہادری سے خوش ہوکر اناطولیہ کی مغربی سرحدوں پر اسے اور اس کے قبیلے کو جاگیر عطا کی۔ اس طرح سلطان علاؤالدین  کو بھی ایک طاقتور حلیف مل گیا۔

سلجوقیوں کی منتشر ہوتی قوت کے سبب ان کے کئی امیر خود مختاری کا اعلان کرچکے تھے لیکن ارطغرل نے کبھی علاؤ الدین سے بغاوت کا نہیں سوچا ۔ وفاداری اس کے خون میں تھی اس لیے ارطغرل نے ہر معرکے میں  علاؤ الدین کا ساتھ دیا۔ 1258 عیسوی اس سال کو مسلمانوں کے بدترین زوال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس سال عروس البلاد بغداد پر ہلاکو خان نے حملہ کیا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ مسلمان عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا جبکہ مردوں کو قتل کرکے ان کی کھونپڑیوں کے مینار بنادیے گئے۔ علوم و فنون کے مراکز تباہ کردیے گئے ، علماء کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ ایسی قتل و غارت گری اور تباہی کے بعد لوگ سوچتے تھے کہ مسلمان اب پہلے جیسا مقام حاصل نہ کرپائیں گے لیکن تقدیر ان پر ہنس رہی ہوتی تھی چونکہ اسی سال یعنی 1258 عیسوی میں ارطغرل کےہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عثمان رکھا گیا۔ مستقبل میں اس لڑکے کی نسل سے ایک ایسی قوت تشکیل پانی تھی کہ جس کا مقابلہ کرنے کی سکت   ایشیاء ، یورپ یا دنیا کی کسی فوج میں نہ تھی۔ عثمان آداب و اخلاق اور ذہانت میں اپنے باپ ارطغرل سے کسی صورت کم نہ تھا۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح ہمیشہ سلجوقیوں کا وفادار رہا۔

نوجوانی کے دنوں میں عثمان ایک بزرگ کے پاس علم حاصل کرنے جایا کرتا تھا۔ ان بزرگ کی ایک نہایت ہی حسین و جمیل صاحبزادی تھیں، جن کا نام مال خاتون تھا۔ جب عثمان نے مال خاتون کو دیکھا تو وہ اس پر فدا ہوگیا۔ عثمان نے ان بزرگ کے سامنے مال خاتون سے شادی کی پیش ظاہر کی۔ عثمان چونکہ ایک امیر گھر کا چشم و چراغ تھا جبکہ یہ بزرگ ایک غریب درویش۔ اس لیے انہوں نے عثمان کو انکار کردیا۔ اس کے بعد مال خاتون کی خوبصورتی اور علمی صفات کو دیکھتے ہوئے کئی سرداروں نے اس سے شادی کی پیشکش کی جو کہ عثمان سے رتبے اور جاہ و جلال میں بہت آگے تھے  لیکن بزرگ نے ان سب کو منع کردیا۔

ایک رات عثمان نے ایک خواب دیکھا ایک چاند ہلال کی صورت میں اس کے بزرگ استاد کے سینے سے نکلا اور عثمان کے سینے میں داخل ہوگیا پھر اس کے پہلو سے ایک زبردست درخت نمودار ہوا جو بڑھتا ہی چلا گیا۔  یہاں تک کہ اس کی شاخیں  بحر و بر پر چھاگئیں۔ درخت کی جڑ سے دنیا  کے چار بڑے دریا دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب بہہ رہے تھے اور چار بڑے پہاڑ کوہ قاف، کوہ بلقان، کوہ طور اور کوہ اطلس اس کی شاخوں کو سنبھالے ہوئے تھے۔ یکدم ایک ہوا چلی اور اس کی پتیاں اُڑتی ہوئی ایک عظیم الشان  شہر کی جانب چلیں جوکہ دو براعظموں اور سمندروں پر واقع تھا اور ایک انگوٹھی کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ عثمان اس انگوٹھی کو پہننے ہی والا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔

اس نے یہ خواب اپنے بزرگ استاد کو سنایا  تو اس جہاندیدہ شخص نے عثمان کے عظیم الشان مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے اپنی بیٹی  کی شادی کرنے کی درخواست  قبول کرلی۔ ابھی تک عثمان  سلجوقیوں کے  صرف ایک جاگیر دار کی حیثیت رکھتا تھا لیکن سن 1300 عیسوی میں تاتاریوں نے ایک زبردست حملے کے ذریعے  سلجوقی سلطنت کا مکمل خاتمہ کردیا اور سلطان علاؤ الدین مارا گیا۔

اب عثمان مکمل طور پر خود مختار تھا۔ شروعاتی دور میں جنگ و جدل کے بجائے عثمان  اپنی سلطنت کے انتظام و انصرام میں مصروف رہا۔  جہاں وہ اپنی  انصاف پسندی اور رحمدلانہ صفات کی بناء پر بہت مشہور ہوا۔ اس سے مسلم اور غیر مسلم دونوں میں نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ۔ البتہ دوسرے ترک سرداروں نے  اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری سے تعبیر کیا اور رومی قلعہ داروں سے  اتحاد کرکے اس کی حکومت پر حملہ آور ہوئے لیکن یہ ان کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ عثمان نے یکے بعد دیگرے ان تمام سرداروں کو شکست دی اور وہ قلعے پر قلعے فتح کرتا چلاگیا۔ یہاں تک کہ قیون حصار کے مقام پر  شہنشاہ قسطنطنیہ کی فوجوں سے اس کا سامنا ہوا۔ یہاں بھی اسے شاندار کامیابی حاصل ہوئی، اس کے بعد رومیوں نے تاتاریوں کو عثمان کے خلاف حملے پر آمادہ کیا۔ عثمان نے اس جنگ میں اپنے بیٹے اور خان  جسے مستقبل کا سلطان بننا تھا ، اس کو تاتاریوں سے مقابلے کے لیے بھیجا۔ اورخان نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاتاریوں کو ایسی عبرت ناک شکست سے دوچار کیا کہ وہ دوبارہ ادھر نہ بھٹکے۔

رومی حکومت کے کئی علاقوں کو فتح کرنے کے بعد  عثمان نے بروصہ شہر کا محاصرہ بھی کرلیا۔ یہ محاصرہ 10 سال تک جاری رہا یہاں تک کہ عثمان کی موت کا وقت قریب آگیا۔ عثمان نے اپنے بیٹے اورخان کو بلاکر اپنی آخری خواہش ظاہر کی کہ وہ بروصہ شہر میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ اب یہ ایک بیٹے کا امتحان تھا ، عثمان کے بیٹے اورخان نے بروصہ پر نہایت ہی کامیاب حکمت عملی کے ساتھ حملہ کیا اور جو کام اس کا باپ 10 سال میں نہ کرپایا تھا چند ہی دنوں میں کر دکھایا۔

بروصہ فتح ہوا اور امیر عثمان کو یہاں دفن کیا گیا۔

عثمان نے  اس سلطنت کی بنیاد نہایت نیک نیتی سے رکھی تھی  جس کا مقصد ترویج اسلام تھا ۔ اس لیے اس کی سلطنت تاریخ کا ایک سنہرا باب بن گئی۔  اس کی تلوار ہر نئے بادشاہ کی کمر سے باندھی جاتی اور دعا کی جاتی کہ اللہ تعالیٰ اس میں بھی عثمان جیسی خوبیاں پیدا کرے۔ اس کی قائم کردہ سلطنت  کے اثرات آج تک دنیا میں موجود ہیں۔   ہم جلد ہی  اس سلسلے کی اگلی پوسٹ کے ساتھ حاضر ہوں گے جس میں ہم سلطان اورخان کی زندگی اور اس کی کامیابیوں پر روشنی ڈالیں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے