ظالم ترین حکمران حجاج بن یوسف کی داستانِ عشق!

حجاج بن یوسف

خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں حجاج بن یوسف ثقفی نامی ایک شخص عراق کا گورنر تھا۔ اسے آپ محمد بن قاسم  کے چچا یا سسر کی نسبت سے بھی جانتے ہیں اور ایک ظالم و جابر حکمران کے حوالے سے بھی۔ یہی وہ شخص تھا جس نےحضرت عبداللہ بن زبیر کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو تین دن تک سولی پر لٹکائے رکھاجبکہ اسی جنگ میں حجاج بن یوسف نے خانہ ٔ کعبہ پر سنگ باری کی اور عمارت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ ہزاروں معصوم لوگوں کو سخت سزائیں دینا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بے حرمتی کرنا اس کے سنگین جرائم میں شامل ہے۔

حجاج نامی اس  شخص کے کرتوت جس قدر سیاہ تھے اسی طرح اس کی موت بھی نہایت عبرت ناک تھی،موت کے وقت اس  کے جسم میں  کیڑےپڑھ گئے تھے جو اسے ایک پل چین نہ لینے دیتے ، اس کے ساتھ ساتھ اس کی جسم پر شدید سردی مسلط کردی گئی ، کئی کئی انگھیٹیاں حجاج کے جسم سے ایسے مس کرکے رکھ دی جاتیں کہ اس کی جلد جھلس جاتی لیکن سردی ختم نہ ہوتی۔  یہ تو تھیں موت کی سختیاں لیکن حجاج کی زندگی میں ایک واقعہ ایسا بھی ہوا جس نے اس غرور و تکبر کے پتلے کو زمین پر دے مارا ۔ اُس زمانے میں نعمان نامی ایک شخص کی  انتہائی حسین و جمیل بیٹی تھی، اس لڑکی کا نام ہندہ تھا.

دوستو وہ ہندہ نہیں جو سید الشہداء حضرت حمزہ  ؓ عنہ کی شہادت اور پھر آپ کے جسم مبارک کی بے حرمتی میں ملوث رہی تھی۔

یہاں جس ہندہ کی بات ہورہی ہے وہ ایک غریب لڑکی  لیکن اپنے حسن و جمال میں بے مثال تھی، کہا جاتا تھا کہ پورے ملک عرب میں اس کے جیسی خوبصورت عورت نہ تھی۔ حجاج نے جب اس لڑکی کی شہرت سنی تو اس کے دل میں اسے دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا،سو اس  نے اپنے کارندوں کی مدد سے ہندہ سے ملاقات کی صورت پیدا کرلی۔ جب حجاج کی نظر ہندہ کے چہرے پر پڑی تو وہ پہلی ہی نظر میں اس کا عاشق ہوگیا۔ جہاں دیکھتا اسے اپنی محبوب ہندہ کا چہرہ نظر آتا۔چنانچہ حجاج نے ہندہ کو حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں ۔ جلد ہی دو لاکھ درہم کے عوض ان دونوں کا نکاح ہوگیا اور ہندہ حجاج کے محل میں آگئی۔  شروعات میں حجاج ہندہ پر جان نچھاور کرتا اور ہر طرح سے اس کی آسائش کا خیال رکھتا، ہندہ کسی دولت مند گھرانے سے نہ تھی،حجاج سے نکاح کرنے کے بعد وہ دولت میں کھیلنے لگی اور اسے ہر طرح کا سکون میسر آگیا۔

دن گزرتے رہے  ، رفتہ رفتہ حجاج کا غصہ، تند مزاجی  اور ظالمانہ خصلت اس کی محبت پر غالب آگئی۔  اب وہ ہندہ سے بھی اسی طرح پیش آنے لگا جیسے دوسرے لوگوں سے  سلوک روا رکھتا۔ حجاج کے اس رویے سے اب ہندہ رنجیدہ رہنے لگی،آہستہ آہستہ اس کے دل سے حجاج کی محبت ختم ہونے لگی اور وہ حجاج کو اپنے لیے ایک مصیبت خیال کرنے لگی۔ ادھر حجاج اسے ہر وقت رنجیدہ دیکھ کر اور زیادہ سختی سے پیش آنے لگا۔ جب حجاج کا دل ہندہ سے بالکل اُکتاچکا تو اس نے  انتہائی ذلت کے ساتھ  عبداللہ بن طاہر کے ذریعے دو لاکھ درہم ہندہ کے پاس بھیجے اور کہلا بھیجا کہ میں نے تجھے طلاق دی ، تیرے مہر کے دو لاکھ درہم تجھے بھجوارہا ہوں۔ اب جہاں تیرا جی چاہے چلی جا۔ ہندہ نامی یہ عورت صرف اپنی حسن جمال میں ہی لاثانی نہ تھی بلکہ  اپنی سیرت، فصاحت و بلاغت اور غیرت و حمیت کے لحاظ سے بھی بہت اونچی تھی۔ جب اس نے عبداللہ بن طاہر کی زبانی یہ پیغام سنا تو فوراً بول اُٹھی:

‘‘اے قاصد! تیری زبان مبارک ہو۔ تو نے مجھے بڑی  جانفزا خوشخبری سنائی۔ میری خوش قسمتی  اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کہ میں نے ایک بدمزاج  اور خونخوار انسان کی قید سے رہائی پائی۔ یہ دو لاکھ درہم جو اس نے میرے لیے بھیجے ہیں  ، اس خوشخبری سنانے کے عوض میں تجھے بخشتی ہوں۔ یہ میری طرف سے تیرا انعام ہیں’’۔

طلاق کے بعد ہندہ اس محل کو چھوڑ کر اپنے عام  سے گھر چلی گئی۔ قسمت کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ ہی دن بعد خلیفہ عبدالملک  بن مروان نے اُسے نکاح کا پیغام بھیجا، جس پر ہندہ نے انکار کردیا۔ جب خلیفہ کی طرف سے بہت زیادہ اصرار ہونے لگا تو بالآخر وہ رضامند تو ہوگئی لیکن ساتھ میں ایک شرط بھی پیش کی کہ ہمارا نکاح  اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب میں اپنے مکان سے جس محمل میں سوار ہوکر آپ کے محل تک آؤں اس کا ساربان حجاج بن یوسف ہو۔ جو شخص اونٹ کی رسی پکڑ کر چلتا ہے اسے ساربان کہا جاتا ہے۔

خلیفہ نے یہ شرط قبول کرلی  اور اسی خط کی پچھلی جانب لکھ بھیجا  کہ حجاج حاکم کوفہ اس حکم کی تعمیل کرے۔حجاج نے جب یہ رقعہ پڑھا تو وہ دم بخود رہ گیا۔مگر اس کی کیا مجال تھی جو خلیفہ کے حکم سے سرتابی کرتا۔ ناچار وہاں سے  روانہ ہوکر ہندہ کے مکان  پر آیا ، ہندہ اور اس کی سہیلیاں جب اپنے اپنے محمل میں تو حجاج اپنی پوری پوشاک کے ساتھ محمل کے قریب آیا اور ساربانوں کی طرح  پابرہنہ اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل چلنے لگا۔ ہندہ کے ملازم اور اس کی سہیلیاں تمام راستہ اُسے  چھیڑتے رہے، مگر وہ خاموش چلا جارہا تھا۔

ہندہ بنت نعمان

جب شاہی محل قریب آیا تو ہندہ نے اپنی سواری پر سے ایک سونے کا سکہ قصداًپھینک دیا۔ ساتھ ہی حجاج کو آواز دی:

‘‘اے ساربان ہمارا یک چاندی کا سکہ زمین پر گرگیا ہے اسے اُٹھادو’’۔

حجاج نے مہار روک لی اور سکہ اُٹھایا تو وہ چاندی کا نہیں بلکہ سونے کا تھا۔ بولا حضور یہاں چاندی نہیں بلکہ سونے کا سکہ ہے۔ ہندہ نے اس کے ہاتھ سے وہ سکہ لیا اور اپنی سہیلی سے کہنے لگی ۔ یہ میری قسمت ہے کہ  میرے ہاتھ سے چاندی کا سکہ گرا  لیکن بعد میں وہی سکہ سونے کا بن گیا۔

حجاج یہ بات سن کر بہت خفیف ہوا۔ مگر خلیفہ کی بیوی کے سامنے دم مارنے کی جرات نہ کرسکا۔ کہتے ہیں کہ  ایک عورت سے ذلیل ہونے کا دکھ حجاج بن یوسف کو  اس کی ساری زندگی  ستاتا رہا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے