سمسون اور دلائلہ! دنیا کا طاقتور ترین شخص جو محبت کے آگے بے بس ہوا۔

سمسون دلائلہ

یہ قصہ اُس شخص کا ہے جسے تاریخی حوالوں کے مطابق تاریخ انسانی  کا سب سے طاقتور انسان کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو تن تنہا ہزاروں انسانوں کو قتل کردینے کی صلاحیت کا مالک تھا۔ لیکن ہزاروں انسانوں کے قابو میں نہ آنے والے اس شخص کی تباہی کا سہرا ایک حسین عورت کے سر جاتا ہے۔ ایک عورت جس نے دنیا کے طاقتور ترین انسان کی شان و شوکت اور ہستی کو روند ڈالا۔

تو چلیے آغاز کرتے ہیں اس داستان کا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے کچھ عرصہ بعد تک قومِ بنی اسرائیل اپنی زمین پرسکون کے ساتھ رہی،رفتہ رفتہ اس قوم میں سرکشی، بدفعالی اور بت پرستی  جیسی باتیں اپنی حدوں کو چھونے لگیں۔ تب اللہ پاک نے قومِ عمالقہ  کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا۔اس قوم نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لیے، ان کے آدمیوں کو گرفتار کیا اور طرح طرح کے مظالم ڈھانے لگے۔ ایسے حالات میں قوم بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام سیمسن رکھا گیا۔   ر وایات کے مطابق سیمسن کی پیدائش سے قبل اس کی ماں نے خدا کے حضور یہ منت مانی تھی کہ اگر اس کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو وہ اسے شراب اور دیگر برائیوں سے دور رکھے گی، اس کے علاوہ زندگی میں کبھی اس کے بال نہ کٹوائے گی۔     چنانچہ سیمسن کی پیدائش کے بعد  کبھی اس کے بال نہ کٹوائے گئے۔

سیمسن آہستہ آہستہ بڑھا ہوا تو وہ دوسرے  لڑکوں کی نسبت جسمانی طور پر بہت زیادہ طاقتور تھا۔ اتنا طاقتور کہ  ایک مرتبہ  جنگل سے گزرتے ہوئے سیمسن کا سامنا ایک شیر سے ہوا جسے سیمسن نے بآسانی   مارڈالہ۔ لڑکپن کے دور میں سیمسن اپنی بستی کو چھوڑ کرقوم عمالقہ کے شہردیکھنے روانہ ہوا۔ وہاں سیمسن کی ملاقات تیمناہ نامی ایک لڑکی سے ہوئی، یہ دونوں آپس میں محبت کرنے لگے۔ اپنے خاندانی جھگڑوں کے باوجود ان دونوں نے ایک ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس شادی کے دوران  سیمسن اپنی شادی میں آئے مہمانوں یعنی قوم عمالقہ کے چند افراد سے ایک شرط ہار بیٹھا۔ اب طے یہ پایا کہ جب تک سیمسن شرط میں ہاری گئی رقم یعنی تیس کپڑے کے تھان نہ لوٹادے ، اس کی بیوی  تیمناہ یہیں یعنی قوم عمالقہ کے پاس رہے گی۔ سیمسن مایوسی کی حالت میں اس شہر سے نکلا اور کچھ دورموجود ایک اسرائیلی قافلے کے    تیس آدمی مار ڈالے، ان کا مال و اسباب لوٹ کر شرط میں ہاری رقم چکانے واپس آیا۔ لیکن اس وقت تک  تیمناہ کا باپ اس کی شادی کسی دوسرے شخص سے کرچکا تھا۔ طیش میں آکر سیمسن نے  قوم عمالقہ کے تمام کھیت جلا ڈالے۔ جس کے بدلے میں عمالقہ کے لوگوں نے اس کی سابقہ بیوی اور سسر کو مارڈالا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قوم بنی اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ سیمسن کو ان کے حوالے کردیں۔ بنی اسرائیل نے اپنی جان بچانے کی خاطر سیمسن کو قوم عمالقہ کے حوالے کردیا۔لیکن سیمسن نے عمالقہ کے قابو میں آنے کے بجائے  محض ایک گدھے کی ہڈی کی مدد سے ان کے ایک ہزار  سپاہی مارڈالے۔

سیمسن کے اس کارنامے نے بنی اسرائیل میں اسے خوب مقبول بنادیا۔ یہاں تک کے یہودیوں نے اسے اپنا قاضی منتخب کرلیا۔ دوسری طرف قوم عمالقہ میں اس کا خوف اس قدر بیٹھ گیا کہ وہ  سیمسن کے مقابلے پر آنے سے کترانے لگے۔ ان کی غلامی میں رہنے والی قوم یعنی بنی اسرائیل اب سیمسن کے بل بوتے پر عمالقہ سے جنگ کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ اس مسئلے نے  قوم عمالقہ کی نیندیں اُڑادیں اور وہ دن رات سیمسن کے خلاف سازشیں کرنے لگے ۔

جب کوئی سازش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم سے  دلائلہ نامی ایک نہایت ہی حسین و خوبصورت عورت کو منتخب کیا، اور اسے سیمسن کی طاقت کا راز معلوم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ بدلے میں تمام سرداران عمالقہ نے اسے 1100 چاندی کے سکے دینے کا بھی وعدہ کیا۔یہ عورت سیمسن سے  اس نا ز و انداز سے ملی کہ وہ اس کا دیوانہ ہوگیا۔  یہ دونوں مختلف وادیوں میں گھومتے اور محبت کی پینگیں بڑھاتے۔ ایک دن موقع دیکھ کر دلائلہ نے  سیمسن سے اس کی طاقت کا راز دریافت کیا، جسے سیمسن نے ٹال دیا، رفتہ رفتہ دلائلہ کا اصرار بڑھتا رہا یہاں تک کہ اس نے سیمسن کو علیحدگی کی دھمکی دی، عشق کے ہاتھوں مجبور سیمسن  نے دلائلہ کو بتایا کہ وہ جب سے پیدا ہوا ہے اس کے بالوں کو نہیں کاٹا گیا اور اس کی شاندار طاقت کا راز بھی انہی بالوں میں ہے۔  سو ایک رات موقع دیکھ کر کہ جب سیمسن  دلائلہ کی گود میں سر رکھ کر سو رہا تھا دلائلہ نے اس کے لمبے لمبے بال کاٹ ڈالے ۔  اُسی رات قوم عمالقہ کے سپاہیوں نے سیمسن پر حملہ لیکن اس مرتبہ  وہ اپنا دفاع نہ کرسکا۔ قوم عمالقہ نے  سیمسن کو گرفتار کرکے اس کے ساتھ نہایت ذلت آمیز سلوک کیا۔  زنجیروں میں جکڑ کر اس کی آنکھیں نکال دی گئیں۔  بعد ازاں ایک اندھیری کوٹھری میں بند کردیا۔

اس احسان کے بدلے میں دلائلہ کو خوب دولت سے نوازا گیا۔اس کے بعد دلائلہ کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا لیکن آج بھی اس کا نام بے وفائی اور بددیانتی کے زمرے میں بطور ضرب المثل عام ہے۔ کچھ عرصے کے بعد  سیمسن پر فتح پانے کی خوشی میں اس قوم یعنی عمالقہ نے اپنے سب سے بڑے دیوتاڈجون کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ آج تمام عوام کی شاہی محل  میں خاص دعوت تھی۔ شراب و شباب اپنے عروج پر تھی، کہیں موسیقی بج رہی تھی تو کہیں  رقص کیا جارہا تھا۔ ایسے میں بادشاہ کے حکم پر ان کے سب سے بڑے دشمن سیمسن کو پیش کیا گیا۔

محفل میں موجود تمام حاضرین نے اس کے ساتھ بدتمیزیاں کیں، اس پر کوڑا کرکٹ پھینکا اور کوڑے برسائے گئے۔ قوم عمالقہ  فتح کے نشے میں چور  عیاشیوں میں مصروف تھی دوسری طرف سیمسن نے  اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ پاک سے  اس کی طاقت بحال کرنے کی دعا مانگ رہا تھا۔اس کی یہ دعا قبول ہوئی اور سیمسن کی طاقت لوٹ آئی، سیمسن کو جن دو مضبوط ستونوں کے بیچ کھڑا کیا گیا تھا اس نے اپنے زور بازو سے انہیں دھکیلنے شروع کردیا، کچھ ہی دیر میں یہ ستون گر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا محل زمیں بوس ہوگیا۔  بعض مورخین  اسے تاریخ انسانی کا سب سے پہلا خود حملہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس  حملے میں سیمسن کے ساتھ ساتھ تقریباً 3000 ہزار لوگ مارے گئے۔ اس کے باوجود آئندہ  چند سالوں تک  بنی اسرائیل قوم عمالقہ کے زیرتسلط ہی رہی۔   یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عمالقہ کے پنجے سے چھڑانے کی خاطر حضرت داؤد علیہ السلام کو منتخب کیا جنہوں نے اپنی غلیل کے ذریعے عمالقہ کے سب سے طاقتور انسان  جالوت کو مار گرایااور آخر کار بنی اسرائیل کو  قوم عمالقہ پرفتح نصیب ہوئی۔    یہ واقعہ  بائبل اور تالمود   میں موجود ہے جبکہ مختلف  مسلمان مورخین نے بھی اسے اپنی تفاسیر اور تاریخی کتابوں میں شامل کیا ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے