عمر بن عبدالعزیزؒ !دنیا کی تمام سلطنتیں جن کے سامنے سرنگوں تھیں۔

آراے نکلسن اپنی کتاب ’’تاریخ ادبیاتِ عربی‘‘ میں لکھتا ہے’’عمربن عبدالعزیز ایک ایسے مسلم حکمران ہیں، جو اپنے پیشر وحکمرانوں سے یکسر مختلف ہیں، اور جن کا مختصر دورِ حکومت ہی اکثر مسلمانوں کے نزدیک میں ایک درخشاں باب کی حیثیت رکھتا ہے ان کے ہم نام اور شہرۂ آفاق بزرگ صحابی حضرت عمرؓ بن الحظاب کے زمانے سے لے کر نہ تو اُن جیسا کوئی اور ہوا، اور نہ ہی تاریخ خلافت میں اُن جیسا کوئی اورملے گا۔ افلاطون کی خواہش تھی کہ ہر حکمران فلسفی ہو، جبکہ اسلامی نظریے کے مطابق ہر خلیفہ کو ولی ہونا چاہیئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اِن ہر دو معیارات پر پورے اُترتے تھے‘‘۔
مقدمہ ابن خلدون کے مطابق ’’تاریخ میں عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور حکومت اس لحاظ سے بالخصوص ممتاز ہے کہ انہوں نے خلافتِ راشدہ کا نظم ونسق دوبارہ قائم کیا اور ان کے عہد میں دنیا کو ایک مرتبہ پھر عہد صحابہ کی خصوصیات نظر آئیں‘‘…..

مولانا ابوالا علیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’اسلامی حکومت کی سب سے بڑی حریف سلطنت اس وقت روم کی سلطنت تھی، جس کے ساتھ ایک صدی سے لڑائیوں کا سلسلہ جاری تھا، اور اس وقت بھی سیاسی کشمکش چل رہی تھی مگر عمر بن عبدالعزیزؒ کا جو اخلاقی اثرروم پر ہوا، اس کا اندازہ اِن الفاظ سے کیا جاسکتاہے جو اُن کے انتقال کی خبر سن کر خود قیصر روم نے کہے تھے، اُس نے کہا تھا:
’’اگر کوئی راہب دنیا چھوڑ کر اپنے دروازے بندکرلے اور عبادت میں مشغول ہوجائے، تو مجھے اس پر حیرت نہیں ہوتی، مگر مجھے حیرت ہے تو اس شخص پر جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اور پھر اسے ٹھکرا کر اس نے فقیرانہ زندگی بسر کی‘‘۔
عمر بن عبدالعزیزؒ کی ولادت اور نشوونما مدینہ میں ہوئی۔ صالح بن کسیان اور عبداﷲ بن عتبہ جیسے محدثین معلم تھے۔
آپ نے عربی زبان وادب سیکھا، شعر میں بھی مہارت حاصل کی، قرآن وحدیث میں مہارت تامّہ حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد دمشق آئے، یہاں سے مصر پہنچے اور والد کے انتقال(85ھ) تک ان کی خدمت میں رہے۔ عبدالعزیزؒ نے عمر اور ان کے بھائی بہنوں کے لئے جو جائیداد ترکہ میں چھوڑی، ابن کثیر اس کے بارے میں لکھتے ہیں: عبدالعزیزؒ نے ماں واسباب، سواریوں، گھوڑوں، خچروں اور اونٹوں کی قسم کی اتنی چیزیں چھوڑیں کہ شمار نہیں کی جاسکتی تھیں۔اس ترکہ میں صرف سونا تین سومد تھا (مد ایک سیر کے برابر ہے) چاندی اس کے سوا تھی‘‘۔
دیگرمؤرّخین کے مطابق بھی عمر بن العزیزاموی شہزادوں میں سب سے مالدار شہزادے تھے۔ انتہائی نفیس اور بیش قیمت لباس زیب تن کرتے، رہائش بھی عالیشان تھی، انتہائی لطیف ولذیز خوراک کھایا کرتے، عمدہ سواری استعمال کرتے، بڑے ہی کرّوفر کی زندگی گزارتے تھے۔
عمر کے والد عبدالعزیزؒ کی وفات کے فوراً بعد عبدالملک نے اپنے بیٹے عبداﷲ کو مصر کی حکومت سونپ دی۔ اس وقت عمر بن عبدالعزیزؒ مصر سے دمش آگئے۔ ابن کثیر کے مطابق جب وہ دمشق آئے تو عبدالملک نے انہیں اپنے بیٹوں کے ساتھ رکھا، نیز ان کی حیثیت بلند کرنے کے لئے اپنی سب سے پیاری بیٹی فاطمہ سے شادی کر دی۔ عبدالملک کی وفات پر عمر کا حجازاد ولید تخت پر بیٹھا تو عمر کو حجازکا گورنر مقرر کردیا گیا۔ ان کے لئے یہ بہت بلند منصب تھا کہ انہیں اس مقدس خطہ اَرضی سے حددرجہ عقیدت تھی، اس وقت ان کی عمر 25سال تھی۔ آپ ربیع الاوّل 87ھء میں مدینہ تشریف لائے۔ آپ کی اہلیہ اور پورے خدام وحشم ساتھ تھے۔ ابن سعد لکھتے ہیں ’’ان کا لباس فاخرانہ تھا، خوشبو میں بسے ہوئے تھے، چال میں تمکنت تھی۔ جدھر جاتے، فضائے بسیط میں خوشبو بکھر جاتی، لوگ بیش قیمت لباس کو دیکھتے ہی رہ جاتے‘‘۔
ابن الحکم کہتے ہیں کہ ان کی چال میں امیرا نہ تفاخر تھا، مگر اس شان کے باوجود نہ حرام مال کھاتے اور نامحرمَخواتین کی طرف متوجہ ہوتے اور نہ ہی شریعت کے خلاف کوئی حکم دیتے تھے۔ وہ جس دن مدینہ آئے اور مسندِ ولایت سنبھالا، مدینہ کے دس بڑے فقہا کو جمع کیا۔ اس بارے میں ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ ان فقہاء میں عروہ، قاسم اور سالم بھی تھے۔ آپ نے ان فقہاء کو مخاطب کرکے کہا ’’میں نے آ پ کو اس لئے تکلیف دی ہے کہ آپ لوگ خدا کے لئے میرے کام میں رفیق ومددگار ہوں۔ اگر آپ میرے کسی عامل کو ظلم کرتے دیکھیں یا آپ کو کسی ظلم کی اطلاع ملے تو آپ پر فرض ہے کہ آپ مجھے اس سے خبردار کریں‘‘۔
ابن الجوزی نے لکھا ہے ’’جب ولید نے عمر کو مدینہ کی ولایت سونپی تو عمر اس میں متامّل تھے۔ ولید نے اپنے وزیر سے اس کی وجہ دریافت کی تو وزیر نے عرض کیا کہ عمر کی کچھ شرائط ہیں، ولید نے عمر کو بلوایا اور شرائط دریافت کیں۔ عمر نے جواب دیا: ’’مجھ سے پہلے جو والی تھا وہ ظالم تھا، ظلم کے ذریعے آمدنی بڑھاتا، ہم نہ ظلم کرسکتے ہیں اور نہ تعّدی سے کام لے سکتے ہیں‘‘۔
ولید بولا ’’ہماری طرف سے آپ کو اجازت ہے کہ آپ حق وصداقت کو ہر لمحہ ملحوظ رکھیں۔ ہمیں خواہ ایک درہم بھی نہ بھیجیں‘‘ …..
ولید کی طرف سے مکمل اختیارات حاصل کرنے کے بعد آپؒ مدینہ تشریف لائے۔ مدینہ کے علاوہ مکہ اور طائف بھی آپؒ کے تابعِ فرمان تھا۔ مدینہ کی گورنری کے دور میں جس عدل وانصاف اور حق وصداقت سے آپؒ نے حکومت کی، اس کی بنیاد پرمدینہ کی سب سے بڑے فقیہہ سعیدبن المسیّب نے جو انتہائی خوددار اور خدا ترس مسلمان تھے اور دولت و اقتدار کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، انہیں مہدی کا خطاب دیا۔ ابن سعد لکھتے ہیں، سعید بن المسیّب سے کسی نے پوچھا مہدی کے اوصاف کیا ہیں؟ سعید نے جواب دیا ’’مروان کی حویلی میں جاؤ۔ تم مہدی کو دیکھ لوگے‘‘۔ وہ شخص مروان کی حویلی گیا اور واپس آکر کہا ’’میں مروان کی حویلی گیا مگر کسی نے مہدی کا پتہ نہ بتایا‘‘ سعید نے اس شخص سے کہا ’’کیا تم نے عمر بن عبدالعزیزؒ کو نہیں دیکھا جو تخت پر بیٹھا تھا‘‘۔ عرض کیا ’’ہاں دیکھا‘‘۔ سعید نے کہا’’تو وہی مہدی ہیں‘‘۔
ابن الحکم لکھتے ہیں کہ سلیمان ایک مرتبہ حج کے لئے مکہ آیا عمرؒ بھی اس کے ساتھ تھے، رات کا وقت تھا، وہ اپنی سواری پر سورہا تھا کہ سواری کوڑھیوں کی ایک قیام گاہ کے قریب سے گزری، جہاں شور ہورہا تھا۔ سلیمان جاگ اٹھا، شور پہلے سے بھی بڑھ گیا۔ سلیمان نے آدمی بھیج کر اُن لوگوں کا حال دریافت کیا، پتہ چلا کوڑھی ہیں، سخت طیش میں آیا اور کوڑھیوں کی بستی جلا ڈالنے کا حکم دے دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو اس ظالمانہ حکم کا علم ہوا تو انہوں نے حکم نافذ کرنے والوں کو روک دیا اور خود سلیمان کے پاس گئے اور اسے اس کا ظالمانہ حکم واپس لینے پر آمادہ کرلیا۔
عمر بن عبدالعزیزؒ نے مکہ اور طائف میں چھ سالہ دورِ حکومت کے دوران اپنے کسی عامل کو ظلم وجور میں ملوث نہیں ہونے دیا۔ وہ عدل وانصاف میں سب پر بازی لے گئے۔ جب بھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا، وہ مدینہ کے دس فقہا کو جمع کرتے اور ان کے مشورے سے فیصلہ کرتے، ان میں عروہ، عبیداﷲ بن عبداﷲ، ابوبکر بن عبدالرحمن، ابوبکر بن سلیمان، سلیمان بن یسار، قاسم بن محمد، سالم بن عبداﷲ اور خارجہ بن زید تھے۔ یہ فقہا اسلام کے منشا اور اصولِ دیانت وامانت کے محافظ تھے، ابن کثیر نے ان دس فقہا کے علاوہ سعید بن المسیّب کا نام بھی لکھا ہے۔
آپؒ نے مدینہ کے چھ سالہ دورِ قیام میں مدینہ اور مکہ کے نواح میں کنوئیں کھدوائے، مسجد نبوی کے ملحقہ چمن میں ایک فواّرہ اور حوض تعمیر کیا، راہیں درست کیں، سفر آسان بنایا، مگر ان کا زرّیں کارنامہ مسجد نبوی کی تعمیر و تہذیب ہے۔ ولید نے بھی مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے سونے اور چاندی کے سکوں سے لدی ہوئی گاڑیاں عمر عبدالعزیزؒ کو بھجوائیں، شام، مصر اور افریقہ سے 80 معمار طلب کیے۔ جب مسجد نبوی کی تعمیر جاری تھی تو لگتا تھا کہ مسجد نبوی نہیں، پورا مدینہ از سر نو تعمیر ہورہا ہے، اور محبت وعقیدت کی ایک نئی دنیا آباد ہو رہی ہے۔ پورے تین سال تک مسجد نبوی کی تعمیر جاری رہی اور عمر بن عبدالعزیزؒ خود بھی دن بھر معمولی مزدوروں کی طرح پتھر اور مسالہ ڈھوتے رہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے دو سال بعد تک عمر مدینہ کے حاکم رہے۔ ابن جوزی کے مطابق وہ مستعفی ہوگئے، مگر ابن کثیر کے بیان کی رُو سے ولید نے حجاج کے اکسانے پر انہیں معزول کردیا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز 96ھء سے 99ھء تک دمشق میں اپنے عم زاد کے پاس رہے۔ اس دوران ولید اور سلیمان آپ سے اہم مشورے طلب کرتے رہے۔ ابن کثیر نے زہری کی ایک روایت بیان کی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے بتایا کہ ایک دن ولید نے دوپہر کے وقت مجھے بلابھیجا۔ میں اس کے پاس گیا بہت پریشان تھا، مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پوچھا جو شخص خلفاء کو گالی دے، کیا اسے قتل کیا جاسکتا ہے۔ میں خاموش رہا۔ اس نے سوال دہرایا۔ میں پھر خاموش رہا، اس نے تیسری بار دریافت کیا تو میں نے پوچھا۔ کیا اس نے قتل بھی کیا؟ ولید بولا نہیں صرف گالی دی۔ میں نے عرض کیا، اسے ویسے ہی گالی دے دی جائے۔ جس پر ولید ناراض ہوگیا۔
ابن الجوزی نے اسی نوعیت کا ایک واقعہ سلیمان بن عبدالملک سے منسوب کیا ہے کہ سلیمان کے زمانہ میں کسی نے خلفاء کو گالی دی۔ سلیمان نے عمر کو بلوایا اور ان سے رائے طلب کی۔ انہوں نے رائے دی’’تم بھی اسے گالی دے لو‘‘۔ سلیمان نے کہا ’’اس نے میرے باپ کو گالی دی ہے‘‘۔ عمر نے فرمایا تم بھی اس کے باپ کو گالی دے لو، مگر سلیمان نے اس شخص کو قتل کرادیا اس وقت سلیمان کے پاس اس کا بیٹا اور ولی عہد ایوب بھی تھا جس نے عمر کے انداز کو گستاخی پر محمول کیا اور اُن سے تکرار کی۔ سلیمان نے بیٹے کو ڈانٹا اور عمر سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔
ایک مرتبہ عمر کے کسی خادم نے سیلمان کے ایک ملازم کو زدو کوب کیا۔ اس غلام نے سلیمان سے شکایت کی اور جھوٹ بولا کہ عمر اس بات پر خوش ہوئے ہیں۔ عمر آئے تو سلیمان نے ان سے شکوہ کیا۔ عمر کو قطعاً کچھ علم نہ تھا کہ کیا ہوا۔ انہوں نے سلیمان کو یقین دلایا، ہمیں اس بات کا علم آپ کی اس گفتگو سے پہلے نہیں ہوا۔ سلیمان نے غصّے میں آکر کہا ’’تم جھوٹ بولتے ہو‘‘ عمر نے فرمایا ’’تو کہتا ہے، میں جھوٹ بولا، حالانکہ میں نے جب سے ہوشی سنبھالا ہے کبھی جھوٹ نہیں بولا، خدا کی زمین تیری مجلس سے زیادہ وسیع ہے‘‘۔ یہ کہہ کر سلیمان کی مجلس سے باہر نکل آئے اور گھر آکر مصر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ سلیمان کو اس بات سے آگاہ کیا گیا، تو اس نے ان کے پاس اپنے آدمی بھیج کر معذرت کی۔ انہیں اپنے پاس بلایا، اور کہا ’’آپ نے مصر جانے کا ارادہ کرکے مجھے جتنا پریشان کیا ہے، بخدا میں اتنا کبھی پریشان نہیں ہوا‘‘۔
سلیمان کی خامیاں خوبیاں اپنی جگہ، مگروہ عمر بن عبدالعزیز سے بہت محبت کرتا تھا، ابن سعد کے بیان کے مطابق سلیمان کے انتہائی معتمدوزیررجاء بن حیٰوۃ کہتے ہیں: ’’جب جمعہ کا دن آیا، سلیمان بن عبدالملک نے سبزرنگ کا لباس زیب تن کیا آئینہ دیکھا اور تعلّی سے بولا: ’’خدا کی قسم میں جوان بادشاہ ہوں!‘‘….. نماز کے لیے گیا، واپس آیا تو بیماری کا سخت غلبہ تھا۔ شاید علالت کی صورت میں وصیّت لکھی، جس میں اپنے نابالغ بیٹے! ایّوب کو ولی عہد بنایا تھا۔ میں نے کہا ’’امیر المومنین! وہ خلیفہ اپنی قبر میں کس طرح محفوظ ومامون رہسکتا ہے، جواپنے پیچھے اپنا جانشین کسی صالح آدمی کونہ بنائے‘‘۔ سلیمان نے یہ وصیّتپھاڑ دی، مجھ سے مشورہ کیا،پھر ہم دونوں عمر بن عبدالعزیز پر متفق ہوگئے، اور سلیمان نے یزیدن عبدالملک کو عمر کے بعد ولی عہد بنادیا۔ سلیمان نے جب وصیّتلکھ لی تو اس پر مہر لگائی۔ بنواُمیہّ کو طلب کیا گیا، سب لوگ جمع ہوگئے تو سلیمان نے رجاء سے کہا، میرا یہ مکتوب لے کر ان کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ، یہ میرا عہد نامہ ہے، اور حکم دو، اس کی پیروی کا اقرار کریں اور اس شخص کے لیے بیعت کریں، جسے میں نے اپنا ولی عہد بنایا ہے۔
ان سب نے بیعت کرلی تو رجاء یہ عہدنامہ لے کر اجتماع سے باہر آگئے۔ رجاء ہی روایت کرتے ہیں، جب سب امراء چلے گئے توعمر بن عبدالعزیزؒ میرے پاس آئے اور کہا مجھے اندیشہ ہے کہ اس مکتوب میں کچھ میرے متعلق بھی کہا گیا ہے، تم پر اﷲ مہربان ہو، مجھے اس سے آگاہ کردو، اگر یہ ایسا ہی ہے، جس کا مجھے خدشہ ہے، تو مجھے بتادو میں ابھی سے مستعفی ہو جاؤں، کیونکہ اس وقت تو یہ ممکن ہے اور بعد میں ممکن نہیں رہے گا۔ مگر رجاء نے انہیں آگاہ نہ کیا۔ رجاء نے ہشام بن عبدالملک پر بھی یہ راز افشاء نہ کیا، جس کا خیال تھا کہ یہ خدمت اس کے سوا کسی کو نہیں تفویض ہوگی۔
رجاء روایت کرتے ہیں….. میں پھر سلیمان کے پاس آیا، اس پر جان کنی کا عالم تھا….. میں نے اس کا منہ قبلے کی طرف کردیا، اور سلیمان کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے انتقال کرگیا۔ میں نے اس پر سبز رنگ کی چادر ڈال دی اور اس کی اہلیہ کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا اور بنوامیہّ سے ایک مرتبہ پھر بیعت لی، جس کی سلیمان نے دم واپسیں ایک مرتبہ پھر ہدایت کی تھی۔ سب لوگوں نے ایک ایک کرکے بیعت کی، میں نے اجتماع پر سلیمان کی موت ظاہر کردی۔ پھر عہدنامہ کھولا اور پڑھا۔ جب عمر بن عبدالعزیز کے ذکر پر پہنچا تو ہشام بن عبدالملک پکارا: ’’ہم اس کی بیعت نہیں کریں گے‘‘ …..
میں چلایا ’’بخدا تمہاری گردن ماردُوں گا۔ اٹھو اور بیعت کرو‘‘۔
وہ بادلِ نخواستہ اٹھا۔ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا ’’اٹھو اور منبر پر بیٹھ جاؤ‘‘۔ وہ بڑی کراہت سے اٹھے اور منبر پر بیٹھ گئے، ہشام ان کے پاس بیعت کے لئے آیا، تو اناﷲواناالیہ راجعون پڑھا اور کہا ’’افسوس! عبدالملک کی اولاد محروم رہی اور تم والی بنادیے گئے‘‘۔
عمر نے کہا ’’ہاں! حالانکہ میں اِسے ناپسند کرتا تھا‘‘….. اور پھر انہوں نے بھی اناﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا۔
رجاء کہتے ہیں کہ ایک موقع پر جب سلیمان کا آخری وقت تھا تو میں کبھی اس کے کمرے میں جاتا کبھی باہر جاتا، میں خاصاپریشان تھا مجھے عمرؒ نے اپنے پاس بلایا اورکہا ’’رجاء! میں تمہیں اسلام اور اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر امیر المومنین کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ تم سے میرے بارے میں مشورہ طلب کریں تو ان کا خیال میری طرف سے ہٹا دینا‘‘۔
ابن الجوزی لکھتے ہیں….. عمر بن عبدالعزیز بیعت اور سلیمان کی تجہیزوتکفین کے بعد جب مسجد میں آئے تو منبرنشین ہو کر مجمع سے مخاطب ہوئے ’’اے لوگو! میں اس کام میں اپنی رائے اور خواہش کے بغیر مبتلا کیا گیا ہوں۔ اس امر میں مسلمانوں سے مشورہ نہیں لیاگیا۔ میں نے تمہیں اپنی بیعت سے آزاد کیا۔ اپنے لیے جس کو چاہو، منتخب کرلو‘‘ ….
لوگ بیک آواز چیخے ’’ہم نے آپ کو اپنے لیے پسند کیا، اور آپ سے راضی ہو گئے!!‘‘…..
اس کے بعد عمر ؒ نے اس مجمع سے خطاب کیا اور کہا ’’اے لوگو! جس نے خدا کی اطاعت کی، اس کی اطاعت انسانوں پر واجب ہے۔ جس نے خدا کی نافرمانی کی، اس اس کی فرمانبرداری لوگوں پر ضروری نہیں۔ میں اگر اﷲ کی اطاعت کروں، تو میری اطاعت ضروری جانو، اور اگر میں خدا کی نافرمانی کروں، تو میری بات نہ مانو، یاد رکھو! میں تم سب سے بہتر آدمی نہیں ہوں، میں تم میں سے ایک آدمی ہوں، البتہ خدا نے مجھے تم سے زیادہ بوجھ اٹھانے کے لیے چن لیا ہے‘‘….. اس کے بعد بیعت عام کی تکمیل ہوئی، پھر وہ اپنی خیمہ گاہ میں آئے، جہاں خدّام نے اُن کے لیے سلیمان کے قالین بچھا رکھے تھے، انہوں نے قالین ہٹوادے اور ایک حقیر سا اُونی کھیس زمین پر بچھاکر سوگئے۔
ابن الجوزی کے مطابق خلافت پانے کے بعد سب سے پہلے جو شخص ان کے سامنے آیا، اس کی درد بھری داستان سن کر روپڑے اور اس شخص کو پانچ سو درہم فی الفور عطا فرمائے۔ دو سو اپنے پاس سے، اور تین سو بیت المال سے، اور دس دینار ماہانہ تنخواہ مقرر کردی۔ رات اپنی قیام گاہ پر بسر کی۔ اگلے روز سلیمان کی قیام گاہ پرتشریف لے گئے۔
عمر بن عبدالعزیزؒ نے ذات کا محاسبہ کرنے کے بعد اپنے خاندان کا محاسبہ کیا۔ ابن الحکم رقمطراز ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے بنوامیہّ کی تنخوا ہیں بھی بند کردی تھیں۔ ان سے پہلے خلفاء کے زمانے میں جو تنخوا ہیں انہیں دی جاتی تھیں، وہ حضرت عمر ؒ کے زمانے میں جاری نہیں رہی تھیں۔ حتیٰ کہ ان کو پھوپھی کی تنخواہ بھی بند ہوگئی تھی۔ یہ پھوپھی ایک رات شکوہ کرنے کے لیے حضر ت عمر کی بیوی فاطمہ کے پاس آئیں۔ اس وقت حضرت عمر ریاست کے کاغذات کا مطالعہ کررہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکا ان کا ذاتی چراغ لینے کمرے میں آیا تو فاطمہ نے پھوپھی سے پوچھا، اس وقت عمر ریاست کے کام سے فارغ ہوگئے ہیں، لڑکا ان کا ذاتی چراغ لینے آیا ہے، آپ اندر تشریف لے جائیں‘‘ پھوپھی اندر آئیں، تو حضرت عمر کھانا کھارہے تھے، ان کے سامنے روٹی کے دو ٹکڑے رکھے تھے، کچھ نمک تھا اور کچھ زیتون۔ پھوپھی نے یہ خوراک دیکھی تو کہنے لگیں ’’میں ذاتی غرض سے آئی تھی، مگراب خیال ہے کہ آغاز تم سے کروں، اور حضرت عمر کی خوراک پر تنقید کرتے ہوئے کہنے لگیں ’’کیا تم اس سے بہتر خوراک نہیں کھا سکتے‘‘….. حضرت عمر نے عرض کیا ’’پھوپھی! میرے پاس اتنا نہیں ہے کہ اس سے اچھی خوراک کھا سکوں، اگر میرے پاس ہوتا تو آپ کے حکم کی تعمیل کرتا‘‘….. پھوپھی نے اپنا ذکر چھیڑا ’’تمہارے چچا عمر الملک زندہ تھے تو وہ مجھے بڑی تنخواہ دیا کرتے تھے۔ پھر تمہارے بھائی ولید نے ان کی جگہ لی، تو اس میں اور بھی اضافہ کردیا۔ پھر تمہارے بھائی سیلمان آئے ، تو انہوں نے اس میں مزید اضافہ کردیا اور تم خلیفہ بنے ہو، تو میری تنخواہ ہی بند کردی ہے‘‘…..
حضرت عمر نے جواب دیا’’پھوپھی جان! میرے چچا عبدالملک، میرے بھائی ولید اور سلیمان آپ کو مسلمانوں کے بیت المال سے تنخواہ دیا کرتے تھے، اور یہ مال میرا مال نہیں ہے، میں آپ کو اپنے مال میں سے دے سکتا ہوں اگر آپ پسند فرمائیں‘‘…..
پھوپھی نے پوچھا’’تمہارے پاس کتنا مال ہے؟‘‘…..
انہوں نے جواب دیا ’’میری آمدنی دو سودینا رسالانہ ہے، یہ آپ لے لیں‘‘۔ پھوپھی بولیں ’’یہ میرے کیا کام آسکتی ہے؟‘‘ …..
حضرت عمر نے فرمایا ’’میرے پاس اس کے سوا ور کچھ نہیں ہے‘‘۔ پھوپھی نے یہ سنااور واپس ہوگئیں۔
ابن الجوزی کے مطابق حضرت عمرؒ کی یہ پھوپھی خاندان بھر کی وکالت کرنے ان کے پاس آئی تھیں، انہوں نے حضرت عمرؒ تک بنوامیّہ کے جذبات پہنچائے، اور ان سے کہا ، ان لوگوں کو شکایت ہے کہ تم ان سے ان کی روٹی چھیں لی ہے، حالانکہ یہ روٹی تم نے نہیں ، کسی دوسرے نے انہیں عطاکی تھی۔ حضرت عمرؒ نے جواب دیا ’’میں نے جوحق تھا وہ ادا کیا‘‘۔
اس کے بعد انہوں نے ایک دینار منگوایا۔ انگیٹھی منگوائی اور گوشت کاایک ٹکرا طلب کیا، دینار کو انگیٹھی میں تپایا۔ جب وہ خوب تپ گیا، تو اسے گوشت کے ٹکڑے پر رکھا۔ جس سے گوشت کا ٹکڑا بھن گیا۔ پھوپھی یہ کیفیت بڑی حیرت سے دیکھتی رہیں، جب گوشت کا ٹکڑا خوب جل گیا، تو حضرت عمر نے اپنی پھوپھی سے کہا ’’پھوپھی! کیا تم اپنے بھتیجے کو اس قسم کے عذاب سے بچانا نہیں چاہتیں‘‘۔
بن خطاب ؒ پھوپھی اپنا سامنہ لے کر بنوامیّہ کے پاس آئیں، اور ان سے کہا ’’تم عمرؒ کے خاندان میں نکاح بھی کرتے ہو، اور جب اس قسم کے بچے پیدا ہوجاتے ہیں، تو شور بھی مچاتے ہو۔ اب صبر کرو‘‘۔
عمر بن العزیزؒ کی پھوپھی نے جو کچھ کہااُس کے پس منظر کو ممتاز مصری محدثِ ابن الحکم نے عبداﷲ بن وہب سے اس طرح ہے:
خلیفہ دوئم حضرت عمر بن خطابؒ نے اپنے زمانۂ خلافت میں دودھ میں پانی ملانے کی ممانعت کی تھی۔ ایک رات وہ مدینہ کے نواح میں گشت کے لیے نکلے۔ انہوں نے ایک عورت کو اپنی بیٹی سے کہتے سنا۔ ’’صبح ہونے کو ہے تو اپنے دودھ میں پانی کیوں نہیں ملالیتی‘‘۔ بیٹی نے جواب دیا۔ ’’میں دودھ میں کیسے پانی ملاؤں۔ امیر المومنین نے منع کر رکھا ہے‘‘۔ ماں نے کہا: ’’لوگ ملاوٹ کرتے ہیں تو بھی کرلے امیر المومنین کو کیسے پتہ چلے گا؟‘‘ بیٹی نے کہا: ’’اگر عمر کو علم نہ ہوگا تو اس کے خدا کو تو اس کی خبر ہوگی۔ میں ایسا کام نہیں کرسکتی، جس کی امیر المومنین نے ممانعت کر رکھی ہے‘‘۔
حضرت عمر نے یہ باتیں سن لیں۔ جب صبح ہوئی تو اپنے بیٹے عاصم کو بلوایا اور کہا۔’’بیٹے! اس گھر جا اور اس لڑکی کے بارے میں معلومات حاصل کر‘‘۔ عاصم نے معلومات حاصل کیں تو یہ لڑکی بنی ہلال سے تھی، عاصم نے حضرت عمر کو تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ حضرت عمر نے اسے حکم دیا کہ اس لڑکی سے نکاح کرلو۔ ممکن ہے یہ لڑکی ایسے شہسوار کو جنے، جو عرب کی زینت بنے، جو عرب کی شان بڑھانے اور اس کا سردار۔ عاصم نے اس لڑکی سے نکا کرلیا اور اس لڑکی نے اس خاتون کو جنم دیا جس کا نکاح عبدالعزیز سے ہوا….. وہ عمر کی ماں بنی….. عمر ثانیؒ کی ماں…..
ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کہیں سفر پر تھے، فرات بن مسلم ساتھ تھے۔ اس سفر میں انہیں سیب کھانے کی خواہش ہوئی، ایک جگہ کچھ خدام سیبوں کے طباق اٹھانے نظر آئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنی سواری ان میں سے ایک غلام کے قریب کی، طباق میں سے ایک سیب اٹھایا، اسے سونگھا،پھر اسے طباق میں رکھ دیا اور حکم دیا ’’اپنے گھر میں گھس جاؤ۔ خبردار اگر تم میں سے کسی نے میرے کسی آدمی کو ئی چیز تحفتاً دی‘‘…..فرات بن مسلم کہتے ہیں میں نے اپنے خچر کو ایٹر لگائی۔حضرت عمر کے قریب آیا ور ان سے عرض کیا ’’اے امیرالمومنین! آپ نے سیب کھانے کی خواہش کی تھی، ہم نے تلاش کیے، نہ ملے۔ یہ آپ کے حضور تحفتاً پیش ہوئے اور آپ نے انہیں یونہی لوٹادیا….. کیا رسولِ اکرمؐ، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ تحفہ قبول نہیں کرتے تھے؟‘‘…..
حضرت عمرؒ نے کہا ’’وہ رسول اﷲ ﷺ، ابوبکر صدیقؓ اور عمرؓ کے لیے تحائف تھے، مگران کے بعد کے عمال کے لیے مناسب نہیں ہیں‘‘۔
ابن الجوزی اور ابنِ کثیر نے لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اپنی ایک ملازمہ سے کہا مجھے پنکھا جھلو۔ ملازمہ پنکھا جھلنے لگی۔ اُسے نیند آگئی اور سوگئی۔ حضرت عمرؒ نے آہستہ سے اس کے ہاتھ سے پنکھا لے لیااور اسے جھلنے لگے۔ اسی دوران جاریہ کی آنکھ کھلی۔ حضرت عمرؒ کوپنکھا جھلتے دیکھ کر گرگھبراگئی ، اور واویلا کرنے لگی۔ حضرت عمر نے کہا’’پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، تو بھی میری طرح انسان ہے۔ تجھے بھی گرمی لگی، جیسے مجھے لگی۔ میں نے چاہا، تمہیں اسی طرح پنکھا جھلوں ، جس طرح تو نے مجھے جھلا:
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا امتِ مسلمہ پرایک بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے بنوہاشم اور بنوامیّہ کے مابین قبائلی نفرتوں کو دور کرنے کی سعی کی۔ انہوں نے حضرت علیؓ کو برسر منبر تبرا بھیجنے کو حکما بند کیا۔ وہ جب خود منبر پر چڑھتے تو قرآن حکیم کی وہ آیات پڑھتے جن میں کدودت رکھنے پر منع کیا گیا ہے۔ گویا دوسرے لفظوں میں وہ ہر جمعہ کے دن مسلمانوں سے کہتے کہ مسلمانوں سے کدورت رکھنے جائز نہیں ۔ انہوں نے اس بارے میں بڑی سختی فرمائی۔ فاطمہؓ بنت علیؓ کا کہنا ہے میں حضرت عمر کے پاس آئی، وہ ان دنوں مدینہ کے گورنر تھے۔
انہوں نے مجھ سے کہا ’’اے علی کی بیٹی! خدا کی قم اس زمین کے تختہ پر مجھے تمہارے خاندان سے زیادہ کوئی خاندان عزیز نہیں، حتیٰ کہ تم مجھے میرے گھروالوں سے بھی زیادہ پیار ی ہو‘‘۔
حضرت عمر ؒ مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے فوراً بعد دس ہزار دینار مدینہ بھجوائے اور ابنِ حزم کو حکم دیا’’ یہ بنوہاشم میں تقسیم کردو‘‘۔ ان دس ہزار دینار میں سے بنوہاشم کے ہرفرد، مرد، عورت، بچے اور بوڑھے کو بلا امتیاز پچاس پچاس دینار فی کس ملے جس پر فاطمہ بنتِ حسینؒ نے انہیں ایک خط میں لکھا ’’تم نے رسول اﷲﷺ کے اہلبیت کی اس روپے کے ذریعے اس درجہ مدد فرمائی ہے کہ جس کے پاس خادم نہیں تھا، اس نے خادم رکھا لیا۔ جس کے پاس لباس نہیں تھا، اُسے خرچ کرنے کے لیے روپیہ مل گیا ہے ‘‘۔ ابن سعد مزید لکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنتِ حسینؒ کا قاصد ان کا خط لے کر حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے پاس آیا تو انہوں نے قاصد کو دس دینار اس کی کلفت ومشقت کے دیے اور پانچ سودینار حضرت حسینؓ کی صاحبزادی کے پاس بھجوائے کہ ان کی جو ضرورتیں تشنہ رہ گئی ہیں ، وہ پوری کرلیں۔
امویوں کے دور میں امراء، موالی یا آزاد کردہ غلاموں کے ساتھ چلنا بھی پسند نہ کرتے تھے، نہ ان کی سواریاں آگے بڑھنے دیتے اور نہ ہی مجالس میں انہیں عربوں کے ساتھ بٹھاتے۔ اگر موالی اپنی بیٹیوں یا بہنوں کا نکاح ان کی مرضی کے بغیر کردیتے تو امراء انہیں فسخ کردیتے۔ امویوں نے موالی اور غیر عربوں کے اسلام قبول کرلینے کے بعد بھی انہیں جزیہ اور خراج معاف نہیں کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے نزدیک یہ انتہائی ظالمانہ بات تھی۔انہوں نے عنانِ حکومت سنبھالتے ہی اس کی اصلاح کی….. حاکمِ مصرحیان بن شریح کے نام مکتوب میں کہا ’’اہل الذمہ میں سے جو اسلام لے آئے، ان سے جزیہ نہ لو، کیونکہ اﷲ تعالےٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے توبہ کرلی، نماز پڑھنے لگے اور زکوٰۃ دی، ان کا رستہ چھوڑ دو‘‘…..
شریح نے جواب میں لکھا ’’اگر ان سے جزیہ نہ لیا جائے تو آمدنی بہت کم ہوجائے گی اور ریاست کے خزانے پر بہت برا اثر پڑے گا‘‘…..
حضرت عمرؒ اس کاجواب لکھا ’’مجھے تمہارا خط ملا ، میں نے تمہیں مصر کی سپاہ پر حاکم بنایا، حالانکہ مجھے تمہاری کمزوریوں کا علم تھا۔ میں نے اپنے پیغام رسال کو حکم دیا ہے کہ تمہارے سرپر بیس کوڑے مارے۔ تمہاری رائے کس قدر بُری ہے کہ، اس آدمی سے جزیہ نہ لو، جو اسلام لے آئے….. خدا نے رسول اﷲﷺ کو ہادی بناکر بھیجا، جزیہ وصول کرنے والانہیں بنایا۔ مجھے اپنی زندگی کی قسم، عمرؒ کو یہ بات بہت عزیز ہے کہ اس کے ہاتھ پر سارے کے سارے لوگ اسلام لے آئیں‘‘۔
مسلم، حضرت عمر کی بیوی کے حقیقی بھائی اور عبدالملک جیسے بڑے تاجدار کے بیٹے تھے۔ ان میں اور ایک عیسائی جھگڑا ہوگیا۔ دونوں مقدمہ لے کر حضرت عمر کے پاس آئے۔ مسلم اپنی حیثیت کے پیش نظر آتے ہی مسند پر بیٹھ گئے۔ ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؒ ان سے کہا ’’تمہارا فریقِ مخالف میرے سامنے کھڑا ہے، تم اس وقت مسند پرنہ بیٹھو، البتہ تم اگر چاہو تو اپنی جگہ اپنا وکیل کھڑا کر سکتے ہو‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے مسلم کو مسند سے اٹھادیا، اور فریقین کا مؤقف سننے کے بعدفیصلہ مسلم کے خلاف صادر فرمایا۔
ذمیوں کے متعلق حضرت عمرؒ کی حکمتِ علمی سمجھنے کے لیے ان کاوہ مکتوب بڑی مدد دے گا جو انہوں نے خراسان کے والی عتبہ کے نام لکھاتھا، حضرت عمرؒ فرماتے ہیں ’’خراج وصول کرنے میں شرافت اور انصاف سے کام لو۔ زیادتی قطعاً اختیار کرو۔ اگر اس طرح کافی رقم مل جائے اور اس سے تنخواہیں پوری ہوجائیں تو خیر، ورنہ ہمیں لکھو، ہم یہاں سے تمہیں روپیہ بھیجیں‘‘۔ غور کا مقام ہے کہ ان سے پہلے کے اموی….. اپنے عمال کو حکم دیتے تھے، خراچ بڑھاؤ، تاکہ آمدنی بڑھے اوریہ آمدنی سلیمان کے دورِ حکومت تک بڑھتی رہی۔ خراج کی رقم بڑھانے کے لیے طرح طرح کے ظالمانہ اقدامات کیے جاتے۔کیونکہ یہ حکمران ذمّیوں کا ذرہ بھر احساس نہ کرتے تھے۔ مگر عمر ثانیؒ اس آمدنی کو اس حدتک گھٹانے کے لیے تیار تھے کہ اس سے خواہ تنخواہ بھی وصول نہ ہو، ان کے نزدیک اصل ضرورت عدل وانصاف کا قیام تھا نہ کہ روپے کا حصول یا آمدنی میں اضافہ۔
عصرِ حاضر میں بعض یورپی ممالک نے قیدیوں اور مجرموں کی اصلاح اور فلاح وبہبود کے لیے ادارے قائم کیے ہیں۔ 99ء ہجری میں اموی تخت پر بیٹھنے والے عمر بن عبدالعزیز اس تحریک کے سب سے پہلے مجوز اور بانی تھے۔ ابن حزم نے جو مدینہ کے والی تھے، حضرت عمرؒ کو اطلاع دی کہ بعض عمال پر خیانت کا الزام ہے۔ اگر آپ اجازت دیں، تو میں انہیں جرم اگلوانے کے لیے سخت سزا دوں۔ حضرت عمر نے اس کے جواب میں لکھا ’’یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم ہم سے لوگوں کو عذاب دینے کی اجازت چاہتے ہو۔ شاید تمہارا خیال ہے کہ ہماری اجازت تمہیں اﷲ کی پکڑ اور سختی سے بچا لے گی۔ خیال رکھو! اگر تمہارے پاس یہ بیّن ثبوت ہو، کہ فلاں شخص کے پاس کچھ ہے تو اس سے وہ کچھ لے لو۔ یا اگر کوئی شخص خود ہی کسی چیز کا اقرار کرے، جو انکاری ہواور قسم کھائے تو اس کا راستہ چھوڑدو‘‘۔
جرائم پر حد سے زیادہ سزا کی ممانعت کے ساتھ ساتھ انہوں نے قیدیوں کے حال پر بڑی توجہ فرمائی۔ ابن سعد نے ابوعبید ہ کی ایک روایت بیان کی ہے کہ حضرت عمر نے تمام گورنروں کے نام قیدیوں کے بارے میں جوبیان جاری کیا، اس میں ہدایت کی’’انہیں سزادیتے میں سختی نہ کرو۔ ان میں جو بیمار ہیں، اُن کی تیمارداری کرو۔ جن کا کوئی نہ ہویا جن کے پاس مال نہ ہو، ان کی خبر گیری کرو۔جن لوگوں کو قرضوں کی عدم ادائیگی کے سلسلہ میں قید کرو، انہوں دوسرے قیدی مجرموں کے ساتھ ایک جیل یا ایک احاطہ میں یکجانہ کرو۔ عورتوں کے لیے الگ جیل خانہ بنواؤ‘‘۔
حضرت عمر نے ہر قیدی کو تنخواہ مقرر کی ، جو انہیں ملازموں کی طرح نہایت باقاعدگی کے ساتھ ادا کی جاتی تھی۔ قاضی ابویوسف نے حضرت عمر ثانی ؒ کا ایک فرمان نقل کیا ہے، جس میں متذکرہ ہدایات کے علاوہ متعلقہ حکام کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں ’’مسلمان قیدیوں کو اس قسم کی بیڑیاں نہ پہنائی جائیں، جن کے سبب انہیں کھڑے ہوکرنماز پڑھنے میں دشواری ہو۔ رات کے وقت قیدیوں کی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں اور اتارلی جائیں تاکہ وہ آرام کرسکیں اور سوسکیں۔ ہر قیدی کواپنی تنخواہ وصول کرنے اور اپنا کھانا آپ تیار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، جیلوں میں کھانا تیار نہ کیا جائے۔ کیونکہ جیل کے کا رندے ایسا کھانا تیار نہیں کرتے۔ ہر قید میں کو جاڑوں میں ایک کمبل اور ایک کرتا اور گرمیوں میں ایک کرتا اور ایک تہ بند مہیا کیا جائے۔ عورتوں کو ضروری لباس کے علاوہ ایک فاضل چادر دینا ہوگی۔ بیمارقیدیوں کا علاج سرکاری خرچ پر کرایا جائے۔ مردوں کی تجہیز وتکفین سرکاری اخراجات پر ہوگی۔ اس ہدایت نامہ کی ایک انتہائی اہم دفعہ یہ تھی کہ جیل میں صرف ان لوگوں کو بند کیا جائے، جن پر جرم ثابت ہوجائیں اور جن پر جرم ثابت نہ ہوں انہیں محض شبہ کی بنیاد پر قید نہ کیا جائے‘‘….. حضرت عمر کے اس ہدایت نامہ کی بناء پر ان کے زمانے کی جیلیں تربیت گا ہوں میں بدل گئیں اور اکثر قیدی جب رہا ہوتے تو انتہائی عمدہ اخلاق کے مالک شہری ہوتے۔ حضرت عمر کی سلطنت چھوٹی سی نہ تھی….. حجاز کے ریگزار، شام کے سبزہ اورعراق بھی اس میں شامل تھا، جس کی آبادی اس وقت کی معلوم دنیا میں سب سے زیادہ تھی ایران، کا شغر، کرمان، سندھ بلخ، بخارا، کابل وفرغانہ، جزیرۂ موصل، مصر، افریقہ، اور اندلس بھی اس سلطنت میں شامل تھے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دورِ حکومت میں جو صرف دوسال پانچ ماہ کا مختصر دور تھا، دنیا ایک بار پھر سمجھنے لگی تھی کہ اسلام آدمیوں کی حفاظت اور انسانوں کو فلاح وبہبود کے لیے آیا ہے، مگر بنوامیہ، حضرت عمر کی وجہ سے سلی میں مبتلا ہوگئے تھے….. خصوصاً یزیدبن عبدالملک کو خطرہ تھا کہ حضرت عمر اسے معزول ہی نہ کردیں اگرچہ سلیمان کی وصیّت کی روسے یزیدبن عبدالملک ولی عہد تھا، پھر بھی عمر بن عبدالعزیز کے اندازِ فکر سے یہ بعیدنہ تھا کہ وہ یزیدکو معزول کردیں، کسی صالح آدمی کو نامزد کردیں۔ اس اندیشے نے یزید کو ان کے خلاف ایک ساز ش تیار کرنے پر اکسایا۔ ابن کثیر کے الفاظ میں ’’حضرت عمر کے ایک خادمِ خاص کو ایک ہزار دینار کے عوض خریدا گیا، جس نے انہیں کھانے یا پانی میں زہردیدیا۔ ابن کشمیر کے مطابق جب حضرت عمر سے زہر دیے جانے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا ’’مجھے اسی دن پتہ چل گیا تھا جب مجھے زہر دیا گیا تھا‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؒ نے چشم پوشی سے کام لیا۔ مگر جب یہ خبر عام ہوئی تو انہوں نے اپنے خادم کو بلایا۔ اس سے وہ رشوت کی رقم لے کر بیت المال میں جمع کرادی اور اسے کہا ’’بھاگ جاؤ کہیں خاندان کے لوگ تم سے انتقام نہ لیں‘‘۔
عمر ثانی ؒ کی طویل علالت کے دوران ان کی بیوی فاطمہ، اور ان کے بھائی مسلم ان کے تیمار دار تھے۔ مسلم نے ان سے درخواست کی ’’امیر المومنین! آپ کی بہت اولاد ہے، جسے آپ نے بیت المال سے محروم کردیا ہے، مجھے یا خاندان کے کسی فرد کو حکم دیجیے کہ ہم ان کے لیے آپ کے جیتے جی کچھ کردیں‘‘۔
حضرت عمرؒ نے کہا ’’اے مسلم! بخدا ہم نے ان سے ان کا حق نہیں چھینا اور نہ ہم ان کو دوسروں کامال دے سکتے ہیں۔ وہ نیک ہونگے تو اﷲ نیکوں کا والی ونگراں ہے، وہ بُرے ہوں گے تو، میں ان کی برائی میں ان کا مددگار نہیں بننا چاہتا‘‘۔
حضرت عمرؒ کے دمِ واپسیں اُن کی بیوی فاطمہ اور مسلم بن عبدالملک ان کے پاس بیٹھے تھے۔ ان دونوں سے انہوں نے کہا ’’میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ میرے پاس کوئی مخلوق بڑی کثرت سے جمع ہورہی ہے وہ نہ جن ہیں اور نہ انسان‘‘۔ فاطمہ اور مسلم کمرے میں آگئے، جہاں انہیں آواز آئی، کوئی پڑھ رہا تھا۔

تلک الدار الاخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوانی الارض ولافساداط والعاقبۃ للمتقینOط

ترجمہ:پھر یہ آواز بند ہوگئی۔ کچھ دیر کے بعد فاطمہ، مسلم اور دوسرے تیمار دار حضرت عمر کے کمرے میں واپس ہوئے تو دیکھا کہ فاروق ثانی، اسلامی نظام حیات کو حیاتِ نوبخشنے کے بعد اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کرچکے تھے

اناﷲ وانا الیہ راجعوان

یہ جمعہ کی رات تھی 101ہجری، رجب کا مہینہ ختم ہونے میں پانچ یادس دن باقی تھے اور عربن عبدالعزیز کی عمر چالیس سال ایک ماہ تھی۔ ان کی وفات پر پوری ملتِ اسلامیہ غم میں ڈوب گئی۔ متاعِ کثیر کے مرثیہ کا ایک شعر اس مفہوم کا ہے ’’اس کی نیکیوں کا دامن جتنا وسیع تھا، اتنا ہی وسیع اس کی موت کا غم ہوا‘‘۔
جریر نے بھی مرثیہ لکھا، جس میں کہا گیا تھا ’’سورج گہنا گیا، وہ غم کے مارے اپنا چہرہ نہی دکھاتا۔ تجھ پر رات کے تارے بھی روتے ہیں اور چاند بھی ماتم کناں ہے‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے