دنیا میں پائے جانے والے عجیب و غریب عقیدے اور توہمات!

وہم

آج کے دور میں عام انسانوں کو بہت سی ایسی چیزیں میسر آگئی ہیں جنہیں کسی زمانے میں طلسمات کہا جاتا تھا لیکن سائنس اور طب میں بے پناہ پیش رفت کے باوجود، انسان توہمات کے بہت سے بھنوروں سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔ توہمات، فرسودہ عقائد، خرافات وغیرہ دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ غریب اور کم تعلیم یافتہ افراد ہی توہمات پر اعتقاد رکھتے ہیں، آپ نے سنا ہوگا کہ ہندوؤں میں فریقین کے درمیان منگنی اور شادی کا رشتہ اس وقت تک طے نہیں پاسکتا جب تک ان کی ذاتی کنڈلیوں کو باہم موافق نہ پایا جائے۔چنانچہ شادی سے پہلے کسی جوتشی کے ساتھ مشورہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
مشرق بعید میں بھی بہت سے لوگ جوتش اور نجوم پر زبردست اعتقاد رکھتے ہیں۔ انڈونیشیا میں جوتش اور فلکیات وغیرہ کے موضوع پر ایک قدیم کتاب ’’پریمبون‘‘ملتی ہے۔اس کے مطابق اگر ایک شخص بدقسمتی سے منگل کے دن پیدا ہو گیا تو وہ زبردست مجرم یا قاتل ثابت ہوگا چنانچہ معاشرہ کے بہت سے لوگ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔اس کے بر عکس یورپی ممالک میں عوام الناس کا عقیدہ ہے کہ جوشخص منگل کے دن پیدا ہو، وہ مبارک اور خوش قسمت ہوتا ہے۔جاوا کے باشندوں کا عقیدہ ہے کہ جو بچہ ان کے تقویمی مہینے کی سولہ تاریخ کو پیدا ہو تو وہ احمق اور نادان ہوتا ہے۔انڈونیشیا میں صبح کے وقت پیدائش بہت سعید اور مبارک خیال کی جاتی ہے۔
جاپان میں یہ عقیدہ آج بھی موجودہے کہ انسان کی ذاتی خوش بختی یا بدبختی کا تعلق اس کے پیدائشی وقت،دن، مہینہ اور سال سے ہوتاہے۔ جاپان میں چھپنے والی جنتریوں میں اچھے اور مبارک دنوں کو سرخ روشنائی سے نشان زد کیا جاتاہے ،چنانچہ اکثر بڑی فرمیں اپنے ہرنئے کا م کا آغاز انہی سرخ حروف والے دنوں میں ہی کرتی ہیں۔
دست شناس اور قیافہ شناس ،دنیا کے بہت سے خطوں میں لوگوں کے مستقبل اور کردار کو سمجھنے کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ جاپان، ملائشیا اور بعض دوسرے ممالک میں ،لوگوں کو ڈاک اور ای میل کے ذریعے بھی دستشناسی کی سروس فراہم کی جاتی ہے۔لوگ یوں کرتے ہیں کہ اپنی ہتھیلیوں کا پرنٹ، پامسٹ کو ڈاک یا ای میل کے ذریعے بھیج دیتے ہیں اور وہ پرنٹ کے مطالعہ کے بعد ان کے مستقبل سے ا نہیں آگاہ کردیتا ہے۔
چین میں سیدھی اور باقاعدہ بھنویں (ابرو)کامیاب اور الجھنوں سے آزاد زندگی کی نشانی تصور کی جاتی ہیں جبکہ خم دار ابرووءں کو الجھن سے لبریز زندگی کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے کان تکونے ہو ں تو سمجھا جاتاہے کہ وہ شخص افلاس اور بد بختی کی زندگی بسر کرے گا،ممکن ہے چوری بھی کرے….. چین میں انسا ن کے اضطراری افعال اور حرکات سے بھی شگون حاصل کیا جاتا ہے،مثلاًاگر کسی کو دوپہر کے وقت چھینک آجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اسے کہیں کسی بڑی ضیافت میں مدعو کیا جائے گا،جہاں اس کی ملاقات کسی بڑے آدمی سے ہوسکتی ہے۔اگر چھینک صبح کے وقت آئے تو خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی دوست اس سے قرض مانگے گا۔
ساری دنیا میں ہی عام طور پر خواب میں موت کا منظر دیکھنا منحوس خیال کیا جاتا ہے،اسی طرح اگر کوئی شخص خواب میں اپنے گھر کو نذرِآتش ہوتا دیکھے تو اس سے بھی برا شگون لیا جاتاہے ۔لیکن کوریا میں اس کے برعکس اپنی موت یا گھر کو آگ میں دیکھنا نہایت خوش قسمتی کی نشانی سمجھا جاتاہے۔کوریا اور بعض دیگر ممالک میں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی شخص برا خواب دیکھے تو اس کے اثرات زائل کرنے کے لیے وہ صبح سویرے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا ہے اور جو پہلا شخص وہاں سے گزرے، اسے مخاطب کرنے کے لیے کہتا ہے ’’میں نے اپنا خواب تمہیں بیچا‘‘……
اکثر چینی افراد اپنے گھروں کے باہر، ہشت پہلو آئینے لگاتے ہیں،چینیو ں کے خیال میں اس قسم کا آئینہ جس گھر میں ہو وہ بھوتوں سے محفوظ رہتاہے۔مشرقبعید کے بعض ممالک (ملایا،ہانگ کانگ،برماو غیرو) میں بھوتوں سے حفاظت کے لیے شوروغل کا طریقہ بھی اختیار کیا جاتاہے،اس مقصد کے لیے پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔بعض چینی بھوتوں سے حفاظت کی سالانہ ضمانت کے لیے گھر کے بڑے دروازے کے پاس افیم پانی میں ملا کر چھڑکنا نہایت موثر خیال کرتے ہیں۔

 

بدروح

ملائشیا میں زچگی کے دوران مرنے والی عورتوں کے بھوت کو بہت خطرناک خیال کیا جاتاہے۔وہاں بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایسی عورتوں کی بد روح نوجوان اور کنواری عورتوں پر حملہ کرتی ہے، چنانچہ اس سے حفاظت کے لیے بڑے جتن کیے جاتے ہیں۔ وہاں یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہرجنگل کی کوئی نہ کوئی نگراں روح ہوتی ہے، چنانچہ جب کوئی شخص درخت کاٹنے کاارادہ کرتاہے تو باآوازِبلند وہ اس نگراں روح سے باقاعدہ اجازت طلب کرتا ہے۔
توہمات کا تاریکی اور تاریکی کو پسند کر نے والی چیزوں سے کافی گہرا تعلق ہے مثلاًکالی رات، قبرستان کے بھوت، اُلّو وغیرہ۔ فلپائن کے باشندے نومولود بچے کو درخت کے سائے سے بچا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی پری اس پر عاشق نہ ہوجائے، وہاں بہت سے بالغ افراد بھی اس وہم کے تحت تاریکی میں جانے سے خوف کھاتے ہیں۔فلپائن میں ایسی کہانیاں بھی عامگشت کرتی ہیں کہ کسی بچے نے ایک خوبصورت عورت کو اپنے سامنے دیکھا جو دراصل کوئی ڈائن یا بدروح تھی بعد میں اس کا اثرزائل کرنے کے لیے بچے کو مقامی گرجے میں پادری یا کسی سادھو سے دعاکروانے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔
بعض توہمات مشرق ومغرب میں یکساں رائج ہیں۔ مثلاًمغرب میں جادوگرنیوں کے متعلق یہ عام عقیدہ ہے کہ وہ جھاڑو کے دستے پر سواری کرتی ہیں،فلپائن میں بھی بعینہ یہی عقیدہ رائج ہے۔ملائشیا اور کوریا میں تاریکی میں سیٹی بجانا منحوس سمجھا جاتاہے، مغرب میں بھی یہی خیال پایا جاتاہے۔رات کے وقت بھیڑیوں اورُ ا لّو کی بولی کو بھی مشرق و مغرب میں نحوست اور بد بختی کی علامت خیال کیا جاتاہے، تاہم بعض دیگر عقائد میں کافی تضاد بھی پایا جاتا ہے۔مثلاًیورپ میں چودھویں کے چاند کی روشنی کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا اور مسافروں کو اس کی چاندنی میں سفر سے منع کیا جاتا ہے۔ جبکہ چین، جاپان، ہندوستان بلکہ پورے عالمِ مشرق میں چودھویں کے چاند کی روشنی کو بہت اعلیٰ اور خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح مغرب میں کاکروچوں (لال بیگ )کے ایک دم نمودار ہونے پر وحشت کا اظہار کیا جاتا ہے ۔کالی بلی یا بلے کو مشرق میں انتہائی منحوس تصور کیا جاتاہے جبکہ مغرب میں اسی کو اچھا خیا ل کیا جاتا ہے۔ مغرب میں اگر درزی کی قینچی کھلی رہ جائے تو وہ اسے کاروبار میں خسارے کی اور بری علامت سمجھتا ہے۔جبکہ ملایا اور سنگاپور میں ہر درزی کام کے اختتام پراپنی قینچی اس لیے کھول کر رکھتا ہے کہ وہ اسے کاروبا ر میں ترقی کا شگون سمجھتا ہے۔ مغرب میں کسی گھر سے سانپ کا نکلنا بہت برا خیال کیاجاتا ہے جبکہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں اس کو اچھا شگون سمجھ کر خوشی کا اظہار کیاجاتاہے۔
دنیا بھر میں اعداد کے حوالے سے توہمات کی کوئی کمی نہیں لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک عدد ایک خطے میں مبارک خیال کیا جاتا ہے تو دوسرے میں منحوس سمجھا جاتاہے۔ چین،جاپان کوریا وغیرہ میں آٹھ کا عدد انتہائی مبارک سمجھاجاتاہے، چنانچہ جاپان میں گاڑیوں کے ایسے رجسٹریشن نمبر جن میں آٹھ عدد کا مسلسل آتا ہو (مثلاً88 یا888 وغیرہ) باقاعدہ نیلام ہوتے ہیں اورلوگ اپنی گاڑیوں کے لیے یہ ’’لکی‘‘ نمبر حا صل کرنے کے لیے ہزاروں ڈالر کی بولی تک لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں بالکل اسی طرح وہاں چار کے عدد کو بہت منحوس اور موت کی علامت خیال کیا جاتاہے۔ جب کہ مغرب میں تیرہ کے عدد کو انتہائی منحو س اورمہلک سمجھا جاتاہے ،جہاں اس عدد کے منحوس اثرات کی مثالوں پر مشتمل سینکڑوں جاسوسی کہانیاں،ناول اورافسانے لکھے جاچکے ہیں۔ کوریا میں عام طور پر کسی عماررت کی چوتھی اور تیرھویں منزل کو چھوڑ دیا جاتاہے۔کوئی شخص چوتھی منزل یا گلی کے چوتھے مکا ن میں آباد ہوناپسند نہیں کرتا۔
جاپان میں19، 33، 42 اور 47 سال کی عمروں کو بہت خطرناک اور نامبار ک سمجھا جاتاہے ،اُن کے خیال میں عمر کے ان برسوں میں انسان کسی بھی حادثہ اور افسوسناک واقعہ کی توقع رکھ سکتا ہے۔
انڈونیشیا میں17کے عدد کے مبارک اثرات کے سب لوگ قائل دکھائی دیتے ہیں۔اتفاق سے اس ملک کو آزادی بھی اسی عدد کی تاریخ (17،اگست1945ء) کو ملی تھی۔
فلپائن میں عام طور پر 13 کے عدد کو بہت منحوس تصور کیا جاتا ہے اور اگر کسی مہینے کی تیرہ تاریخ کو جمعہ کا روز ہو تو وہ دن سال کا سب سے منحوس اور نامبارک دن خیال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس روز ڈر کے مارے گھر سے با ہر نہیں آتے کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔ فلپائن کے عوام، چودہ اوراکیس کے عدد کو بے حد موافق اور سعید سمجھتے ہیں اور تمام نئے کاموں کا آغاز انہی تاریخوں سے کرتے ہیں۔ خصوصاًلاٹریوں کے مراکز پر ان تاریخوں میں گاہکوں کا بہت رش ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ انعام ہر شخص کا نہیں نکلتا۔
پیدائش اور موت دونوں انسان کے لیے اہم ترین واقعات ہیں۔ تقریباً ہر ملک میں ان واقعات کے ساتھ بےِشمار توہمات کو وابستہ کردیا گیا ہے۔مثلاًیہ عقیدہ تقریباًہر ملک میں موجود ہے کہ ستارے انسان کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں، خصوصاً پیدائش کی ساعت میں جو طالع حکمران ہو وہی انسان کا مستقبل متعین کرتا ہے۔ ملائشیا میں اگر کوئی حاملہ عورت کسی ایسی چیز کی خواہش کرے جو عام طور پر ممنوع خیال کی جاتی ہو تو بھی اس کی خواہش کو پورا کرنا ضروری خیال کیا جاتاہے،ورنہ ان کے خیال میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کا برا اثر پڑسکتا ہے۔
چین اور جاپان میں مردے کی روح کے ساتھ شادی کا رواج بھی موجود ہے۔ان کے خیال میں اگر کوئی لڑکی کنواری ہو اور مرجائے تو اس کی بھٹکی ہوئی روح ،جب تک شادی نہ ہو، گھر والوں کے لیے نحوست اور بد قسمتی کا باعث بنی رہتی ہے۔بعض اوقات موت کو خوش بختی سے بھی منسوب کردیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک ایسی گاڑی کا نمبر جو حادثے کا شکا ر ہوچکی ہو،ملائیشیامیں بہت مبارک خیال کیا جاتاہے، ایسے نمبروں کو لاٹریوں میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتاہے۔ اسی طرح ہندوستان میں بعض لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کسی برات کے راستے میں کوئی جنازہ آجائے تو وہ شادی بہت مبارک ہوتی ہے۔ کوریا میں صبح سویرے مردے کا تابوت دیکھنا عمدہ شگون تصور ہوتا ہے۔ جاپان میں ہفتے کے ایک خاص دن’’ٹوم بکی‘‘ میں جنازہ لے جانا یا موت کی رسوم ادا کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی شخص اس روز مرجائے تو اگلے روز تک اس کی لاش کو تابوت میں رکھا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے توہمات کی ایک اور قسم ’’جنات‘‘ اور ’’ارواح بد‘‘ کو بھگانے یا انہیں قابو میں کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں کئی لوگ چلّے بھی کاٹتے ہیں اور عجیب وغریب قسم کی بھینٹ بھی دیتے ہیں۔ عیسائیوں کے نزدیک صلیب کا نشان بھوت پریت کو رفع کرنے میں موثر ہے۔ ہندؤوں کے مطابق لوہا یا لوہے سے بنا ہوا کوئی ہتھیار اگر پاس ہوتو انسان، جن، بھوت، دیو، پری کی شرارت سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی قسم کے توہمات بہت سے گھروں اور عمارتوں کے متعلق بھی سننے میں آتے ہیں۔ کسی گھر کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہاں کے مکینوں کو بیماریاں اور تکالیف نہیں چھوڑتیں، کسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جوبھی وہاں آباد ہوتاہے،بربادی اور بد قسمتی کا شکا ر ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسے مقامات سے مخالف روحوں اور بھوتوں کو رفع کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہندو منتر پڑھتے ہیں،ڈھول بجاتے ہیں۔ صندل، عود وغیرہ خوشبویات سلگاتے ہیں۔
پودوں، پھولوں، پھلوں اور اجناس کے بارے میں بھی بہت سے توہمات رائج ہیں۔عیسائیوں کے خیال میں سیب بغیر صاف کیے کھانا،شیطان کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا بھر میں سیب کا درخت مقدس چیزوں میں شمار ہوتاہے اور صدیوں سے اس وہم پر اعتقاد چلا رہا ہے کہ سیب کے کسی درخت کو تباہ نہ کیا جائے۔ آسٹریلیا میں اس توہم پر اعتبار رکھنے والے آج بھی موجود ہیں کہ اگر سینٹ تھامس کی رات کوئی لڑکی سیب کاٹے تو اسے اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں کافی علم ہوجاتا ہے۔ اگر سیب میں بیج جڑواں یعنی2، 4، 6 وغیرہ کی تعداد میں ہو ں تو اس سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس لڑکی کی جلد ہی شادی ہوجائے گی۔ اگر سیب کاٹتے ہوئے کوئی بیج کٹ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مستقبل کافی تکلیف دہ ہوگا اور شادی کے بعدجلد ہی وہ بیوہ ہوجائے گی۔ یورپ کے بہت سے لوگ اس وہم پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر کوئی لڑکی یہ جاننا چاہے کہ کونسا مرد اس کے لیے بہتر ہے تو اسے آگ میں ایک کانام لے کر ایک سیب ڈالنا چاہیے، جو سیب بلا آواز جل جائے، اس کا مطلب ہے کہ وہ آدمی اس سے محبت نہیں کرتا اگر کوئی سیب بہت زیادہ آواز کے ساتھ پھٹنے کے بعد جلے تو اس کامطلب کہ لڑکی کو بلاجھجھک اس لڑکے سے شادی کرلینی چاہیے۔ جرمنی کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی نئے سیب کے درخت کے پہلے سیب کو کھائے تو باوجود یہ کہ اس کے پہلے ہی کافی بچے ہوں وہ مزید بچوں کی پیدائش کی توقع رکھ سکتی ہے۔ برطانیہ میں کسی ایسے درخت پر جو مرُجھا چکا ہو سیب لگنا اس گھر کے سربراہ کی موت کا پیغام خیال کیا جاتا ہے لیکن باقی یورپ میں اسے اس کے مالک کے لیے مزید نیک شگون خیال کیا جاتا ہے۔
دیگر تمام پھلوں کے پھول بھی بیماری ،موت اور بُری قسمت کا شگون خیال کیے جاتے ہیں اور اس حوالے سے فرانس ،برطانیہ اور آسٹریلیا میں کافی توہمات موجود ہیں۔ کالی بیری کے متعلق بھی کچھ توہمات موجود ہیں۔ فرانس میں لوگ کالے بیر نہیں کھاتے کیونکہ ان کے اعتقاد کے مطابق اس کا رنگ شیطان کی عادات کی عکاسی کرتا ہے۔ جبکہ برطانوی گیارہ اکتوبر کے بعد سیاہ بیر جمع نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں اس دن کے بعد کالی بیری پر شیطان کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ لیکن یورپ میں اس پھل سے کالی کھانسی اور پھوڑے وغیرہ کا علاج کیا جاتا ہے۔
آپ نے جڑواں آم تو دیکھے ہوں گے ہم لوگ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے لیکن اکثر یورپی ایسے پھل کو بہت خوش قسمت خیال کرتے ہیں۔ جبکہ برطانوی اور آسٹریلین یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حاملہ عورت ایسا پھل کھانے سے جڑواں بچوں کو جنم دے گی۔
پھولوں کا تحفہ دنیا بھر میں ہی نیک شگون خیال کیا جاتا ہے۔سفید پھول بیماری سے صحت یابی کی علا مت اور سرخ پھول زندگی کی علامت خیال کیے جاتے ہیں لیکن بعض برطانوی کسی مریض کے بستر پر پھول رکھنا بدشگونی خیال کرتے ہیں۔ جرمنوں کا کہنا ہے کہ اگر کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے کوئی پھول ہاتھ میں لیں اور کچھ پینے کے بعد اسے اپنے ہونٹوں سے لگانے کے بعد اگر وہ پھول آپ اپنے دوست کو دیں گے تو اس کے ساتھ دوستی مرتے دم تک قائم رہے گی۔یورپ میں ہر مہینے کے لیے ایک خاص پھول متعین ہے اور اس مہینے میں پیدا ہونے والے انسان کے لیے وہی پھول باعث قسمت خیال کیا جاتاہے۔مثلاًجوآدمی جنوری میں پیدا ہوا ہو،اس کے لیے شبنمی پھول ،فروری کے لیے بسنتی گلاب،مارچ کے لیے نرگس،اپریل کے لیے گل بہار،مئی کے لیے سوسن کا پھول ،جون کے لیے گلاب ،جولائی میں پیدا ہونے والوں کے لیے آبِ سوسن، اگست میں پیدا ہونے والوں کے لیے تازہ پھول وغیر ہ مختص ہیں۔اگر کسی کے ہاتھ میں گلاب کا پھول ڈنٹھل سمیت ہو اور پھول کی تمام پتیا ں گر جائیں تومغرب میں اس سے یہ شگون لیا جاتاہے کہ وہ آدمی جلد مرجائے گا۔برطانوی افراد گلاب کی پتیوں کو مسلنا بد شگونی خیال کرتے ہیں فرانسیسی خیال کرتے ہیں کہ اگر خزاں میں گلاب نکل آئے تو یہ ملک کے لیے کسی خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے۔
آلو جہاں نشاستے سے بھر پور غذا ہے، وہاں توہمات کو توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ برطانیہ کے بعض لوگ جوڑوں کے درد کے علاج کے لیے آلوؤں کو کوٹ یا پینٹ کی جیب میں رکھ لیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ سیا ہ ہوجائے یا لکڑی کی طرح سخت ہوجائے۔
درخت زمانۂ قدیم سے انسان کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔پرانے وقتوں میں یہ توہم عام تھا کہ اگر کوئی انسان کسی درخت کی کوئی شاخ کاٹے گا تو اپنے کسی عضو سے محروم ہوجائے گا۔جنوبی انگلستان کی لڑکیاں اس توہم پر یقین رکھتی ہیں کہ ایشن Ashen درخت کے پتے بائیں پاؤں کے نیچے رکھنے کے بعد جس مرد سے وہ سب سے پہلے ملیں گی، وہی ان کا شوہر ثابت ہوگا۔ اسی طرح کے کچھ توہمات ’’بے Bayدرخت‘‘ کی شاخوں اور پتوں سے بھی وابستہ ہیں اور اگر برچ درخت کی کوئی شاخ دروازے کے نیچے رکھیں تو برطانوی خیال کرتے ہیں کہ برائی اور شیطان گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔ گیلا س پھل یا شاہ دانہ کے متعلق توآپ نے سنا ہی ہوگاکہ اس کے درمیان بیج کی جگہ پتھر ہوتا ہے، بہرحال آپ ان پتھروں کو ایک ایک کر کے گنیں تو آپ کی شادی ہوجائے گی۔ اسی طرح اور بہت سارے درختوں کے متعلق بھی طرح طرح کے توہما ت یورپ میں آج بھی موجود ہیں۔
تقریباً ہر زمانے اور ہر ملک میں، کسی بستی سے رخصت ہونے والے شخص کا پیچھے مڑکر دیکھنا منحوس خیال کیا جاتارہا ہے، بعض خطوں میں جانے والے مسافر کو پیچھے سے بلانا بہت برا خیال کیا جاتا ہے۔

کوے

کوّے کی آواز سے شگون لینے کی روایت قدیم زمانے سے رائج ہے، ہندوستان اور پاکستان میں گھر کی منڈیر پر کوّے کی کائیں کائیں کا مطلب کسی اچھے مہمان کی آمد کی نوید ہوتاہے جبکہ قدیم عرب کوّے کی آواز کو براشگون خیال کرتے تھے۔ بعض جانوروں کے متعلق قدیم عرب خیال کرتے تھے کہ ان کے پراسرار مخلوقات،خصوصاًجنات کے ساتھ خاص تعلقات ہوتے ہیں۔گوہ،خرگوش ،اور شتر مرغ وغیرہ کو عرب کے بعض قبائل میںآج بھی جنات کی سواریاں خیال کیا جاتاہے ۔
ہمارے ہاں بھی بے شمار توہمات پائے جاتے ہیں تاہم ان میں سے ہم یہاں بعض دلچسپ توہمات کا ذکر کریں گے۔ مثلاً اگر کسی کی آنکھ پھڑکنے لگے تو سمجھا جاتا ہے کہ کوئی غیرمعمولی (خوش گوار یا ناخوش گوار) واقعہ پیش آنے والا ہے۔ رات کے وقت کسی کے گھر میں یا درخت پر اُلو آکر بولنے لگے تو اسے آنے والی مصیبت کا پیش خیمہ تصور کیا جاتاہے۔ جوتا اُلٹا ہوجائے تو براشگون لیاجاتا ہے۔ اگر ایک جوتا دوسرے جوتے پر چڑھ جائے تو اچانک سفر پیش آنے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ گھر کے اندر مینڈک کے ٹرانے کو بارش کی نشانی سمجھا جاتاہے۔ گھر کی منڈیر پر کوے کی آواز کو مہمان کی آمد کی خبر تصور کیا جاتا ہے۔ کالی بلی اگر راستہ کاٹ جائے تو اسے برا شگون سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص گھر سے باہر سفر پر جارہا ہو تو اسے پیچھے سے نام لے کر پکارنا براشگون خیال کیا جاتاہے۔ سندھ کے بعض دیہات میں یہ عقیدہ ہے کہ رات کو گیدڑ کے رونے کی آواز ، کسی نہ کسی شخص کے اچانک مرجانے یا تباہی کی نشانی ہوتی ہے۔ نمک ہاتھ سے زمین پر گر جائے تو عام طور پر بُرا شگون ہوتاہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر میں مسلسل لڑکیاں پیدا ہوتی ہوں تو زچگی کے بعد چالیس دن کے اند ر عورت کو اونٹ پر سواری کرائی جائے تو آئندہ سے لڑکے پیدا ہوں گے۔ کنگھی کرنے سے اگر کچھ بال کنگھی میں رہ جائیں تو انہیں پھینکنا نہیں چاہیے ورنہ سر میں درد ہوجاتا ہے۔ اگر میاں بیوی ایک ہی آئینہ میں اکٹھے دیکھیں تو ان میں جدائی ہوجاتی ہے۔ غروب آفتاب کے وقت کسی کو نمک ادھار نہیں دینا چاہیے ورنہ گھر میں جھگڑا اور فساد پیدا ہوتاہے وغیرہ وغیرہ…..
توہمات تو اور بھی بے شمار ہیں….. اگر ان کی فہرست تیار کی جائے تو ایک کتاب درکار ہوگی۔ مختصر یہ کہ تمام تر سائنسی ترقی اور جدید علوم کی روشنی پھیلنے کے باوجود بہت سے انسا ن توہمات کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ توہمات اکثر انسانوں کے اندر اس طرح جڑپکڑچکے ہیں اور وہ اپنی انتہائی کوشش اور شعوری جدوجہد کے باوجود بھی ان کی گرفت سے ابھی تک آزاد نہیں ہوسکے ہیں۔
مغرب کو علم و ہنر کی روشنی کا مرکز خیال کیا جاتاہے لیکن وہاں کے اکثر لوگ مشرق سے بڑھ کر نجومیوں، سنیاسیوں، یوگیوں، پامسٹوں اور قیافہ شناسوں کے قائل نظر آتے ہیں۔ جادو، کالے علم، دست شناسی، نجوم اور اس قسم کے دیگر پراسرار علوم کے متعلق سب سے زیادہ کتابیں امریکہ اور یورپ میں چھپتی اور لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں ۔ اس رجحان کی ایک اہم وجہ یہ کہ آج کے دور میں انسان کو اپنا مستقبل اس قدر غیر یقینی نظر آرہا ہے کہ وہ توہمات کے تاریک دور کی طرف واپس جاتا ہوا محسوس ہوتاہے۔ اسلام نے تمام اوہام باطلہ کی نفی کردی اور انہیں مردہ قرار دیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے