مغل بادشاہ اورنگزیب کا نظامِ حکومت!

اورنگزیب

اورنگ زیب نے مکمل ہندوستان پر پچاس سال تک حکومت کی۔ اس طویل عرصے میں اورنگ زیب نے سلطنت کی تنظیم و انصرام میں جو کچھ کیا اس کا خلاصہ پروفیسر شری رام شرما کے ایک طویل مضمون سے دیا جاتا ہے۔یہ  مضمون ان اخبارات سے اخذ کیا گیا ہے جو اورنگ زیب کے عہد میں لکھے گئے تھے۔ ’’ان اخبارات پر نظر ڈالنے سے اورنگ زیب کی ایک بڑی اور نمایاں خوبی یہ سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے معمولات میں کبھی تساہل کو دخل نہ دیتا تھا۔ اس کے دورِحکومت کے 38 سال میں 10 مہینے تک کے جو اخبارات ہیں ان میںصرف گیارہ دن فرصت کا ذکر ہے۔ اگر وہ دیوان عام کے دربارہ میں نہ آسکتا تھا تو غسل خانہ (حمام) یا اس سے بھی پوشیدہ ’خلوت خانہ‘میں کام کرتا تھا۔ دکن میں اس کے کام کے چار طریقے تھے۔ عموماً وہ دیوان عام یا خاص میں بیٹھ کر ملکی معاملات طے کیا کرتا تھا، اور عدل وانصاف کے لئے ایک دیوان عدالت خاص منعقد ہوتی تھی۔ اس کے بعد خلوت خانہ میں اجلاس ہوتا تھا، اس میں داخلہ کے خاص قوانین تھے۔ یہاں صرف حکومت کے ذی اقتدار امرا کو باریابی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ خلوت خانہ میں فوری یا ہنگامی اجلاس ہوتے تھے۔ یہاں وہی امرا داخل ہو سکتے تھے جن کو بادشاہ کسی ضروری اور اہم مسئلہ میں خاص طور سے مشورہ کے لئے طلب کرتا۔ دکن میں فوجی معاملات کی اہمیت کی وجہ سے دیوانِ عام اور خاص کا مخلوط دربار ہوتا تھا۔ جو اسی لحاظ سے دیوان عام وخاص کہلاتا تھا۔ اجلاس میں داخلہ کے لئے بادشاہ کے اجازت نامے جاری ہوتے تھے۔ بعض امرا کو مستقل پروانہ ملتا تھا۔ ان میں سے اگر کوئی بغیر اطلاع کے کچھ دنوں غیر حاضر رہتا تو اسے از سر نو اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا تھا۔ ہر منصب دار کو پروانہ کے حصول کے لئے درخواست دینے کی اجازت تھی، جو تقریباً ہر ایک امیر کو اس کے تقرر، تبادلہ اور ترقی کے وقت مل جاتا تھا۔

جو امرا کسی ملکی یا ذاتی جرم کی بنا پر معتوب ہو جاتے تھے، وہ دربار کی حاضری سے محروم کر دیئے جاتے تھے ،دیوان خاص وعام کوئی جمہوری اسمبلی نہیں تھی، اس کی شرکت کے لئے خاص قوانین اور پابندیاں تھیں، بادشاہ اور دربار مل کر حکومت کرتے تھے، امر ا،حکام یا ان کے نمائندے جو دارالسلطنت سے دور رہتے تھے، بادشاہ کے حکم سے بار یاب ہوتے تھے اور اپنے محکموں کے متعلق فرمان شاہی حاصل کرتے تھے۔ غیر سرکاری اشخاص کا کہیں ذکر نہیں ملتا، البتہ ملکی معاملات کے سلسلہ میں شاہی حکام کے ساتھ بادشاہ کی اجازت سے کبھی کبھی کوئی غیر سرکاری آدمی بھی نظر آجاتا تھا۔ جشن کے موقعوں پر البتہ ایک تماشائی کی حیثیت سے گزر ممکن تھا۔‘‘ دربار سے متعلق چند خاص مقررحکام تھے، جن کا کام شاہی احکام کو جاری کرانا تھا، ان کا افسر اعلیٰ میرتزک کہلاتا تھا جو آداب شاہی کا نگہبان ہوتا تھا۔ ’’عرض مقرر‘‘معتمد خاص کی حیثیت رکھتا تھا۔ شاہی اخبار نویس اول کے ماتحت بہت سے اخبار نویس اور دار وغہ ڈاک چوکی اپنے کثیر مخبروں کے ساتھ دربار میں حاضر رہتے تھے، جو ہر وقت احکام شاہی لے جانے کے لئے پابہ رکاب رہتے تھے، ان کے علاوہ خدام خاص مثلاً محافظ جان (باڈی گارڈ) میر شکار، محافظ خیمہ شاہی، بادشاہ کے خاص خدم وحشم میں شمار ہوتے تھے، جن کا کام بادشاہ کی جان کی حفاظت اور اس کی راحت رسانی تھا۔

ہر دن کی کارروائی عموماً گذشتہ دن کے احکام سنانے کے بعد شروع کی جاتی تھی۔ پھر ان احکام پر مہر تصدیق ثبت کر کے ان کو مختلف محکموں میں عمل درآمد کے لئے بھیجا دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد دیوان یا بخشی ان سرکاری خطوط کو پڑھ کر جو صوبہ دار ،ضلع دار، سالار شہر پناہ، سردار مہم اور جنگی افسروں کے یہاں سے آتے تھے، خلاصہ سنا دیتا تھا۔ اور بادشاہ و ہیں ان پر احکام صادر کر دیتا تھا، اس کے بعد بعض حکام اعلیٰ ان خطوط کو سناتے تھے جنہیں بیرونی حکام دارالسلطنت کے باہر سے خفیہ بھیجتے تھے، ان پر بھی فوراً شاہی حکم صادر ہو جاتا تھا ۔کبھی کبھی حکام اعلیٰ کے کارندے مفصلات کے حاکموں کی وہ گزار شات پیش کرتے، جو سرکاری ذریعہ سے پیش نہ ہو سکتی تھیں، اس کے بعد شاہی اخبار نویس مختلف جگہوں کے مقامی اخبار نویسوں کے بیانات کا خلاصہ سناتا تھا، اس کے بعد حکام اعلیٰ اپنے ان ماتحت افسروں کی، جن پر ان کی خاص نظر توجہ ہوتی تھی، مناسب الفاظ میں سفارش کرتے تھے۔بعض محافظ شاہی یا معزز درباری اپنی طرف سے بھی تجویز کرنے کا حق رکھتے تھے۔جاسوس اور مخبر براہ راست بادشاہ کو اپنی کار گزاری کی خبر کر دیتے تھے، میر توپ خانہ کو بھی یہ عزت حاصل تھی۔

درخواستوں اور ان پر احکام شاہی کی مختلف صورتیں ہوتی تھیں۔ اکثر عرضی پر داز اپنی کار گزاریوں اور خدمات کا ذکر کر کے شاہی لطف وکرم کے امیدوار ہوتے تھے۔ بادشاہ وہیںپر جزوی یا کلی طور پر قبول یا مسترد کر دیتا تھا۔ بعض اوقات نامنظوری نرم اور دلچسپ الفاظ میںہوتی تھی۔ جیسے ’’ امیدوار باشد‘‘۔ بعض وہ درخواستیں جو عام مسئلوں کے ساتھ نہیں آتی تھیں مختلف محکموں کے افسر جیسے دیوان یا بخشی خانہ سامان کے پاس رپورٹ کے لئے بھیج دی جاتی تھیں۔ بعض اوقات درخواست کندہ کو حصول سفارش کے لئے اس کے افسر اعلیٰ کے پاس بھیجا جاتا تھا۔ جب بادشاہ کی توجہ اور اس کے تجسس کی وجہ سے کسی معاملہ کی اہمیت بڑھ جاتی تو اس کی تحقیقات کے لئے ایک مقامی کمشنر مقرر کیا جاتا۔ لیکن یہ صورت انہیں حالات میں پیش آتی تھیں جب ماتحت حکام میں سے کسی کو یہ شکایت ہوتی کہ اخبار نویس افسر اعلیٰ نے دربار میں اس کی درخواست پیش نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے