مطماطہ (Matmata) دنیا کا عجیب و غریب شہر!

مطماطہ
سیاح اپنے سامنے ایک عجیب و غریب منظر دیکھ کر ٹھٹک جاتا ہے…. یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی اجنبی سیارے میں آنکلا ہے۔ دور دور تک پھیلی ہوئی ٹیلوں اور گڑھوں سے لبریز زمین۔ چاند، مرّیخ اور دوسرے سیاروں کے ان نقشوں سے ملتی جلتی ہے جو اب تک سائنسدانوں نے رصدگاہوں کی مدد سے تیار کیے ہیں۔ جابجا منہ کھولے ہوئے گڑھوں کےساتھ ساتھ پگڈنڈیاں چلی گئی ہیں۔ کہیں کہیں درخت بھی سر اٹھائے کھڑے نظر آتے ہیں، دیکھنے میں یہ ایک غیر آباد سرزمین ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ان گڑھوں کے اندر ایک پورا شہر آباد ہے۔ لوگ اس شہر میں دنیا کے عام شہروں کی طرح رہتے ہیں….اس زمیں دوز شہر میں گھر ہیں، محلے ہیں، دکانیں ہیں، ہوٹل ہیں، غرض ہر وہ چیز ہے جو ایک شہر میں پائی جاتی ہے۔
یہ شمالی افریقہ کے ملک تونس کا مشہور شہر مطماطہ Matmata ہے جسے سیاح دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ مطماطہ، دارالحکومت تونس سے جنوب کی طرف 335 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ افریقہ کے خانہ بدوش قبائل کا چھوٹا سا ٹھکانا ہے۔
یہاں بڑی شاہراہ پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہے:
‘‘یہ خطرے کا علاقہ ہے، یہاں گاڑی چلانے کی ذمہ داری ڈرائیور پر ہوگی۔’’
دراصل یہاں نہ تو تصادم کا خطرہ ہے نہ چوری چکاری کا، بلکہ خطرہ ہے، تو اس بات کا کہ گاڑی کسی گڑھے یا گھر میں نہ جاگرے، چنانچہ یہاں پہنچ کر گاڑی بس رینگنے لگتی ہے۔ ڈرائیور کی آنکھیں زمین پر لگی ہوتی ہیں۔ کبھی گاڑی ٹیلے پر چڑھتی ہے، کبھی ٹیلے سے نیچے اترتی ہے۔ ذرا نگاہ چوکی اور حادثہ پیش آگیا۔
اس گاؤں میں بنے مکان زمین میں گڑھے کھود کر بنائے گئے ہیں، جو بالکل انسانی تخلیق شدہ غاروں جیسی نظر آتے ہیں۔ یہ مکان زمین کے اندر ہی اندر غار نما کلیوں کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
اجنبی کے لیے کسی محلے، مقام یا ہوٹل وغیرہ کو تلاش کرنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے، لیکن خود یہاں کے لوگ شہر کے مختلف محلوں اور مقامات کو گڑھے دیکھ کر ہی پہچان لیتے ہیں۔ ایک اخبار کا نامہ نگار جب مطماطہ دیکھنے گیا، تو اسے ہوٹل تلاش کرنے میں خاصی دقت پیش آئی، لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن مرحلہ وہ تھا جب اس نے ہوٹل والے سے پوچھا، میرا کمرہ کون سا ہے….؟ اس نے کوئی تین میٹر بلند روزن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘‘وہ۔’’

مطماطہاس نے حیران ہو کر اس روزن پر نظر ڈالی اور دریافت کیا: ‘‘میں اس تک پہنچوں گا کیسے….؟’’‘‘وہ دیکھو، رسّا بندھا ہے، بس اسی سے سیڑھی کا کام لینا ہوگا۔’’
اخباری نامہ نگار کے لیے یہ ایک نیا مگر سخت مشکل تجربہ تھا۔
مطماطہ کے لوگ اپنے ان غاروں کو غار نہیں کہتے، دوامیس کہتے ہیں۔ دوامیس، داموس کی جمع ہے جس کا مطلب ہے، شکاری کی جھونپڑی۔
یہ غار کس نے بنائے اور یہ شہر کیسے وجود میں آیا….؟ اور مطماطہ کا کیا مطلب ہے….؟ اہل شہر خود تو اس کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مطماطہ اک قوم کا نام ہے جو کئی قبائل پر مشتمل تھی۔ ان قبیلوں کے آدمیوں سے مغرب (تونس، مراکش، الجزائر اور لیبیا وغیرہ کو مغرب کہتے ہیں) کا کوئی شہر خالی نہ تھا۔ ان قبیلوں کے جدّ اعلیٰ کا نام مصطاب اور لقب مطماطہ تھا۔ یہ قبائلی پہلی صدی ہجری میں زبردست اہمیت رکھتے تھے، چنانچہ الجزائر میں دہران اور تاہرات کے درمیان ایک پہاڑ جبل مطماطہ ملتا ہے۔ یہ قبائل اس زمانے میں اسی علاقے میں رہتے تھے۔ آج کل یہ سمٹ کر جنوبی تونس میں آگئےہیں۔
یہ زمیں دوز شہر کب وجود میں آیا، اس کی تاریخ نہیں ملتی، البتہ ایک بات واضح ہے، یہ شہر صدیوں پرانا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق رومن عہد میں یہاں کے لوگوں نے مصر، رومیوں اور دیگر بربر قبائل کے حملوں سے بچنے کے لیے زیز زمین روپوش ہونے کا یہ طریقہ اپنایا۔ پہلے پہل جب یہ لوگ اس علاقے میں آباد ہوئے، تو زمین زیادہ تر پتھریلی تھی۔ قریب ہی اطلس پہاڑ تھا…. ان قبائلیوں نے نہ صرف زمین دوز شہر مطماطہ آباد کیا، بلکہ کھدی ہوئی مٹی زمین پر پہنچائی۔ پہاڑ کی اراضی کو مختلف قطعات میں تقسیم کیا، ان کے اردگرد اونچی اونچی دیواریں تعمیر کیں اور پھر ان قطعات کو مٹی سے بھر دیا۔ اس طرح صدیوں کے عمل سے پہاڑ پر زراعت کے لیے زمین تیار ہوگئی۔ جس میں انہوں نے انجیر، زیتون اور کھجور کے درخت لگائے۔ آج یہ کوہستانی باغ اہل مطماطہ کی محنت اور عرق ریزی کی بدولت ان کی سب سے بڑی زرعی دولت بنچکےہیں….
چونکہ زرعی پیداوار کا انحصار بارش پر ہے، اس لیے بعض اوقات سال سال دو دو سال ایسے گزر جاتے ہیں جن میں بارش کا ایک قطرہ تک نہیں گرتا۔ تالاب میں ذخیرہ کیا ہوا پانی ختم ہوجاتا ہے، اس طرح یہ زمانہ خشک سالی میں گزرتا ہے۔
مطماطہ کی اجتماعی زندگی میں خاندان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کثیر العیال خاندان کو معاشرے میں اونچا مقام حاصل ہوتا ہے۔

مطماطہمطماطہ میں ہر خاندان کا مکان بنیاددی طور پر ایک بڑے اور وسیع غار پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی غار میں بچے پیدا ہوتے ہیں، بڑے ہوتے ہیں، شادی بیاہ کرتے اور رہتے سہتے ہیں۔ جب بھی نئے جوڑے کے لیے الگ کمرے کی ضرورت پڑتی ہے، دیوار کھود کرنیا کمرہ بنا لیتے ہیں۔ کمرے بنانے کا کام مخصوص لوگ کرتے ہیں۔ ایک سادہ سے کمرے پر تقریباً بیس تونسی پونڈ لاگت آتی ہے۔ متمول خاندان اپنے لیے جو خاص کمرہ بنواتے ہیں، اس پر 600 تونسی پونڈ صرف ہوتے ہیں اور یہ سال بھر میں تیار ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مطماطہ کے لوگ ساری زندگی زمین کے نیچے غاروں میں بسر کرتے ہیں، لیکن جب مرتے ہیں، تو انہیں زمین کے اوپر دفن کیا جاتا ہے۔
ان غاروں میں مکانات صاف ستھرے اور گھر کے بنائے ہوئے قالینوں سے سجے ہوتے ہیں ۔ مرد قریب اور دور کے شہروں میں کارخانوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں۔ ان کی غیر حاضری میں عورتیں ان کا کام کاج کرتی ہے۔ اکثر گھروں میں کھڈیاں میں جن پر کپڑے اور دریاں وغیرہ بنی جاتی ہیں عورتیں پانی شہر سے باہر پہاڑ کے دامن سے لاتی ہیں۔ گڑھے، بڑی بڑی صراحیوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔ مطماطہ میں کولہو بھی بڑی تعداد میں ہیں جن میں زیتون کا تیل نکالا جاتا ہے، لیکن یہ کولہو بیل نہیں چلاتے، بلکہ چکی کے دو پاٹوں کی طرح دو پتھروں اور لکڑی کی سادہ سی مشینری پر مشتمل ہوتا ہے۔ دکاندار اور تاجر دور دور سے مال تجارت اونٹوں وغیرہ پر لاد کر لاتے ہیں۔ اونٹوں کو اپنی دکان کے دہانے پر بٹھا کر سارا سامان اندر انڈیل دیتے ہیں۔
مطماطہ کے بارے میں 1967ء سے قبل تک دنیا نہیں جانتی تھی، بلکہ خود تیونس کے باشندے اس سے لاعلم تھے۔ 1967ء میں مسلسل 22 دن ہونے والی بارش کی وجہ سے یہاں کے گھر ڈوب گئے تھے، تو خانہ بدوشوں نے حکومت سے امداد کی اپیل کی اس وقت جب قریبی بڑے شہر قابس Gabes سے حکومتی نمائندوں نے آکر یہ شہر دیکھا تو وہ حیران رہ گئے ۔ اس شہر کو شہرت تب ملی جب 1976ء کی ہالی وڈ کی مشہور فلم اسٹار وارز میں سیاروں کی طرح لگنے والے اس شہر کو ایک خیالی سیارے ٹاٹون Tatooine شہر کے طور پر فلمایا گیا۔ اس کے بعد سے ہی مطماطہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے