طارق بن زیاد کے قدموں میں 25 بادشاہوں کے تاج پڑے ہوئے تھے۔

طارق بن زیاد

مسلمانوں کی جہاں گیر عسکری قوت نے قسطنطنیہ کی عظیم شاہی طاقت سے ٹکر ا کر اس کے تمام افریقی مقبوضات پر اپنے اقتدار و اقبال کا پرچم گاڑ دیا تھا مگر مراکش کے شمالی ساحل پر صرف ایک قلعہ’’سبطہ ‘‘ عیسائیوں کے پاس صلح نامے کے تحت باقی رہنے دیا گیا۔ اس قلعہ کا حاکم ایک یونانی سردار کونٹ جولین تھا۔جس کو عربی مورّخ بالیان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ قلعہ قسطنطنیہ سے کافی طویل مسافت پر تھا اور اندلس سے قریب پڑتاتھا کونٹ جولین نے قیصر قسطنطنیہ کی رضا و منشا کے ساتھ قلعہ سبطہ کی تعلق داری قسطنطنیہ کے بجائے اندلس کی عیسائی حکوت سے استوار کرلی تھی چنانچہ قلعہ سبطہ باقاعدہ طور پر حکومت اندلس کا ایک حصہ بن گیا تھا۔ اندلس کے سابق فرمانروا   واٹینرا نے اپنی لڑکی کی شادی قلعہ سبطہ کے قلعہ دار جولین سے کردی تھی۔ جس وقت اندلس کے لاٹ پادری نے وٹینرا کو تخت سے معزول کیا تو اس کے داماد جولین کو بڑا رنج ہوا،اندلس میں گاتھ قوم کے تمام سابق فرمانرواؤں کے ہاں یہ دستور چلا آرہا تھا کہ سلطنت کے تمام وزراء ، امراء، امیر، مشیر، گورنر اور دیگر تمام اونچے درجے کے لوگوں کے لڑکے اور لڑکیاں بادشاہ وقت اور اس کی ملکہ کے حضور بطورِ پیش خدمت محلِ شاہی میں رہا کرتے تھے تاکہ یہ بچے آدابِ دربار اور تہذیب و شائستگی حاصل کرسکیں ۔ جب وٹینرا معزول ہوا اور لرزیق تختِ شاہی پر بیٹھا تو شاہی محل میں ایسے لڑکے لڑکیوں کے گروہ میں ایک لڑکی فلورنڈا نامی بھی شامل تھی جو کہ وٹینرا کی نواسی اور قلعہ سبطہ کے قلعہ دار کونٹ جولین کی بیٹی تھی جب فلورنڈا جوان ہوئی تو دستور کے مطابق اس نے بادشاہ لرزیق کے حضور پیش ہوکر اپنے والدین کے ہاں واپس جانے کی درخواست پیش کردی۔ لرزیق نے تخلیہ کا اشارہ کیا اور بے بس فلورنڈا  اپنی بربادی ٔ  عصمت کے دلفگار میں واقعہ کی اطلاع اپنے والد تک بڑی مشکل سے پہنچا سکی۔

پریشان حال جولین اندلس اور دیگر عیسائی دنیا میں اپنا کوئی سہارا اور مقام نہ پاکر بے اختیار مسلم دنیا کی طرف آنکلا۔ اس زمانہ میں مسلم دنیا کے جلیل القدر فرمانروا اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی جانب سے اسلام کا شہرۂ آفاق وشیردل مجاہد موسیٰ بن نصیر مقبوضات مغربی کا وائسرائے تھا جو شہر قیروان میں رہتا تھا۔ اس کا ایک آزاد کردہ بربر النسل غلام طارق بن زیاد اس کی طرف سے مراکش کی افواج ِ اسلامیہ کا سپہ سالار تھا۔طارق اگرچہ جولین کے قریب رہتا تھامگر جولین طارق کو چھوڑ کر اس کے حاکم موسیٰ بن نصیر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ موسیٰ بن نصیر جولین سے اس کے مرتبہ کے مطابق عزت وتکریم سے پیش آیا۔ جولین اپنی درد انگیز سرگزشت سناکر موسیٰ بن نصیر سے مدد کا خواستگار ہوا اور کہا کہ لرزیق جیسی ظالم حکومت کے پنجۂ استبداد سے اہلِ اندلس کو نجات و مخلصی دلائی جائے۔ موسیٰ بن نصیر نے اس یونانی سردار کی روداد سن کر کہا‘‘جولین ! تم اطمینان رکھو ۔ مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ بحر وبر میں جہاں بھی فتنہ و فساد کو پائے اس کو مٹا کر رکھ دے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اندلس کی زمین میں شیطان نے اپنے انڈے بچے دے رکھے ہیں، انشااللہ تمہارے بے عزتی کا بدلہ چکانے کے لیے ہماری تلواریں بہت جلد نیام سے نکل آئیں گی’’۔ موسیٰ بن نصیر نے دربارِ خلافت سے اندلس پر فوج کشی کی اجازت طلب کی اور جولین کو مکمل تسلّی و تشفی دے کر واپس کیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد موسیٰ بن نصیر کو دربارِ خلافت سے اندلس پر فوجی کاروائی کرنے کا اجازت نامہ موصول ہوگیا۔

موسیٰ بن نصیر نے فوراً اپنے غلام اور طنجہ کے گورنر طارق بن زیاد کو حکم دیا کہ وہ اپنی فوج لے کر اندلس پر چڑھائی کردے، اس حکم کے ملتے ہی طارق اپنی سات ہزار فوج لے کر کشتیوں پر سوار اندلس کی جنوبی راس پر جااُترا۔ طارق جس مقام پر اُترا تھا اس کا نام لائنزراک تھا جسے آج جبل الطارق یا جبرالٹر کہتے ہیں۔ طارق نے ساحل اندلس پر اُترکر اپنی کشتیوں کو جلادینے کا حکم دیا جس پر وہ اُس کی فوج سوار ہوکر آئی تھی۔ تعمیلِ حکم میں کشتیاں جلادی گئیں۔ طارق کا یہ عجیب حکم بظاہر اصولِ حرب وضرب کے کسی پہلو سے ہم آہنگ نہیں تھا، یہ صرف مادی ذرائع تک ہی نظر رکھنے والے غیر مسلم ذہن کے نزدیک تو ایک غلط اقدام مانا جاسکتاہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے غازی کے لیے نہیں  ؎

کافر ہے جو شمشیر پر کرتاہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتاہے سپاہی

کشتیاں جل جانے کے بعد طارق نے اپنے ہمراہیوں سے خطاب کیاکہ ‘‘ اے فرزندانِ اسلام! تمہارے پیچھے سمندرہے اور سامنے دشمن کا وسیع و عریض ملک ہے اب تمہاری نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دشمن کو پوری قوت و شدت سے پیچھے دھکیلتے چلے جائو حتیٰ کہ اس کے ملک پر قابض ہوجائو۔ اس کے برعکس تمہاری کسی قسم کی پست ہمتی یا تن آسانی تمہیں ہلاک و برباد کردے گی۔ اللہ کا نام لے کر مستعدو ہوشیار ہوجاؤ۔ انشااللہ فتح و نصرت تمہارے قدموں میں ہوگی۔’’

شاہ لرزیق کا سپہ سالار تدمیر اتفاقاً ایک عظیم لشکر لے کر جبل الطارق کے نواح میں آیا ہوا تھا وہ ان تو واردوں کی خبر سن کر اچانک بے خبری کے عالم میں طارق پر بلی کی طرح آٹوٹا۔ طارق اور اس کی فوج نے فوراً سنبھل کر پورے جوش وخروش سے دشمن مقابلہ کیا ، گوتد میر ایک مشہور و بہادر سپہ سالار تھا مگر اس مقابلہ میں اس کی تمام قوت، تجربہ اور داؤپیچ بے کار ہوگئے اور نہایت سخت مقابلہ کے بعد طارق نے اسے شکست دے کر بھگادیا، نہایت ہی بری طرح پٹے ہوئے شکست خودرہ تد میر نے محفوظ مقام پر پہنچ کر اپنے بادشاہ  لرزیق کو لکھا کہ…..

اے شہنشاہ! ہمارے ملک پر ایک غیر قوم نے حملہ کیا ہے میں نے ان لوگوں کا مقابلہ کیا اور اپنی پوری ہمت و شجاعت سے کام لیا لیکن مجھ کو اپنی کوششوں میں ناکامی ہوئی اور میری فوج ان لوگوں کے مقابلے میں قائم نہ رہ سکی اور ضرورت ہے کہ آپ بنفس نفیس زبردست فوج اور طاقت کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں، میں نہیں جانتا کہ یہ حملہ آور کون ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں، آیا آسمان سے اُترے ہیں یا زمین سے نکلے ہیں؟

لرزیق اس وحشت ناک خبر کو سن کر بلا تاخیر اپنے ہمراہ ایک لاکھ کا جرار لشکر لے کر طلیطلہ سے قرطبہ کی طرف روانہ ہوا۔ تدمیر بھی اپنی بقیہ السیف فوج کے ہمراہ بادشاہ سے آملا۔ اس عرصہ میں طارق تدمیر کو شکست دینے کے بعد بے کار نہیں بیٹھا رہا۔

وہ الجزائر اورشدونہ کے علاقوں میں گھس کر شہروں اور قصبوں پر اپنا قبضہ کرتاہوا  وادی لکتہ تک پہنچ چکا تھا۔

شہر شدونہ کے متصل واقع جھیل لاجنڈا کے قریب ایک ندی کے کنارے 28رمضان المبارک 92ھ مطابق ماہ جولائی 711ء کو ان دونوں لشکر وں کا آمنا سامنا ہوا، اس وقت طارق کے ساتھ اپنے سات ہزار ہمراہیوں کے علاوہ پانچ ہزار فوج اور بھی شامل ہوچکی تھی جو اس کے امیر موسیٰ بن نصیر نے افریقہ سے بغرض کمک اس کے پیچھے روانہ کر دی تھی، اس طرح طارق کے پاس کل بارہ ہزار فوج تھی، مورّخین کہتے ہیں کہ کونٹ جولین بھی اس میدان میں طارق کے ساتھ شامل ہوگیا تھا، ادھر مقابلہ پر ایک لاکھ عیسائی فوج کے علاوہ اندلس کے تمام صوبوں کے چیدہ چیدہ سپہ سالار، نامور سردار، چھوٹے بڑے پادری، بشپ اپنے شہنشاہ لرزیق کے زیرِ کمان اپنے ملک اور سلطنت کو بچانے کے لیے سر سے کفن باندھ کر میدان میں آگئے تھے، جن کے پاس سواریوں کی بہتات ہر قسم کے مروجہ ہتھیاروں کی کثرت، اخراجات کے لیے ملک کا خزانہ اور دیگر ہر قسم کے ذرائع و وسائل موجود تھے اور یہاں طارق کے پاس بارہ ہزار کی قلیل جمعیت اپنے مختصر سازو سامان اور ہتھیاروں کے ساتھ ایک اجنبی ملک میں صرف اللہ کی مدد کے سہارے مورچہ پر ڈٹی ہوئی تھی، پورا ایک ہفتہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل خیمہ زن رہیں، ہر طرح کی تیاری کے بعد آٹھویں روز شاہ لرزیق خیمہ کو چھوڑ کر اپنے عظیم لشکر کو میدان میں لے آیا۔ طارق نے فرزندانِ اسلام کی صفیں درست کیں اور اپنے لشکر کے آگے ایک چکر لگایا اور مسلمانوں کے سامنے کھڑا ہوکر ایک پرجوش خطاب کیا، اس کی ولولہ انگیز تقریر نے مسلمانوں کے خون کو گرمادیا اور دنیا کو بھلاکر شوق ِ شہادت نے انہیں از خود رفتہ سا کردیا۔

عیسائی لشکر کا کثیر حصہ زرہ پوش سواروں پر مشتمل تھا۔ لیکن اسلامی فوج سب کی سب پیدل تھی، عیسائی لشکر کی تاحد نگاہ پھیلی ہوئی کوہ پیکر صفین بزن کا حکم ملتے ہی طوفانی لہروں کی طرح حرکت میں آئیں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے لاتعداد گھوڑوں کے پرے کے پرے صرف اپنے دیو ہیکل گھوڑوں کے سموں سے ہی روند کر مسلمانوں کا قیمہ بناکر رکھ دیں گے اور نیزہ و تلوار کی نوبت بھی نہیں آئے گی لیکن فولا د میں غرق دشمن سواروں کے دستوں کے دستے جب مسلمانوں کے ثریا شکن بے خطا تیروں کے بے پنا زد میں آئے تو اُن کے آگے بڑھتے ہوئے  قدم رک گئے اور چشمِ زدن میں اسلامی شاہباز اپنے سے آٹھ گنا زائد لشکر پر قہرِ خدا بن کر چھاگئے جوں جوں وقت گزرتا جاتا تھا لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور مسلمانوں کی خارا شگاف شمشیریں دشمنوں کے لہو میں غواصی کا ہولناک منظر پیدا کررہی تھیں، لرزیق اور اس کے تمام سپہ سالار، پادری اور بشپ اپنے لشکر کو ملک و مذہب کا جوش دلا دلا کر پوری قوت سے ساتھ جان توڑ کر مسلمانوں کا مقابلہ کرارہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فریقین ایک نا قابلِ شکست عزم و حوصلہ کے ساتھ جم کر موت سے ٹکریں لے رہے ہیں۔ اتنے طویل وقت کے بے نتیجہ لڑائی سے آخر طارق جھنجھلا اُٹھا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو للکار کر کہا کہ اللہ اور رسول کے ساتھ پیمانِ وفا باندھنے والے مسلمانو! ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آج کے روز اپنے وعدہ کو وفا کرنے میں کون شخص کس سے پہلے اپنی جان کی قربانی پیش کرتاہے ، تمہارا دشمن موت پر تم سے زیادہ جری نہیں ہے، ادھر آؤپیچھے اور اپنی اپنی شہادت کی تلاش میں موت کے ان چیختے چنگھاڑتے شعلوں میں گھس جاؤ اور دشمن کو لپیٹ کر اُسے اس وقت تک نہ چھوڑو جب تک کہ تمہارا خد ا ان کے اور تمہارے درمیان کوئی آخری فیصلہ نہ کردے۔

اتنا کہہ کر طارق اپنے ہمرکاب دستے کو لے کر دشمن کے قلب کو بزور شمشیر چیرتا ہوا اندر گھس گیا ، اس کی تقلید میں مسلمان لبّیک یا سیّدی کہتے ہوئے اپنے سروں کو ہتھیلیوں پر رکھ کر دیوانہ وار دشمن کے میمنہ ، میسرہ اور قلب میں گھس گئے۔ اب اس قیامت کا رن پڑا کہ چشمِ فلک نے ایسے کشت و خون کا روح فرسا قیامت آسا منظر کا ہے کو پہلے کبھی دیکھا تھا۔

اب لرزیق اور اس کی یورپ میں مانی ہوئی شہرہ آفاق فوج جان توڑ کر ایک مدافعتی جنگ لڑ رہی تھی مگر زندگی کے طلبگار عیسائی موت کی اس وادی میں مزید قدم نہ ٹکاسکے اور وہ مجاہدین اسلام کی برق پاش شمشیر زنی کے سامنے پھٹے ہوئے بادلوں کے آوارہ ٹکڑوں کی طرح پاش پاش ہوکر پریشان سے ہونے لگے۔ لحظہ بہ لحظہ ان کی صفوں میں جگہ جگہ انتشار اور قلب میں شگاف پڑنے شروع ہوگئے۔ شام کے دھند لکے میں عیسائی بھگوڑوں کو خوب موقع مل گیا۔ جس کا جدھر کو منہ اُٹھا ادھر کو بھاگ کھڑا ہوا ، ایسے میں لرزیق اپنی تمام دیرینہ شہرت و بہادری کو خاک و خون میں ملاکر نہایت سراسیمگی کی حالت میں اپنے سبز گھوڑے پر جان بچا کر فرار ہوگیااور قلیل التعداد مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوئی۔

مورخین عیسائی مقتولوں کی تعداد صحیح بتانے سے قاصر رہے ہیں البتہ وہ لکھتے ہیں کہ لڑائی ختم ہوجانے کے بعد تمام اسلامی لشکر جو کہ پیدل تھا مقتولوں کے چھوڑے ہوئے گھوڑوں سے رسالوں کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔ مسلمانوں کو یہ فتح 5شوال المکرم92ھ میں حاصل ہوئی۔ طارق نے اپنی فتح کی خوش خبری پہنچانے کے لیے ایک قاصد اپنے امیر موسیٰ بن نصیر کی خدمت میں روانہ کردیا۔

موسیٰ بن نصیر اس فتح عظیم کی تفصیلات سن کر بہت خوش ہوا اس نے اسی وقت خلیفہ کی خدمت میں بشارت نامہ بھیج کر طارق کو لکھا کہ میں خود بھی بہت جلد تمہارے پاس پہنچنے والا ہوں فی الحال تم جس قدر حصہ ٔ ملک کو فتح کرچکے ہو اسی پر قابض رہا اور میرے آنے تک پیش قدمی ترک کردو۔ امیر موسیٰ کا خط ملنے سے پہلے طارق لرزیق کو شکست دینے کے بعد آگے بڑھ کر صوبہ اندلسیہ کو فتح کرچکا تھا، جب خط ملا تو اس نے سردرانِ لشکر اور کونٹ جولین کو امیر موسیٰ کا پیغا م سنایا۔ ان سب نے رائے دی کہ اگر موسیٰ بن نصیر کے حکم کی تعمیل کی گئی تو سخت اندیشہ ہے کہ اندلس کے سب صوبوں کے عیسائی چاروں طرف سے اکھٹے ہوکر ہم پر یک بارگی حملہ کردیں گے بہتر یہی ہے کہ پیش قدمی جاری رکھی جائے اور عیسائیوں کو کسی جگہ اکٹھا اور مجتمع ہونے کا وقت نہ دیا جائے۔

طارق کی پیش قدمی:

چنانچہ طارق جولین کو صوبہ اندلسیہ کے انتظام پر چھوڑ کر قُرطُبہ کی جانب روانہ ہوگیا اور جاتے ہی شہر کا محاصرہ کرلیا مگر فتح میں دیر ہوتی دیکھ کر یہاں پر اپنے نائب مغیث الرومی کو چھوڑکر خود طلیطلہ کی جانب روانہ ہوا، طلیطلہ پہنچ کر طارق نے آسانی کے ساتھ اُسے فتح کرلیا۔ شاہی خزانہ میں رکھے ہوئے شاہانِ گاتھ کے پچیس تاج دیگرخزانے کے علاوہ اس کے قدموں میں پڑے ہوئے تھے، گاتھ خاندان کے پچس بادشاہ یکے بعد دیگرے اندلس میں حکومت کرچکے تھے، ان میں سے ہر بادشاہ اک تاج نیا بنایا جاتاتھا اور فوت شدہ بادشاہ کا تاج خزانہ میں رکھ دیاجاتاتھا۔

طلیطلہ کی فتح کے بعد طارق شمالی صوبے کے شہروں کو فتح کرتا چلاگیا اور اس کا نائب مغیث الرومی اس کے پیچھے پیچھے قرطبہ کو فتح کرکے اس کے نواح کو بھی اپنی عملداری میں لاچکا تھا اب جنوب سے لے کر شمال تک درمیانی حصہ طارق کے قبضہ میں آچکا تھا۔ صرف مشرق اور مغرب کے صوبے فتح کرنے باقی رہ گئے تھے کہ اس اثناء میں امیر موسیٰ بن نصیر اپنے ہمراہ اٹھارہ ہزار کا لشکر لے کر قیروان سے اندلسیہ پہنچ گیا، اندلسیہ کے حاکم اعلیٰ کونٹ جولین نے امیر موسیٰ کا استقبال کیا اور اسے یہاں کے تمام حالات سے آگاہ کیا، موسیٰ بن نصیر اپنے حکم کے خلاف طارق کی پیش قدمی پر سخت برہم ہوا۔ جولین نے نہایت سلیقہ سے امیر کی خدمت میں عرض کی کہ ہم لوگ آپ کے یہاں تشریف لانے تک خاموش بیٹھے رہتے تو دشمن فرصت کے ان لمحات میں اندلس کے تمام صوبوں کی فوجیں اور شکست خوردہ لشکر کو متحد و یکجا کرکے ہمارے لیے زیادہ مشکلات کا باعث بن سکتا تھا اس اعتزار کے بعد جولین نے امیر موسیٰ کو یہ مشورہ دیا کہ بہتر ہوگا کہ آپ طلیطلہ جانے کے لیے مغربی راستہ اختیار کریں، تاکہ ادھر کہ تمام شہر فتح ہوجائیں، موسیٰ نے جولین کے مشورہ کو پسند کیا اور مغربی اطراف کے شہروں کو فتح کرتاہوا طلیطلہ پہنچ گیا۔ ادھر طارق اپنے امیر کی اندلس میں آمد سے مطلع ہوکر شمالی صوبوں کے مفتوحہ علاقوں سے فوراً طلیطلہ واپس آچکا تھا، دونوں کی یہاں ملاقات ہوئی، امیر موسی نے اپنے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر طارق کو قید کردیا تاکہ ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ ماتحت کے لیے اس کے افسر کی تابعداری  ضروری ہے ، چندروز کے بعد موسیٰ نے طارق کو معافی دیدی اور اُسے رہا کرکے اپنی تمام فوج کا سپہ سالارِ اعظم بنادیا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر اور اُس کے بیٹے عبدالعزیزبن موسیٰ اور طارق نے اندلس کے بقیہ علاقوں میں پھیل کر انہیں تھوڑے عرصہ میں فتح کرلیا اور اندلس کا پورا ملک مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ امیر موسیٰ نے طارق کے نائب مغیث الرومی کو اندلس کی فتح کی خوش خبری پہنچانے کے لیے دارالخلافہ دمشق روانہ کردیا اور خود اندلس کے بعد یورپ کے دوسرے ملکوں کو فتح کرنے کی تدابیر میں مصرف ہوگیا ، لیکن اس کی یہ تدابیر اور امنگیں پروان نہ چڑھ سکیں کیونکہ مغیث الرومی واپسی پر دربارِخلافت سے موسیٰ کے نام پر یہ پیغام لایا تھا کہ وہ اندلس کے آگے کسی طرف بھی نہ بڑھے، مجبوراً موسیٰ بن نصیر فتح یورپ کا خیا ل ترک کرکے اندلس کی حکومت پر اپنے بیٹے عبدالعزیز کو چھوڑ کر طارق کے ہمراہ واپس آگیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے