فلٹر والا فلرٹ!

مائرہ خان

محبت سے مُکر جانا ضروری ہوگیا تھا

پلٹ کر اپنے گھر جانا ضروری ہوگیا تھا

اماں چلو بھی نا۔ کتنی دیر ہوچکی۔ وہاں وہ لوگ ہمارے انتظار میں سوکھ رہے ہوں گے۔ ریحان کو ایک پل چین نہ تھا۔ ہوتا بھی کیسے….؟ جب سے فیس بک پر اس پری وش، مہ وش، حور، ملکۂ حسن کا شاہکار اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا تھا سب سے دل بےقرار پھڑک پھڑک کر باہر کو یوں آرہا تھا جیسے وہ اپنی شادی کے لیے لڑکی دیکھنے نہیں، اسٹیج پر گویا میڈل جیتنے کے بعد دنیا کے سامنے تقریر کرنے جارہا ہو۔ خواتین و حضرات، یہ میری بیگم میں نے ایسے ہی حاصل نہیں کیں۔ ہزاروں اکاؤنٹ بنا ڈالے۔ طرح طرح کے ناموں سے نقلی آئی ڈیز بنا کر انہیں پھنسانے، میرا مطلب ہے رجھانے لبھانے  کے بعد جا کر کہیں ان محترمہ نے تھوڑی سی لفٹ کروائی۔

لفٹ بھی کیا خاک کروائی سمجھو لٹھ مار انداز میں آپ کون….؟ کیا کام ہے….؟ جیسے ‘‘بداخلاق’’ جملے بول کر گویا دل ناتواں ذبح کر ڈالا، مگر ریحان میاں بھی گُنوں کے پورے تھے۔ مجال ہے جو ذرا شک ہونے دیا ہو کہ وہ بالکل انجان، حیران، پریشان آدمیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت اعتماد سے دو چار ادبی، علمی باتیں گھڑ کر محترمہ کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو ہی گئے کہ موصوف انتہائی اشرفیہ خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ ہیں اور نا صرف یہ خود بلکہ ان کا پورا خاندان جدی پشتی تعلیم ہتھیلی پر یوں لیے گھومتا ہے کہ کیا ہی کوئی بہادر جان لیے گھومتا ہوگا۔

بس پھر کیا تھا….؟ محترمہ ان کی شکل و صورت کو قطعاً گھاس نہ ڈالتے ہوئے صرف ان کے علمی ‘‘رتبے’’ پر ہی دل و جان سے فدا ہوگئیں۔ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور باتوں باتوں میں ہی پتہ چلا کہ محترمہ کے گھر والے آج کل ان کے لیے کسی موزوں شریف زادے کی تلاش میں اتنے چراغ لیے گھوم رہے ہیں کہ اب تو ان کے محلے والوں کو لوڈ شیڈنگ کا بھی چنداں غم نہیں رہا۔ کیونکہ بتی جائے نہ جائے، ان کے گھر کا ہر فرد چراغاں کرتا محسوس ہوتا ہے۔

ادھر ریحان نے بھی اپنی سب سے بہترین تصویر، جو بقول صرف اسی کے، ہو بہو پرانے زمانے کے چاکلیٹ ہیرو وحید مراد سے کچھ ملتی جلتی تھی، وہی ڈی پی لگا ڈالی۔ (شکر ہے وحید مراد حیات نہ تھے ورنہ لوگ مرنے والے کا ماتم کیا کرتے ہیں وحید مراد کو اپنے زندہ ہونے پر پچھتاوے کا ماتم کرنا پڑتا)۔

خیر ہمیں موضور سے بھٹکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ریحان میاں کا بھٹکنا ہی کافی ہے اور وہ بھی دربدر۔ اس دربدر کی سمجھ آپ کی سمجھ میں نہیں ائے گی اور جب تک آئے گی ریحان میاں اس بھٹکنے کے نتیجے میں اپنا سر پٹک رہے ہوں گے۔ تو ہوا کچھ یوں کہ ادھر ان محترمہ نے ریحان کی تصویر دیکھتے ہی اپنا دل کھویا تو وہاں زبیر نے ان کی ڈی پی دیکھتے ہی اپنا بل کھویا۔ جی ہاں فون کا بل جو پہلے صرف چند سو روپے تک محدود وہتا تھا، اب ہزاروں میں بھرا جانے لگا کیونکہ اب بات آگے بڑھ چکی تھی۔

تصاویر کو شرف قبولیت دونوں جانب سے بخشے جانے کے بعد فون نمبرز کا تبادلہ ہوا اور پھر گفتگو لامحدود ہوتی چلی گئی۔ کس کے گھر میں کیا پکا، سے لے کر کس نے کتنی روٹیاں کھائیں اور کس نے گھر والوں سے جوتے ڈانٹ پھٹکار، سبھی کچھ ایماندار محبوب ایک دوسرے سے شیئر کرنےلگے۔

عشق و محبت کی رومانوی باتوں میں وہ سچائی اور حقیقت پسندی کہاں، جو گھر والوں کی لعن طعن ایک دوسرے کو سنانے میں ہے۔ محبوب کی جھوٹی سچی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلا بےملانے سے لے کر ہر شاعر کی شاعری خود پر فٹ کرنے میں وہ مزا کہاں جو گھر کے راز ایک دوسرے کو بتانے میں اپنائیت تھی۔ آج اماں نے کتنی بوٹیاں چھوٹے بھائی کو کھلائیں، ابا نے سستی اور لاپروائی پر بیچارے ریحان کو سوتیلی اولاد ہو یا ایسا لے پالک ہو جو کسی دور کے غریب رشتے دار نے صلہ رحمی و خوف خدا کے ڈراوے اور اپنی غربت کے واسطے دے کر ابا کی جھولی میں ‘‘پھینک’’ دیا ہو۔

مہ وش، (جی ہاں محترمہ کا نام بھی مہ وش ہی تھا)، ریحان کے ان ظالم گھر والوں کے ظلم و ستم پر ریحان کے دکھوں میں برابر کی شریک ہوتی اور اسی آہ زاری و سسکیوں میں وعدے وعید کیے جاتے کہ جس دن میں آپ کے گھر آگئی، آُ کو ماں کا پیار باپ کی بپتا بھائی کا لاڈ اور بہن کا (نہیں نہیں توبہ توبہ) بہن کے سوا باقی سب پیاروں کی کمی محسوس تک نہ ہونے دوں گی۔ ریحان ٹھنڈی آہیں بھرتا اور جلد ہی اماں ابا کے ساتھ مہ وش کے گھر آنے کی یقین دہانی کرواتا۔

ریحان کی تو مانو عید ہوگئی جس دن ابا میاں نے اسے پاس بٹھا کر اس کے مردوں سے شرط لگا کر سونے کی عادت سے پریشان ہو کر، خلاف عادت پچکارتے ہوئے پوچھ ہی لیا کہ آخر اسے روگ کیا ہے….؟ اب یہ اور بات کہ ریحان کو وہ پچکار کچھ کچھ سانپ کی پھنکار جیسی لگی جسے اس نے اپنا واہمہ سمجھ کے جھٹک دیا۔ ابا بیچارے سمجھتے تھے کہ وہ تمام دن چارپائی پر پڑا سویا رہتا ہے تو کہیں یہ کوئی بیماری تو نہیں….؟ انہیں کیا خبر کہ ریحان سوتا نہیں بلکہ چادر کے اندر ایک عدد موبائل فون چھپا کر، گھر کی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند کیے اپنی مہ وش کو اپنے نادیدہ دکھوں کا حال بتانے مٰں مشغول ہوتا ہے۔ باپ تو پھر باپ ہوتا ہے۔ ابا میاں کو بھی اپنی اس ناخلف اولاد پر ترس آہی گیا اور انہوں نے زبیر کی اماں سے صلح مشورہ کرکے حل یہ نکالا کہ برخودار شدید قسم کی تنہائی کا شکار ہوچکے۔ اس سے پہلے کہ یہ بیماری ان کے سپوت کو کہیں کا نہ چھوڑے (یا شاید ابا میاں کو کہیں منہ دکھانے لائق نہ چھوڑے) کیوں نہ ریحان کی شادی کردی جائے۔ زبیر سے اس کی پسند پوچھی گئی تو اس نے جھٹ سے کہا کہ اس کے ایک دوست کے جاننے والے ہیں۔ ان کو بھی اپنی بیٹی کے لیے کسی مناسب بَر کی تلاش ہے۔ تو کیوں نہ انہیں مناسب کے بجائے ‘‘بہترین’’ ملے۔ غریب ہیں تو کیا، بہترین پر غریب کا حق پہلے ہوتا ہے۔ گھر والے ریحان کی اس اعلیٰ ظرفی پر خوشی سے نہال ہوگئے۔ ابا میاں کو اچانک ہی اپنی یہ اولاد اللہ کا انعام لگنے لگی جو انہیں ضرور کسی نیکی کے عوض ملی تھی اور جو انہیں جنت لے جائے گی۔

ہاں ریحان نے اتنا ضرور بتا دیا کہ اس نے لڑکی کو کبھی نہیں دیکھا صرف ایک آدھ تصویر دیکھی ہے، وہ بھی بس دوست نے فیس بک پر دکھائی تھی۔ ابا میاں کیا جانیں فیس بک کس بلا کا نام ہے۔ وہ تو اسے غیبی مدد سمجھے اور چلنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ ریحان نے مہ وش سے کہا کہ اگلی اتوار ریحان مع ابا اماں ان کے گھر آئے گا اور پھر ایک حسین زندگی  کی شروعات ہوگی۔

٭٭٭

ریحان اماں ابا کے ساتھ مہ وش کے گھر ہونقوں کی طرح منہ کھولے سامنے بیٹھی لڑکی کو تک رہا تھا جو کسی طور مہ وش کی تصویر سے میل نہیں کھاتی تھی۔ کہاں وہ نیلی آنکھوں حسین نین نقش کی مالک دبلی پتلی، کمان سے ابرو، لمبی گھنیری پلکیں، حسین و شادابی رنگت، ملکوتی لب و رخسار اور کہاں یہ سامنے بیٹھا گوت کا پہاڑ۔ رنگت توے سے بس تھوڑی ہی الگ، جیسے برتن دھونے والی لوہے کی جالی رگڑ رگڑ کر کالے بھجنگ توے کو گہرا بھُورا رنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چڑیا کے گھونسلے نما بال، جو زلفیں کم اور جلا ہوا بھوسا زیادہ لگ رہے تھے۔ ریحان کی آنکھوں کے سامنے مہوش کی لمبی دراز ریشمی زلفیں لہرانے لگیں۔ چھوٹا سا قد، بےتحاشہ وزن دار، موٹے موٹے ھدے نین نقش لیے یہ لڑکی نما چیز کس طور مہ وش نہیں ہوسکتی تھی۔

اس کے حلق سے بےساختہ چیخ نما آواز نکلی، ‘‘نہیں ں ں ں….’’

‘‘ہاں ہاں بیٹا! میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ ہم جہیز نہیں لیں گے۔’’ ابا یاں اپنا ہی راگ آلاپ رہے تھے۔

‘‘ابا! ’’ اب کی بار ریحان باقاعدہ کراہا۔

‘‘کیا ہے….؟’’ ابا نے خشمگیں نگاہوں سے بیٹے کو گھورا۔ انہں ڈر لاحق ہوا کہ کہیں ریحان اس معصوم سی اللہ میاں کی گائے، (گائے کی تشبیہہ ابا کا صحیح اندازہ تھا) سے شادی کرنے سے مکر گیا تو اچھا بھلا ہاتھ آیا نیکی کا موقع جائع ہوجائے گا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اگر (خدانخواستہ) وہ غیر مذہب کے ہوتے تو اسی وقت ریحان کا انگوٹھا کیک کاٹنے والی چھری سے چیر کر چلاتے، ‘‘اٹھ بیٹا، میری ہونے والی بہو رانی کی مانگ بھردے۔’’ انہیں اس بات سے کیا سروکار کہ وہ بہو کم اور بچوں کو ڈرانے والا بھاؤ زیادہ لگ رہیتھی۔

‘‘اے کیا وہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے کی رٹ لگا رکھی ہے۔’’ اماں نجانے کیوں بیزار بیٹھی تھیں۔

مہ وش نے موٹی موٹی بھینس جیسی آنکھیں گھمائیں اور ریحان کی طرف دیکھ کر غیر ضروری شرمانے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی:

‘‘ریحان، یہ میں ہی ہوں تمہاری مہوش، دیکھو تو کیسے کہہ رہے ہو کہ مجھے نہیں جانتے۔ کہو تو ثبوت دے دوں۔ یاد کرو، پچھلے منگل ہی تم نے بتایا تھا کہ ٹینڈے کھانے سے تمہارا پیٹ خراب ہوگیا تھا اور تم ساری راٹ غسل خانے کے چکر کاٹتے رہے تھے۔ آیا یاد….؟’’

مہوش نے ایسا گھٹیا راز سب کے سامنے کھول کر ریحان  پر گھڑوں پانی ڈال دیا۔ اماں، ابا نے چونک کر ریحان کی طرف دیکھ کر کلستے ہوئے سوچا، ‘‘ناہنجار کہتا تھا کبھی بات نہیں ہوئی لڑکی سے’’، اوپر سے ‘‘ایسی’’ پریم کہانی….؟ یہ بھی کوئی باتیں ہیں بتانے والی۔ در فٹے منہ….

‘‘ہوسکتا ہے مہوش نے تمہیں ساری باتیں بتائی ہوں۔ ہوسکتا ہے تم اس کی کوئی دوست ہو اور اپنے ہونے والے بہنوئی سے مذاق کر رہی ہو۔ ابھی سے شرارتیں شروع….؟ ریحان نے شرماتے ہوئے کہا۔

‘‘افوہ! اب میں تمہیں  کیسے یقین دلاؤں….؟ اچھا سنو! دیکھو ابھی میں اپنی ایک سیلفی اتارتی ہوں۔ تم خود جان جاؤ گے کہ وہ میں ہی ہوں۔’’

مہوش کسی معجزے کی بات کر رہی ہے۔ یہ شاید پاگل ہے یا مجھے بنا رہی ہے۔ ریحان نے سوچا۔

مہوش نے کھٹاک سے اپنی ایک عدد سیلفی کھینچی اور مسکراتے ہوئے اپنا موبائل ریحان کو تھمادیا۔

‘‘دیکھو اب اس تصویر کو اوپن کرو۔’’

‘‘ہاں کیا….؟ ریحان نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اب کچھ تو کرن اہی تھا اس مخمصے سے نکلنے کے لیے۔

‘‘اب فلٹر اوپن کرو۔’’

ریحان کو اس کی ذہنی حالت پر ایک بار پھر شبہ ہوا۔ یہاں اس کی جان پر بنی تھی اور اسے تماشے سوجھ رہے تھے۔ اماں ابا چپکے بیٹھے تھے۔ صرف لڑکی کی ماں مطمئن انداز میں بیٹھی چائے کے سڑپ سڑپ گھونٹ بھرتی اپنی بیٹی کو فخریہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

‘‘اب فلٹر نمبر ایک منتخب کرو۔’’ مہوش نے اگلی ہدایت دی۔

ہاں کردیا…. ہیں! یہ کیا….؟ تصویر میں موجود چہرے کی رنگت یک دم چانند سے بھی دودھیا ہوچکی تھی۔

‘‘اب فلٹر نمبر دو دباؤ۔’’ اگلا حکم آیا۔

‘‘جی جی، دبایا۔’’ ریحان نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

یہ کیا….؟ غبارے جیسا پھولا چہرہ ایک دم دبلا پتلا کسی سترہ اٹھارہ سال کی نازک دوشیزہ میں تبدیل ہوگیا تھا۔

‘‘اب فلٹر نمبر تین میں جاؤ۔’’

ریحان نے تین پر کلک کیا۔ اب یہ کیا….؟ آنکھیں ایک دم نیلی نیلی اور ہرنی جیسی بڑی چمکدار ہوگئیں۔

ریحان کبھی موبائل کی اسکرین دیکھتا تو کبھی سامنے بیٹھی جیتی جاگتی بھوتنی کی طرف۔ بےیقینی سے اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔

‘‘اب فلٹر نمبر چار پر جاؤ۔’’ مہوش نے محفوظ ہوتے ہوئے کہا۔

اب کی بار ریحان نے بغیر کچھ کہے نمبر چار کلک کردیا۔ لمبی گھنی زلفیں اس چمکتے دمکتے حسین چہرے کا طواف کرنے لگیں۔

‘‘اچھا اب آخری بٹن، فلٹر نمبر پانچ  دباؤ، پھر دیکھنا جادو۔’’ مہوش جوش سے بولی۔ (اب تک جو ہورہا تھا، وہ کون سی حقیقت تھی، جادو ہی تو تھا)

تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں۔

آخری فلٹر دباتے ہی تصویر میں موجود بےڈول ڈھول جیسا جسم کسی کوبصورت جل پری کے سراپے میں ڈھل چکا تھا۔ ریحان میاں کے ماتھے پر آئی پسینے ی بوندیں موبائل اسکرین پر ٹپک ٹپک کر اس حسینہ کے چہرے رپ شبنم کے قطروں کا کام دے رہی تھیں۔ ابا میاں، جو اس ساری کارروائی کے دوران ریحان کے گھٹنے سے اپنا گھٹنا جوڑے بیٹھے یہ سارا ‘‘ڈیجیٹل انسان’’ وجود میں آتا دیکھ رہے تھے، اب ساری بات سمجھ چکےتھے۔

انہوں نے گہرا سانس لیا اور غرا کر ریحان سے کہا۔

‘‘گھر چل…. تیری شادی اب اسی سے ہوگی۔’’

‘‘پر ابا….؟’’ ریحان میاں کھڑے ہوے ہوتے لڑکھڑا گئے۔

‘‘ہاں ہاں، اسی سے ہوگی…. موبائل سے۔’’

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے