خانۂ کعبہ سے ہجر اسود چرا لے جانے والی قوم ’’قرامطہ‘‘

قرامطی

مسلمانوں کی قدیم جنگیں ہوں یا جدید دور کی ڈپلومیسی ، سندھ میں محمد بن قاسم کی فتح ہو یا ہندوستان پر محمود غزنوی کی لشکر کشی یا پھر سرنگا پٹنم میں ٹیپو سلطان کی انگریزوں کے خلاف جنگ۔ مسلمانوں کو جتنا نقصان ان کے بیچ میں رہنے والے دشمنوں نے پہنچایا، اتنا چنگیز خان و ہلاکو خان بھی نہیں پہنچاسکے۔

ایسے ہی آستین کے سانپوں کی قسم کو قرامطہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آج شاید بہت ہی کم لوگوں کو اس فتنے کے بارے میں علم ہوگا اور اس سے بھی کم لوگوں کو اس نقصان کا جو اس گروہ نے عالم اسلام کو پہنچایا۔

اس فرقے کا بانی حمدان قرمط تھا۔ اسے قرمط اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹی چھوٹی اور قد ٹھگنا تھا۔ شروعاتی ادوار میں  یہ اسماعیلی مذہب کا ایک داعی تھا، پر 242 ہجری میں حمدان قرمط کا اسماعیلیوں سے اختلاف ہوا اور اس نے اپنی الگ دعوت کی شروعات کی۔ آہستہ آہستہ اس کی طاقت اور اس کے ماننے والوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس نے اپنے ماننے والوں کو لوٹ مار کی ترغیب دی، ہتھیاروں کی تیاری کا حکم دیا۔ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق لوٹے گئے خزانے سے یہ رقم دی جاتی۔ اس نے اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی برائی کا اختیار دے رکھا تھا، یہاں تک کہ اس نے اپنے ماننے والوں یعنی قرمطیوں کو سکھایا کہ تمہارے مخالفین یعنی مسلمانوں کا خون تم پر حلال ہے، اور بے دریغ انہیں قتل کرو۔ ان کے نزدیک مسلمان عورتوں اور بچوں کا قتل عام بھی کار ثواب تھا۔

ان ہدایات کے نتائج میں قرامطہ نے ایسی خون ریزی کی کہ خلق خدا چیخ اُٹھی۔ انہیں اتنی قوت حاصل ہوگئی تھی کہ 279 ہجری میں  انہوں نے ایک شہر دار الہجرت کے نام سے بسایا اور اس کے گرد ایسی فصیل تعمیر کی کہ آس پاس کی ریاستیں ان سے گھبرانے لگیں۔

اُن دنوں خلافتِ عباسیہ بہت کمزور تھی، اس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کا خوب قتل عام کیا۔ پھر خلیفہ مکتفی نے ان کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر روانہ کیا لیکن قرامطیوں نے  بصرہ کے قریب ان کو عبرتناک شکست دی اور سپہ سالار کے علاوہ کسی کو بھی بچنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے بعد شام کی باری آئی اور شام سے لے کر انطاکیہ تک ہزاروں انسانوں کا بے دریغ قتل کیا گیا اور ان کے رہنما نے شام پر اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔

مصری جرنیل محمد کی قیادت میں  ایک لشکر نے ان کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا، ان کے رہنما ذکرویہ کا ایک بیٹا مارا گیا اور کچھ عرصے کے لیے یہ گروہ منظر عام سے دور ہوگیا۔ لیکن ایک سال بعد اچانک قرامطیوں نے متحد ہوکر ملک شام پر چڑھائی کردی، کوفہ سے کچھ دور خلیفہ کی فوج کو شکست دی۔ کوفہ اور بصرہ کے درمیان ڈیرے ڈال کر حاجیوں کے قافلے لوٹنے لگے۔ انہوں نے ایک بستی کو صرف اس وجہ سے جلاکر راکھ کردیا کہ ان کی انتباہ پر ایک قافلہ قرامطیوں سے بچ نکلا تھا۔ اسی طرح لوٹ مار کے دوران انہوں نے تقریباً بیس ہزار مسلمانوں کو قتل کردیا تھا، خلیفہ نے ایک مرتبہ پھر ایک ترک سردار کو لشکر کے ساتھ روانہ کیا، جس نے قرامطیوں کو ایک بڑی شکست سے دوچار کیااور ذکروی مارا گیا۔ اس شکست سے قرامطیوں کا طوفان کچھ عرصہ کے لیے رُک گیا۔

311 ہجری میں یہ ایک مرتبہ پھر نمودار ہوئے اور اچانک بصرہ پر حملہ کرکے دور دراز تک قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا۔ خلیفہ کی فوج کی آمد کا سن کر انہوں نے شہر خالی کردیا لیکن جاتے جاتے ہزاروں عورتوں اور لڑکیوں کو غلام بناکر لے گئے۔ اس کے بعد حج کے زمانے میں پھر سے حاجیوں کے قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ ہزاروں افراد پر مشتمل قافلے کے قافلے قتل کردیے گئے، اس کے بعد انہوں نے کوفہ پر چڑھائی کی اور یہاں بھی بصرہ کی تاریخ دہراتے ہوئے لاشوں کے ڈھیر لگادیے۔ کیا بچہ، کیا عورت، کیا ضعیف اور کیا بیمار ان کے نزدیک ان سب کو قتل کرنا ثواب کا باعث تھا۔چار برس کی اس خونریزی کے بعد ایک  مرتبہ پھر بغداد کی فوج نے انہیں شکست دی۔

اب کی بار یہ عرب میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور بحرین کو اپنا  مرکز بناتے ہوئے قتل و بربریت کی ایسی مثالیں رقم کیں کہ نامجھ میں لکھنے کا حوصلہ ہے اور نہ آپ میں پڑھنے کی سکت،  مگر تاریخ کا تقاضہ ہے اس لیے بیان کرنا بھی ضروری ہے۔

یہ واقعہ ذوالحجہ 317 ہجری بمطابق  930 عیسوی کا ہے۔  قرامطیوں کا لیڈر ابو طاہر سلیمان مکہ  معظمہ کا رُخ کرتا ہے، جہاں حاجی  فریضہ ٔ حج ادا کرنے میں مصروف تھے، یہ امن کی جگہ تھی اور تمام حاجی نہتے تھے، تب اس بدبخت کے حکم پر قرامطی حاجیوں پر ٹوٹ پڑے اور حجاز مقدس کی زمین سرخ ہوتی چلی گئی۔  اس ذلیل انسان  نے خانۂ کعبہ  اور چاہ زمزم کی بے حرمتی تک سے گریز نہ کیا۔  یہاں تک  کہ حجرِ اسود جسے اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے اس دنیا میں بھیجا تھا۔ اسے بیت اللہ کی دیوار سے الگ  کرکے ایک اونٹ پر لدوایا اور اپنی سلطنت  کی طرف روانگی اختیار کی۔ حجر اسود تقریباً 22 سال تک ابو طاہر کے قبضے میں رہا 317 ھ سے 327 ھ تک یعنی پورے دس سال فریضہ حج ادا نہ ہوسکا جس کی وجہ یہ تھی کہ قرامطہ حاجیوں کے تمام قافلے لوٹ لیا کرتے۔  آخر کار ایک قسم کا بھتہ مقرر کیا گیا اور اس کو ادا کرنے کے بعد قرامطہ کی طرف سے حاجیوں کو قتل کرنا بند کردیا گیا۔ عباسی خلیفہ کی طرف سے تیس ہزار دینار کے بدلے  اس ذلیل انسان ابو طاہر نے حجر اسود کو واپس کردیا۔

ابو طاہر ایک اذیت ناک موت کا شکار ہوکر مرگیا اور آہستہ آہستہ قرامطیوں پر عرب میں بھی گھیرا تنگ ہونے لگا تب یہ یہاں سے روپوش ہوگئے۔

اب ان کی جائے پناہ سندھ تھا جی ہاں پاکستان  کا علاقہ سندھ۔  قرامطیوں کی آخری حکومت سندھ میں بنی جس کا دار الحکومت ملتان تھا۔  یہاں قرامطیوں نے نہایت طاقتور حکومت قائم کرلی تھی ، شراب و شباب کے دور چلا کرتے، ملتان کی گلیاں برہنگی کی تصویر بنی رہتی تھیں کیونکہ قرامطہ میں جزا و سزا کا کوئی تصور نہ تھا، اس لیے ان کی عیاشیاں اپنے عروج پر تھیں، آس پاس کی ہندوستانی ریاستوں سے انہوں نے معاہدے کر رکھے تھے۔ تب سلطان محمود غزنوی ان پر ایک عذاب  خداوندی کی طرح نازل ہوا۔  پہلے تو سلطان نے ان کی حلیف ریاستوں  جن میں راجہ آنند پال شامل تھا کا قلع قمع کیا، پھر قرامطیوں  کی طرف متوجہ ہوا، روایت کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے اتنے قرامطی مارے کہ آپ کے ہاتھ کی انگلیاں تلوار کے دستے پر جم گئیں تھیں، جنہیں بعد میں گرم پانی ڈال کر ہٹایا گیا۔ ملتان کی گلیوں کو قرامطیوں کے خون سے نہلادیا گیا۔ قرامطہ کا مکمل صفایا سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں ہی ہوا۔

بلاشبہ یہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عبرت ناک باب تھا، اس وقت مسلمان کمزور نہیں تھے، مگر ان کی قوت مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی  ، جس کا فائدہ قرامطیوں نے بخوبی اُٹھایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے