انسان نمامافوق الفطرت مخلوق ’’یٹی‘‘ (Yeti) کیا حقیقت میں وجودرکھتی ہے؟

Yeti

1925ء کا ذکر ہے، این اے  ٹومبازی NA Tombazi نامی ایک یونانی فوٹو گرافر،  کوہ ہمالیہ میں  ایک برطانوی ارضیاتی مہم (رائل جیوگرافیکل سوسائٹی )کے ایک رکن کے طور پر کے لیے کام کر رہا تھا،   ہمالیہ کی پندرہ ہزار فٹ بلندی پر زیمو گلیشیر کے قریب اُس نے کسی جاندار کی آہٹ محسوس کی اس نے دیکھا کہ دو سے تین سو گز کی دوری پر  کنیر کی جھاڑیوں میں کچھ  جانور ہیں۔   اس نے سوچا شاید یہ  تبتی بھالو  ہوگا ،  لیکن غور کرنے پر دیکھا کہ وہ بالکل  ایک انسان کی طرح تھے، لیکن قد میں انسان سے چھ سات انچ بڑے ہوں گے۔  کبھی دو پیروں پر کھڑا چلتے اور کبھی چاروں ہاتھوں اور پیروں پر اور  شاید خوراک کی تلاش میں چھوٹی جھاڑیوں کو توڑ رہے تھے، جہاں تک وہ  دیکھ  سکا  وہ کوئی کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے لیکن   ان کا جسم لال بھورے رنگ کے لمبے بالوں سے ڈھکاہوا تھا۔

یہ کون سی مخلوق ہے ….؟

ٹومبازی ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ مخلوق جانے لگی اس سے پہلے کہ وہ انسان نما برفانی  مخلوق غائب ہوتی  ٹومبازی نے اس کی تصویریں لے لیں ۔   یہ عجیب الخلقت گروہ جس راستے آیا تھا واپس چلا گیا، ٹومبازی نے اس کا پیچھا کیا مگر وہ نظر نہ آئے  البتہ راستہ میں ان کے بڑے بڑے قدموں کے نشان ملے جس کی بھی تصاویر لے لیں ۔

تبّت کے  مقامی لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ برفانی  انسانوں کی طرح نظر آنے والی   آٹھ سے تیرہ فٹ لمبے  بڑے بندر کی شکل کا ایک جاندار ہے۔ یہ لال بھورے رنگ کے لمبے بالوں سے ڈھکی اور مخروطی سر والی ناقابل یقین طاقتور  اور پراسرار مخلوق یہاں لوگوں کو  صدیوں سے نظر آتی رہتی  ہے مگر انسانوں سے دور بھاگتی  ہے کوئی بھی اسے پکڑ نہیں سکا اور نہ ہی ان کے ٹھکانوں کا پتہ چل سکا ہے،  تبّتی لوگ اُسے  ‘‘مہ ٹی’’ mhe-thi کہتے ہیں جس کا مطلب انسان نما بھالو کے ہیں،  لہجہ کی تبدیلی سے   انگریزی میں یہ لفظ‘‘یٹی’’ Yeti مشہور ہوگیا۔

Yeti

ٹومبازی   کی  تصاویریں اور تبتی لوگوں کی  کہانی جب برطانوی  اخبار میں شائع ہوئی تو  یوروپی سیاحوں کی ایک تانتا بندھ گیا، کئی سیاح یٹی کو کھوجنے آئے، انہوں نے یٹی کو دیکھنے کے دعوے بھی کیے  اور قدموں کے نشانات کی تصاویریں بناکر لائے ، کچھ نے تو یٹی سے روبرو ملنے کے دعوے بھی کیے مثال کے طور پر 1938ء میں  فرانسیسی نام والا ایک برطانوی افسرکیپٹن اویرگنے Captain D’Auvergneہمالیہ کی اونچی چوٹیوںمیں کہیں کھو گیا۔  بھٹکا ہوا لاغر کیپٹن دی اویرگنے برفیلی چٹان سے لڑھک کر نیچے گرنے لگا،  جہاں اسے لگنے لگاتھا کہ اب موت یقینی ہے، لیکن دو مضبوط بالدار ہاتھوں نے اسے بچالیا۔وہ ہاتھ  ایک   یٹی عورت کے تھے،  یٹی کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ وہ آٹھ فٹ لمبی تھی، اس نے اس کی تب تک خدمت کی جب تک کہ وہ واپسی کے لائق نہیں ہو گیا۔

لیکن سائنسی محققین کے نزدیک  یٹی کے بارے میں ساری باتیں کہانیوں یا  کسی افواہ سے کم نہیں،  اُن کا کہنا ہے کی ہمالیہ  جیسے بڑے برفیلے ریگزار  دوردور تک پھیلی سفید برف ، اوپر سے سورج کی  چمکداردھوپ ،ایسے  میں کسی شئے کو واضح دیکھنا کوئی آسان بات نہیں ، یوں بھی ہوتا ہے کہ برف اور دھوپ کی چمک سے  لوگ بصارت و بصیرت دونوں کھودیتے ہیں اور اکثر دھوکہ کھا کر کسی جانور کو انسان سمجھ بیٹھتے تھے۔ ان لوگوں نے  بھورا بھالو یا شاید تبتی نیلا بھالو دیکھا ہوگا، یا پہاڑ پر سنیاس لینے والا سادھو ہے یا پھر بہت بڑا بندر۔اگر حقیقت میں یٹی ہیں تو پھر ان کے آثار کیوں نہیں ملتے، ان کی ہڈیاں کہاں ہیں….؟ وہ پوچھتے ہیں ان کی کوئی واضع تصویر کیوں نہیں ہے۔  یٹی کے قدموں کے بڑے بڑے نشانات  کے متعلق سائنسدانوں کا خیال ہے  کہ یہ کسی انسانوں یا جانور کے ہی قدموں کے نشانات ہیں  مگر  دھوپ کی تپش نے انہیں  پھیلا کر بڑا کردیا ہے ۔

ایک جانب سائنسی محققین یٹی کے وجود سے مسلسل انکار کررہے تھے اور دوسری جانب اس برفانی مخلوق کے دیکھنے والے  چشم دید گواہوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا  تھا۔  برفانی آدمیوں کی تلاش میں ایڈمنڈ ہیلری اور رین ہولڈ میسنر جیسے عظیم کوہ پیما لوگوں کی قیادت والی مہمات بھی ہوئیں۔

پہلی مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والے      سر ایڈمنڈ ہیلری کی قیادت میں کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم 1963ء میں  یٹی کی تلاش میں ہمالیہ  گئی، انہوں نے نیپال اور تبت سے ملحق گلیشیروں کا چپّہ چپّہ چھان مارا مگر سوائے برف میں بنے بڑے قدموں کے نشانات کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔  اور آتا بھی کیسے برصغیر پاک و ہند کوتبت سے جدا کرتا   کوہ ہمالیہ کسی ایک پہاڑی سلسلہ کا نام نہیں پامیر سے شروع ہونے والے دیگر سلسلوں جیسے کہ قراقرم اور ہندوکش کو ملا کر ہمالیہ میں کم و بیش پندرہ ہزار  گلیشیٔر ہیں ، ان میں   یہ مخلوق کہاں چھپی بیٹھی  ہے  کیا معلوم….؟

البتہ ایڈمنڈ ہیلری کو اس مہم کے دوران یٹی کے متعلق ہر گاؤں یا بستی میں چشم دید گواہ اور کہانیاں ملیں،  بعض مقامی قصبوں میں تو یٹی کے مجسمے بھی ملے جہاں ان کو ایک محافظ سمجھ کر ان کی    پوجا  کی جاتی تھی۔ چونکہ غیرملکی سیاحوں میں یٹی کے بارے میں دلچسپی بڑھتی جارہی تھی اس لیے ان دنوں  چند چالاک اور ہوشیار لوگوں نے ریچھ اور بھورے بارہ سنگھے کی کھالیں اور ہڈیوں  یٹی کے نام سے منہ مانگی قیمتوں پر بیچناشروع کردیں جس پر سائنسی محققین یٹی کے وجود پر مزید شک و شبہ میں مبتلا ہوگئے۔

1997ء میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے عظیم کوہ پیما رین ہولڈ میسنر نے دعویٰ کیا  کہ وہ ایک نہیں کم سے کم چار مرتبہ اس مخلوق کا مشاہدہ کر چکے ہیں ،   بقول میسنر ایک دفعہ وہ یٹی کے اس قدر قریب جا چکے ہیں کہ وہ اسے چھو بھی سکتے تھے۔ ‘‘یہ خاصی شرمیلی مخلوق ہے ۔ اس کا قد دو میٹر کے قریب ہے اور آپس میں رابطے کے لئے یہ سیٹیوں نما آوازیں نکالتی ہے۔رات کے اندھیروں میں اس کا نشانہ یاک اور بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں جن کا شکار کرکے یہ گزارا کرتی ہے۔ ’’  میسنر اپنے دعوے میں کس حد تک صحیح ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ   ان کے کوہ پیمائی کے ریکارڈ دیکھیں تو دور دور تک ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ دنیا کے واحد انسان ہیں جنہوں نے آٹھ ہزار میٹر سے بلند دنیا کی تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کا کارنامہ انجام دے رکھا ہے۔ وہ بغیر اضافی آکسیجن کے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اکیلے ماؤنٹ ایورسٹ سر کی جو آسان کام ہر گز نہیں۔ وہ ہمالیہ کے ایسے علاقوں میں بھی جا چکے ہیں جہاں شاید بہت ہی کم لوگ پہنچ سکیں۔ میسنر ہی کا کہنا ہے کہ  ‘‘ایسی جگہوں پر جہاں کوئی درخت نہیں اگ سکتا میں دو ہفتے پورا پورا دن یٹی کی تلاش میں پھرا۔ پھر میں غیرمعمولی یعنی تقریباً پیتیس سینٹی میٹر چوڑے قدموں کے نشانات کا پیچھا کرتا رہا۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ ہم اتنی جلدی اسے پا لیں گے۔ پہلے میں نے ایک مادہ یٹی کو اپنے بچے کے ساتھ دیکھا۔ بچے کے بال سرخ رنگ کے تھے جبکہ اس کی ماں کے بال کالے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ہمیں دیکھا وہ نہایت تیزرفتاری سے بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔’’

اس کے دو دن بعد میسنر اور ان کے ساتھی ایک سوئے ہوئے یٹی تک پہنچے۔

‘‘وہ اطمینان سے سورہاتھا،ہم نہایت احتیاط اور خاموشی سے اس کے قریب ہوئے۔کوئی بیس میٹر کے فاصلے پر رک کر ہم اس کا مشاہدہ کرنے لگے۔ کچھ دیر تک تو وہ سویا رہا لیکن پھر کسی آہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ جوں ہی اس نے ہمیں دیکھا وہ حیران رہ گیا۔ اس کے تاثرات ایک ایسے بچے کی طرح تھے جس نے پہلی دفعہ کسی کو دیکھا ہو۔ چندمنٹ وہ ہمیں حیرانگی اور بے یقینی کی کیفیت میں دیکھتا رہا اور پھر آہستگی سے چلا گیا۔’’

رین ہولڈ میسنر کے کہے یہ الفاظ کیا کسی تخیلاتی دنیا کی داستان ہیں یا حقیقت میں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے….؟ یہ سوال بہت سے لوگوں کے مابین بحث و مباحثے اور دلچسپی کا باعث بن چکا ہے۔

ڈاکٹر کارل شنکر جو انگلینڈ میں ایک زووالوجسٹ ہیں اور یٹی سے متعلق معلومات اور معاملات میں ایک ماہر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میسنر کی ان باتوں میں وزن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ‘‘ہمالیہ کے دوہزار کلومیٹر رقبے میں جو زیادہ تر پاکستان،  تبت اور بھارت کے علاقوں پر مشتمل ہے، یٹی کے شواہد ملتے رہے ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر ان کی تین قسمیں سمجھ آتی ہیں۔ ایک سرخ یٹی، دوسرا طویل القامت کالا برفانی انسان اور تیسرا سرخی مائل چھوٹے یٹی۔’’

اگر میسنر کی باتوں کو کارل شنکر کے بیان سے ملایا جائے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ سرخ یٹی اصل میں چھوٹی عمر کے بچے کو کہا جا سکتا ہے اوربڑی عمر کے یٹی کالے بالوں والا طویل القامت یٹی ہو سکتا ہے۔ جبکہ ممکن ہے درمیانی عمر کا یٹی کچھ سرخ اور کچھ کالا ہوتا ہو۔

لیکن یٹی کی موجودگی کے بارے میں سائنسدانوں کا سب سے اہم اعتراض جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی مخلوق خود اکیلی زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر اس کا کوئی وجود ہے تو یہ چند سو کی تعداد میں نا صحیح پچاس کے لگ بھگ تو کہیں اکٹھی ہوں۔ اور اگر کسی بھی مقام پر ان کی اتنی تعداد موجود ہے تو اب تک اس کا یقینی سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا؟….اس اعتراض کے جواب میں ان   کا کہنا ہے کہ یہ مخلوق خطرے سے دور رہنا چاہتی ہے اوراسی لئے یہ صرف ایسے علاقوں کو اپنا مسکن بناتی ہے جہاں انسان کی پہنچ نہ ہو سکے۔ ان کا اندازہ ہے کہ صرف ہمالیہ کے علاقوں میں ہی ان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ہمالیہ کے یہ علاقے برف اور جنگلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ جہاں ایسی کسی بھی مخلوق کا زندہ ہونا عین ممکن ہے۔ یہ رات کو شکار پر نکل کر اپنا گزارا کر سکتی ہے۔ مقامی لوگوں کی طرف سے ایسی کئی شکایات سننے میں آتی رہتی ہیں کہ ان کے جانور گم ہو گئے ہیں۔ اور گم ہونے سے مراد جانوروں کا چوری ہونا نہیں بلکہ کسی گوشت خور جانور مثلاً چیتے وغیرہ کے بھینٹ چڑھنا ہوا کرتا ہے۔

پاکستان کے شمالی اور پہاڑی علاقوں کے لوگ بھی ایسی مخلوق کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں۔ چند بڑے بوڑھے اپنی آنکھوں سے اس مخلوق کو دیکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بعض غیرملکی سیاحوں نے سنو لیک (بیافو اور ہسپر گلیشئیرواقع ضلع نگر ) کے آس پاس بڑے بڑے قدموں کے نشانات کی گواہی دی ہے۔ ضلع دیامر میں نانگا پربت سے ملحقہ نہایت گھنے جنگلات پر مشتمل علاقے فیری میڈوز میں بھی لوگ‘‘باربنڈو’’ نام کی کسی ایسی ہی مخلوق کی داستانیں سناتے ہیں۔ ایک مرتبہ کیلاش کی وادیوں میں اسی قسم کی ایک مخلوق دیکھی گئی جس کے متعلق بعض خبریں اخبارات میں بھی شائع ہوئیں۔کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحدوں پر واقع برما کے علاقے میں بھی ایسا ہی سنا گیا۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر یہ مخلوق موجود نہیں تو مختلف مقامات کے بہت سے لوگ ایک جیسی داستانوں پر کیوں یقین رکھتے ہیں اور اگر موجود ہے توہر طرح کی ٹیکنالوجی اور انسانی کوششوں کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے کیوں نہیں آسکا….؟

دسمبر 2007ء میں امریکی سائنسی چینل Syfy سے وابستہ جوش گیٹسJoshua Gates، نامی  ماہر آثار قدیمہ جو ہفتہ وار سائنس فکشن پروگرام Destination Truthکے میزبان کے طور پر کام کرتےہیں اور  ان کی ٹیم نے  ایک ہفتہ تک کوہ ہمالیہ کے سلسلے میں تحقیق کے بعد اپنی واپسی پر انکشاف کیا کہ انہیں  ماؤنٹ ایورسٹ کی نوہزار تین سو پچاس  فٹ کی بلندی پر  کھمبو(نیپال) میں واقع  منجو دریا کے کنارے برفانی انسان ‘‘یٹی’’ کے پاؤں کے  تیس سینٹی میٹر لمبے  واضح نشانات ملے ہیں،  ڈاکٹر جیفری میلڈرم جو  ایک معروف مارفولوجسٹ ہیں،  کیجانب سے کیے گئے تجزیہ کے مطابق یہ فُٹ پرنٹ زمین پرموجود معلوم مخلوقات بھالو، بھیڑیے یا بکری وغیرہ میں سے کسی کا نہیں ہے۔

Yeti

اکتوبر 2012ء  کے بعد سے یہ مافوق الفطرت مخلوق  ‘‘یٹی’’ ایک  بار پھر سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن گئی،   جب سائنسی جریدوں میں یہ خبر شائع ہوئی  کہ روس میں سینٹ پیٹربرگ یونیورسٹی  اور زولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف رشیین اکیڈمی آف سائنس  کے کچھ   ماہرین نے    سیربیا   کے برفانی خطہ  میں موجود غار Azasskaya Caveسے یٹی کے  کچھ بال وغیرہ اکھٹے کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر مختلف سائنسی بنیادوں پر ان بالوں وغیرہ کے ٹیسٹ نے یہ ثابت کیا کہ یہ بال کم ازکم یہ کسی ایسے جانور یا مخلوق کے ضرور ہیں جس سے اب تک سائنس واقف نہیں … ڈاکٹر ایگور برتسوIgor Birtsevکا کہنا ہے کہ یہ بال نہ انسان کے ہیں نہ بندر کی کسی نسل کے لیکن اس سے ملتی جلتی کسی ہومینائیڈ مخلوق کے ہیں جن سے ہم واقف نہیں،  شاید یٹی نامی یہ مخلوق واقعی وجود رکھتی ہے۔ہومینائیڈ بڑی نسل کے بندروں کی اس مخصوص نسل کو کہا جاتا ہے جن کے بارے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وہ انسان کی ابتدائی شکل تھی یا انسان نما کوئی مخلوق تھی۔

اس روسی تحقیق کے بعد اب سوئٹزرلینڈ،  برطانیہ اور امریکہ کے سائنسدان بھی اس برفانی مخلوق پر تحقیق میں دوبارہ قدم اٹھارہے ہیں۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی  اور سوئٹزرلینڈ کے لوسین میوزیم آف زولوجی کے ماہرین یٹی پر تحقیق کے لیے کولیکٹرل ہومینائیڈ پراجیکٹ شروع کیا ہے۔برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ، ان لوگوں اور تنظیموں سے کہا ہے، جویہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یٹی کرہ ارض پر اپنا وجود رکھتا ہے، ثبوت کے طورپر اس کے جسم  سے تعلق رکھنے والی کوئی چیز  انہیں دیں تاکہ اس پر سائنسی تجربات کرسکیں۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ بالخصوص بالوں کے نمونے سائنسی تجربات کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ سائنس دانوں کا منصوبہ یہ ہے کہ یٹی کے بال یا کوئی اور جسم کا کوئی اور حصہ ملنے کے بعد وہ اسے ڈی این اے کے ایک نئی طرح کے تجربات سے گذاریں گےجس کے نتائج بہت واضح اور ان کے درست ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ ہوسکتا ہے کہ انہیں یٹی کی باقیات تو نہ مل سکیں لیکن بعض ایسے نایاب انسان نما بندروں کے نمونے ضرور مل جائیں گے۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کوئی  اس  انسان نما برفانی مخلوق یٹی کے راز سے پردہ اٹھاتا ہے۔یا کوئی  سنی سنائی جانے والی ان داستانوں کی تردید کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے