عشق کیا ہے؟ کسی انسان کی چاہت یا خدا کا تحفہ!

عشق

دنیا کا کوئی انسان جذبات اور احساسات سے خالی نہیں۔جذبات زندگی کی اساس ہیں۔ جس طرح خوشبو کے بغیر پھول فقط رنگ رہ جاتا ہے۔اس طرح جذبات  کے بغیر زندگی میں کوئی حسن کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔

پیار ، محبت ، چاہت، الفت، انسیت، لگاؤ اور عشق  ۔ یہ سب وہ جذبے  ہیں  جنہیں سن کر دل میں ایک عجیب سا احساس ابھرتا ہے، وہ جذبہ جو دلو ں کو خوشیاں سے ہمکنار  کرتا ہے۔  ایک ایسا احساس  کہ جس پر دنیا کے  کئی وسائل نثار ہیں۔ان جذبوں پر ،ان احساسات پر بڑے بڑے شاعروں نے ،ادیبوں نے انتہائی اعلیٰ  کلام کہا ہے۔غزلیں نظمیں لکھیں ہیں ،ان کیفیات کے اظہار اوراپنے تئں بہتر سے بہتر ترجمانی  کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں گئیں۔

پیار محبت اور عشق بظاہر ایک جیسی کیفیات معلوم  ہوتے ہیں۔عموما لوگ، پیار، محبت اور عشق کو ایک ہی جذبہ  سمجھتے ہیں  لیکن ان جذبوں میں  بہت فرق ہے ۔ ہر کسی کا اپنا اپنا مقام ہے، اپنے اپنے درجات ہیں….

پسند یا چاہت: Likeness

ہماری پسند ،ہمارے احساسات کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ عموماً ایک شخص ان اشیا ء،ان باتوں اوران کاموں کو پسند کرتا ہے جو اس کے لیےخوش گوار احساسات کا باعث بنتے ہیں ۔ ہماری پسند اور ناپسندہماری دلچسپیوں کو تشکیل دیتی ہیں۔ پسند مثبت دل چسپی ہے اور ناپسند منفی دل چسپی ہے۔ جس چیز کو ایک شخص پسند کرتا ہے وہ چیز اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔  وہ چیز اس کے اندر خوش گوار احساسات پیدا کرتی ہے  لیکن  پسند دراصل ایک وقتی احساس ہے ۔یہ احساس وقت کے ساتھ تبدل ہوتارہتاہے۔  مثال کے طور پر بچپن میں جو چیزیں  کسی  کی پسند اور ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں، لڑکپن میں اس کی وہ پسند بدل جاتی ہے۔ یہی صورت حال جوانی اور عمر کے دیگر ادوار میں بھی ہوتی ہے۔غرض وقت،   ماحول، موڈ moodاور احساسات feelings  کے ساتھ ساتھ پسند میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

کشش: Attraction

کشش یا اٹریکشن کا معاملہ بھی پسند  سے ملتا جلتا ہی ہے۔  ایک شخص ان اشیا ءکی جانب کشش رکھتا ہے جو اس میں خوش گوار احساسات پیدا کرتی  ہیں۔    کشش اور پسند  میں محض یہ فرق ہے کہ  پسند  یا ناپسند انسان کے  اختیار میں    ہوتی ہے مگر کشش ایک غیر ارادی اور غیر اختیاری عمل ہے۔   انسان جو چاہتا ہے، پسند کرتا ہے  اوراس کو اپنی طرف کھینچنا چاہتاہے  لیکن  جس چیز میں وہ کشش پاتا ہے خود اس کی طرف کھنچتاہے۔

کشش بھی پسند کی طرح  قلیل وقتی یا جز وقتی ہوسکتی ہے، کبھی اس کا دورانیہ پسند سے بھی زیادہ مختصر  ہوسکتا ہے۔  لا آف اٹریکشن یعنی کشش کے قانون  کی بنیاد تجسس  Curiosity)پر قائم ہے۔ انسان کی فطرت میں دوسری چیزوں کی جانب کشش اور تجسس کا رجحان پایا جاتا ہے۔  کوئی بھی پرکشش  شے بند کتاب کی طرح انسان کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتی ہے اور تجسس پر اکساتی ہے۔  بند کتاب کھلنے پر جب قاری  کا تجسس ختم ہوجاتا ہے  تو  وہ اس کتاب سے بے غرض بھی ہو سکتا ہے ۔

مثال کے طور پر کسی  نئے  یا انوکھے کھلونے  کی کشش بچہ کو تجسس پر اوراس کھلونے کے حصول پرمجبور کردیتی ہے  ۔بچہ   ضد پکڑلیتا ہے۔  اس کی ضد سےمجبور ہوکر جب والدین وہ  کھلونا اسے لادیتے ہیں تو وہ خوش ہوکر اس سے کھیلنے لگتا ہے مگر  کچھ عرصے بعد وہ اس کھلونے سے اکتا  جاتا ہے  اور بہت ارمانوں سے منگوایا ہواوہی کھلونا گھر کے کسی کونے میں ٹوٹا پڑا ملتا ہے ۔

اسی طرح جنسی کشش کا معاملہ ہے۔فطری طورپر جنسی کشش و دو مخالف جنسوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ یہ کشش    دونوں کے لیے تجسس  کا باعث ہوتی ہے۔ جسمانی تبدیلی کی وجہ سے یا حسن و جاذبیت  کی بدولت یہ کشش پیدا ہوتی ہے۔     یہ  کشش انسان کی تجسس کی  حس پر اثر  انداز ہوتی ہے  اور اسے اپنی جانب مائل کرتی ہے ۔  عموماً بعض لوگ اس کشش کو ہی  محبت سمجھ بیٹھتے ہیں، لیکن جب  تجسس  کا یہ مادہ بتدریج ختم ہونے لگتا ہے تو نتیجۃً  کسی وقت کی شدید محبت  بعض لوگوں میں بےزاری اور کبھی کبھی نفرت  میں  بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔

بعض لوگ کسی کو دیکھتے ہی محبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اس جذباتی محبت کی ابتداء بڑی شاندار اور پُرلذت ہوتی ہے اور لیکن ایسی کئی محبتوں کا انجام تر کرب ناک اور پریشان کن بھی دیکھا گیا ہے۔   ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ محبت اور پسند کے باعث بہت اصرار اور بعض اوقات والدین سے ٹکر لے کر کی جانے والی شادیاں چند ماہ یا چند سال بعد ایک جبری تعلق میں تبدیل ہوگئیں یا ختم ہوگئیں۔    کئی جوڑے  ایسے بھی دیکھے گئے ہیں  جو کچھ اس شدد کے ساتھ  محبت کرتے نظر آتے تھے کہ گویا ایک دوسرے کے لیے جان دے دیں گے، مگر جب ان کی شادی ہوگئی توکچھ وجوہات کی بناء پران میں ایک دوسرے سے ایسی دوریاں ہوئیں کہ لگتا تھا کہ ایک دوسرے کی جان لے لیں گے ۔بعض مرتبہ آپس میں محبت کا اظہار کرنے والے وہ مرد وعورت جو ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے کسی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے  اور ایک دوسرے کی بہت برائیاں کرنے لگے۔

پیار : Love

پیار انسان کی فطرت میں شامل ایک جزو ہے۔جس طرح سانس لینا، کھانا کھانا، پانی پینا، سونا، جاگنا، انسانی فطرت کے جزو ہیں، اسی طرح پیار بھی ہرانسان کی ایک ضرورت ہے۔یہ فطری جذبہ ہر انسان کو ورثے میں ملتا ہے۔ یہ جذبہ  اس کے خون میں رچا بسا ہوتا ہے اور تا حیات اس کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔  ہم جب دوسرے  انسان سے بحیثیت انسان پیار کرتے ہیں توہم دراصل فطرت سے پیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے پیار کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے پیار کرتے ہیں۔ اپنے گھر والوں سے، ماں ،باپ، بھائی، بہن، بیوی بچوں سے پیار کرتے ہیں، اپنے گھر، گلی، گاؤں، شہر اور ملک سے پیار کرتے ہیں، پھولوں، پودوں،  پرندوں اور جانوروں سے پیار کرتے ہیں ، یہ سب فطری پیار کی مثالیں ہیں۔

پیار کے کئی روپ ہو تے ہیں، آپ کے ماں باپ آپ کی پروا کرتے ہیں، ہر لمحہ آپ کا خیال کرتے ہیں آپ کا بھلا سوچتے ہیں ، یہ پیار ہے۔ ماں کو اپنی اولاد پیاری  ہوتی ہے ۔ اولاد کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو ماں  رغبت و خوشی سے انجام دیتی ہے…. کھانا کھلانا ہو ، نہلانا دھلانا ہو ، سلانا جگانا ہو ، لکھانا پڑھانا ہو…. ماں کبھی بیزار نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ کام اولاد سے اس کی پیار کا تقاضا ہیں۔  باپ اپنی اولاد کی مناسب دیکھ بھال ، ان کی تعلیم و تربیت ، ان کی رہائش ، لباس ، خورد و نوش اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محنت و مشقت میں لگا رہتا ہے۔یہ تمام کام اپنی اولاد سے اس کے پیار  کا اظہار ہیں۔  بھائیوں کے لئے بہنیں دعائیں مانگتی ہیں ان کی خوشیوں میں خوش اور غموںمیں دُکھی ہو جاتی ہیں ، یہ فطری پیار ہے۔بھائی بہنوں کے سر پر سا یہ شفقت ہو تے ہیں، ان کے تحفظ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ فطری پیار ہے۔ آپ اپنے رشتہ داروں سے ملتے ہیں، ان کی خوشیوں میں شریک ہو تے ہیں ، ان کے دُکھوں میں روتے ہیں، تو آپ کے اندر یہ سب ایک جذبے کے تحت ہو ر ہا ہو تا ہے، یہ پورا ایک نظام ہے، اسے لاشعوری ،غیر ارادی محبت کہا جاسکتا ہے۔  اس میں عادات  کا ،خصائل کا ملنا ضروری نہیں ہے۔

آپ کے دوست جن سے آپ دل کی بات کہہ لیتے ہیں، آپ کو یقین ہوتا ہے کہ وہ بات جو آپ نے اپنے دوست سے کہہ دی ، اور اسے کہہ کر آپ کا دل ہلکا ہو گیا ، اب آپ کے دوست کے دل میں رہے گی۔  کوئی آپ کو اپنا سمجھتا ہے تو آپ کا کوئی کام کرتا ہے، اپنا سمجھنے میں خون کا رشتہ ہو یا نا ہو اگر احساس کا رشتہ ہے تو سمجھ لیں کہ وہ فطری پیار ہے ۔  آپ کسی بھولے بھٹکے کو بنا کسی وجہ سے راستہ دکھا دیتے ہیں، آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیتے ہیں، آپ کسی کی مدد کرتے ہیں ، آپ کسی کو تسلی دیتے ہیں، آپ کسی کو اپنا خون دے دیتے ہیں ، آپ کسی زخمی کو ہسپتال پہنچا آتے ہیں، تو ان سب کے پیچھے آپ کے جذبات کا گہرا تعلق ہو تا ہے، ان جذبات میں سب سے برتر جذبہ پیار کا فطری جذبہ ہے۔

انسیت : Affection

انسیت، رغبت  یا میلان  بھی پیار ہی کی طرح ایک فطری جزبہ ہے مگریہ پیار سے کچھ بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ اِس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ انسیت عموما کسی مخصوص شخص سے زیادہ ہوتی ہے۔کبھی کبھی ایک سے زیادہ لوگ بھی اِس کی تحریک کا سبب بن جاتے ہیں مگر انسیت  کی خاصیت یہ ہے کہ اِس جذبے کا محرک شخص باقی سب لوگوں کی نسبت کچھ خاص ہو تا ہے۔اس جذبے کے لیے کسی باہمی رشتے کا ہونا ضروری نہیں ۔ عموما تویہ مرد اور عورت کے درمیان ہوتی ہے مگر انسیت کے ہر تعلق میں مخالف صنف کا ہونا ضروری نہیں ہے۔یہ کسی کو کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔کسی شخص کو پودوں سے پیار ہے مگر اپنے اگائے ہوئے پودوں میں وہ کسی  خاص پودے  سے ذیادہ انسیت ر کھتا ہے، یعنی اُس کے لیے اپنا وہ پودہ  باقی پودوں  سے ممتاز اور منفرد ہو جاتا ہے،  ایک ماں کے دس بچے ہیں مگر ممکن ہے اُن میں سے کسی ایک سے اُسے کچھ زیادہ انسیت ہو جائے۔ وہ بیٹا یا بیٹی اپنے دوسرے بچوں کے نسبت ماں کو زیادہ پسند ہو۔کئی  دوستوں میں سے کسی ایک دوست کی طرف طبیعت زیادہ میلان رکھتی ہو۔

ایسی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، اسی طرح  ہم اگر صرف مرد اور عورت کے درمیان ہونے والی انسیت کا ذکر کریں تو بھی یہ اپنی خاصیت اسی طرح برقرار رکھتی ہیں۔  انسیت جب  بہت بڑھ جاتی ہے تو وہ محبت کہلاتی ہے۔

محبت: Romance

محبت کئی قسموں کی ہو سکتی ہے۔ یہ محبت  کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی ہوسکتی ہے اور شدید بھی۔  پیار اور محبت میں فقط یہ فرق ہے کہ پیار ایک طرفہ ہوسکتا ہے مگر محبت دوطرفہ ہوتی ہے۔ پیار ایک سے زیادہ انسانوں یا ایک سے زیادہ پرندوں، پودوں وغیرہ سے ہو سکتا ہے مگر محبت ہر ایک سے مساوی نہیں ہوتی۔  محبت کرنے والوں میں  ایک احساسِ ملکیت(Sense of Possession) بھی ہوتا ہے۔    محبت ایک دائرہ کار میں محدود رہتی ہے ابتدا سے اختتام تک کہیں نہ کہیں پابندِ سلاسل نظر آتی ہے۔

پیار کی کوئی وجہ Reason)ہوتی ہے۔ محبت تقاضوں، توقعات اوربدلے (Returns)سےوابستہ ہوتی ہے۔

شوہر کو بیوی سے یا بیوی کو شوہر سے محبت ہوتی ہے تو جانبین ایک دوسرے کے جذبات و احساسات ،  ضروریات ، آراء و مشوروں کا خیال رکھتے ہیں ۔یہ خیال اس وجہ سے بھی رکھا جاتا ہے  کہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا جذبہ سدا بہار رہے۔  جب تک ایک دوسرے سے جڑی توقعات پوری ہوتی  رہتی ہیں  یعنی محبت کا بدلہ محبت سے ملتا رہتا ہے ،محبت پائیدار رہتی ہے ۔

دو محبت کرنے والوں کی ایک دوسرے سے وابستہ تواقعات ٹوٹنے لگیں تو محبت پر مبنی تعلق بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ توقعات مرد  یا عورت میں سے کسی کی لاپرواہی یا غیر ذمہ داری کی وجہ سے پوری نہ  ہوپارہی ہوں ۔ہوسکتا ہےکہ یہ توقعات  غیر مناسب ہوں یا احساسِ ملکیتSense Of Possession کے تحت بالکل ہی غلط ہوں۔

مذکورہ بالا یا دیگر بے شمار وجوہات میں سے کچھ بھی وجہ ہو ۔حاصل کلام یہ کہ توقعات ٹوٹنے سے اکثر یہ ہوتا ہے کہ محبت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں کچھ عرصے تک ایک دوسرے کی محبت کا دم بھرنے والے ایک دوسرے کے لیے جان تک دے ڈالنے کے دعوے دار مرد اور عورت ایک دوسرے کی قربت تو کیا صورت سے بھی بے زار دکھائی دیتے ہیں۔

عشق: Ishq

اب آتے ہیں عشق کی طرف !

محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے،  عشق اِن سب  جذبات سے الگ ایک اعلیٰ  ترین جذبہ ہے۔    اس اعلیٰ ترین جذبے میں نہ   توقعات ہوتی ہیں اور  نہ کوئی احساسِ ملکیت۔ یہ جذبہ اپنے اظہارکے لیے کسی جسمانی حسن یا کشش کا ضرورت مند نہیں ہوتا ۔نہ ہی اس کے لیے کوئی وقت یا ماحول مخصوص ہوتا ہے۔   عشق کیا نہیں جاتا عشق ہوجاتا ہے۔ پسند ،کشش، انسیت، محبت میں عقل انسان کو مسلسل گائیڈ کرتی رہتی ہے۔  عشق میں عقل وجدان کے تابع ہوجاتی ہے۔

محبت میں دو ہستیاں ہوتی ہیں ۔ایک محب اور دوسرا محبوب ۔  عشق میں صرف ایک ہی ہستی ہوتی ہے ۔ اسی ہستی کا جلال  عشق کو سوز عطا کرتا ہے۔  اس ہستی کا جمال عشق کو آسودگی بخشتا ہے اور وہ ہستی ہے معشوق ۔

محبت میں دوئی ہوتی ہے۔ میں اور تو ہوتے ہیں۔ عشق میں وحدت ہوتی ہے۔ عشق میں ،میں نہیں ہوتا۔ صرف تو ہوتا ہے۔ ہر طرف تو ہی تو۔ عاشق کو  اس دنیا میں ہر طرف، ہر نظارے میں اپنا معشوق ہی نظر آتا ہے۔

ایک دوسرے کے ساتھ انسیت یا محبت کی ڈور میں بندھے ہوئے دو افراد میں سے کوئی کسی کے لیے تھوڑا سا  بھی ایثار کرتا ہے، ذرا سی تکلیف بھی اٹھاتا ہے تو کہتا ہے یا کہتی ہے کہ دیکھ ….! میں نے ….تیرے لیے یہ کیا وہ کیا۔ راہ  عشق کا مسافر بڑی  سے بڑی تکلیف اٹھا کر،گہرے سے گہرا زخم کھا کر بھی کہتا ہے یہ تو میں کچھ بھی نہ کر سکا ۔حتیٰ کہ راہِ عشق میں جان تک دے ڈالنے کے باوجود وہ سوچتا ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

عشق کی یہ تعریف(Definition) اورعشق کے یہ  انداز کوئی خیالی اور تصوراتی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اس مادی دنیا کے کسی فلسفی کاپیش کردہ کوئی مہمل نظریہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ وہ تعریف ہے اور عشق کے یہ وہ انداز ہیں جو حقیقت کے متلاشی لوگوں نے  تاریخ کے صفحات سے اخذ گئے ہیں۔  اس کی نمایاں ترین مثال  اللہ کے دوست، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اورآپ کے عظیم  المرتبت صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات مبارکہ  عشق کے ایک نہیں کئی منفرد انداز سے مزین ہے۔   اللہ کی وحدانیت کی دعوت دینے کی پاداش میں  بادشاہ وقت کے حکم پر حضرت ابراہیم کوتیز وتند بھڑکتی  ہوئی آگ میں پھنکوادیا گیا لیکن حضرت ابراہیم نے اف تک نہ کی۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

پڑھاپے میں ملنے والی اولاد  اسمٰعیل کو ان کی نوجوانی کے دور میں  اللہ کے اشارے پر قربان کرنے کے لیے تیارہوگئے اور اس کام کے لیے خود اپنے بیٹے اسمٰعیل کی مرضی معلوم کی ۔ اسمٰعیل نے اپنے والد سے عرض کیا….

‘‘جو کچھ آپ کو حکم ہواہے کرڈالئے ۔انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔’’  اللہ کے عشق میں سرشار باپ بیٹےکا یہ حیرت انگیز قصہ عشق کا ایک اور زریں باب ہے۔

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی

عشق کا ایک انداز دنیا کو حضرت سمیّہ ؓ نے سکھایا کہ کس طرح مشرکین مکہ کے مظالم سہتے سہتے ابو جہل کی برچھیوں کو اپنے نازک بدن پر جھیل  کر اسلام کی پہلی شہید ہونے کی سعادت پائی …. حضرت بلال حبشی ؓ نے تپتے انگاروں پر لیٹ کر احد احد کا لاہوتی صدابلند کی ….عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلایا تو کوئی باب العلم ۔

عشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفی

عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام

عشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

اسی  عشق کی خاطر حضرت  امام حسین نے دشتِ کربلا میں شہادت پائی۔

عقل و دل و نگاہ کا مُرشدِ اولیں ہے عشق

عشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات

صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبرِ حسین بھی ہے عشق

 معرکہِ وجود میں بدر و حنین بھئ ہے عشق

عشق امتحانات سے خالی نہیں ہے۔عشق کا میدان یا عشق کا راستہ آزمائشوں اور امتحانات سے بھرا پڑاہے۔اس راہ میں  جگہ جگہ عقل اورعشق کی باہمی کش مکش بھی ہوتی رہتی ہے لیکن راہ عشق کے سچے مسافر عقل کو وجدان کے اوروحی کے تابع رکھنا جان جاتے ہیں ۔

 بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشۂ لب بام ابھی

عشق جہد مسلسل کا تقاضہ کرتا ہے۔عشق کے زیر اثر ہونے والی ہر جستجوفطرت کے کسی نئے رنگ کو آشکارا کرتی ہے ،کسی نئی دنیا ،کسی نئے عالم کو منکشف کرتی ہے۔

ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہے

ابھی عشق کےامتحان اوربھی ہے

 اویس قرنی، حسن بصری، رابعہ بصری،  بايزيد بسطامى، جنید بغدادی ،  معروف کرخی،  ذوالنون  ، شبلی، منصور حلاج،   ابو الخیرکشفی، امام غزالی، ابوحسن  خرقانی،  عبد القادر جیلانی، گنج بخش، خواجہ معین الدین، بختیار کاکی ، گنج شکر، نظام الدین اولیاء ، صابر کلیاری، امیر خسرو،  شہاب الدین سہروردی،   بہاء الدین زکریا،   لعل  شہباز،  ابن عربی، شمس تبریزی ،  رومی، شیخ سعدی، عطار، رازی،  بو علی سینا، جامی ، بھٹائی ، سچل سرمست، غلام فرید، بلھے شاہ ، وارث شاہ  ۔  شاہ حسین ،سبھی راہِ عشق کے مسافر ہیں۔

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

فی زمانہ،  جس چیز کو انسان عشق کے نام سے جانتا ہے وہ مجازی اور محدود عشق ہے جو عشقِ حقیقی کی ایک محدود جھلک ہے۔ حقیقی عشق ایک وجودی اصل ہے جو بنیادی اور مستحکم ہے اور تبدیلیوں اور تغیّرات پر مشتمل نہیں۔ محبّت کی عام سطح روزمرّہ زندگی، جنسیت، دوستی اور دوسری کششوں میں اپنا اظہار کرتی ہے۔  بعض  دانشور عشق کو جذباتیت، حساسیت اور رجائیت کا نام دیتے ہیں، یہ جو بعض  جگہ کچھ عامیانہ اور گھسے پٹے سے شعر لکھے نظر آتے ہیں۔ کسی ویب سائٹ پر، کسی بلاگ پر، کسی رکشے پر ، اور انہیں عشق سے منسوب کیا جاتا ہے یہ حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ بعض جگہ لکھے گئے کچھ  اشعار شغل کے طور  محبت میں گرفتار ہونے کی کیفیت کا اظہار تو کرتے ہیں مگر ان سے عشق کی حقیقت کو سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بنجر زمین پر زعفران کی فصل کاشت کرنا۔ اکثر لوگ غلطی سے جنسی جذبے اور حسّیاتی جنسیّت کو محبّت کی اعلٰی ترین شکل سمجھ لیتے ہیں، جب کہ یہ حقیقت میں محبت کی بھی کم ترین شکل ہوتی ہے۔

عشق ، اضطراری کیفیت ، ہیجان جنسی ہوس  کا نام نہیں ہے۔  عشق کی کیفیت کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے، یہ تو ایک ایسا جذبہ ہے جس کا پتہ تجربے سے ہی چلتا ہے۔

عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ اسے  بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے