غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک چند انسان۔

سپر مین

آپ نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جن میں حیرت انگیز صلاحیتیں ہوتی ہیں، کوئی مونچھوں سے گاڑی کھینچ لیتا ہے اور  بھاری سے بھاری وزن اُٹھا سکتا ہے،  کوئی پہاڑ کی چوٹی کم سے کم وقت میں سر کرلیتا ہے تو کوئی اسپورٹس میں ریکارڈ بنالیتا ہے۔

یوں تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ  کے تحت  دنیا میں ہر سال کو کوئی نہ کوئی عالمی ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں،  لیکن بہت سے لوگ ایسے ایسے ریکارڈ بنا لیتے ہیں جس کے بارے میں ہم خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔  ایسا کرتے ہوئے نہ صرف وہ دنیا بھر میں نام کما لیتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو سپر ہیومن SuperHumanیعنی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انسانوں کے زمرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔   کچھ ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جرمنی کی ویرونیکا سیڈر Veronica Seider….

سُپر ویژن  ۔ ویرونیکا سیڈر

ویرونیکاویرونیکا ، 1951ء میں مغربی جرمنی میں پیدا ہوئی،  اس نے  بچپن میں عام لڑکیوں کی طرح تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے   جرمنی کی  اسٹیوٹ گارٹ  یونیورسٹی  میں داخلہ لیا۔   1972ء میں یونیورسٹی میں  زمانۂ طالب علمی کے دوران ہی ویرونیکا اور اس کے ساتھی طالب علموں پر انکشاف ہوا کہ ویرونیکا کی عقابی نظر عام انسانوں کے مقابلے میں  کافی تیز ہے۔   ایک عام طالب علم جس   تحریر یا شخص کو 20 فیٹ کے فاصلے  پر بمشکل  پڑھ اور شناخت کرسکتا ہے،  ویرونکا اسی تحریر کو ایک میل یعنی 1.6 کلومیٹر کے فاصلے سے پڑھ اور شناخت کرسکتی ہے۔   یعنی اس کے نظر عام انسانوں کی نظر سے 20 گنا تیز تھی،  وہ کسی بھی شخص اور  اس کے خدوخال، رنگ و لباس  کے بارے میں دور سے بتادیتی۔  یونیورسٹی میں سب اسے   ٹیلی ا سکوپ  سے تشبیہہ دیتے ۔ ویرونیکا باریک سے باریک چیزوں کو بھی دیکھ لیتی تھی۔

یونیورسٹی میں ایک ٹیسٹ کے دوران، دس صفحات پر مبنی خط کو  ایک ڈاک ٹکٹ کے برابر مائکرو کیا گیا جسے ویرونیکا نے ایک ایسے طالب علم سے پہلے پڑھ دیا جو عام کاغذ پر پڑھ رہا تھا۔

ویرونیکا نام  گنیز  بک آف ریکارڈ میں بھی شامل ہوا لیکن  ویرونیکا نے اس سپر پاور صلاحیت سے شہرت اور پیسہ کمانے کے بجائے اپنے من پسند شعبے کو منتخب کیا اور آج وہ جرمنی میں ایک ڈینٹسٹ ہے۔

ایکسرے گرل  ۔ نتاشا ڈیمکینا

نتاشاماسكوروس کی رہنے والی 17 سال کی نتاشا ڈیمکینا Natasha Demkina ایسی لڑکی ہے جو دعوی کرتی ہے کہ اس کی آنکھوں میں ایکس رے وژن ہے۔   اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے جسم کے اندرونی حصے کو دیکھ اور بیماریوں کی شناخت کر سکتی ہے۔ وہ لوگوں کے اندر ہڈیوں کے آرپار دیکھ سکتی ہے لہذا اسے روس میں XRay Girl  یعنی ‘‘ایکسرے جیسی  آنکھوں والی لڑکی’’ کہا جاتا ہے۔

جی ہاں! نتاشا محض کھلی آنکھوں سے جسم کی ہڈیاں گن سکتی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کے بارے میں بتا دیتی ہے۔  جو کام ہم ایکس رے مشین سے کرتے ہیں وہ  کام کھلی   آنکھوں سے کر سکتی ہے۔

امریکہ کے تحقیقی ادارے  اسپکٹیکل  انوائری کمیٹی CSICOP میں نتاشا کی صلاحیتوں کا ٹیسٹ لیا گیا۔  اوریگن یونیورسٹی میں سائیکلوجی کے پروفیسر  رے ہیمن Ray Hayman کی زیر نگرانی  ڈاکٹروں نے پہلے نتاشا کو  چھ مختلف امراض  اور ان امراض کے دوران اندرونی جسم اور ہڈیوں  کی بگڑی ساخت کے بارے میں بتایا پھر نتاشا کے سامنے سات افراد لائے گئے۔ ان میں چھ تو مریض  تھے اور ایک کو کوئی مرض نہ تھا۔ نتاشا نے حیرت انگیز طور پر ہر ایک شخص کو دیکھ کر اس کے جسم میں ہونے والی خرابی کو   شناخت کرلیا۔

نتاشا کی اس خوبی کو اب تک امریکہ، برطانیہ اور جاپان کے بہت سے سائنسدان بھی پرکھ چکے ہیں۔ کوئی بھی نتاشا کی اس پاور کی وجہ نہیں جان سکا،  اب تک نتاشا نے جس کے بارے میں جو بھی کہا ہے وہ صحیح نکلا ہے. تاہم، وہ جو دیکھتی ہے اسے سمجھنے میں اسے کچھ وقت لگتا ہے،  پر وہ کامل بیماری پہچان لیتی ہے۔  کبھی کبھی تو وہ بہت ہی ابتدائی مرحلے میں اس بیماری کو بھی شناخت کرلیتی ہے جسے ڈاكٹرز  نہیں پہچان پاتے۔

حال ہی میں جاپاني ڈاكٹر  کے سامنے اس نے ایک مریض کے مصنوعی گھٹنے کو پہچانا۔ ایک مریض کی ریڑھ کی  ہڈی کے خرابی کو پہچانا۔  ایک اور مریض کے جسم میں مصنوعی اعضاء کو پہچانا۔  ایک عورت کے حمل کے ابتدائی مرحلے کو پہچانا۔ ایک کتے کے پیر کے اندر لگے آلے کو پہچانا،   لیکن ڈاكٹرز کو حیرانی تب ہوئی جب اس نے کہا کہ وہ صرف تصاویر دیکھ کر بھی بیماری شناخت سکتی ہے،  جب ڈاكٹرز نے اس کے سامنے ایک مریض کہ تصاویر رکھیں تو نتاشا نے کہا کہ اس مریض کو جگر کا کینسر ہے جو اسے واقعی تھا۔

نتاشا کا کہنا ہے کہ اس میں XRay وژن بچپن سے نہیں ہے۔ اس کے مطابق 10 سال تک تو وہ ایک عام بچی ہی تھی، ایک روز اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی تو اس کی ماں کے جسم کے اندر کے سارے اعضاء دکھائی دینے لگے۔ اپنے اس XRay وژن کو وہ میڈیکل وژن کہتی ہے اور اس کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ اس کی یہ میڈیکل وژن بڑھتی جارہی ہے۔

بیٹ مین ، بین انڈر ووُڈ

بیٹ مینبین انڈرووُڈ Ben Underwood ،   26جنوری 1992ء  کو   کیلیفورنیا میں پیدا ہوا۔  بچپن میں وہ بہت صحتمند تھا مگر تین سال کی عمر میں  ڈاکٹروں نے اس  کی آنکھوں میں ٹیومر Retnoblastoma کی تشخیص کیا، جو بہت سست رفتاری سے بڑھ رہا تھا۔  اسے بچانے کے لیے  تین برس کی عمر میں ہی آپریشن سے اس کی آنکھیں نکال لی گئیں۔    اس کے والدین  کے لیے یہ بات کسی صدمے سے کم نہ تھی کہ ان کا کینسر میں مبتلا یہ بچہ 3 سال کی عمر سے ہی اندھا ہو گیا،  لیکن بین نے  ہمت نہ  ہاری اور اپنی ناک ، زبان اور کانوں سے چیزوں کو محسوس کرنا شروع کیا،  میڈیکل ٹیسٹ میں سامنے آیا بین کا دماغ آڈیو سگنلز کو بصری سگنلز میں تبدیل کرنے کے قابل تھا۔  چمگادڑ  یا ڈالفن کی طرح کسی بھی آواز کی ایکو کو کیچ کر اس کی بنیاد پر چیزوں کے عین مطابق لوکیشن بتا پانے کی سپرنیچرل طاقت بین کے پاس تھی۔   چند برسوں میں اس کے والدین کو  یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ بغیر آنکھوں کے معمول  کے سارے کام کرنے لگا، وہ سڑکوں پر بھاگتا دوڑتا،   سائیکل،  رولر بلیڈ اور  اسکیٹنگ بورڈ  بآسانی چلاتا۔       گھر کا راستہ کھوجنے میں اسے کوئی دقت نہ ہوتی۔ راہ چلتے آنے والی رکاوٹ سے وہ بآسانی  بچ جاتا۔ وہ فٹ بال، باسکٹ بال جیسے گیم کھیل لیتا۔ باسکٹ بال میں اس کا نشانہ دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے۔

لوگ اسے  بیٹ مین یعنی انسانی چمگادڑ کہنے لگے۔ چمگادڑ دیکھ نہیں سکتی لیکن وہ آواز کی لہریں چھوڑتی ہے اور ان لہروں کی گونج سے چمگادرڑ اپنا راستہ یا شکار کا پتہ لگاتی ہے۔ اسی  طرح ڈولفن اور وہیل مچھلی میں بھی   الٹرا ساؤنڈ سگنل کواپنے نشانے کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کرنے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے۔

سائنس دان اس صلاحیت کو ایکو لوکیٹر echo locatorکا نام دیتے ہیں ،     بین آنکھوں کے بغیر ہی ایک معمول کی زندگی بسر کرتا رہا،   لیکن کینسر نے اسے مہلت نہ دی اور وہ  19 جنوی 2009ء کو  16 برس کی عمر میں انتقال کرگیا۔

انسانی کیمرا ، اسٹیفن ولٹشائر

اسٹیفن

اسٹیفن ولٹشائرStephen Wiltshire  ،  1974ء میں لندن، برطانیہ میں پیدا ہوا۔  پیشے کے لحاظ سے وہ ایک آرکیٹکٹ ہے مگر  دنیا بھر میں وہ اپنی بنائی ہوئی تصاویروں کے باعث کافی شہرت رکھتا ہے۔         اسٹیفن بچپن سے ہی کم گو  اور گم سم رہتا تھا۔  ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ یہ آٹزم کی علامت  ہے، چنانچہ اسے شہر کے بہترین اسکول میں داخل کیا گیا جہاں اس نے مصوری  میں دلچسپی ظاہر کی۔   آپ سوچ رہے ہوں گے کہ تصویر بنانا کون سی انوکھی صلاحیت ہے، دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک مصور موجود ہیں۔  لیکن اسٹیفن کی یہ خاص بات ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو ایک بار دیکھ کر ہی اس کی تصاویر کینوس پر اتارنے کے قابل ہے، چاہے کو  کسی بھی بلڈنگ کی تصویر ہو یا لوگوں کی بھیڑ کی، حتیٰ کے شہر کا لینڈ اسکیپ ہو ۔ وہ کوئی بھی منظر صرف ایک نظر دیکھنے کے بعد ہو بہو اس کا عکس کینوس پر اُتار دیتا ہے، وہ پورے شہر کا منظر ایک نظر دیکھنے کے بعد  اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتا ہے اور پھر اس منظر کی ایک ایک بلڈنگ  ایک ایک شے کو اتنی تفصیل  سے کینوس پر اتارتا ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔

اکتوبر  2003ء میں اس نے ہیلی کاپٹر سے 20 منٹ نیویارک شہر کا نظارا کیا اور  واپس آکر 18 فیٹ لمبے کینوس پر پورے نیویارک شہر  کے طائرانہ منظر کی ایک ایک بلڈنگ  سمیت تصویر بناڈالی۔

الٹرا میراتھن مین، ڈین کرنازیس

میراتھن

میراتھن Marathon دوڑ کے بارے میں تو آپ سب جانتے ہیں، اس وقت دنیا بھر کے بڑے شہروں میں 800 کے قریب سالانہ میراتھن دوڑیں ہوتی ہیں ،  جس میں تقریباً 26 میل لمبے فاصلے کی بغیر رُکے دوڑ   لگائی جاتی ہے۔    الٹرا میراتھن میں  فاصلہ مزید طویل ہوکر  سو میل سے بھی بڑھ جاتا ہے، اسے دنیا کی سب سے خطرناک دوڑ  بھی کہا جاتا ہے ۔

امریکہ کے ڈین كرنازیس   Dean Karnazesکو الٹرا میراتھن مین   Ultra Marathon  Manاو رکبھی نہ تھکنے والا انسان کہا جاتا ہے۔  ڈین كرنازیس کی ہڈیاں اتنی مضبوط ہیں اور ارادے اتنے ٹھوس ہیں کہ وہ کبھی تھکتا ہی نہیں،  ڈین كرنازیس ٹریڈمل پر مسلسل 8 گھنٹے (350 میل) تک دوڑ چکا ہے۔   ڈین كرنازیس نے محض 50 دنوں میں امریکہ کی 50 ریاستوں کے 50شہروں میں منعقد 50 میراتھن دوڑ  میں حصہ لیا،  اور پھر بھی نہیں تھکا۔

شمالی  امریکہ  کی ریاست میکسیکو میں   تارا  ہومارا Tarahumara نامی ایک قبیلہ ایسا ہے جس میں بچپن ہی سے  دوڑنے کی  تربیت  دی جاتی ہے۔  اس قبیلہ کا ہر فرد  عمر بھر دوڑتا رہتا ہے اندازاً اس قبیلہ کا ہر فرد ،  دو دن میں 320   کلومیٹر سے زیادہ دوڑتاہے۔

ایکوا مین، باجؤ قبیلہ

ساما باجؤانڈونیشیاء، ملائشیاء اور فلپائن کے قریبی سمندر میں ساما باجؤ Sama Bajau نامی قبائل  رہتے ہیں، جن کا گزر بس مچھلی کے شکار پر ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ اس قبیلہ کے لوگ  اپنے زندگی کا بیشتر وقت  سمندر کے اندر  گزارتے ہیں،  اس قبیلے کے افراد  سانس روکنے میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ مچھلیوں کا شکار کرنے  کے لیے  سمندر کے اندر 8 میل سے  30میل  تک گہرائی میں اترجاتے  ہیں  ۔ ان کی اس صلاحیتوں کی وجہ سے لوگ انہیں ‘‘پانی کے  لوگ ’’ کہہ کر پکارتے ہیں۔ جاپان میں بھی اما Ama نامی ایک  گروپ  موجود ہے ، جن میں  زیادہ  تعداد خواتین کی ہے، جاپانی زبان میں اما  ‘‘جل پری ’’ کو کہتے ہیں۔ اما تیراک میں بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ زیرِ سمندر دیرتک اپنے سانس روکے رکھتی ہیں اور تقریباً سو میل  گہرائی  میں تیر لیتی ہیں ، اس دوران یہ سمندر کی زمین سے موتی، مونگھے اور مرجان  ڈھونڈتی ہیں۔

سُپر ننجا  ،  ایساؤ ماچی

ننجامارشل آرٹس فلموں میں آپ نے کراٹے، ننجا اور   تلوار بازی کے حیرت انگیز مظاہرے دیکھے ہوں گے ،    لیکن حقیقتا  ایساؤ ماچی Isao Machii،  جدید دور کے ایک ایسے  سُپر ننجا اور سموائی ماسٹر ہیں ، کہ جب  تلوار ہاتھ میں ہو، تو انہیں گولی بھی نہیں چھو سکتی،   وہ تو ان کی طرف آتی کسی بھی گولی کو تلوار سے 2 ٹکڑے کردینے کے بھی قابل ہیں۔

1973ء میں پیدا ہوئے،  43 سالہ  ایساؤ ماچی    جاپان کے شہر کوانیشی ہیوگو میں ایک لائڈو  ماسٹر ہیں،     ان کا نام گنیز بک آف ورڈ ریکارڈ میں سب سے تیز رفتار تلواز باز کے طور پر شامل ہے۔  ایساؤ ماچی  نے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی ٹینس بال کو پھرتی سے دو حصوں میں  کاٹ  کر ریکارڈ قائم کیا۔   انہوں نے 200 میل فی گھنٹہ کی  رفتار سے آنے والے بندوق کے چھرّے کو  دو حصوں میں  بھی تقسیم کردیا۔

آئس مین ۔ ویم ہوف

یہ ہیں  آئس مین IceManیعنی  برفیلےانسان کے نام سے مشہور  ‘‘وِم ہوف’’ Wim Hof ۔

آئس مین

انسانی جسم میں یہ استطاعت نہیں کہ وہ نقطہ انجماد (منفی صفر  درجہ حرارت)کا مقابلہ کرسکے۔  یوں تو برف میں چند سکینڈ ہاتھ رکھنا ہی پورے جسم کو جما دیتا ہے لیکن ہالینڈ کے باشندے وِمہوف کے جسم میں کئی منٹ برف میں رہنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے ۔  یہ گھنٹوں برف پر بیٹھ سکتا اور برفانی پانی میں تیراکی کر سکتاہے۔ شدید سردی کا اثر برداشت کرنے والے لوگ اس سے پہلے بھی رہے ہیں لیکن وِم ہوف  نامی اس شخص نے صرف نیکر پہن کر ما ؤنٹ ایورسٹ  پر چڑھ کر سب کو حیران کر دیا۔  ایسی سردی جس میں ایک عام شخص مر سکتا ہے وم ہوف پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتی اور ان کے جسم کا درجہ حرات بھی کم نہیں ہوتا۔

ڈچ شہری  وِم ہوف کی پیدائش 20 اپریل 1959 کو ہالینڈ کے سٹارڈ شہر میں ہوئی تھی۔  وِم ہوف نے اب تک 20 عالمی ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں،  فروری 2009 میں صرف دو دنوں میں صرف شاٹس (نیکر) میں تنزانیہ کے برفیلے پہاڑ کیلی مانجارو Kilimanjaro  کی چوٹی پر پہنچنے کا عالمی ریکارڈ بنایا۔  انٹارکٹیکا میں برف کے یخ ٹھنڈے پانی میں طویل فاصلے تک تیرنے  کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔

90 منٹ تک مکمل طور برف سے بھرے ایک بڑے  کانچ کے بکس میں  اپنے آپ کو ڈھک کر رکھنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔   بغیر کسی کے سہارے صرف پجامے اور جوتے پہن کر ہمالیہ پہاڑ اور دنیا کی سب سے بلند چوٹی  ماؤنٹ ایوریسٹ پر 6.7 کلومیٹر تک چڑھائی کی، مگر پاؤں زخمی ہوجانے کی وجہ سے وہ چوٹی سر نہ کر سکے۔  ایسے عجیب  عالمی ریکارڈ بنانے سے وہ پوری دنیا میں ‘‘دی آئس مین’’کے نام سے مشہور ہوگئے ہیں۔  حال ہی میں  ہانگ کانگ کی ایک شاہراہ پر انہوں  نے ایک گھنٹہ 52 منٹ پورے جسم کو برف میں رکھ کر نہ صرف لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ عالمی ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔

وِم ہوف  نے ثابت کر دیا کہ انسانی جسم کیا کیا کرنے کے قابل ہے۔  وِم ہوف کے مطابق وہ زیادہ وقت تک برف میں بغیر کپڑے پہنے رہ   سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دماغ اور جسم کو متوازن حالت میں لے آتے ہیں۔  اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ صلاحیت یوگا کے ذریعے پیدا کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں  کہ  یہ سب ان کی طرف سے کی جانے والی مراقبہ  ،  پرانایام اور تممو (اندرونی گرمی) جیسی  یوگا اور  سانس کی مشقوں  کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کئی برسوں تک یوگا  اور مراقبہ  کی مشق کی ہے۔

وِم ہوف پر ریسرچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وم نے اپنے جسم کے نروس سسٹم کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو انتہائی حیرت انگیز بات ہے ۔

مسٹر الیکٹریسٹی  ،  ما ژیانگینگ

ما ژیانگینگشمال مشرقی چین کے شہر  داکنگ Daqingسے تعلق رکھنے والے  ماژیانگینگ Ma Xiangang مسٹر الیکٹریسٹی  کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ بغیر کسی حفاظتی ڈھال کے بجلی کے ننگے تار کو ہاتھوں سے پکڑ سکتے ہیں چاہے وہ بھی کسی بھی  پاور کے ہوں،   جبکہ اسی تار  کو اگر عام انسان چھو لے تو اس کا زندہ بچنا ممکن نہیں۔   ماژیانگینگ  240 وولٹ کے بجلی کا تار پکڑ کر کسی بھی بلب کو جلا بھی سکتا ہے، ماژیانگینگ  کے جسم پر بجلی کا اثر نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود بجلی کا موصل Conducterبن جاتا ہے۔

میگنیٹ  مین  ،  لیو تھاؤ لین

لیو تھاؤ لین70 سال کے عمر رسیدہ لیو  تھاؤ لین Liew Thow Lin کو آپ ‘‘میگنیٹ مین’’  یعنی انسانی مقناطیس بھی کہہ سکتے ہیں۔  لوہے کی چیزیں لیو  کی طرف خود بخود خود  کھنچی چلی آتی ہیں۔  یہ عام شعبدے نازوں کی طرح نہیں ہے جو اپنے جسم پر چمچ وغیرہ چپکا لیتے ہیں، بلکہ لیو اپنے جسم پر 36 کلو گرام  وزنی لوہا بھی چپکا لیتے ہیں۔

لیو کی یہ حیرت انگیز طاقت ان کے تین بیٹوں اور پوتے پوتیوں کو بھی وراثت میں ملی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ لیو کے اندر کوئی مقناطیس نہیں ہے بلکہ ان کی جلد قدرتی طور پر  Suction Effect  کا کام کرتی ہے، جس طرح ویکیوم کلینر ہوا کے زور سے Suck  کر کے کسی چیز کو کھینچ کر  چپکالیتا ہے اسی طرح ان کی جلد بھی کئی کلو وزنی چیزوں کو کھینچ کر چپکا لیتی ہے۔

میگا مائینڈ، کِم پیک

میگا مائنڈکم پیک  Kim Peek ،  1951ء میں امریکہ کی ریاست یوتا Utah میں  پیدا ہوا  تو پیدائشی طور پر اس کا سر کافی بڑا تھا  ، اس کیفیت کو ڈاکٹر Macrocephaly کہتے ہیں،    ڈاکٹروں کے مطابق اس کے دماغ کی کا ایک حصہ متاثر تھا اور دماغ کے دونوں حصّوں کو جوڑنے والی نسیں Corpus Callosum غائب تھیں۔     ڈاکٹروں کے لیے تو یہ ایک ابنارمل صورتحال  تھی مگر اس خرابی کی وجہ سے کِم پیک  کے دماغ کی بھولنے کا حصہ ناکارہ  ہوگیا،   چنانچہ بچپن ہی ہے وہ جو چیز دیکھتا یا پڑھتا وہ اس کے دماغ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتی۔  کم پیک  کسی بھی چیز کو دیکھ لیتے ہیں تو اسے یاد کرنے کی ضرورت نہیں رہتی،   چاہے وہ  کوئی کتاب  ہو یا کچھ بھی ہو….

لڑکپن سے کم پیک کا زیادہ وقت سالٹ لیک  لائبریری میں گزرتا جہاں وہ کتابیں پڑھتا  اور پھر اس کتاب کا ایک ایک باب اسکول کی  کلاس میں سناکر لوگوں کو حیران کردیتا۔  18 برس کی عمر میں اسے ایک کمپنی میں ملازمت ملی جہاں وہ چند گھنٹوں میں وہ  کام کرلیتا جتنا  اس کمپنی کے 160 ملازمین نہیں کرپاتے تھے۔

اخبار دی ٹائمز کے مطابق کم پیک نے بارہ ہزار سے زیادہ کتابیں حروف بہ حروف حفظ کر رکھی تھیں۔    2009ء میں  58 برس کی عمر میں کمِ پیک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔

یکم جنوی 1979ء کو لندن میں پیدا ہونے  والا ڈینیل ٹیمیٹ Daniel Tammet  پیدائشی طور پر   آٹزم کے  مرض میں مبتلا  ہے،  وہ بمشکل ہی بول پاتا ہے ،  دائیں اور بائیں میں فرق نہیں کر پاتا، لیکن اس کی میموری پاور اتنی زیادہ ہے کہ مشکل سے مشکل ریاضی کے سوال کو چٹکیوں میں حل کر ڈالتا ہے ،   ڈینیل کو حسابی کلیہ پائی  کے  22514 ڈجٹس اچھی طرح یاد ہیں اور وہ 11 زبانیں بول لیتا ہے۔  ڈینیل نے ورلڈ میموری چیمپئن شپ کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے ،  اور کئی کتابیں لکھ اور ترجمہ کرچکا ہے۔

لائن وسپر ، کیون رچرڈسن

کیون رچرڈسن

کہتے ہیں کہ محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے کیون رچرڈسنKevin Richardson نے اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے۔ کیون رچرڈسن کو آپ حقیقی زندگی کا ٹارزن کہہ سکتے ہیں۔  کیون جانوروں کا دوست ہے  وہ کسی بھی خطرناک جانور سے فوری طور پر دوستی کرلیتا ہے،  وہ  شیروں سے بھی بات کرتا  ہے اور انہیں اپنا دوست  بنا لیتا ہے۔    وہ ان کے ساتھ رہتا ہے  اور سوئمنگ کر تا ہے، ساتھ گھومتا ہے، خطرناک سے بھی خطرناک جانور بھی اس  پر حملہ نہیں کرتا۔  36 سال کے کیون رچرڈسن نے 41 شیروں کو اپنی محبت اور دلار سے اپنا ساتھی بنالیا ہے۔ وہ ان کی نفسیات بھی بخوبی سمجھتا ہے،  شیروں کے ساتھ اس کی یہ نایاب دوستی لوگوں کو دانتوں تلے انگلی دبانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کیون کو بچپن ہی سے جانوروں کے ساتھ گھلنے ملنے کا شوق تھا۔   کیون کے دوستوں کا کہنا ہے کہ 41 شیروں کے ساتھ کیون کی ایسی دوستی  واقعی حیرت انگیز ہے۔ ان کے دوست اس کی صلاحیت کو گاڈ گفٹ مانتے ہیں  اور اسے لائن وسپرLion Whisper  ‘‘شیر سے سرگوشی کرنے والا’’ کہتے ہیں، کیونکہ یہ شیر اسے کبھی بھی نقصان نہیں پہنچاتے۔  کیون کہتا ہے کہ وہ شیروں کے ذہن  کو پڑھ  لیتا ہے۔

آج کل کیون جوہانسبرگ  میں واقع وائلڈ لائف پارک میں اینیمل ٹرینر  ہے،   جہاں اُس کے ساتھ  41 شیر، 20 لگر بگڑ اورتیندوے آزاد پھرتے رہتے ہے۔

وائنل ویژن ، آرتھر لنٹگن

آرتھر لنٹگنآرتھر لنٹگن Arthur B. Lintgen،  1942ء کو فلیڈیلفیا، امریکہ میں پیدا ہوا، آرتھر میں ایسی صلاحیت تھی کہ وہ سی ڈی  ، خصوصاً گراموفون ریکارڈ  میں قید موسیقی کو باہر سے صرف چھوکر ہی شناخت کرلیتا تھا۔    سی ڈی میں موجود ہر پیغام وہ پڑھ لیتا ہے،   1982ء میں پہلی بار اس کی صلاحیتوں کو ماورائی علوم پر تحقیق کرنے والے جیمز رینڈی  James Randi منظر عام پر لائے،  آرتھر پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہے ، جب آرتھر کسی بھی وائنل ریکارڈ   vinyl record کو چھوتا ہے تو چند سیکنڈ میں بتادیتا کہ اس ریکارڈ میں کون سی موسیقی یا پیغام محفوظ ہے۔

ڈریم  ڈیٹیکٹیو۔ کرس رابنسن

کرس رابنسنایڈنبرگ  کے رہائشی کرس رابنسن  Chris Robinson،  کو ڈریم ڈیٹیکٹیو یعنی خوابوں کا کھوجی کہا جاتا ہے،   کرس 1951ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوا،  اس میں بچپن سے ہی سچے خواب دیکھنے  صلاحیت تھی،    کرس  کا کہنا ہے کہ دس سال کی عمر میں جب اس کی  ہارٹ سرجری ہوئی تھی اس کے بعد سے ہی اس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔  وہ  خواب میں جو بھی  حادثہ یا واقعہ دیکھتا ، چند دنوں بعد اس کی اطلاع  آجاتی،     چنانچہ جس روز بھی وہ کوئی حادثاتی خواب دیکھتا فوراً پولیس کو اطلاع کردیتا،  اور کچھ دن بعد من و عن ویسا ہی حادثہ پیش آجاتا۔

1984ء میں اس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ  کے لیے خدمات دینی شروع کی، 1990ء میں اس نے اطلاع دی کہ اس نے خواب میں آئرش آرمی  کو لندن کے نیوی بیس پر حملہ  کرتے ہوئے دیکھا ہے اور ٹھیک 9 ہفتے بعد یہ خواب درست ثابت ہوا۔   اگست 2000ء میں کرس نے خواب  میں دیکھا کہ کوئی جہاز نیویارک شہر کی ایک بڑی بلڈنگ سے ٹکرا گیا ہے، جس سے کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ ان دنوں وہ ایریزونا یونیورسٹی میں پروفیسر  گیری شوارٹز Professor Gary E. Schwartz کے پاس  صلاحیتوں کے ٹیسٹ کے لیے آیا ہوا تھا۔  کرس نے اپنا یہ خواب   پروفیسر گیری  کو سنایا،    کرس  نے باقاعدہ  ڈرائنگ بنا کر اس خواب کو اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا ۔   کرس کے واپس برطانیہ جانے کے  بعد 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر  پر طیارے کا حادثہ  پیش آیا،  سن 2002ء میں سیکریٹ سروس نے  کرس کو امریکہ طلب کیا۔  اس کی ڈائری اور صلاحیتوں کی جانچ کی گئی،   کرس امریکہ اور برطانیہ کی کئی ایجنسوں اور سیکیورٹی اداروں کو اپنے خواب کے نوٹس بھیجتا رہتا ہے۔  ستمبر 2011ء میں کابل ایمبیسی پر ہونے والے   حملہ سے دس روز قبل کرس نے دہشت گرد حملہ کےمتعلق ایک خواب  نوٹ کیا اور اسے سیکیورٹی اداروں  کو بھجوادیا، حیرت انگیز طور پر ان نوٹس میں اس علاقے کا چوک اور اس پر بنے مینار کی ہو بہو  ڈرائنگ   بھی بنائی  تھی۔

سائنسدان اور ماہرین اب تک    اس کی صلاحیتوں کی وجہ تلاش نہ کرسکے ہیں۔

انسانی کمپیوٹر  ،  شکنتلا دیوی

شکنتلا دیویبھارت کی مصنفہ شکنتلا دیوی  ،  انسانی کمپیوٹر کے نام سے مشہور تھی،  شکنتلا دیوی کے سپر دماغ نے انہیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی جگہ دلائی تھی۔   کیلکولیٹر  اور کمپیوٹر بھی جس ریاضی کے سوال کو حل نہیں کر سکتا تھا، اس کو شكتلا دیوی کچھ ہی سکینڈ میں حل کرسکتی تھی۔   1980ء میں اسے لندن امپیریر کالن کے شعبہ کمپیوٹر میں ٹیسٹ کے لیے بُلا یا گیا۔ 13 ڈجٹس   کے دو اعداد  کو آپس میں ضرب کرنے کے لیے کہا گیا۔

شنکنتلا دیوی نے یہ سوال  صرف 28 سیکنڈ میں حل  کرڈالا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی میں  شکنتلا دیوی سے   مختلف اعداد کو جذر  د ر جذر کرنے کے سوالات کیے گئے جو اس  نے   انتہائی قلیل وقت میں حل بھی کردئیے،  شکنتلا دیوی  2013ء کو  انتقال کرگئی۔

ربڑ بوائے ،  گیری ٹرنر

گیری ٹرنراگر آپ کے چہرے کی جلد کو کوئی پکڑ کر کھینچے تو ناقابل برداشت درد ہوگا اور آنکھوں سے آنسو نکل آئیں گے، لیکن برطانیہ کے گیری ٹرنر Gary Turner،   خود اپنی جلد کو ناقابل یقین حد تک یعنی  6.25 انچ تک کھنچوا  سکتے ہیں گیری ٹرنر اپنے جسم کے کسی بھی حصے کی کھال   کو ربڑ کی  طرح  کھینچ سکتے ہیں، اور اس لچکدار اور ربڑ جیسی جلد کوتہہ در تہہ  پرت میں ڈھال سکتے ہیں۔

حالانکہ اس میں صلاحیت  والی بات کم نظر آتی ہے،  دراصل  انہیں ایک بیماری ہے جس میں جلد کی خلیے صحیح طریقے سے جڑے  ہوئی نہیں رہتے  اور مریض کی جلد کو عام لوگوں سے زیادہ لمبائی تک کھینچا جاسکتا ہے،   گیری آپ کے چہرے ہی نہیں بلکہ حلق، پیٹ کی جلد کو بھی مزے سے بہت لمبائی تک کھینچ کر کارنامے کرتے ہیں۔

ٹٖارچر  کنگ،   کِم کرِڈلینڈ

ایک صاحب ڈینیل  براؤننگ اسمتھ Daniel Browning Smith ہیں، جن کا جسم ااور ہڈیاں اتنی لچکدار ہیں کہ وہ اپنے  جسم کو کہیں سے بھی کتنا بھی موڑ اور جھکا  سکتے ہیں۔

ٹِم  کرِڈلینڈ Tim Cridland،   اپنے جسم کے کسی بھی حصہ سے  بڑی بڑی  سوئیوں کو چبھاكر آر پار نکال لیتا ہے۔ اس دوران اسے نہ تو درد ہوتا ہے نہ ہی جسم پر خون کا نشان ہوتا ہے۔ٹمِ اپنے آپ کو ٹاچر کنگ  کہتا ہے۔ اس کے مطابق  ان میں کسی بھی طرح کے درد کو سہنے کی غیرمعمولی   صلاحیت موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے