سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان عالیشان کے گمشدہ دل کی تلاش۔

سلطان سلیمان

سلطنت عثمانیہ کے دسویں، سب سے بہترین اور مقبول ترین سلطان سلیمان کا گمشدہ دل پچھلے 400 سو سالوں سے تاریخ کی ایک نا سلجھنے والی پہیلی بنا ہوا ہے۔ لیکن اب ہنگری کے محققین کی ایک ٹیم اسی مہیںے سلطان سلیمان کے دل کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کرنے والی ہے۔

خیال ہے کہ ہنگری کے علاقے زیگیٹوار میں سلطان سلیمان کادل دفن ہے۔ سلطان سلیمان اگست 1566 میں ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ قبل ازیں سلطان نے 1529 میں ویانا کا محاصرہ کیاتھا لیکن قلعے کے کمانڈرمکلوس زرنیی نے اپنے 2300سپاہیوں کے ساتھ ترک سپاہیوں کا خوب مقابلہ کیا۔ تاہم مسلمان ترکوں نے ستمبر1566 میں آخر کار اس زیگیٹوار کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا لیکن انھیں بہت نقصان اٹھانا پڑاتھا جس میں سلطان سلیمان کی موت بھی شامل تھی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اپنی فتح کے جوش میں ان کی موت ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 72 سال تھی اور انھیں ہنگری سے لڑتے ہوئے 40سال ہوگئے تھے۔ ان کی لاش سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت قسطنطنیہ لے جائی گئی لیکن ان کے دل کو زیگیٹوار میں ہی ایک مقبرے میں دفن کر دیا گیا جہاں بعد میں ایک کیتھولک چرچ بن گیا۔

اب پروفیسر پیپ کو اس جگہ کی تلاش ہے۔ پروفیسرکا کہناہے کہ معاملہ صرف سلطان سلیمان کے دل کانہیں بلکہ 400 سال پرانی تاریخ اورجغرافیے کی ہرتہہ کودوبارہ تعمیر کرنے کا ہے اور ہم نے بہت کچھ دریافت کر لیا ہے۔ محقق عظیم سلطان کے دل کی تلاش کے لیے زمین کی کھدائی اور مختلف ممالک میں تاریخی آرکائیوز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے