عوج بن عنق! تاریخ انسانی کا طویل ترین اور سب سے دیوقامت شخص۔

عوج بن عنق

آپ نے اکثر ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں جائنٹس یعنی دیوقامت انسان دیکھے ہوں گے، جو لمبی چوڑی جسامت کے ساتھ ساتھ بھرپور قوت کے مالک بھی ہوتے ہیں۔سندھ باد جہازی کے سفر نامے ہوں یا الف لیلیٰ کی داستانیں ایسے دیوقامت انسانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں جو انسانوں کو اپنے ہاتھوں سے مسل دینے اور پیروں سے کچل دینے پر قادر تھے۔لیکن دوستوں فلموں اور ڈراموں کے ساتھ ساتھ ایک ایسے شخص کا تذکرہ بھی تاریخی کتابوں میں موجود ہے جس کے طویل قد کا یہ عالم تھا کہ وہ سمندروں میں چلتا تو ڈوب نہ سکتا تھا، روایتوں کے مطابق اس شخص نے تین ہزار پانچ سو برس  کی عمر پائی، اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک کے ادوار دیکھے۔   جبکہ اسی شخص سے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ طوفانِ نوح کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار نہ ہوا اس کے باوجود یہ طوفان اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ یہ وہ واحد کافر شخص بتایا جاتا ہے جو  طوفانِ نوح سے بچ نکلا۔

تذکرۂ انبیاء اور دیگر تاریخی کتب میں اس شخص کا نام عوج بن عنق بتایا جاتاہے۔ اس کی ماں کا نام صفورہ تھا جو حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹی تھیں،   عوج بن عنق کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں ہاتھ ڈال کر مچھلی پکڑلاتا اور اپنی لمبائی کے سبب اسے سورج کی تپش سے بھون کر کھاتا تھا۔ یہ  طویل و دراز قامت شخص  انتہائی سرکش ، کافر اور جابر تھا،  جبکہ  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی پیدائش زنا کی نتیجے میں ہوئی۔

عوج بن عنق کا قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے  کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم ِ بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے بحفاظت نکال لائے تو  اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ جہاد کرو اور عمالقہ نامی قوم سے  ملک شام چھین لو پھر ہمیشہ کے لیے وہ ملک تمہارا ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارہ اشخاص کو بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا سردار مقرر کیا تھا ، آپ نے  ان بارہ سرداروں کو ملک شام کے حالات کی خبر لانے اس ملک میں بھیجا۔ یہاں  ان سرداروں کا سامنا عوج بن عنق نامی اس دیو قامت انسان سے ہوا۔ عوج بن عنق نے ان سرداروں کی حقیقت جاننے کے بعد ان سب کو پکڑ لیا اور انہیں دکھانے کے لیے اپنی بیوی کے پاس لے آیا، عوج نے اپنی بیوی سے کہا کہ دیکھو یہ سب میرے ساتھ لڑنے کو آئے ہیں یہ کہہ کر زمین پر رکھ کر اس نے چاہا کہ انہیں چیونٹی کی طرح پیر سے مسل دے، لیکن اس کی بیوی نے ان سب سرداروں کی جان بخشی کروائی ۔ یہ تمام سردار  اس قوم کی کثرت اور قوت دیکھ کر بہت زیادہ ڈر گئے ،  انہوں نے اپنی قوم میں واپس  آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے  وہاں کا حال بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہاں کے پھل  بھی بہت بڑے بڑے ہیں، انار کا صرف ایک دانہ ایک آدمی کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے۔

اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان تمام سرداروں سے کہا کہ تم قوم کے پاس ملک کی شام کی خوبیاں بیان کرنا اور دشمن کی طاقت و قوت کو بیان نہ کرنا۔ لیکن پیغمبرِ خدا کے اس حکم پر صرف دو افراد یعنی یوشع بن نون اور کالوت بن قتادہ ہی قائم رہ سکے ۔ باقی  تمام سرداروں نے  ملک شام میں بسنے والے افراد کی طاقت و قوت کا حال قوم بنی اسرائیل کو سنادیا۔ جس پر بنی اسرائیل نے چاہا کہ وہ جہاد میں نہ جائیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ  اے لوگو! تم مت گھبراؤ   کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدۂ نصرت فرمایا ہے کہ میں تمہیں ان کافروں پر فتح دوں گا ، دوسری طرف بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا  ‘‘اے موسیٰ وہاں بے شک ایک زبردست قوم ہے، ہم وہاں ہرگز نہیں جائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔ یوشع بن نون اور کالوت بن قتادہ  نے بھی اپنی قوم کو ترغیب دی کہ وہ اللہ پر یقین رکھیں اور حملہ کریں ۔اس پر وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ تو اور تیرا رب دونوں جاکر ان سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھیں رہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے  قوم بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے سبب چالیس سال تک ملک شام کی سرزمین ان پر حرام کردی، اور یہ قوم جنگلوں میں پھرتی رہی۔ روایتوں کے مطابق  اپنی قوم کی نافرمانی کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام خود ہی عوج بن عنق کے خاتمے کے لیے روانہ ہوئے، جب عوج بن عنق نے انہیں دیکھا تو چاہا چیونٹی کی طرح پیروں سے مل دے اور کہا  کہ تو ہے قومِ بنی اسرائیل کا وہ سردار جس نے فرعون کو دریائے نیل میں ڈبودیا ہے،پھر اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حملہ کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی جوابی حملہ کیا۔ اور دس گز اوپر اچھل کر اس کے ٹخنوں پر عصا مارا، یہ ضرب ایسی کاری تھی کہ عوج بن عنق نامی یہ پہاڑ جیسا شخص وہی گر کر مرگیا۔ اور اس کی ہڈیاں مدتوں اس میدان میں پڑی رہیں۔

بہت سی کتبِ تفاسیر اور تاریخ میں لکھے عوج بن عنق کے واقعات کے باوجود مشہور مورخ ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عوج بن عنق جیسے کسی بھی طویل قامت شخص کے وجود کی سختی  سے تردید کرتے ہیں۔ ابن کثیر  کا کہنا ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں میں سے کوئی چلتا پھرتا شخص زندہ نہیں چھوڑا۔  اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے  کہ :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘‘نوح علیہ السلام اپنی قوم میں پچاس کم ہزار سال ٹھہرے انہوں نے ایک سو سال شجرکاری کی وہ درخت بڑے ہوئے تو ان کو کاٹا اور ان کی کشتی تیار کی۔ لوگ اس کے پاس سے گزرتے  اور مذاق کرتے اور کہتے تو خشکی میں کشتی بنارہا ہے، وہ کیسے چلے گی؟ تو نوح علیہ السلام فرماتے تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا۔  جب نوح علیہ السلام کشتی بناکر فارغ ہوئے تو زمین سے پانی اُبلا اور گلیوں میں پھیلا تو ایک بچے کی ماں ، بچے پر ڈری ، اسے اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت تھی ، وہ اس کو لے کر پہاڑ کی طرف نکلی اور ایک تہائی بلندی تک پہنچی جب پانی وہاں تک پہنچ گیا وہ بچے کو لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چلی گئی، جب پانی اس کی گردن تک پہنچا تو اس نے بچے کو دونوں ہاتھوں کے ساتھ اوپر اُٹھالیا، پھر وہ دونوں ڈبودیے گئے۔ اگر اللہ قومِ نوح میں سے کسی پر رحم کرتا تو بچے کی ماں پر رحم فرماتا۔ ( مستدرک للحاکم)

جبکہ عوج بن عنق کے بارے میں کہا جاتا ہے  کہ وہ انتہاء درجے کا کافر ، سرکش اور نافرمان تھا، وہ نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار دیکھ کر کہتا یہ تیرا تھال کیا حیثیت رکھتا ہے اور ان سے مذاق کرتا ۔ حافظ ابن کثیر کے مطابق عوج بن عنق نامی شخص کی کہانی جھوٹی اور من گھڑت ہے، جس کی تردید بخاری اور مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے:

‘‘نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اور اب تک انسانوں کے قد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ ’’

اس حدیث کا تقاضہ یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی اولاد میں آدم علیہ السلام سے زیادہ لمبے قد کا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا۔ بحیثیت مسلمان ہمارا  ایمان حدیث نبوی  ﷺ پر ہے ناکہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں بیان کردہ قصوں پر۔

جبکہ موجودہ دور میں  سائنسی تحقیقات سے بھی اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ کوئی شخص  فضا میں ہاتھ بلند کرے اور مچھلی بھون لے کیونکہ ہم جیسے جیسے زمین سے اوپر جاتے ہیں، سردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے پہاڑوں پر ٹھنڈک ہوتی ہے ، عوج بن عنق کا افسانہ تخلیق کرنے والا جھوٹا شخص چونکہ اس حقیقت سے ناآشنا تھا اس لیے وہ عوج بن عنق کے قد کی لمبائی میں مبالغہ آمیزی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ہاتھ اونچا کرکے سورج کی گرمی سے مچھلی بھون لیتا تھا۔ حالانکہ اگر فرض کیا جائے کہ اس کا قد میلوں لمبا بھی ہوتا تو مچھلی اوپر کرنے سے بھننے کے بجائے منجمد ہوجاتی۔  (تفسیر ابنِ کثیر)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے